• 27 اکتوبر, 2020

صحبت صالح ترا صالح کند

یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنے ماحو ل میں دیگر اُٹھنے بیٹھنے والے لوگوں سے ضرور اثر پکڑتا ہے اور باوجودنہ چاہنے کے بھی، اس میں ان لوگوں جیسی حرکات و سکنات پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دوستیاں بڑھائیں اور بدزبان اور بد کردار کے حامل انسانوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والے پہلے بالکل جاہل اور اخلاق سے عاری تھے مگر آہستہ آہستہ حضورؐ کی صحبت کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ الہٰی رنگ پکڑ گئے اور ساری دنیا پر اخلاق حسنہ کی تلوار سے حکومت کی۔

حضرت مسیح موعودؑ، صحبت ِصالحین کی افادیت سے متعلق فرماتے ہیں:
’’جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پرہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا وہ ضرور پئے گا۔ پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہئیے۔ کہ صحبت میں بڑی تاثیر ہے۔ جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت کے ہی رنگ میں ہو لیکن وہ صحبت اپنا اثر کئے بغیر نہ رہے گی۔ اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آجائیگا۔‘‘

(ملفوظات جلد 3 صفحہ 505-506)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ مورخہ 11 ستمبر 2020ء میں عزیزم رؤوف بن مقصود مرحوم متعلم جامعہ احمدیہ کی سیرت بیان کرتے ہوئے مرحوم کا یہ نصیحت اموز فقرہ بھی quote فرمایا کہ

’’اپنے جو قریبی تھے ان کو کہا کرتے تھے کہ اچھے اخلاق والے دوست چنو‘‘۔

اصل انسان کی کامیابی اسی میں ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کو دور رسولؐ میں آنحضور ﷺ اور حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؓ کو اس اخروی دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مختصر صحبت نے ان کو سونے کی ڈلی بنا دیا اور وہ ایک ایسا مقام بنا گئے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔

صحبت صالحین کے ذرائع

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج صادقین کی صحبت ہم کیسے حاصل کریں۔ اس میں سب سے اول مساجد میں باجماعت نمازوں میں شمولیت جہاں مومن محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ مساجد کے تسلسل میں درس القرآن،درس الحدیث اور درس ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔ جب یہ درس ہورہا ہو تو وہ محفل صحبت صالحین کی ہے۔

ہفتہ میں جمعہ کے روز نہا دھو کر حسب توفیق خوشبو لگا کر مساجد میں جاکر خطبہ جمعہ سننا بھی ایک اعلیٰ درجہ کی صادقین کی مجلس ہے۔ اسی دور میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ پر یہ احسان عظیم کر رکھا ہےکہ ہم MTA کے توسط سے اپنے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کے بیان فرمودہ خطبات جمعہ سے براہ راست مستفیض ہوتے ہیں۔ صحبت صالحین کی یہ محافل 200 سے زائد ممالک میں بیک وقت جاری ہوتی ہیں۔ فرشتوں کا نزول ہورہا ہوتا ہے اذان بیک وقت نشر ہورہی ہوتی ہے۔ صادقین کی اس محفل سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ایم ٹی اے کی بات چلی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم نعمت ہمیں عطا فرمائی ہےجہاں سے 24 گھنٹے روحانیت کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ نیکی کی باتیں ہوتی ہیں ۔ اس سے بڑھ کر صحبت صالحین کی محافل نہیں ہوسکتیں۔

جماعتوں اور ذیلی تنظیموں کے ماہانہ اجلاسات ہیں۔ جو صادقین کی صحبت کا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جلسے ہیں جن کی ابتداء یا بنیادی اینٹ آج سے 119 سال قبل الہٰی اذن سے قادیان میں رکھی گئی اور آج 75 سے زائد ممالک میں یہ جلسے بڑی شان کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں۔ یہ صادقین کی محافل ہیں۔ ہمارے پیارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2 دسمبر 2005ء کو ماریشس کے جلسہ سالانہ پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے سے قبل سورۃ التوبہ کی آیت 119 کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِ قِیْنَ کی تلاوت فرمائی اور ان جلسوں کو صحبت صالحین کا ذریعہ قرار دیا۔ آپ نے اس خطبہ جمعہ میں فرمایا:
’’یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ ہمیں نصیحت فرما رہا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صادقوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اور آنحضرتﷺ کے بعد آپ کا غلامِ صادق ہی سب سے بڑا صادق ہے۔ پس اب جب آپ نے اس صادق کے ساتھ تعلق جوڑا ہے تو اس تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کریں۔ اور آپؑ اپنی جماعت جیسی بنانا چاہتے تھے ویسی جماعت بننے کی کوشش کریں۔ دنیا کو بتادیں کہ تم ہمیں مسلمان سمجھو یا غیر مسلم اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم نے تو آنحضرتﷺ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس صادق کو پالیاہے اور اب اس کی جماعت میں شامل ہوگئے ہیں۔ اور اب ہم ہی ہیں جن سے اسلام کی آئندہ تاریخ بننی ہے (ان شاء اللہ) اس لئے ہم اب تمہیں بھی کہتے ہیں کہ آؤ اور آنحضرتﷺ کے سب سے بڑے عاشق صادق کی جماعت میں داخل ہوکر اپنی دنیا و آخرت سنوارلو۔ لیکن جب یہ دعویٰ کرکے آپ دنیا کو اپنی طرف بلائیں گے تو اپنے آپ پر بھی نظر ڈالنی ہوگی کہ ہم نے اپنے اندر کیا انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس زمانے کے مسیح و مہدی اور سب سے بڑے صادق کو مان کر ہمارے اپنے نمونے کیا ہیں۔ ہمارے اپنے تقویٰ کے معیار کیا ہیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد سوم صفحہ 704)

گھروں میں نوافل ادا کرنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا۔ احادیث اورکتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے ارشادات پڑھنا اور دوسروں کو سنانا بھی صحبت صالحین کی محافل ہیں۔

ان تمام محافل صحبت صالحین کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس زمانے میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ دعاؤں کے ساتھ ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود کی تفاسیر اور علم کلام سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اگر قرآن کو سمجھنا ہے یا احادیث کو سمجھنا ہے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔یہ تو بڑی نعمت ہے ان لوگوں کیلئے جن کو اردو پڑھنی آتی ہے کہ تمام کتابیں اردو میں ہیں۔ اکثریت اردو میں ہیں، چند ایک عربی میں بھی ہیں۔ پھر جو پڑھے لکھے نہیں ان کیلئے مسجدوں میں درسوں کا انتظام موجود ہے ان میں بیٹھنا چاہئے اور درس سننا چاہئے۔ پھر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اور ایم ٹی اے والوں کو بھی مختلف ملکوں میں زیادہ سے زیادہ اپنے پروگراموں میں یہ پروگرام بھی شامل کرنے چاہئیں جن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کے تراجم بھی ان کی زبانوں میں پیش ہوں۔ جہاں جہاں تو ہوچکے ہیں اورتسلی بخش تراجم ہیں وہ تو بہرحال پیش ہوسکتےہیں۔ اور اسی طرح اردو دان طبقہ جو ہے، ملک جو ہیں، وہاں سے اردو کے پروگرام بن کے آنے چاہئیں۔ جس میں زیادہ سے زیادہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس کلام کے معرفت کے نکات دنیا کو نظر آئیں اور ہماری بھی اور دوسروں کی بھی ہدایت کا موجب بنیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 401-402)

پھر فرمایا:
’’تو ایسی نیک مجالس ہیں جو سلامتی کی مجلسیں ہیں۔ ان میں عام گھریلو مجالس، اجتماعات، اور جلسے بھی ہوسکتے ہیں۔ جماعت احمدیہ خوش قسمت ہے کہ اس میں ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونے کی وجہ سے اس قسم کے مواقع میسر آتے رہتے ہیں۔ اب انشاء اللہ تعالیٰ یہاں کا جلسہ بھی آنے والا ہے اس سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کی بارش ہم پر پڑتی رہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 490)

پھر فرمایا:
’’یہ بھی ان مجالس کے ضمن میں ہے کہ ہمیشہ ایسی مجالس میں بیٹھنا اور اٹھنا چاہئے جہاں سے نیکی کی باتیں پتہ لگیں۔ تقویٰ کی باتیں پتہ لگیں، اللہ اور رسولؐ کے احکامات کا علم ہو۔ اگر اپنی اصلاح کرنی ہے اور اپنی زندگی سنوارنا چاہتے ہیں اور دینی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ جیسا کہ حدیث میں آیا اپنی صحبت نیک لوگوں میں رکھنی چاہئے اور ایسی مجالس کی تلاش میں رہنا چاہئے۔

اس بات کو ایک حدیث میں یوں بھی بیان فرمایا ہے۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ تم مومن کے سوا کسی اور کے ساتھ نہ بیٹھو۔ اور متقی آدمی کے سوا اور کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔‘‘

(ترغیب و الترھیب بحوالہ صحیح ابن حبان)

(خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 491)

پھر فرمایا:
’’آپؑ کی کتب پڑھنے کی طرف بھی بہت توجہ دینی چاہئے یہ بات بھی صحبت صادقین کے زمرے میں آتی ہے کہ آپؑ کے علم کلام سے فائدہ اٹھایا جائے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد سوم صفحہ394)

پھر ہمارے پیارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو صحبت صالحین کی تلقین و نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پھر یہ بھی نظر رکھنی چاہئے کہ بچوں کے دوست کون ہیں بچوں کے دوستوں کا بھی پتہ ہونا چاہئے۔ یہ مثال تو ابھی آپ نے سن ہی لی۔ اس سیٹ پر بیٹھنے کی وجہ سے ہی صرف اس طالبعلم پر دہریت کا اثر ہورہا تھا۔ لیکن یہ مثالیں کئی دفعہ پیش کرنے کے باوجود، کئی دفعہ سمجھانے کے باوجود، ابھی بھی والدین کی یہ شکایات ملتی رہتی ہیں کہ انہوں نے سختی کرکے یا پھر بالکل دوسری طرف جاکر غلط حمایت کرکے بچوں کو بگاڑ دیا۔ ایک بچہ جو پندرہ سولہ سال کی عمر تک بڑا اچھا ہوتا ہے جماعت سے بھی تعلق ہوتا ہے، نظام سے بھی تعلق ہوتا ہے، اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں بھی حصہ لے رہا ہوتا ہے ۔ جب وہ پندرہ سولہ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو پھر ایک دم پیچھے ہٹنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر ہٹتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ایسی بھی شکایات آئیں کہ ایسے بچے ماں باپ سے بھی علیحدہ ہوگئے۔ اور پھر بعض بچیاں بھی اس طرح ضائع ہوجاتی ہیں۔جن کا بہر حال افسوس ہوتا ہے۔ تو اگر والدین شروع سے ہی اس بات کا خیال رکھیں تو یہ مسائل پیدا نہ ہوں ۔

پھر بچوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنے دوست سوچ سمجھ کر بناؤ۔ یہ نہ سمجھو کہ والدین تمہارے دشمن ہیں یا کسی سے روک رہے ہیں بلکہ سولہ سترہ سال کی عمرایسی ہوتی ہے کہ خود ہوش کرنی چاہئے، دیکھنا چاہئے کہ ہمارے جو دوست ہیں بگاڑنے والے تو نہیں ، اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے تو نہیں۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہیں وہ تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔تمہارے ہمدرد نہیں ہوسکتے، تمہارے سچے دوست نہیں ہوسکتے۔ اور ایک احمدی بچے کو تو کیونکہ صادقوں کی صحبت سے فائدہ اٹھانا ہے اس لئے یاد رکھیں کہ یہ گروہ شیطان کا گروہ ہے صادقوں کا گروہ نہیں اس لئے ایسے لوگوں میں بیٹھ کے اپنی بدنامی کا باعث نہ بنیں، ایسے بچوں یا نوجوانوں سے دوستی لگا کے اپنے خاندان کی بدنامی کا باعث نہ بنیں اور ہمیشہ نظام سے تعلق رکھیں۔ نظام جو بھی آپ کو سمجھاتا ہے آپ کی بہتری اور بھلائی کیلئے سمجھاتا ہے۔ نمازوں کی طرف توجہ دیں۔قرآن پڑھنے کی طرف توجہ دیں اللہ تعالیٰ ہمارے ہر بچے کو ہر شیطانی حملے سے بچائے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد دوم صفحہ 396-397)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ مومن کی ہر ایک چیز بابرکت ہو جاتی ہے جہاں وہ بیٹھتا ہے وہ جگہ دوسروں کیلئے موجب برکت ہوتی ہے۔ اس کا پس خوردہ اوروں کیلئے شفا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک گنہگار خدا تعالیٰ کے سامنے لایا جاوے گا۔ خدا تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تونے کوئی نیک کام کیا؟ وہ کہے گا کہ نہیں۔ پھر خدا تعالیٰ اس کو کہے گا کہ فلاں مومن تو ملا تھا وہ کہے گا خداوند میں ارادتاً تو کبھی نہیں ملا وہ خود ہی ایک دن مجھے راستہ میں مل گیا۔ خدا تعالیٰ اسے بخش دے گا۔ پھر ایک اور موقعہ پر حدیث میں آیا ہے کہ خدا تعالیٰ فرشتوں سے دریافت کرے گا کہ میرا ذکر کہاں پر ہو رہا ہے؟ وہ کہیں گے کہ ایک حلقہ مومنین کا تھا جہاں دنیا کے ذکر کا نام و نشان بھی نہ تھا؛ البتہ ذکر الٰہی آٹھوں پہر ہو رہا ہے۔ اُن میں ایک دنیا پرست شخص تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے اس دنیادار کو اس ہم نشینی کے باعث بخش دیا۔ انھم قوم لا یشقی جلیسھم۔

بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ جہاں ایک مومن امام ہو اس کے مقتدی پیش ازیں کہ وہ سجدہ سے سر اُٹھاوے بخش دیئے جاتے ہیں۔

مومن وہ ہے کہ جس کے دل میں محبتِ الٰہی نے عشق کے رنگ میں جڑ پکڑلی ہو۔ اس نے فیصلہ کر لیا ہو کہ وہ ہر ایک تکلیف اور ذلت میں بھی خدا تعالیٰ کا ساتھ نہ چھوڑے گا۔ اب جس نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کب کسی کا کانشنس کہتا ہے کہ وہ ضائع ہو گا کیا کوئی رسول ضائع ہوا؟ دنیا ناخنوں تک اُن کو ضائع کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن وہ ضائع نہیں ہوتے جو خدا تعالیٰ کے لیے ذلیل ہو وہی انجام کا ر عزت و جلال کا تخت نشیں ہوگا۔ ایک ابو بکرؓ ہی کو دیکھو جس نے سب سے پہلے ذلت قبول کی اور سب سے پہلے تخت نشین ہوا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ پہلے کچھ نہ کچھ دکھ اٹھانا پڑتا ہے کسی نے سچ کہا ہے :

عشق اول سرکش و خونی بود
تا گریزد ہر کہ بیرونی بود

عشق الٰہی بے شک اول سرکش و خونی ہوتا ہے تا کہ نا اہل دور ہو جاوے۔ عاشقانِ خدا تکالیف میں ڈالے جاتے ہیں۔ قسم قسم کے مالی اور جسمانی مصائب اُٹھاتے ہیں اور ا س سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کے دل پہچانے جاویں۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 31)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی معنوں میں صالح لوگوں اور پاکیزگی مہیا کرنے والے ذرائع کو اپنانے کی توفیق دے۔ آمین

(قسط دوم۔ آخری)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اکتوبر 2020