• 21 ستمبر, 2020

متقی اولاد کی خواہش سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دین دار اور متقی ہو اور خداتعالیٰ کی فرمانبردار ہوکر اس کے دین کی خادم بنے، بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے۔ اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیئات رکھنا جائز ہو گا۔ (یعنی نیک نسل نہیں، بد نسل)۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعویٰ ہی ہوگا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔ اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذاب ہے۔ صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بناوے۔ تب اس کی ایسی خواہش نتیجہ خیز خواہش ہو گی۔ اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں‘‘۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خاص طور پر ہم احمدیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہے دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ۔ نمازوں کی پابندی کرو، اور توبہ و استغفار میں مصروف رہو، نوعِ انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو، راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔ عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں۔ اور ان کو گلہ شکوہ اور غیبت سے روکو۔ پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ۔ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عملدرآمد کرنا تمہارا کام ہے‘‘۔

(ملفوظات جلدسوم صفحہ ۴۳۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020