• 21 ستمبر, 2020

خلافت

یہ نکتہ کیا نہیں ہے آدمی کے غور کے قابل
کہ پتہ شاخ سے گرتا ہے جب مرجھا ہی جاتا ہے

رواں ہے بلبلے کی ناؤ بھی دریا کی موجوں پر
ذرا ابھرے تو ہئیت میں تغیر آ ہی جاتا ہے

سبق دیتی ہے تاریخ خلافت نوع انساں کو
کہ اہل حق کے قدموں میں زمانہ آ ہی جاتا ہے

ہزاروں ہوں گھنے تاریک بادل مٹ ہی جاتے ہیں
کہ جب سورج نکلتا ہے تو آخر چھا ہی جاتا ہے

اخوت ایک نعمت ہے وگرنہ سلسلہ غم کا
اگر ہو مستقل تو آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

عجب شے ہے جہاں میں جذبۂ شوق محبت بھی
جو اس کو ڈھونڈنے آتا ہے آخر پا ہی جاتا

(عبدالسلام اختر صاحب)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020