• 28 اکتوبر, 2020

قناعت پسندی


حضرت اقد س مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں :
’’جس قدر انسان کشمکش سے بچا ہوا ہو اسی قدر اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں، کشمکش والے کے سینہ میں آگ ہوتی ہے اور وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں بھی یہی آرام ہے کہ کشمکش سے نجات ہو،۔ کہتے ہیں ایک شخص گھوڑَے پر سوار چلا جاتا تھا راستے میں ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔ اس نے لنگوٹ یا جانگیہ پہنا ہو گا۔ اس نے اس سے پوچھا کہ سائیں جی! کیا حال ہے؟۔ فقیر نے اسے جواب دیا کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہو گئی ہو ں اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ اس گھوڑ سوار کو تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مرادیں کس طرح پوری ہو گئی ہیں۔ فقیر نے کہا جب ساری مرادیں ترک کر دیں تو گویا سب حاصل ہو گیا۔‘‘ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ سب حاصل کرنا چاہتا ہے تو تکلیف ہی ہوتی ہے لیکن جب قناعت کرکے سب کچھ چھوڑ دے تو گویا سب کچھ ملنا ہوتا ہے۔

(ملفوظات جلد دوم صفحہ ۳۲۶)

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں وہ تمام تکلفات جو آجکل یورپ میں لوازم زندگی بنا رکھے ہیں یعنی زندگی کے لیے لازمی ضروری سمجھے ہوئے ہیں۔ ان سے ہماری مجلس پاک ہے۔ رسم و عادت کے ہم پابند نہیں ہیں۔ اس حد تک کہ ہر ایک عادت کی رعایت رکھتے ہیں کہ جس کے ترک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اندیشہ نہ ہو، باقی کھانے پینے اور نشست و برخاست میں ہم سادہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۴۴۸ البدر ۲۹؍ اکتوبر و ۸ نومبر ۱۹۰۳)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اکتوبر 2020