• 21 ستمبر, 2020

ماہانہ انفرادی رپورٹ فارم برائے اراکین مجلس انصار اللہ کینیڈا

اراکین مجلس انصار اللہ کینیڈا کو ہر ماہ آن لائن انفرادی رپورٹ (جائزہ) فارم پُر کر نے کے لئے درخواست کی جاتی ہے ۔یہ فارم چند بنیادی تربیتی سوالوں پر مشتمل ہوتا ہے کہ مثلاً باقاعدگی سے پنج وقتہ نمازوں کا ادا کرنا، تلاوت قرآن کرنا،نماز جمعہ پڑھنا، حضور انور کے خطبات سننا، تعلیمی نصاب کی کتاب کا مطالعہ کرنا ،وغیرہ ۔مگر اکثر مشاہدہ میں یہ صورت حال سامنے آ تی ہے کہ ایک بھاری تعداد انصار بھائیوں کو اس فارم کو پُر کر نے میں انقباض محسوس ہوتا ہے یا غیر سنجیدگی اور سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔زعماء مجالس کو ہر ماہ اس مشق کے دوران بہت سی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انصار بھائیو ں کی طرف سے درج ذیل سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

  1. اس فارم کو پُر کرنا کیوں ضروری ہے؟
  2. اس فارم کوپرُ کرنے کے بعد کیا مرحلہ ہوتا ہے؟
  3. نماز کے بارے میں کیوں پوچھا جاتا ہے یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے؟

آج اس تحریر کے ذریعے ان تمام انصار بھائیوں کو بیدار کرنے کی خاطر اور ان کی طرف سے اُٹھا ئے گئے تمام سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لئے ہم قرآن کریم،حدیث مبارکہ اور ارشادات خلفائے کرام کی طرف رجوع کرتے اور ان ہی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں ۔

انسان کا اعمال نامہ

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ ’’اور ہر انسان کا اعمال نامہ ہم نے اس کی گردن سے چمٹا دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے لئے اسے ایک ایسی کتاب کی صورت میں نکالیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا۔‘‘

(بنی اسرائیل: آیت14)

اس آیت کے مختصر تشریحی نوٹس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ تحریر کرتے ہیں کہ ’’یہاں طائر سے مراد پرندہ نہیں ہے کہ گویا ہر انسان کی گردن میں پرندہ لٹک رہا ہے ۔بلکہ اس کا اعمال نامہ مراد ہے جو ظاہری شکل میں لٹکا ہوا نہیں ہو تا مگر قیامت کے دن اسے ظاہر کر دیا جائے گا ۔یہ ایسا ہی محاورہ ہے جیسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو تم کیسے ہو‘‘

(قرآن کریم اردو ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ صفحہ465)

چنانچہ ہر ماہ انفرادی جائزہ فارم پُر کر نا ایسا ہی ہے جیسے ہر ماہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کو کہا جائے کہ ہم اپنی روحانی حالت کا محاسبہ خود کریں ۔

سب سے پہلا محاسبہ

ایک روایت میں آتا ہے : یونس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے اعمال میں سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس بات کا محاسبہ کیا جائے گا وہ نماز ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب عزّوجل فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے،کہ میرے بندے کی نماز کو دیکھوکہ کیا اس نے اسے مکمل طور پر ادا کیا تھا یا نامکمل چھوڑ دیا؟ پس اگر اس کی نماز مکمل ہوگی تو اس کے نامہ اعمال میں مکمل نماز لکھی جائے گی اور اگر اس نماز میں کچھ کمی رہ گئی ہوگی تو فرمائے گا کہ دیکھیں کیا میرے بندے نے کوئی نفلی عبادت کی ہوئی ہے؟ پس اگر اس نے کوئی نفلی عبادت کی ہوگی تو فرمائے گا کہ میرے بندے کی فرض نماز میں جو کمی رہ گئی تھی وہ اس کے نفل سے پوری کردو۔پھر تمام اعمال کا اسی طرح مواخذہ کیا جائے گا ۔

(سنن نسائی ۔کتاب الصلوۃ باب المحاسبۃ علی الصلوۃ)

انصار کی نمازوں کا ریکارڈ رکھیں

20 اکتوبر 2017ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعا لیٰ نے نیشنل مجلس عاملہ انصارللہ آسٹریلیا کو ہدایات دیتے ہوئے قائد تربیت سے فرمایا کہ
’’آپ نے اس نو دس ماہ کےعرصے میں کیا کام کیا ہے ۔موصوف نے عرض کیا کہ تمام مجالس کو تربیت کا پروگرام بھجوایا ہے اور ہدایت دی ہے کہ اس پر عمل کریں ۔حضور انور نے فرمایا : کیا آپ کے پاس یہ ریکارڈ ہے کہ کتنے انصار باقاعدہ نمازیں ادا کرتے ہیں ۔اس پرموصوف نے عرض کیا کہ
411؍انصار میں سے 272 انصار باقاعدہ نمازیں ادا کرتے ہیں۔ باقی باقاعدہ نہیں ہیں۔ اس پر حضور انور نےفرمایا کہ سب کو باقاعدگی سے پانچوں نمازیں ادا کرنی چاہئیں ۔انصار کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ سب کو نمازوں کی ادائیگی میں باقاعدہ ہونا چاہئے ۔قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ ہونی چاہئے اور روزانہ تلاوت ہونی چاہئے ۔ایم ٹی اے پر خطبات سننے کی طرف توجہ ہو نی چاہئے۔‘‘

(سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ378)

تلاوت قرآن کا جائزہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ ’’قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کریں، قرآن کریم کی تلاوت کی طرف توجہ دیں ۔گھروں کو بھی اس نور سے منّور کریں ۔لیکن ابھی بھی جہاں تک میرا اندازہ ہے انصار اللہ میں بھی سو فیصد قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے نہیں ہیں ۔اگر جائزہ لیں تو یہی صورت حال سامنے آئے گی۔‘‘

(خطبہ جمعہ24؍ستمبر2004ء بحوالہ سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ47)

نمازوں اور جمعوں میں سست افراد کا جائزہ

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےاپنے دورہ جرمنی کے دوران مورخہ 24 دسمبر 2006ء کو نیشنل مجلس عاملہ انصاراللہ جرمنی کےساتھ میٹنگ میں فرمایا کہ ’’ذیلی تنظیموں کا مقصد یہ ہے کہ جماعتی سطح پر جو سستیاں یا کمیاں ہیں ان کو وہ پورا کریں ۔اگر ذیلی تنظیم کے قائد مال یاقائد تربیت نے جماعتی شعبہ مال اور شعبہ تربیت پر ہی انحصار کرنا ہے تو پھر ذیلی تنظیم کا کیا فائدہ ہوا؟ اس لئے اپنے طور پر ان لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں جو نمازوں اور جمعوں میں شامل ہونے میں سست ہیں۔ ان کے جماعت سے عدم رابطہ کی وجہ تلاش کریں اور پھر جماعتی، تنظیمی اور ذاتی ہر سطح پر پیار اور محبت سے انہیں سمجھا کر نمازوں میں، جمعوں پر اور نظام جماعت کی اطاعت کی طرف لائیں، اس کے بعد چندہ جات کی فکر کریں ۔اگر صرف پیسے لینے کی طرف توجہ رکھیں گے تو تربیت کے اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے ۔پس اس بارے میں شعبہ تربیت کو فعال کرنے کی بہت ضرورت ہے۔‘‘

(سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ 179)

انفرادی جائزہ فارم پر کرنے کے بعد کا مرحلہ

تو پیارے انصار بھائیو ہمارے پیارے امام حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مندرجہ بالا ہدایات کی تعمیل میں ہی زعیم صاحب مجلس آپ کو یہ مختصر سا فارم پر کرنے کی ہر ماہ زحمت دیتے ہیں ۔تاکہ ملکی سطح پر اعدادوشمار اکھٹے کرکے ایک جامع رپورٹ حضور اقدس کی خدمت میں پیش کی جا سکے ۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مورخہ 25 دسمبر 2013ء کو سنگاپور، انڈونیشیا، ملائشیا، تھائی لینڈ، فلپائین اور برما کے اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ کوہدایات دیتے ہوئے فرمایا ’’تینوں ذیلی تنظیمیں ماہانہ رپورٹس براہ راست مجھے بھجوایا کریں۔ لندن دفتر پرائیویٹ سیکریٹری میں تینوں ذیلی تنظیموں کے شعبے ہیں ۔ان کےآفسز ہیں جو سارا ریکارڈ رکھتے ہیں اور رپورٹس پر باقاعدہ میری طرف سے ہدایات بھجوائی جاتی ہیں۔‘‘

(بحوالہ سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ374)

یوں سمجھیں کہ شعبہ تربیت خواہ جماعت کا ہو یا ذیلی تنظیم کا ہو اس کو اراکین مجلس کی اصلاح کا کوئی بھی عملی قدم اٹھانے سے پہلے اپنا زیرو پوائنٹ مقرر کرنا پڑےگا۔یہ جائزہ فارم دراصل وہ زیرو پوائنٹ ہے جس سے یہ اعداد و شمار اکٹھے کئے جاتے ہیں ۔کتنے ہیں جو باجماعت نماز ادا کرتے ہیں،جو باقاعدہ جمعہ پڑھتے ہیں، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ سنتے ہیں، تلاوت قرآن کرتے ہیں، یا تعلیمی نصاب میں دی گئی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ؟ یہ تمام سوالات وہ ہیں جوہمارے پیارے امام ہم سےپوچھ رہےہیں۔ تو وہ کون سا احمدی ہوگا جو اپنی جان سے بھی پیارے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے جوابات نہیں دےگا۔اس فارم کے ذریعے جو بھی اعدادوشمار ملتے ہیں ان کو بنیاد بناتے ہوئے ٹھوس مربوط بنیادوں پر ملکی سطح پر مجلس انصار اللہ تربیتی خلاء کو دور کرنے کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت کی روشنی میں کوششیں کر تی ہے۔

ایک غلط سوچ کی درستی

آئیے اب آخری سوال کا جواب اپنے پیارے امام کےبابرکت الفاظ میں سنتے ہیں ۔حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ
’’اسی طرح میں یہاں ایسے لوگوں کی درستی کرنا چاہتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ نہ ہمیں نمازوں کے متعلق کہو،نہ پوچھو کیونکہ یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے ۔کئی عورتوں کی شکایت آتی ہےکہ اگر ہم اپنے خاوندوں کو توجہ دلائیں تو وہ لڑنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ یہ بیشک بندے اور خدا کا معاملہ ہے لیکن توجہ دلانا اور پوچھنا نظام جماعت کا کام ہے ۔اسی طرح بیویوں کا بھی کام ہےبلکہ فرض ہے ۔اگر صرف اتنا ہی ہوتا کہ مرضی ہوئی تو پڑھ لوں گا،نہ ہوئی تو نہیں ۔یا فجر کی نماز پر ہم گہری نیند سو تےہیں اور دن بھر کے تھکے ہوئے ہو تے ہیں اس لئے رات کو گہری نیند آتی ہے اس لئے ہمیں جگانا نہیں ۔اگر یہ مرضی پر ہوتا تو پھر آنحضرت ﷺ بیوی اور خاوند کو یہ ارشاد نہ فرماتے کہ جو نماز کے لئے پہلے جاگے وہ دوسرے کو نماز کے لئے جگائےاور اگر نہ جاگے اورسستی دکھائے تو پانی کے چھینٹے مارے۔ بعض جگہ تو آپ نے بہت زیادہ سخت تنبیہ فرمائی ہے ۔گزشتہ جمعہ میں بعض احادیث میں نے پیش بھی کی تھیں۔پس یہ سوچ غلط ہے کہ ہم ایسے معاملے میں آزاد ہیں ۔ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے ۔جس نظام سے آپ کو منسلک کر رہے ہیں اگر وہ اپنی جماعت کا جائزہ لینے کے لئے نمازوں کی ادائیگی کے بارے میں استفسار کرتا ہے تو بجائے چڑنے اور غصہ میں آ نے کےتعاون کرنا چاہئے ۔ہاں اگر انسان خود نمازیں پڑھ کر دنیا کو بتانے والا ہواور بتاتا پھرے اور بڑے فخر سے بتائے کہ میں نمازیں باجماعت پڑھتا ہوں تو پھر یہ برائی ہے اور غلط ہے ۔بہر حال ہر ایک پر نمازوں کی اہمیت واضح ہونی چاہئے اور اس کے لئے اسے بڑے اہتمام سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ27 جنوری 2017ء)

حرف آخر

سو اے عزیز انصار بھائیو! انصار اللہ کے بعد تو اگلی زندگی کا ہی سفر تو ہے۔ اگر ہم اپنا کم ازکم ہر ماہ ہی محاسبہ کر کے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوششیں کریں گے اور اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے کچھ محنتیں کرلیں گے اور کچھ زاد راہ بنالیں گے تو ہم امید کرسکتے ہیں کہ وقت واپسی آسمان سے یہ آواز ہمارے لئے بلند ہو

’’اے نفس مطمئنہ! اپنے رب کی طرف لوٹ جا،راضی رہتے ہوئے اور رضا پاتے ہوئے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہوجا۔ اور میری جنتوں میں داخل ہوجا۔‘‘

(الفجر: آیات28 تا 31)

آئیے ہم خدا سے اس کے فضلوں کی امید لگاتے ہوئے اس آسمانی آواز کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں اپنے جائزے لیتے ہوئے بغیر اس سوال میں الجھتے ہوئے کہ ہم انفرادی رپورٹ فارم کیوں پر کریں؟اس کا کیا فائدہ؟

٭…٭…٭

(خالد محمود شرما۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 ستمبر 2020