• 27 اکتوبر, 2020

سری لنکا میں احمدیت کی ابتداء

سری لنکا میں احمدیت کا آغاز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، یہاں احمدیت کی تبلیغ کے حوالے سے حضرت منشی محمد حیدر خان صاحب آف بنگلور (کرناٹکا۔ انڈیا) کا نام خاص طور پر جماعتی لٹریچر میں ملتا ہے، آپ نے ذو الحجہ 1314ھ بمطابق مئی 1897ء میں بیعت کی توفیق پائی چنانچہ آپ کی بیعت کا اندراج اس دور کی ایک نایاب فہرست میں یوں موجود ہے:

۲۷۔ منشی محمد حیدر خان صاحب چھاؤنی بنگلور دفتر اخبار باد صبا پریس

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 647)

آپ ایک اچھی علمی شخصیت کے مالک تھے، اردو، انگریزی کے علاوہ تامل زبان سے بھی اچھی واقفیت رکھتے تھے۔ 1907ء میں آپ نے سری لنکا کا سفر اختیار کیا جہاں اپنے ذاتی کاموں کے علاوہ احمدیت کی تبلیغ میں بھی بھر پور حصہ لیا، اس حوالے سے سری لنکا کے مشہور شہر Colombo اور Kandy کا خاص طور پر ذکر ملتا ہے، 1908ء کے آغاز میں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا جس میں سری لنکا میں تبلیغ احمدیت کا یوں ذکر کیا ہے:

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جناب اقدس!
پس از تقدیم مراتب تسلیم عرض خدمت اینکہ فدوی اس ملک سیلون یعنی لنکا میں قریب عرصہ ایک سال سے وارد ہے چنانچہ حال میں یہاں کے ایک مقام کندی شہر جانے کا اتفاق ہوا تھا، اثنائے گفتگو میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے حالات سے وہاں چند مسلمان کچھ کچھ دریافت کرتے رہے حتیٰ کہ وہاں کے ایک مشہور خیاط محمد اکبر نامی کو جو اس شہر میں اے ایس ایم غوث کہلاتے ہیں، ان کو سلسلہ عالیہ احمدیہ میں بذریعہ بیعت تحریری آں جناب داخل کرا دیا ہے۔ اب وہ صاحب بفضلہ تعالیٰ وہاں معزز مسلمانوں میں ہمیشہ حضور کے متعلق ذکر خیر کیا کرتے ہیں مگر عرض خدمت یہ ہے کہ اس مشہور کلمبو میں ایک مسلمانوں کا انجمن مندرجہ بالا نام سے مشہور ہے جس کے جملہ افراد منتخب معزز تجارت پیشہ مسلمان ہیں جن میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ہمیشہ ذکر خیر ہوا کرتا ہے، اس انجمن کے جملہ افراد قریب 200 آدمیوں کے ہیں بلکہ زیادہ ہوں گے۔ یہ اس ملک کے اعلیٰ درجہ کے اقبال مند لوگ ہیں جن میں تعلیم و تادیب کا چرچا بہت ہے، مذہبی مقدمات میں تحقیق حق کا جوش ہے، اس زمرہ کے سربرآوردہ اصحاب جو کہ فدوی سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے حالات تحقیق کرتے ہیں آج بصد صدق دلی ملتجی ہیں کہ ان کے نام سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل فرمائیے اور ان کی بیعت بالفعل تحریری ہی قبول فرمائی جاوے اور اس شرف اور امتیاز کی سرسری طور پر ان کو اطلاع دی جائے حتیٰ کہ ان کی مشورت اور کوشش ہے کہ بہت جلد یہ لوگ بذاتِ خود حضور کی خدمت فیض درجات میں حاضر ہوکر شرف ملازمت یاریابی سے مشرف ہوں گے مگر اس ملک میں مسلمان اردو تحریر اور تقریر سے بالکل نا بلد ہیں، زبان تامل بولی جاتی ہے، فدوی ان کو بذریعہ انگریزی زبان کے سلسلہ عالیہ کے حالات سے کچھ تفہیم کراتا ہے اور پرچہ ریویو آف ریلیجنز سے کچھ مطالب نکالتے ہیں۔ طرفہ یہ ہے کہ اس انجمن کے اکثر افراد انگریزی جانتے ہیں، ان کی معلومات انگریزی یا عربی جو پرچات مطبوعہ عالیہ یہاں کہیں کبھی کبھی ان کو دستیاب ہوتے ہیں ان کے ذریعہ حضور انور کے سلسلہ عالیہ کے حالات معلوم کر لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمیشہ اس انجمن کو انگریزی پرچات جو کچھ حضور کے مشن میں شائع ہوا کرتے ہیں، بھیجے جائیں۔ اس انجمن کے پریزیڈنٹ عبدالعزیز اور مولوی یوسف بن اسماعیل سیکرٹری ہیں جن کے ذریعہ ایک پرچہ اخبار انگریزی شائع ہوتا ہے جس میں سلسلہ عالیہ کا ذکر ہوا کرتا ہے چنانچہ وہ بھی ہمیشہ حضور کی خدمت میں پہنچے گا …..
فدوی خادم قدیم سلسلہ عالیہ احمدیہ
منشی محمد حیدر خان۔ کلمبو، سیلون‘‘

(بدر 9؍اپریل 1908ء صفحہ 4)

حضرت منشی محمد حیدر خان صاحب پانچ سال تک سری لنکا میں مقیم رہے اور پانچ سال قیام کے بعد 1912ء میں واپس بنگلور پہنچے ۔ آپ کی واپسی پر بنگلور جماعت کے سیکرٹری خلیفہ محمد عبداللہ صاحب نے ایڈیٹر اخبار بدر کے نام ایک خط میں لکھا:
’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔ خیریت ہے۔ ان دنوں مخدومی جناب منشی محمد حیدر خان صاحب مع الخیر و العافیۃ ملک سیلون جزیرہ لنکا سے بنگلور واپس ہوئے ہیں۔ مسموع ہوا کہ مخدومی منشی صاحب نے دوران قیام شہر کلمبو اور کنڈے وغیرہ میں سلسلہ حقہ احمدیہ کی تبلیغ میں نہایت درجہ کوشش فرمائی، اکثر معزز انگریزی اعلیٰ تعلیم یافتہ اہل اسلام کو تشویق دار کر مبائعین میں داخل فرما دیا ہے حتیٰ کہ شہر کلمبو کے Moors Union نامی انجمن کے جملہ سرپرستوں اور سپرنٹنڈنٹ جناب ایم اے عزیز اور سکرٹری عبدالجبار و عبدالمجید وغیرہ صاحبوں کو سلسلہ احمدیہ میں حضرت اقدس مرحوم و مغفور سے تحریری بیعت دلوا کر توسیع سلسلہ حقہ کی اشاعت بذریعہ رسالجات تامل مقامی زبان میں جاری کرا دیے ہیں۔ مبائعین کی تعداد قریب 30 نفوس کے پہنچ گئی ہے۔ سلسلہ احمدیہ اور جماعت کا چرچا یہاں اکثر کافہ اہل اسلام میں حیرت انگیز ترقی کر رہا ہے جیسا کہ پہلے پہل یہ حقانی سلسلہ احمدی کی تحریک اور ترغیب ہمارے معسکر بنگلور میں مخدومی جناب منشی صاحب کی تحریر پر یہ حقیر وغیرہ حضرت اقدس جناب مسیح موعود، مہدی مسعود امام زمان میرزا غلام احمد صاحب مرحوم و مغفور سے تحریری بیعت کا اعزاز و شرف حاصل کر لیا ہے ویسا ہی ملک سیلون کو مخدومی جناب منشی صاحب کے قدم رنجہ فرمانے سے شرف حاصل ہوگیا ہے۔ چونکہ مخدومی منشی صاحب انگریزی و علوم سائنس وغیرہ کے لائق و فائق مشہور ہیں، علاوہ اردو انگریزی کے تامل کی زبان وغیرہ میں بخوبی مہارت رکھتے ہیں اور ان کی گفتگو میں ایک انوکھی کیمیائے کشش ہونے سے ان کو احباب و اغیار خواہ ہندو مسلمان عیسائی بلکہ انگریز بھی نہایت درجہ کا اعزازی تمغہ دیے بغیر نہیں رہ سکتے اگرچہ کہ ان کی طرز معاشرت بہت سادہ اور بے لوث ہے، خدا ان کی مساعی جمیلہ میں برکت دے۔‘‘

(اخبار بدر 16؍مئی 1912ء صفحہ 6 کالم 3)

ان دونوں خطوں میں سری لنکا جماعت کے پہلے صدر حضرت عبدالعزیز صاحب کا ذکر ہے جنھوں نے 1915ء میں وفات پائی، حضرت عبدالعزیز صاحب کا ایک خط بنام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں یوں محفوظ ہے:

49 A, MESSENGER STREET,
Colombo, 29th February 1908 (Friday)
My Blessed Master,
For the last two years I have been reading the articles which appeared in the “REVIEW OF RELIGIONS” from and about you, and your mission, and the last of them is the paper written by you and read before the Religious Conference held recently at Lahore under the auspices of the Arya Samaj. The more I know of you and your words the more I am convinced of your sincerity and of the truth of your mission. Therefore I think I should, for my own spiritual benefit, enter your fold, and become a disciple of yours. I pray that I may be permitted to enter into your discipleship, and I further pray that I may be informed of the rules that I have to observe. As a special favour, I beg that your Holiness will condescend to pray for my long and happy life and to have my knowledge, happiness and means increased manifold. I have a wife and six children on whom please confer your blessings.

I am conducting a magazine called the “MUSLIM GUARDIAN” in English and Tamil.

Hoping to hear soon of your acceptance of me as a disciple, and to receive the benefit of your prayer and blessings.

I remain,
Dear Master
Your humble disciple
L. L. M. Abdul Azeez
(Review of Religions, December 1916 page 467,468)

(مرسلہ: غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اکتوبر 2020