• 20 ستمبر, 2020

افراد جماعت کو ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کی طرف توجہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر افراد جماعت کو ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کی طرف حضرت مصلح موعودنے بہت توجہ دلائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کا ایک واقعہ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ایک معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے نوجوان تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس رہتا تھا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ’’مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک لڑکا تھا جس کا نام فجّا تھا۔ اسے آپ نے کسی معمار کے ساتھ لگا دیا اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد وہ معمار بن گیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس میں سمجھ بہت کم تھی مگر مخلص اور دیندار تھا۔ وہ غیر احمدی ہونے کی حالت میں آیا تھا اور بعد میں احمدی ہو گیا تھا۔ اس کی عقل کا (یعنی معمولی عقل کا جو واقعہ ہے وہ آپ یہ بیان فرماتے ہیں کہ) یہ حال تھا کہ ایک دفعہ بعض مہمان آئے۔ اس وقت لنگر خانے کا کام علیحدہ نہیں تھا۔ شروع شروع کی بات تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر ہی سے مہمانوں کے لئے کھانا جاتا تھا۔ شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب، قریشی محمد حسین صاحب موجد مفرّح عنبری قادیان آئے اور ایک دوست اَور بھی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے لئے چائے تیار کروائی اور فجّے کو کہا کہ ان مہمانوں کو چائے پلا آئے۔ اور اس خیال سے کہ وہ کسی کو چائے دینا بھول نہ جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی تاکید کی کہ دیکھو پانچوں کو چائے دینی ہے۔ یہ نہ ہو کسی کو بھول جاؤ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اَور پرانے ملازم چراغ تھے ان کو بھی آپ نے ساتھ کر دیا اور جب یہ دونوں چائے لے کر گئے تو پتا لگا کہ وہ جہاں باہر کمرے میں تھے وہاں نہیں بیٹھے ہوئے بلکہ وہ تو سارے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس ان کی ملاقات کے لئے چلے گئے تھے۔ چنانچہ وہ چائے لے کر یہ لوگ وہاں پہنچ گئے۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ چراغ تو پرانا ملازم تھا اس نے پہلے چائے کی پیالی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے سامنے رکھی کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی بزرگی اور حفظ مراتب کا خیال تھا۔ اس لئے انہوں نے ان کے سامنے رکھی۔ لیکن فجّے صاحب نے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا نام نہیں لیا تھا۔ چراغ نے اسے آنکھ سے اشارہ کیا اور کہنی ماری اور یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بیشک آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا نام نہیں لیا تھا لیکن آپ ان سب سے زیادہ معزز ہیں اس لئے چائے پہلے آپ کے سامنے ہی رکھنی چاہئے۔ لیکن وہ یہ بات کہے جاتا تھا کہ حضرت صاحب نے صرف پانچ کے نام لئے تھے ان کا نام نہیں لیا تھا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں گویا ان کا عقل کا معیار اس قدر تھا کہ اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ لیکن وہ جب معمار کے ساتھ لگایا گیا تو معمار بن گئے۔‘‘

(مأخوذ از خطبات محمود جلد35 صفحہ290-289)

پس حضرت مصلح موعود اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جو لوگ نکمّے بیٹھے رہتے ہیں بعض دوسرے ممالک میں، غریب ملکوں میں بھی اور یہاں بھی آ کر بعض لوگ بیٹھے رہتے ہیں وہ اگر ذرا بھی توجہ کریں تو کوئی نہ کوئی ہنر اور کام سیکھ سکتے ہیں اور روپیہ کما سکتے ہیں بلکہ رفاہِ عامہ کے کاموں میں، خدمت خلق کے کاموں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہتے ہیں کہ یہاں ایک شخص تھے بعد میں وہ بہت مخلص احمدی ہو گئے اور حضرت صاحب سے ان کا بڑا تعلق تھا مگر احمدی ہونے سے قبل حضرت صاحب ان سے بیس سال تک ناراض رہے۔ وجہ یہ کہ حضرت صاحب کو ان کی ایک بات سے سخت انقباض ہو گیا اور وہ اس طرح کہ ان کا ایک لڑکا مر گیا (فوت ہو گیا۔) حضرت صاحب اپنے بھائی کے ساتھ ان کے ہاں ماتم پرسی کے لئے گئے۔ ان میں قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص آتا اور اس سے ان کے بہت دوستانہ تعلقات ہوتے تو اس سے بغلگیر ہو کر روتے اور چیخیں مارتے۔ اسی کے مطابق انہوں نے حضرت صاحب کے بڑے بھائی سے بغلگیر ہو کر روتے ہوئے کہا کہ خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ نعوذباللہ۔ یہ سن کر حضرت صاحب کو ایسی نفرت ہو گئی کہ ان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بعد میں خدا تعالیٰ نے اس شخص کو توفیق دی اور وہ ان جہالتوں سے نکل آئے اور احمدیت قبول کر لی۔‘‘

(مأخوذ از تقدیرالٰہی۔ انوار العلوم جلد4 صفحہ 545-544)

حضرت مصلح موعود ہستی باری تعالیٰ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ’’حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا۔ یعنی ہستی باری تعالیٰ کا کیا ثبوت ہے اس کے بارے میں بیان فرما رہے ہیں کہ ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے بے اختیار ’رام رام‘ نکل گیا۔ پہلے ہندو تھا۔ دہریہ ہو گیا تو میر صاحب نے جب اس سے پوچھا کہ تم تو خدا کے منکر ہو پھر تم نے رام رام کیوں کہا۔ کہنے لگا غلطی ہو گئی۔ یونہی منہ سے نکل گیا۔ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مگر اصل بات یہ ہے دہریے جہالت پر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماننے والے علم پر۔ اس لئے مرتے وقت یا خوف کے وقت دہریہ کہتا ہے کہ ممکن ہے مَیں ہی غلطی پر ہوں۔ ورنہ اگر وہ علم پر ہوتا تو اس کے بجائے یہ ہوتا کہ مرتے وقت دہریہ دوسروں کو کہتا کہ خدا کے وہم کو چھوڑ دو کوئی خدا نہیں۔ مگر اس کے الٹ نظارے نظر آتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی ہستی کی یہ بہت زبردست دلیل ہے کہ ہر قوم میں یہ خیال پایا جاتا ہے۔‘‘

(مأخوذ از ہستی باری تعالیٰ۔ انوار العلوم جلد6 صفحہ 286)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت پر آپ علیہ السلام کی دلی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس حالت اور اس کیفیت کا اندازہ اس نوٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے اپنی ایک پرائیویٹ نوٹ بک میں لکھا اور جسے مَیں نے نوٹ بک سے لے کر شائع کر دیا۔ وہ تحریر آپ نے دنیا کو دکھانے کے لئے نہ لکھی تھی کہ کوئی اس میں کسی قسم کا تکلّف اور بناوٹ خیال کر سکے۔ وہ ایک سرگوشی تھی اپنے ربّ کے ساتھ اور وہ ایک عاجزانہ پکار تھی اپنے اللہ کے حضور جو لکھنے والے کے قلم سے نکلی اور خدا تعالیٰ کے حضور پہنچی۔ آپ نے وہ تحریر نہ اس لئے لکھی تھی کہ وہ دنیا میں پہنچے اور نہ پہنچ سکتی تھی اگر میرے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت کے تحت نہ ڈال دیتا اور میں اسے شائع نہ کر دیتا۔ اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: اے خدا! میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں جبکہ تمام دوست و غمخوار مجھے کوئی مددنہیں دے سکتے اُس وقت تو مجھے تسلی دیتا اور میری مدد کرتا ہے۔ یہ اس کا مفہوم ہے۔

(مأخوذ ازافتتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1927ء۔ انوار العلوم جلد10 صفحہ 60)

(خطبہ جمعہ 30؍ اکتوبر 2015ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020