• 27 اکتوبر, 2020

یہ سوچ بڑی کثرت سے پائی جاتی ہے کہ لڑکے پیدا ہوں

’’آجکل کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی، ترقی یافتہ زمانے میں بھی یہ سوچ ہے اور یہ سوچ بڑی کثرت سے پائی جاتی ہے کہ لڑکے پیدا ہوں اور باپ کی طرح دنیاداری کے کاموں میں باپ کے ساتھ کام کریں۔ پھر جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ مال ہو، ڈھیروں ڈھیر مال کی خواہش ہو اور جتنا مال آتا ہے اتنی زیادہ حرص بڑھتی چلی جاتی ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ جس ذریعے سے بھی مال حاصل ہو سکتا ہے کیا جائے۔ دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرکے بھی زمینیں بنائی جا سکیں تو بنائی جائیں، دوسروں کے پلاٹوں پر بھی قبضہ کیا جائے، کاروبار پھیلایا جائے، کارخانے لگائے جائیں، سواریوں کے لئے کاریں خریدی جائیں، ایک گاڑی کی ضرورت ہے توتین تین چار چار گاڑیاں رکھی جائیں اور پھر ہر نئے ماڈل کی کار خریدنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ توفرمایا کہ یہ سب دنیوی زندگی کے عارضی سامان ہیں ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ ان عارضی سامانوں کے پیچھے پھرتا رہے۔ دنیا کے پیچھے پھرنا تو کافروں کا کام ہے، غیر مومنوں کا کام ہے، تمہارا مطمح نظر تو اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی عبادت اور اس کی مخلوق کی خدمت ہونا چاہئے۔ لیکن بدقسمتی سے اس خوبصورت اور پاکیزہ تعلیم کے باوجود مسلمانوں نے دنیا کو ہی مطمح نظر بنا لیا ہے اور حرص اور ہوس انتہا تک پہنچ چکی ہے۔ دجال کے دجل کی ایک یہ بھی تدبیر تھی جس سے مقصدمسلمانوں کو دین سے پیچھے ہٹانا تھا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ اور قناعت اور سادگی کو بھلا دیا گیا ہے اور ہوا و ہوس کی طرف زیادہ رغبت ہے اور امیر سے امیر تر بننے کی دوڑ لگی ہے۔پس ان حالات میں خاص طور پر احمدیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہر طبقہ کے احمدی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قناعت اور سادگی کو اپنائیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 30؍ اپریل 2004ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اکتوبر 2020