• 21 ستمبر, 2020

حضرت بابو محمد رشید خان صاحب رضی اللہ عنہ آف گوجرانوالہ

تعارف صحابہؓ
حضرت بابو محمد رشید خان صاحب رضی اللہ عنہ آف گوجرانوالہ

حضرت بابو محمد رشید خان صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم خدا بخش صاحب مرحوم قوم افغان مہمند گوجرانوالہ شہر کے رہنے والے تھے اور بطور سٹیشن ماسٹر ریلوے میں ملازم تھے۔ آپ کی والدہ حضرت بیگم بی بی صاحبہؓ (وفات: مئی 1946ء ۔ مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) صحابیہ و موصیہ تھیں۔ آپ کے بڑے بھائی حضرت محمد حسین خان صاحب ٹیلر ماسٹر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے بیعت کی، اُس وقت آپ احمدیت کے سخت مخالف تھے لیکن رفتہ رفتہ آپ بھی احمدیت کے قائل ہوگئے اور 1905ء میں قادیان جاکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ آپ کے بھائی حضرت محمد حسین خاں صاحبؓ ٹیلر ماسٹر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں اپنی پہلی حاضری کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’….. میں نے عرض کیا کہ میرا ایک چھوٹا بھائی ہے اس کے واسطے دعا کریں کہ وہ احمدی ہو جائیں۔ میں نے اس کے واسطے اخبار بدر بھی جاری کرایا ہے اور جو حضور کی کتب بھی ملتی ہیں وہ بھی اسے دیتا ہوں اور وہ اس کو ہاتھ نہیں لگانا پسند کرتا۔ کہتا ہے کہ اس میں جادو بھرا ہوا ہے اور جو پڑھتا ہے وہ مرزائی ہو جاتا ہے ۔حضور دعا فرماویں کہ وہ سلسلہ حقہ میں داخل ہو جاوے۔ حضور ؑنے فرمایا: آپ کے ارادے نیک ہیں خدا آپ کو بڑی کامیابی دے گا …….

پھر ایک دفعہ بابو محمد ؐرشید کا کچھ مدت بعد احمدیت کی طرف رجحان ہو گیا کچھ میرے ساتھ تبادلہ خیالات ہوا۔ اس کے بعد چار آدمی میرے ساتھ بیعت کے واسطے قادیان آنے کو تیار ہو گئے (1) بابو محمد رشید (2) مولوی محبوب عالم (3) مستری علم دین اور چوتھے کا مجھے نام یاد نہیں پھر میں ان چاروں شخصوں کو قادیان لا کر بیعت کرا دی …‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 5 صفحہ 97۔ و سیرت المہدی جلد اول حصہ سوم روایت نمبر 719)

بیعت کے بعدآپؓ اخلاص و وفا میں بہت ترقی کی اور احمدیت کے ایک مخلص خادم ثابت ہوئے۔ بعد ازاں آپ ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے اور محلہ دار الرحمت میں رہائش رکھی۔ 1938ء میں جبکہ آپ رشکئی ضلع مردان میں سٹیشن ماسٹر تھے، اپنی روایات قلم بند کراتے ہوئے بیان کیا:
’’بندہ کو جس طرح سے چند ایک باتیں حضرت اقدس جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یاد ہیں، ذیل میں ملاحظہ فرماویں۔ بعض باتیں میرے بچپن کی وجہ سے یاد نہیں رہ سکیں۔

حضور اقدسؑ کی زیارت کا شرف عاجز کو پہلے پہل 1904ء کو ریلوے سٹیشن گوجرانوالہ گاڑی میں جب کہ حضور اقدس جہلم والے مقدمہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے (یہ سہو ہے۔ اگر 1904ء ہے تو پھر سفر سیالکوٹ تھا اور اگر سفر جہلم ہے تو پھر 1903ء ہونا چاہیے۔ ناقل) حاصل ہوا۔ حضورؑ خندہ پیشانی تھے اور ریش مبارک مہندی رنگی تھی۔

(2) لاہور ایک جلسہ پر جوعقب مقبرہ داتہ گنج بخش صاحب منڈوا میں 1904ء میں ہوا، یہ خاکسار بھی گیا تھا۔ تمام منڈوا کھچا کھچ بھرا ہوا تھا حضور اقدسؑ تقریر کے لئے ایک بند بگھی میں تشریف لے گئے تھے۔ کیونکہ ان دنوں بند بگھی کی سواری ایک اعلیٰ سواری شمار کی جاتی تھی۔ بندہ نے سڑک پر جاتے ہوئے تین بگھیاں یکے بعد دیگرے جلسہ گا ہ کو جاتی دیکھیں۔ جن میں سے درمیان کی گاڑی پر آگے پیچھے دو دو آدمی بیٹھے اور کھڑے تھے۔ جن کے کندھوں پر میں نے ننگی تلواریں دیکھیں اور تمام سڑک پر جس راہ سے حضور اقدس تشریف لے جارہے تھے فوجی پہرہ تھا اور اسی طرح عاجز کو یاد ہے اور نظارہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ جلسہ گاہ میں حضور اقدسؑ ایک سبز کپڑے والی کرسی پر تشریف فرما تھے اور پشت کی طرف پہرہ کا انتظام تھا۔

(3) اس خاکسار نے جب کہ ریلوے سٹیشن کا لیکی پر سگنیلر تھا، 1905ء میں حضرت اقدسؑ کے دستِ مبارک پر مع تین اور دوستوں کے جن کا سٹیشن مذکور پر بندہ کے پاس اٹھنا بیٹھنا تھا۔ اخبار بدر جو بندہ کے بڑے بھائی خان صاحب محمد حسین خان صاحب عاجز کے نام جاری کرایا ہوا تھا ہم آپس میں پڑھا کرتے تھے، بیعت کی۔ (اور اس کے بعد میں رہائش کے طور پر گوجرانوالہ نہیں گیا۔ جو میری پیدائشی جگہ ہے) حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دریچہ کے راہ سے جو مسجد مبارک کے شمالی جانب دیوار میں اور آج کل درمیانی کھڑکی ہے۔ یعنی ایک دروازہ اور ایک کھڑکی کے درمیان میں جن سے عموماً اور خاص مواقع پر حضرت امیر المؤمنین فضل عمر خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہ العزیز نمازوں کے لئے تشریف لایا کرتے ہیں۔ خادمانِ حضور جوشِ محبت سے اس طرح آگے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے جس طرح پروانے روشنی پر آگے بڑھ بڑھ کر قربان ہو ہو جاتے ہیں اور ایسے خوش و خرم معلوم ہوتے تھے جیسے دنیا کی بادشاہت مل جاتی ہے اور آپس میں اس قدر محبت کا نظارہ معلوم ہوتا تھا جو حضورؑ کے ارشاد کے ماتحت رشتوں ناطوں سے کہیں بہت بڑھ کر بلکہ عدیم المثال تھا۔

(4) حضور اقدسؑ کا حلیہ مبارک جو اس عاجز کو یاد ہے، ریش مبارک کے بال مہندی رنگے مٹھی برابر اور سیدھے تھے اور چہرہ مبارک گندمی رنگ تھا۔ پیشانی کشادہ اور قد میانہ تھا۔

(5) حضور اقدسؑ جب نماز کے لئے باہر تشریف فرما ہوتے تو جماعت خود نہیں کراتے تھے بلکہ حکیم الامت حضرت مولوی صاحب رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ جو بعد وفات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خلیفۃ المسیح اوّل ہوئے جماعت کرایا کرتے اور آنحضور ان کے دائیں جانب کھڑے ہوتے اور نماز گزارتے یعنی فرائض اور سنتیں اندرون خانہ (یعنی فرائض ادا کرنے کے بعد جلدی یا دیر سے اندر تشریف لے جاتے تھے)۔

(6) ہم اُن دنوں بہت خوش ہوا کرتے اور اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے تھے۔ جب مسجد میں دیکھتے کہ بہت بڑا ہجوم ہے۔ وہ ہجوم کیا ہوتا تھا؟ یعنی (1) مسجد کی جگہ تو صرف اتنی تھی جس کا طول اندرونی سیڑھیوں سے لے کر اس جگہ تک تھا جہاں سامنے ایک دریچہ ہے۔ جس کے اوپر حضرت اقدسؑ کے الہامات (مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ آمِنًا وغیرہ لکھے ہوئے ہیں) والا بورڈ یعنی تختہ لٹک رہا ہے اور عرض اس کا دریچوں والی شمالی دیوار سے پہلے ستون تک تھا اور ساری جگہ قریباً پچیس تیس نمازیوں کے لئے کافی تھی۔ ایک دفعہ بڑا بھاری ہجوم ہو گیا کہ مسجد مبارک میں جگہ تنگ ہو گئی۔ تو عاجز نے مع چند اور دوستوں کے اُس دریچہ سے اندر کے کمرہ میں نماز ادا کی جس میں سے حضورؑ باہر تشریف فرما ہوتے۔

(7) بندہ جب ریلوے سٹشین بہاولپور غربی پر 1908ء میں سگنیلر تھا اور چوہدری غلام حسن صاحب مرحوم سٹیشن ماسٹر احمدی تھے (جو بعد میں بیعتِ خلافت سے محروم رہے) دس روز کی رخصت پر جارہے تھے تو بندہ بھی بغیر اجازت و رخصت اُن کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا۔ اُن دنوں حضرت اقدسؑ لاہور میں تشریف فرما تھے۔ بندہ بھی لاہور پہنچ گیا اور مورخہ 25-5-1908 کو بعد نمازِ عصر جو حسبِ معمول حضرت مولوی صاحب رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ نے پڑھائی اور حضور اقدس دائیں جانب نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور حضور اقدس ؑکچھ دیر تشریف رکھنے کے بعد اندر خانہ تشریف لے جانے کو تھے تو یہ خاکسار اس ڈیوڑھی کے دروازہ کے آگے اس خیال سے بیٹھا تھا کہ بھیڑ میں شاید مصافحہ کا موقع نہ مل سکے تو یہاں بخوبی مصافحہ ہو سکے گا۔ حتیٰ کہ حضورؑ کے اٹھتے ہی بہت ہجوم ہو گیا اور عاشق پروانوں کی طرح گرنے لگے اور دھکوں کے تھپیڑ سے یہ عاجز اس چھوٹے کمرے یعنی ڈیوڑھی کے اندر آگیا۔ جہاں سے حضور اقدسؑ نے اندر تشریف لے جانی تھی۔ حضور اقدسؑ جب مصافحوں سے فارغ ہوئے تو اُس ڈیوڑھی میں آن پہنچے تو اس طرح خادم نے حضورؑ سے شرف مصافحہ حاصل کیا کہ بہت دیر تک حضور اقدسؑ کے دستِ مبارک کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کھڑا رہا اور دعا کے لئے عرض کرتا رہا۔ اور حضور اقدسؑ بھی خندہ پیشانی کھڑے رہے اور اپنا دستِ مبارک ہر گز پیچھے نہ کھینچا بلکہ آج تک بخوبی یاد ہے کہ نہ ہی حضورؑ نے پیچھے کھینچا اور نہ اس خادم نے۔ اس سے حضور حضرت جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ اَنْبِیَاء کی عادت مبارک معلوم ہوتی ہے کہ حضور خود بخود اپنا دستِ مبارک ہر گز پیچھے نہ ہٹاتے تھے۔ اس ہاتھ کی برکت سے یہ غلام کئی قسم کے بڑے بڑے ابتلاؤں سے بچا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ والسلام

خاکسار محمد رشید خان (سٹیشن ماسٹر رشکئی) مہاجر محلہ دارالرحمت قادیان دارالامان‘‘

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 7 صفحہ 381-396)

اسی طرح رجسٹر روایات صحابہ نمبر 6 میں بھی آپ کا مختصر ذکر موجودہے جہاں آپ نے اپنے تین ایڈریسز لکھوائے ہیں یعنی:

پتہ سابق گوجرانوالہ گلی دلیپ سنگھ

پتہ حال 1۔ دارالرحمت رشید منزل، قادیان دارالامان

2۔ملازمت کا پتہ سٹیشن ماسٹر ریلوے سٹیشن رشکئی (Rashkai) ضلع پشاور

جب سے بیعت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کبھی گوجرانوالہ نہیں گیا سوائے کسی ضرورت کے۔ جب رخصت حاصل کرتا سیدھا قادیان پہنچتا اور ساری رخصت وہاں گزارتا۔

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 6 صفحہ 275)

جیسا کہ ذکر ہوا آپ سلسلہ احمدیہ کے مخلص خادم تھے، جہاں جاتے تبلیغ و تربیت کا کام ساتھ کرتے رہتے۔ خلافت کے ساتھ بھی نہایت وفا اور اطاعت کاتعلق تھا۔ خلافت ثانیہ کے آغاز میں ایک دفعہ اخبار الفضل نے آپ کا ایک خط درج کرتے ہوئے لکھا:
’’لاہور سے بابو محمد رشید خان صاحب سٹیشن ماسٹر سکھیکی لکھتے ہیں کہ چند دنوں سے لاہور میں مکرم و معظم میاں چراغ الدین صاحب کے مکان پر مقیم ہوں۔ ایک روز سٹیشن ماسٹر صاحب کے روبرو کلرکوں سے مذہبی گفتگو کے دوران میں حضرت مسیح موعودؑ کے کرشن ہونے کا ذکر آگیا۔ سٹیشن ماسٹر صاحب نے تو یہ کہہ دیا کہ میں مذہبی باتوں میں دخل نہیں دیتا اور دوسرے کلرک خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بالکل خاموش ہوگئے اور کچھ جواب نہ دے سکے۔ پھر مجھے وزیر آباد جانے کا اتفاق ہوا تو راستہ میں گوجرانوالہ اُترا، وہاں ایک غیر مبائع سے گفتگو ہوئی تو وہ کہنے لگے کیا تم مجھے یہ بات لکھ کر دے سکتے ہو کہ میاں صاحب سچے اور حق پر ہیں! مَیں نے کہا میں حلفًا لکھ کر دے سکتا ہوں کہ میاں صاحب حق پر ہیں۔ کیا آپ مجھے یہ بات حلفًا لکھ کر دے سکتے ہیں کہ حضرت میاں صاحب حق پر نہیں تو انھوں نے اس بات سے گریز کیا۔ جَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ‘‘

(الفضل 21؍اکتوبر 1915ء صفحہ 2)

آپ بطور آنرری مبلغ بھی جماعت کی خدمت کرتے رہے۔ ناظر دعوۃ و تبلیغ قادیان ایک جگہ ’’آنریری مبلغ محمد رشید خان صاحب کی قابل قدر مثال‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’آنریری مبلغین میں سے محمد رشید خان صاحب ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر محلہ دار الرحمت خاص طور پر قابل قدر مثال ہیں۔ انھوں نے ریٹائرڈ ہونے سے پہلے جو رخصت لی تھی، اُس میں بھی آنریری تبلیغ میں حصہ لیتے رہے چنانچہ موضع تلونڈی جھنگلاں میں نماز جمعہ پڑھانے اور اصلاح جماعت میں کوشش کرنے کے لیے برابر جاتے رہے اور جب کبھی کسی اور موقعہ پر ان کو جانے کے لیے کہا گیا، انھوں نے بخوشی قبول کیا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے موضع بسراواں کی جماعت میں جمعہ پڑھانے کا کام اپنے ذمہ لیا اور اس کو اس خوبی سے نبھا رہے ہیں کہ عام طور پر ایسی مثال دیکھنے میں نہیں آتی۔ اگر ان کو کسی کام کے لیے قادیان سے باہر جانا پڑتا ہے تو بھی وہ اس کام کے لیے باہر سے جمعہ کے دن آ جاتے ہیں اور جمعہ پڑھا کر پھر واپس جاتے ہیں۔ جماعت کے حالات کی مفصل رپورٹ دفتر دعوۃ و تبلیغ میں بھجواتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ مثال اہل قادیان کے لیے ایک خاص نمونہ ہےجبکہ بعض دوست قادیان رہتے ہوئے بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر جمعہ پڑھانے کے لیے جانا اپنے لیے دو بھر اور تکلیف بالا ئےطاق سمجھتے ہیں۔ یہ نیک انسان کسی کام اور ضرورت سے باہر جانے پر بھی جمعہ کے دن اپنا خرچ کر کے اس گاؤں میں تشریف لے جاتے ہیں جو اُن کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ قادیان میں جمعہ پڑھنے کے لیے تو لوگ باہر سے آیا ہی کرتے ہیں غالبًا یہ ایک واحد مثال ہے کہ اپنے ذمہ لیے ہوئے کام کے لیے فرضِ منصبی کے طور پر باہر سے خرچ کر کے قادیان آتے ہیں اور پھر قادیان سے باہر جمعہ پڑھانے کے لیے چلے جاتے ہیں۔ جمعہ پڑھا کر رپورٹ دے کر پھر اپنی ضرورت کے مطابق جہاں سے آتے ہیں وہاں واپس چلے جاتے ہیں۔ اہل قادیان کو اس سے سبق لینا چاہیے۔‘‘

(الفضل 27؍اپریل 1940ء صفحہ 6)

آپ نے مؤرخہ 3؍جنوری 1945ء کو وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 4115) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کیے گئے۔ اخبار الفضل نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا:
’’افسوس بابو محمد رشید صاحب ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے، پرسوں کالکا میں بعمر 59 سال وفات پاگئے۔ آج بذریعہ گاڑی نعش یہاں لائی گئی اور بعد نماز جمعہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو بہشتی مقبرہ کے قطعہ صحابہ میں دفن کیا گیا۔ احباب بلندی درجات کے لیے دعا فرمائیں۔‘‘

(الفضل 6؍جنوری 1945ء صفحہ 1)

آپ نے تین شادیاں کیں۔ پہلی بیوی محترمہ صغریٰ بیگم صاحبہ تھیں جن کی وفات پر آپ نے لکھا: ’’عاجز کی بیوی صغریٰ بیگم 29؍جنوری فوت ہوگئی۔ مرحومہ کو قرآن مجید و صحیح بخاری پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ دعائے مغفرت فرمائی جائے۔ محمد رشید خان سٹیشن ماسٹر کوڑ وزیرستان‘‘ (الفضل 17؍فروری 1925ء صفحہ2) ان سے ایک بیٹے عبدالرشید اور دو بیٹیاں محترمہ امۃ اللہ بیگم صاحبہ (وفات: 16؍دسمبر 2001ء ۔ بہشتی مقبرہ ربوہ۔ زوجہ صاحبزادہ محمد طیب صاحب ابن حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب شہید رضی اللہ عنہ) اور امۃ الرحمٰن نسیم تھیں۔

دوسرا رشتہ حضرت مستری عبدالحکیم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ (بیعت: 1902ء۔ وفات: 17؍ستمبر 1977ء مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) کی بیٹی محترمہ برکت بی بی کے ساتھ ہوا، آپ نے الفضل میں اعلان کراتے ہوئے لکھا: ’’عاجز کا نکاح ….. مسماۃ برکت بی بی بنت مستری عبدالحکیم سیالکوٹی صاحب کے ساتھ مبلغ پانسو روپیہ مہر پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے پڑھا۔‘‘ (الفضل 18؍فروری 1927ء صفحہ 2) ان سے ایک بیٹی امۃ الکریم تھیں۔

تیسری شادی دہلی میں محترمہ آمنہ بیگم صاحبہ کے ساتھ ہوئی جن سے دو بیٹے سلیم احمد خان، نعیم احمد خان اور ایک بیٹی امۃ المجیب تھے۔
(نوٹ: اولاد کی معلومات آپ کی نواسی محترمہ سیدہ ناصرہ لطیف صاحبہ امریکہ نے دی ہیں، جزاھا اللہ تعالیٰ)

(مرتبہ: غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020