• 1 دسمبر, 2020

ہستی باری تعالیٰ کے متعلق فطرت کی آواز

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ

ایک امریکن سائنس دان کی لطیف شہادت

میں نے اپنی کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ میں خدا کے فضل سے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کئی قسم کے عقلی دلائل جمع کر کے اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت درج کیا ہے۔ ان میں سے بعض دلائل فطرتِ انسانی کی آواز سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض نیکی بدی کے شعور پر مبنی ہیں۔ اور بعض قبولیتِ عامہ کی دلیل سے وابستہ ہیں اور بعض شہادتِ صالحین سے تعلق رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میری یہ کتاب خدا کے فضل سے کافی مقبول ہوئی ہے اور بہت سے نوجوانوں اور خصوصاً کالج کے طلبہ نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس تعلق میں مجھے محترم میاں عطاء اللہ صاحب امیر جماعت راولپنڈی نے ایک حوالہ بھجوایا ہے جس میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک امریکن سائنس دان کی شہادت درج ہے جو بعینہٖ اسی نوعیت کی ہے جو میں نے اپنی کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ میں نظامِ عالم کی دلیل کے ماتحت ایک بدوی عرب کے قول کی بناء پر لکھی ہے۔ میں ان دونوں کو ذیل میں درج کرتا ہوں تا ناظرین یہ اندازہ کر سکیں کہ کس طرح دنیا بھر کے صحیح الفطرت لوگوں کا دماغ جو ہرزمانہ اور ہر قوم اور ہر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس معاملہ میں ایک لائن پر کام کرتا چلا آیا ہے۔ میں نے اپنی کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ میں لکھا تھا کہ :
’’میرے سامنے اس وقت ایک عرب بدوی کا قول ہے جس سے کسی نے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے؟ اس نے بے ساختہ جواب دیا کہ :

الْبِعْرُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِ وَ اَثرُ الْقَدَمِ علَی السَّفِیْرِ فَالسَّمَاءُ ذَات الْبروجِ وَالارض ذات الْفجَاجِ اَمَّا تَدُلُّ عَلیٰ قَدِیْرِ۔

یعنی جب کوئی شخص جنگل میں سے گزرتا ہوا ایک اونٹ کی مینگنی دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس جگہ سے کسی اونٹ کا گزر ہوا۔ اور جب وہ صحرا کی ریت پر کسی آدمی کے پاؤں کے نشان پاتا ہے تو وہ یقین کر لیتا ہے کہ یہاں سے کوئی مسافر گزرا ہے۔ تو کیا تمہیں یہ زمین مع اپنے وسیع راستوں کے اور یہ آسمان مع اپنے سورج اور چاند اور ستاروں کے دیکھ کر اس طرف خیال نہیں جاتا کہ ان کا بھی کوئی بنانے والا ہوگا؟

اللہ ، اللہ کیا ہی سچا اور کیا ہی تصنّع سے خالی مگر دانائی سے پُر یہ کلام ہے جو اس ریگستان کے ناخواندہ فرزند کے منہ سے نکلا۔››

(’’ہمارا خدا‘‘ زیرِ بحث کائناتِ خلق کی دلیل صفحہ57-56)

اب اس کے مقابل پر ناظرین پروفیسر ایڈون کانکلن پرنسٹن یونیورسٹی کا قول ملاحظہ کریں جو امریکہ کے مشہور رسالہ ’’ریڈرز ڈائجسٹ‘‘ بابت ماہِ مئی 1956ء کے صفحہ87 پر چھپا ہے اور اخبار ’’ٹائمز سٹارسن سینٹی‘‘ سے نقل کیا گیا ہے۔ پروفیسر صاحب جو ایک بہت مشہور سائنس دان اور پیدائشِ خلق کے مضمون کے ماہر سمجھے جاتے ہیں فرماتے ہیں:
’’یہ خیال کہ زندگی کا آغاز محض کسی اتفاقی حادثہ کے نتیجہ میں ہوا ہے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ لغت کی ایک مکمل کتاب کسی چھاپہ خانہ کے اتفاقی دھماکے کے نتیجہ میں خود بخود چھپ گئی تھی۔‘‘

ناظرین ملاحظہ کریں کہ کس طرح عرب کے قدیم ناخواندہ بدوی اور امریکہ کے جدید تعلیم یافتہ سائنس دان پروفیسر اس معاملہ میں بعینہٖ ایک رستہ پر گامزن ہوئے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ قرآن مجید کی اس آیت پر نظر ڈالیں جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ :

فِیْۤ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَاتُبْصِرُوْنَ

(الذَّاریات:22)

یعنی اے مشرق و مغرب کے لوگو! تم سب ہمارے ہاتھ کی پیدائش ہو۔ پس اپنی فطرتوں پر نظر ڈالو اور دیکھو کہ کیا ان میں خدا کی ہستی کے نشان نظر نہیں آرہے ؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منکرینِ خدا کے متعلق خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے کہ :

چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا
آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب
ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا
پس اس سے زیادہ اس مختصر نوٹ میں اور کیا کہا جائے۔
اگر درخانہ کس است حرفِ بس است

(محررہ 9مارچ 1959ء)
(روزنامہ الفضل ربوہ 14 مارچ 1959ء)

آں مسیحا کہ بر افلاک مقامش گویند
لطف کردی کہ ازیں خاک نمایاں کردی

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 نومبر 2020