• 21 ستمبر, 2020

ہستی باری تعالیٰ

تبرکات

(حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ)

(قسط نمبر 3)

میں دو نمبروں میں اپنے لیکچر کے ابتدائی حصوں کے نوٹ ہدیہ ناظرین کر چکا ہوں اور کسی چیز کے ثبوت کے ذریعہ اور ہستی باری تعالیٰ کے عقیدہ پر دہریوں کے اعتراضوں کے جوابات عرض کر چکا ہوں۔ اب اس نمبر میں وہ دلائل لکھتا ہوں جن سے ہم دہریوں پر خدا کے فضل سے ہستی باری تعالیٰ کو پایہ ثبوت تک پہنچا کر حجت پوری کر سکتے ہیں۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔

دلیل اوّل

دنیا میں جس قدر قومیں آباد ہیں خواہ وہ متمدن ہوں یا غیر متمدن۔ تعلیم یافتہ ہوں یا جاہل۔ آباد ملکوں میں زندگی بسر کرنے والی ہوں یا ویران جزیروں اور غیر آباد ٹاپوؤں میں۔ ان سب کا متفق علیہ مسئلہ اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ ایک کامل مقتدر ہستی کا ماننا ہے۔ دنیا میں جس قدر مذاہب رائج ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے ان سب کا اصل اصول اعتقاد اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ ذات باری کا وجود باجود ہے۔ دنیا کے کسی گوشہ میں چلے جاؤ۔ کرئہ ارض کے کسی قطعہ پر نظر ڈالو۔ کوئی قوم ایسی نہیں جو اس کامل ہستی کی منکر ہو۔ دنیا کی ایک قوم کی عادتیں دوسری قوم کی عادتوں کے مخالف ہیں۔ ایک کے قوانین دوسری کے قوانین کے مغایر ہیں۔ ایک کا مذاق دوسری کے مذاق کے خلاف ہے لیکن اس عقیدہ میں تمام قومیں متفق ہیں کہ کوئی نہ کوئی ہمارا پیدا کرنے والا اور ہماری ربوبیت کرنے والا ضرور موجود ہے۔ اسی صداقت کو قرآن حکیم بیان فرماتا ہے۔ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (لقمان:26) یعنی اگر دنیا کے لوگوں سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنے والا کون ہے تو فوراً بول اُٹھیں گے کہ ہمارا خالق اللہ ہے۔ اس عظیم الشان اتفاق اور ایسے بے نظیر اجماع کی وجہ صرف فطرت کی گواہی ہے۔ کیونکہ ہر ایک انسان کی فطرت اور اس کی سلیم کانشس اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس شہادت کا اقرار کرے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے۔ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی (الاعراف:173) یعنی انسان کی فطرت ہر وقت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک ایسی ہستی ضرور موجود ہے جو میری ربوبیت کر رہی ہے بلکہ ایک صحیح الفطرت انسان ایک لمحہ کے لئے بھی اس بات کا وہم و گمان نہیں کر سکتا کہ وہ ایک حاکم کے بغیر زندگی بسر کر رہا ہے۔ چنانچہ خالق فطرت کا کلام فرماتا ہے۔ اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ (ابراہیم:11) یعنی فطرت صحیحہ حیرانی سے ظاہر کرتی ہے کہ کیا خدا کے وجود میں بھی کوئی شک کر سکتا ہے۔ غرض ہستی باری تعالیٰ کی پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر قومیں ہیں وہ سب خداتعالیٰ کے وجود کی مقر ہیں۔ حالانکہ آپس میں ہر بات میں مختلف ہیں اور نہ ایسے وسائل ہی تھے کہ وہ قومیں آپس میں مل کر تبادلہ خیالات کر کے ایک عقیدہ پر متفق ہو جاتیں۔ سو وہ چونکہ سب اس عقیدہ پر متفق ہیں اس لئے یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسان کی فطرت میں یہ عقیدہ ودیعت ہے ورنہ اگر فطرت میں نہ ہوتا بلکہ خارجی محرک اس کا موجب ہوتے تو یہ اتفاق نہ ہوتا۔ کیونکہ نہ وہ قومیں آپس میں ملیں نہ ان کا تبادلہ خیالات ہوا۔ کوئی امریکہ میں ہے اور کوئی افریقہ میں۔ کوئی ہندوستان میں ہے تو کوئی یورپ میں۔ نہ آج کی طرح ریل و تار اور ڈاک خانے تھے۔ اس لئے باوجود ظاہری محرک کے نہ ہونے کے اور آپس کے میل ملاپ کے بغیر ان کا اس عقیدہ پر متفق ہونا دلالت کرتا ہے کہ یہ عقیدہ فطرت میں رکھا گیا ہے۔ اور جب فطرت میں یہ بات ودیعت ہے تو معلوم ہوا کہ خالق فطرت نے رکھا اور اسی کو ہم خدا کہتے ہیں۔

دلیل دوم

بہت سی باتیں ہم صرف سن کر مانتے ہیں مثلاً لندن میں ہم کبھی نہیں گئے۔ لیکن جب لوگوں سے سنا اور قابل اعتبار لوگوں نے ہمارے سامنے اس کے وجود کی شہادت دی تو ہمیں اس کے موجود ہونے کا یقین ہو گیا۔ اس لئے کہ وہ لوگ جن کو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں جو ہمارے خیال میں سچ بولنے کے عادی ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے اس شہر کو دیکھا۔ سو جب معمولی دنیاداروں کے کہنے سے ہم لندن کے وجود کے قائل ہو گئے تو کیا وجہ کہ ہم تمام دنیا کے راستبازوں اور صادقوں کی متفقہ شہادت سے انکار کریں اور ان کو جھٹلا دیں اور راستباز بھی وہ راستباز جنہوں نے راستی کی خاطر اپنی جان دے دی لیکن سچ بولنے سے منہ نہ موڑا۔ اپنے مال و متاع کو اپنی آنکھوں کے سامنے لُٹتے دیکھا لیکن صداقت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ ان کے بیوی بچے اور رشتہ دار ان کی آنکھوں کے سامنے ذبح کئے گئے لیکن ان کا قدم نہ ڈگمگایا۔ وہ سب متفق ہو کر اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یقینا ایک وراء الوراء ہستی موجود ہے اور وہ ہم پر خاص طور پر ظاہر ہوئی اور اس نے ہم سے تعلق پیدا کیا۔ دیکھو قتل جیسے اہم معاملہ میں صرف دو تین قابل اعتبار آدمیوں کی گواہی پر ایک شخص کو پھانسی دے دی جاتی ہے اور صرف چند بھلے مانس آدمیوں کی شہادت پر ایک شخص کو جان سے مار دیا جاتا ہے۔ تو کیوں اُس گواہی کو ردّ کیا جائے جو تمام دنیا کے راستبازوں کی طرف سے ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے۔

دنیا کے ابتداء کی طرف جاؤ۔ ابو البشر آدم صفی اللہ رَبَّنَا اِنَّا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا کہہ کر خدا کے وجود کی گواہی دیتے ہیں۔ پھر پارسیوں کو لو۔ ان کے نبی بھی خدا کے وجود کی شہادت دے رہے ہیں۔ پھر وید کے رشیوں کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ ایک وراء الوراء ہستی ہے۔ پھر یہودیوں اور عیسائیوں کے راستباز بھی اسی پر متفق نظر آتے ہیں۔ پھر سب کے بعد خیر الانس والجان نے بھی دنیا کے سامنے یہی شہادت پیش کی۔ اب کیا ہم ان تمام راستبازوں کی گواہی کو ردّ کر دیں۔ ہرگز نہیں۔ ہمیں سوائے تسلیم کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں۔

غرض کہ تمام دنیا کی مختلف قوموں کے راستبازوں کا متفق ہو کر خدا کے وجود کا اقرار کرنا اس کے واقعہ میں موجود ہونے کا ایک بڑا بھاری ثبوت ہے۔

تیسری دلیل

خدا تعالیٰ کی ہستی کی تیسری دلیل دعا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ

(البقرہ:187)

یعنی جب میرے بندے میری ہستی کی کوئی دلیل تجھ سے پوچھیں تو تُو ان کو کہہ دے کہ خداتعالیٰ کے وجود کی ایک زبردست دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور اس کے پیارے بندے جب مشکلات میں گھِر جاتے ہیں۔ تمام دنیا ان کی دشمن ہو جاتی ہے۔ ظاہری سامان اور اسباب ان کے مخالف ہوتے ہیں اور مصیبتوں سے مخلصی کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ لیکن جب وہ بندہ ایسی حالت میں اپنے مولیٰ سے دعا کرتا ہے اور اس کے حضور گڑگڑاتا ہے اور اس کے آگے اپنی مصیبتوں کا اظہار کرتا ہے تو معاً حالت بدل جاتی ہے۔ سب دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان کی سب شرارتیں رک جاتی ہیں۔ تمام مصیبتوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اب بتاؤ کہ اگر کوئی قادر مقتدر ہستی نہیں اور کسی وراء الوریٰ ذات کا وجود موجود نہیں تو ان مصیبتوں میں گھرے ہوئے بندوں کی مصیبتوں کو کس نے دور کیا۔ اگر کہو کہ اسباب نے تو یہ تو غلط ہے۔ کیونکہ ظاہری سامان تو ان کے مخالف ہوتے ہیں۔ دیکھو حضرت نوحؑ اکیلے ہیں۔ ساری قوم مخالف ہے۔ وہ تکلیفیں دیتی ہے اور کوئی مددگار نہیں۔ نہ آپ کے پاس حکومت ہے جس کے ذریعہ دشمنوں کو روکیں۔ ہر طرف سے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ لیکن ایک دفعہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں: اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ (القمر:11) (یعنی اے میرے رب!) میری مدد کر میں مغلوب ہوں۔ اب بتاؤ کیا یہ دعا قبول نہیں ہوئی؟ کیا ان کی قوم تباہ نہیں ہوئی؟ کیا حضرت نوحؑ اور ان کے ساتھی مصیبتوں سے رہا نہیں ہوئے؟ضرور ہوئے۔ پھر بتاؤ کہ اگر کوئی قادر مقتدر ہستی نہیں تو حضرت نوحؑ کی کس نے مدد کی؟ پھر حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کو دیکھو۔ وہ عرض کرتے ہیں: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ (البقرہ:130) یعنی اے میرے خدا! ملک عرب کے رہنے والوں میں ایک نبی مبعوث فرما جو تیری آیتیں ان کے سامنے پڑھے اور کتاب و حکمت انہیں سکھائے۔ لیکن ملک عرب کی حالت کو دیکھو۔ سب گنوار، جاہل، اُجڈ، بات بات پر لڑ مرنے والے، نہایت کندہ تراش ہیں۔ ایک شخص بھی اس قابل نہیں کہ وہ ابراہیمی دعا کا مصداق بن سکے۔ مگر ابراہیمؑ کی دعا سنی گئی اور دو ہزار برس بعد انہیں نالائقوں میں سے ایک لائق پیدا ہوا اور اُمّی ہو کر سب عالموں سے بڑھ گیا اور ابراہیم ؑکی دعا قبول ہو گئی اور یہ خارق عادت طور پر دعا کا قبول ہونا ہی دلالت کرتا ہے کہ ایک بااقتدار دعاؤں کے سننے اور قبول کرنے والی ہستی موجود ہے۔

پھر حضرت مسیح ناصریؑ کو دیکھو۔ وہ ساری رات دعا کرتے ہیں کہ الٰہی! یہ موت کا پیالہ مجھ سے ٹال دے۔ اور ادھر یہودی مخالف ہیں۔ عدالت قتل کا فتویٰ دیتی ہے۔ کوئی سامان موجود نہیں۔ مگر صادق راستباز کی دعا ضائع نہیں گئی۔ خداتعالیٰ نے مسیح کو بچا لیا اور صلیب پر لٹکنے کے دو تین گھنٹہ کے بعد آندھی آ گئی۔ دوسرے دن سبت تھا۔ پلاطوس کو رحم آ گیا اس کی بیوی کے پاس خواب میں مسیح ؑکی سفارش کرنے کیلئے فرشتہ آیا۔ ساتھ کے چوروں کی ہڈیاں توڑ دی جاتی ہیں لیکن مسیح ؑاس مصیبت سے بچ رہتا ہے۔ پھر نیم مُردہ لاش بھی یہودیوں کے ہاتھ نہیں آتی بلکہ ایک خیر خواہ شاگرد کو ملتی ہے اور اس طرح مسیح ؑ اس لعنتی موت سے بچ جاتے ہیں اور ان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ بھلا بتاؤ کیا مسیح کی یہ دعا اور اس کی قبولیت خداتعالیٰ کی ہستی کی ایک دلیل نہیں؟

پھر رسول کریمؐ کے حالات پر غور کرو۔ مدنی زندگی اور صحابہؓ کی قلت، دشمن کی کثرت پر نظر ڈالو۔ دشمن بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ ایک بڑی جمعیت اور سامان لے کر چڑھائی کرتا ہے۔ ادھر آپؐ کے پاس نہ جمعیت نہ سامان۔ بدر کے مقام پر دونوں گروہوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کی کوئی سبیل نہیں۔ لیکن رسول کریمؐ ایک بیت الدعا بنا کر اس میں بڑے عجزو انکسار سے خدا کے حضور دعا کرتے ہیں اور ایسی تڑپ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ خونخوار دشمن تباہ ہو جاتا ہے اور وہ بے سر وسامان جماعت فاتح ہو جاتی ہے۔ کیا یہ دعا کا نتیجہ نہیں؟ اگر ہے تو ذرا خیال کرو کہ اگر کوئی عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر ہستی نہیں ہے تو یہ تبدیلیاں کس کے دست تصرف سے ظہور پذیر ہوئیں؟ پھر آج مسیح موعود کا زمانہ لو۔ آپؑ کی دعاؤں کو دیکھو۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں دعائیں پوری ہوئیں۔ قریب المرگ بیمار صرف ایک ہی دعا سے ازسرِ نو زندہ ہوئے۔ مصیبتوں، بلاؤں اور مقدموں میں گرفتار لوگ جن کی مخلصی کی کوئی راہ نظر نہیں آتی تھی محض آپؑ کی دعا سے اپنی تمام مشکلات سے صاف نکل آئے۔ دشمن برباد ہوئے اور دوست شاد۔ پنڈت لیکھرام کا مارا جانا، سگ گزیدہ عبدالکریم کا بچ جانا، طاعون کا پنجاب میں پھوٹنا، آپ کا مقدموں میں فتح پانا۔ کیا یہ قبول شدہ دعاؤں کا نمونہ نہیں اور کیا دعا کی قبولیت خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلالت نہیں کرتی؟ کرتی ہے اور ضرور کرتی ہے۔

چوتھی دلیل

چوتھی دلیل خداکی ہستی کی یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعویٰ کیا کہ خدا ہے وہ ضرور کامیاب ہوئے اور جن لوگوں نے انکار کیا وہ خائب و خاسر رہے۔ اگر خدا نہ ہوتا تو یہ تفرقہ کیوں ہوتا۔ یہ بات صرف دعویٰ کے رنگ میں نہیں بلکہ واقعات پر اس کی بناء ہے۔ دیکھو حضرت ابراہیم ؑنے دنیا کے سامنے پیش کیا کہ خدا ہے۔ نمرود نے انکار کیا اور ابراہیمؑ کا مقابلہ کیا۔ اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ابراہیم ؑکامیاب ہوئے اور نمرود ناکام رہا۔ پھر موسیٰ ؑکی حالت کا مشاہدہ کرو۔ وہ فرعون جیسے جبار بادشاہ کے پُرہیبت دربار میں دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا ہے۔ مگر فرعون اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہہ کر انکار کرتا ہے۔ پھر جو نتیجہ نکلا وہ دنیا جانتی ہے۔ پھر حضرت عیسٰیؑ کا زمانہ آیا۔ آپ بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی کو پیش کرنے دنیا میں آئے۔ یہودنے آپ کی تکذیب کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج یہودی دنیا میں تمام قوموں سے ذلیل و خوار ہیں۔ ایک چپہ زمین بھی ان کے قبضہ میں نہیں۔ پھر سب کے سردار خیر الرسلؐ کی باری آئی۔ آپؐ نے مکہ والوں کے سامنے خدا کا وجود پیش کیا لیکن بدبختوں نے انکار کیا اور سب کے لیڈر سید الوادی ابوالحکم نے مقابلہ کیا۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ کس طرح تباہ ہوا اور ابوالحکم سے ابوجہل بن گیا۔ پھر مسیح موعود ؑکا دور آیا اور تمہاری آنکھوں کے سامنے اس نے دنیا کو پکارا۔ لیکن مولویوں نے مخالفت کی اور اہلحدیث کا ایڈووکیٹ ان کا سرگروہ بنا۔ لیکن کیا مخالف کامیاب ہوئے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ناکام رہے اور مسیح موعودؑ کامیاب ہوا۔

غرض تمام وہ صادق راستباز جو خدا کے وجود کا اقرار کرنے والے تھے کامیاب ہوئے۔ اور تمام مخالف ناکام اور یہ بات خداتعالیٰ کی ہستی کا ایک بڑا بھاری ثبوت ہے۔ اس دلیل کو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس طرح پر بیان فرماتا ہے: وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَO اِنَّھُمْ لَھُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَO وَاِنَّ جُنْدَنَا لَھُمُ الْغٰلِبُوْنَ O (الصافات: 172-174) اور ایک مقام پر فرمایا: کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (المجادلہ:22)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020