• 1 اکتوبر, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے بیان فرمودہ بعض حقائق الفرقان

تذکرۃ المہدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت و سوانح پر ایک شاندار کتاب ہے جو آپ کے ایک نامور صحابی حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحبؓ نے تصنیف فرمائی وہ روایت کرتے ہیں کہ ’’حضرت اقدس (مسیح موعود) علیہ السلام بار بار مجھے فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کی تفسیر قرآن آسمانی تفسیر ہے صاحبزادہ صاحب ان سے قرآن پڑھا کرو اور ان کے درس قرآن میں بہت بیٹھا کرو اور سنا کرو اگر تم نے دو تین سیپارہ بھی حضرت مولوی صاحب سے سنے یا پڑھے تو تم کو قرآن شریف سمجھنے کا مادہ اور تفسیر کرنے کا ملکہ ہو جائے گا یہ بات مجھ سےحضرت اقدس علیہ السلام نے شاید پچاس مرتبہ کہی ہوگی ۔‘‘

(تذکرۃ المہدی جلد اول صفحہ 174)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے قرآن کریم کا غیر معمولی فہم عطا فرمایا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت شامل ہو گئی آپ نے اپنے دروس قرآن اور خطابات اور تحریرات میں نئے نئے معارف قرآن بیان فرمائے چند ایک کا یہاں ذکر کرنا مقصود ہے۔

احسن القصص

’’فرمایا۔ لوگوں نے غلطی سے احسن القصص کے معنی بہتر سے بہتر قصہ کئے ہیں۔ قرآن مجید میں ہر گز قصے نہیں۔ اساطیر الاولین تو کفارکا قول ہے۔

یہ بھی غلط ہے کہ یوسف کا قصہ ہی سب سے اچھا قصہ ہے۔ خلاصہ سورہ تو یہی ہے (1) بھائیوں نے آپ سے دشمنی کی ۔(2) اس کی وجہ والد کی محبت تھی۔ (3) آخر اپنے بھائیوں پر غالب آئے معاف کر دیا۔ (4) ایک عورت کی ناجائز درخواست کی پرواہ نہ کی۔

حضرت ابراہیم و حضرت موسیٰ و نبی کریم ﷺ کے حالات اس سے بھی زیادہ عجیب ہیں۔ (1) بجائے چند گنتی کے بھائیوں کے سارا جہان دشمن۔ (2) اس کی وجہ کسی کی محبت نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کا جوش ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے قوم نے خود کئی حسین عورتیں پیش کیں ۔ مگر آپ نے خدا کے مقابلہ میں ان کی پرواہ نہ کی۔ پھر صرف بھائیوں پر نہیں بلکہ سارے عرب پر غالب آئے اور ان کو معاف کر دیا‘‘۔

(ارشادات نور جلد دوم صفحہ 245، 246)

اما شاکرا و اما کفورا (الدھر آیت 4)

’’کسی شخص کے انعامات کو یاد کرتے رہیں تو اس کی محبت دل میں پیدا ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مرتبہ بڑی گھبراہٹ کے موقعہ پر ایک دعا اس طرح سے پڑھی ہے ۔

دعا

اے میرے محسن اور اے میرے خدا میں تیرا ناکارہ بندہ پر معصیت اور پر غفلت ہوں۔ تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا۔ تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا ۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پرگناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اود مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے کوئی چارہ نہیں۔ آمین ثم آمین‘‘

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 277)

٭…٭…٭

(انجینئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 15 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اگست 2020