• 20 ستمبر, 2020

تعارف سورۃ الشعراء (چھبیسویں سورۃ)

(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 228 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003)

وقت نزول اور سیاق و سباق

جمہور مسلمان علماء نے اس سورۃ کو مکی قرار دیاہے۔ اس کا نام الشعراء (شاعر کی جمع) اس لئے رکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کو یہ اعلیٰ سبق سکھایا جائے کہ کامیابی سے وہی لوگ ہمکنار ہوتے ہیں جن کے الفاظ اور عمل ایک ہی ہوں اور شاعروں کی طرح محض باتیں کرنے والے کسی مقام تک رسائی نہیں پاتے۔ اس سورۃ سے گزشتہ سولہ سورتوں سے جاری مضمون کو مکمل کرکے ایک نیا مضمون شروع کیا گیا ہے۔ سورۃ یونس(دسویں سورۃ) سے قرآن کریم نے بنیادی طور پر اپنا مخاطب یہودیوں اور عیسائیوں کو کیا ہے۔ اس سورۃ سے مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہےاور مخاطب کرنے کی نوعیت، ساخت اور دائرہ کار تبدیل ہو جاتا ہے، اسی لئے اس سورۃ کے آغاز میں حروف مقطعات میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سورۃ کا اختتام اس بات پر ہوا تھا کہ یہ ایک فاش غلطی ہوگی اگر تصور کیا جائے کہ خدا بڑے بڑے مذاہب کے ذریعہ معرضِ وجود میں آنے والے قدیم اور مقدس نظام کو تباہ و برباد کردے گا۔ اس کے برخلاف خدا نے انسان کو اپنا رنگ اختیار کرنے کے لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ اس کی اعلیٰ صفات کو اپنائے اور اس کی الٰہی آواز پر لبیک کہے۔ اگر انسان اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا نہ کرے تو اس کے وجود کی کوئی ضرورت اور مقصد نہیں رہتا اور یوں خدا کو اسے تباہ و برباد کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ اس سورۃ میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مغموم ہونے کی وجہ انسانوں کا اپنے مقصد پیدائش کو بھول جانا اور انسانیت سے آپ کی محبت اور ان کی خاطر اضطراب تھا اور آپ ﷺ انسانیت کو بچانے کے خواہاں تھے۔ پھر انسان کی تباہی خود خدائی منصوبہ کے منشاء کے خلاف معلوم ہوتی ہے جو یہ ہے کہ انسان کو اس کی اپنی رضا و رغبت سے (خدا کو) ڈھونڈنے کا موقع فراہم کیا جائےاورخدا کے قرب کا راستہ دکھایا جائے تاکہ وہ خدا کو پالے۔ لیکن اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کردے تو اسے اس انکار کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

اس سورۃ میں مزید بتایا گیاہے کہ انسان کو اپنے فیصلوں کے لئے خود مختار بنایا گیا ہے بصورت دیگر وہ محض ایک خود کار مشین بن جائے اور اپنے خالق کا عکس نہ بن سکتاجیساکہ گمان کیا جاتا ہے۔ اسی لئے انسان کو چاہیئے کہ وہ اپنے اعمال اور اخلاق میں (خدائی منصوبوں کے مطابق) ہم آہنگی پیدا کرے جس کے بغیر حقیقی اور سچی نجات ممکن نہیں ہے۔

مضامین کا خلاصہ

ابتداء میں ہی اس سورۃ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم اپنے دلائل اور ثبوت خود مہیا کرتا ہے اور کسی بیرونی مدد اور سہارے کی ضرورت نہیں تاکہ وہ اپنے دلائل اور تعلیم کی سچائی ظاہر کرے۔ مزید بتایا گیاہے کہ انسانی ضروریات کے لئے خدا نے ظاہری دنیا میں ہر چیز کا جوڑا جوڑا بنایا ہے۔ یہی دلیل روحانی دنیا کے لئےہے کہ وہاں بھی انسانوں کے ہم مرتبہ جوڑے ہوں گے۔ پھر نہایت موزوں طور پر اس سورۃ میں چند انبیاء کرام کا ذکر کیا گیاہے اور اس مضمون کا آغاز حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ سے کیا گیاہے۔ جنہوں نے خدائی حکم کی تائید میں بنی اسرائیلیوں کو مصر سے نکالا۔ مزید تفصیل اس بات کی کہ سچائی ہمیشہ پھیلتی ہے اور بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اور اس کی مخالفت ناکام ہوتی ہے اور پھر اس سورۃ میں بعض اور انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے جن میں حضرت ابراھیم ، حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیھم السلام شامل ہیں۔

حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر بتوں کی پرستش کی حماقت اور ناکارہ ہونا ظاہر کیا۔ آپ کے ذکر کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر کیا گیاہے۔ جن کی قوم نے ان کا اس وجہ سے انکار کیاکہ وہ تمام معاشرتی تفریق کو مٹانا چاہتے تھے۔ آپ کے بعد حضرت ھود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام تشریف لائے۔ دونوں نبیوں نے بھرپور کوشش کی کہ اپنی قوم کو یہ باور کروائیں کہ دنیاوی اور ظاہری طاقت کچھ چیز نہیں ہے مگر اچھے اخلاق اور روحانی قوت ہے جس پر انکی زندگی کا دارومدارہے مگر ان کی قوم نے انکی تبلیغ اور تنبیہ کو ہوا میں اڑا دیا۔ حضرت لوط اور حضرت شعیب کی قوم نے بھی انہیں مسترد کردیا۔قوم لوط غیر فطرتی برائی (ہم جنس پرستی) میں مبتلا ہو گئی جبکہ قوم شعیب ناپ تول میں کمی سے کام لیتے ہے۔

اختتام پر اس سورۃ میں اسی مضمون کا اعادہ کیا گیا ہے جس سے آغاز ہوا تھا کہ قرآن کریم خدا کی الہامی کتاب ہے اور اپنے دعویٰ کے مضبوط دلائل خود اپنے پاس سے مہیا کرتا ہے، مزید بتاتا ہے کہ سابقہ انبیاء نے اس کی سچائی کی تصدیق کی ہے اور بنی اسرائیل کے علماء بھی دل کی گہرائی سے تسلیم کرتے ہیں کہ یہ خدا کے الہامی الفاظ ہیں کیونکہ یہ ان کے صحف میں موجود پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے۔ اس سورۃ میں کفار کو آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیمات پر غور کریں کہ کیا وہ شیطان کا کام ہو سکتا ہے ؟ یا آنحضرت ﷺ اپنے پاس سے اس (قرآن) کو بنا سکتے ہیں؟

اس سورۃمیں مزید بتایا گیاہے کہ قرآنی تعلیمات صحف سابقہ سے گہری مشابہت رکھتی ہیں اور شیطانی لوگوں کو خدائی ماخذ تک رسائی ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔ شیطان محض جھوٹوں اور گناہگاروں پر اترتے ہیں اور جھوٹ گھڑتے ہیں اور کذب بیانی سے کام لیتے ہیں۔ شعراء ان جھوٹ کے پرستاروں سے متاثر ہوتے ہیں اسی لئے اخلاقی گراوٹ کے شکار لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ اور ان کے پیروکار فضول اور بے فائدہ طویل باتوں میں خوشی محسوس کرتے ہیں مگر جو بیان کرتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔

اس سورۃ کے اختتام پر آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہےکہ وہ اپنی قوم کو توحید اور اتحاد کا پرچار جاری رکھیں اور ان کی تربیت اسلامی اقدار کے فروغ کو مد نظر رکھ کر کرتے رہیں۔ آپ ﷺ کو مزید حکم دیا گیاہے کہ عزیز اور رحیم خدا پر توکل رکھیں جس کی حفاظت اور پناہ میں آپ کے دن گزر رہے ہیں، جو بہت جلد مسلمانوں کے انتشار کے دن ختم کرکے ان کو امن و سلامتی والی جگہ میں جمع کرکے لے آئے گا اور وہ خدائے واحد کی عبادت مکمل حفاظت اور اطمینان سے کریں گے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020