• 15 اپریل, 2024

مختصر تاریخ لجنہ اماءاللہ آسٹریلیا (قسط 1)

مختصر تاریخ لجنہ اماءاللہ آسٹریلیا
قسط 1

آسٹریلیا میں جماعت احمدیہ کی بنیاد 1903ء میں حضرت حسن موسیٰ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبول احمدیت سے پڑی۔ حضرت صوفی حسن موسیٰ خان صاحب افغان ساربانوں میں سے تھے جو آسٹریلیا میں اونٹوں کے ساتھ آئے تھے۔ آپ اپنے بھائیوں حضرت محمد حسین موسیٰ خان صاحب رضی اللہ اور حضرت محمد ابراہیم خان صاحب رضی اللہ عنہ کی تحریک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آسٹریلیا سے اپنی بیعت کا خط لکھا جس کی منظورتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے 13؍اکتوبر 1903ء میں بھجوائی گئی۔

آسٹریلیا کے ابتدائی احمدیوں میں سے ایک نام ملک علی بہادر رضی اللہ عنہ کا ہے جو تتہ پانی کوٹلی آزاد کشمیر کے رہنے والے اور حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ 1929ء یا 1930ء کے جماعتی لٹریچر کے مطابق وہ آسٹریلیا کوئنز لینڈ پہنچ چکے تھے۔ آپ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی بیعت کی سعادت پانے والے پاک وجودوں میں سے ایک تھے جن کی اہلیہ کا قبر کا کتبہ آسٹریلیا میں پہلی احمدی خاتون کی موجودگی کا باقاعدہ پتہ دیتا ہے۔ محترمہ مارگریٹ خان صاحبہ اہلیہ علی بہادر خان صاحب رضی اللہ عنہ کی قبر برسبن کے علاقے ماؤنٹ گرویٹ کے قبرستان میں موجود ہے جس کے کتبے پہ لکھا ہے:

Allah o akber God Greatest of All. Margreat KhanAhmadiyya Muslim
died 12th Feb,1948 Aged 70 years.

لجنہ اماءاِللہ آسٹریلیا کا باقاعدہ قیام

خلافتِ ثالثہ کے آغاز میں ہی حضرت خلیفة المسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن سات ممالک میں مشن کھولنے کو فوری ضرورت قرار دیا ان میں سے ایک ملک آسٹریلیا بھی تھا۔ خلیفہٴ وقت کے منہ سے نکلی خواہش دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی دعا کی صورت اختیار کر گئی اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کام کو پورا کرنے پر لگ گئے۔ مارچ 1966ء میں آسٹریلیا میں وائٹ آسٹریلیا پالیسی کا خاتمہ ہو گیا اور اس سے دنیا کےدوسرے حصوں سے لوگوں کو آسٹریلیا آنے کی اجازت مل گئی۔ اس اجازت کے نتیجے میں کئی احمدی پروفیشنلز مزید تعلیم، ملازمت اور بہتر مستقبل کی تلاش میں آسٹریلیا آئے۔ ان میں سے ایک نام محترم ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر فہمیدہ اعجاز صاحبہ کا ہے جبکہ محترم شادی خان صاحب کی احمدی فیملی نیو ساؤتھ ویلز میں پہلے سے ہی موجود تھی۔ ان کے آپس کے رابطے اور خصوصاً 1979ء میں فجی کےاحمدی محترم شمس الدین صاحب (جن کے دو بیٹے پہلے سے ہی سڈنی آسٹریلیا میں تھے)، ربوہ جلسے سے واپسی پر آسٹریلیا آئے تو انہوں نے ڈاکٹر اعجاز الحق اور دیگر احباب سے ملاقات میں، جماعت کے باقاعدہ قیام کے لئے حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ کی ہدایت ان تک پہنچائی۔ ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب اور دیگر احباب کی کوششوں سے 1980ء میں جماعت کا باقاعدہ رجسٹرڈ ہو گئی۔

خلافت رابعہ کے ابتدائی سال 1983ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ آسٹریلیا کے پہلے دورے پر تشریف لائے۔ آپ کی آمد سے پہلے صدر جماعت محترم ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب نے محترمہ فیروزہ غفار صاحبہ کو صدر لجنہ نامزد کیا تاکہ احمدی خواتین کی سائیڈ پر کاموں کو نظم و ضبط سے انجام دیا جا سکے۔ یوں ان کی زیرِ صدارت حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے دورے کے دوران مستورات نے اس وقت کی مصروفیات اور ذمہ داریوں میں بھرپور حصہ لیا۔

لجنہ کا پہلا باقاعدہ الیکشن

ملاقات کے دوران، حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے استفسار پر جب انہیں بتایا گیا کہ صرف صدر لجنہ نامزد کی گئی ہیں باقی عاملہ ابھی نہیں بنائی گئی تو آپ کے ارشاد پر لجنہ آسٹریلیا کا باقاعدہ الیکشن 1983ء میں ہوا۔ اس وقت آسٹریلیا میں احمدی مستورات کی کل تعداد 13 تھی۔ انتخاب کے نتیجے میں محترمہ بشریٰ عثمان صاحبہ صدر منتخب ہوئیں اور پہلی عاملہ کا تقرر کیا گیا۔ اگرچہ اس وقت خواتین کی تعداد بہت کم تھی اور کام بھی زیادہ تر مسجد بیت الہدیٰ سڈنی کی تعمیر کے سلسلے میں تھا۔ لیکن تمام احمدی مرد و خواتین دن رات اس کام میں جتے رہے اور 28 ایکڑ کے ایک جنگل کو شاندار مسجد اور دوسری تعمیرات سے آباد کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

بطور نیشنل صدر لجنہ خدمات بجالانے والیاں

  • محترمہ فیروزہ غفار خان صاحبہ 1983ء
  • محترمہ بشریٰ عثمان صاحبہ 1883ء تا (سن نا معلوم)
  • محترمہ نعیمہ شکیل منیر صاحبہ( سن نا معلوم)
  • محترمہ منصورہ خالدصاحبہ (سن نا معلوم)
  • محترمہ جمیلہ نشاء ڈین صاحبہ۔۔۔ تا 1997ء
  • محترمہ ریحانہ خان صاحبہ 1997ءتا 2002ء
  • محترمہ امتہ الملک نجم صاحبہ 2002ء تا 2006ء
  • محترمہ تمثیلہ صالح صاحبہ 2006ء تا 2012ء
  • محترمہ انجم خان صاحبہ 2012ء تا 2018ء
  • خاکسار عابدہ چوہدری 2018ء تا حال

اہم سنگ میل

  • 1987ء میں ہوا پہلا اجتماع
  • پہلی مجلسِ شوریٰ ستمبر 2002ء میں نیشنل اجتماع کے موقع پر ہوئی
  • پبلیکیشن
  • پہلا میگزین الضحٰی 2003ء
  • ناصرات الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ آسٹریلیا کے لئے ششماہی رسالہ 2010ء میں
  • سہ ماہی نیوز لیٹر۔

ہیڈ کوارٹر لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا

ہیڈ کوارٹر سڈنی آسٹریلا میں جہاں جماعت کا مرکز ہے یعنی سڈنی نیو ساؤتھ ویلزوہیں لجنہ کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے

لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا کے ریجنز اور مجالس

2000ء میں آسٹریلیا میں لجنہ کی کل 12 مجالس تھیں جو اب بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے 27 ہوچکی ہیں۔ انتظامی لحاظ سے لجنہ اماء للہ آسٹریلیا 6 ریجنز اور 4 ٹیریٹوریز میں منقسم ہیں۔

  • ریجن النور نیو ساؤتھ ویلز
  • ریجن الصداقت نیوساؤتھ ویلز
  • ریجن ساؤتھ آسٹریلیا
  • ریجن بیت ا لہدیٰ نیو ساؤتھ ویلز
  • ریجن کوئنز لینڈ
  • ریجن وکٹوریہ
  • مجلس تسمانیہ
  • مجلس پرتھ
  • مجلس ڈارون
  • مجلس کینبرا

تجنید

اس وقت لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا کی تجنید 2046 لجنات اور 450 ناصرات الاحمدیہ ہیں۔

ہمارا مقصد ہماری کوششیں

لجنہ اماء للہ آسٹریلیا اپنے دستوراساسی کی پیروی میں نیز خلیفہٴ وقت کی راہ نمائی اور نگرانی میں ہر وہ کام اور مساعی بجا لانے کی کو شش کرتی ہے جس کی ہمارا کانسٹیٹیوشن اجازت دیتا اور خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ ہم سے توقع رکھتے یا ہدایت فرماتے ہیں۔ ہمارے مقاصد میں اخلاق اور روحانیت کے حصول پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے دینی اور دنیاوی علم کو بہتر بناناہے اور خدمت انسانیت بجالانا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے لجنہ اماء اللہ کے تمام شعبہ جات نیز ناصرات الاحمدیہ ہر سال اپنے اپنے تعلیمی و تربیتی سلیبس اور سالانہ پروگرام بنا کر نیزسالانہ اہداف مقرر کر کے ریجنز اور مجالس کو بھجواتے ہیں۔ مجالس ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئےاجلاسات، عاملہ میٹنگز۔ جنرل میٹنگز، تعلیمی تربیتی کلاسز، ورکشاپس، فورمز اور ڈسکشن سیشنز منعقد کرتی ہیں۔ جائزہ کے لئےاسائنمنٹس اور امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں۔ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ کے صحتمندانہ ماحول کو قائم کرنے اور اس سے حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لئے مجالس، ریجن اور نیشنل لیول پہ اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں۔ شعبہ تبلیغ کے تحت ملٹی فیتھ پروگرامز اور پیس سمپوزیمز کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے میں برداشت اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کرتے ہوئے دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ ادا ہو سکے۔

خدمت

بنی نوع انسان کی خدمت اور بہتری کے لئے کوشش کرنا بھی اسلام کا حصہ ہے اس مقصد کے حصول کے لئے لجنہ آسٹریلیا سالوں سے ریڈ کراس اور کینسر کونسل آسٹریلیا سمیت دیگر کئی چیئرٹی آرگنائزینشنز کے لئے فنڈ ریزنگ میں حصہ لیتی ہے، اولڈ ایج ہومز کی مدد، بلڈ ڈونیشن اور آرگن ڈونیشنز کی تحریک چلا کر خدمتِ انسانیت کے لئے بھرپور کوشش کرناسالانہ اہداف کا اہم جزہے۔

لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا نے اکتوبر 2021ء تا ستمبر 2022ء تک صرف ایک سال میں شعبہ خدمت خلق کے تحت درج ذیل مالی قربانیاں دیں:

  • ریڈ کراس آن لائن ڈونیشن ڈرائیو:تین ہزار چھ سو پچیس آسٹریلین ڈالر
  • ڈرائیو کینسر کونسل ڈونیشن : تیرہ ہزار آٹھ سو چھیاسی آسٹریلین ڈالر
  • کوئنز لینڈ چلڈرن کرسمس کھلونا ڈرائیو:چار ہزار پچپن آسٹریلین ڈالر

میکس ویدر، معذوری کے مراکز، ہسپتال، بوڑھوں کی دیکھ بھال، فوڈ ڈرائیوز اور ہیومینٹی فرسٹ فلڈ اپیل میں حصہ لیا۔

لجنہ اماءاللہ صد سالہ جشنِ تشکر منصوبہ

لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا کی تاریخ کا ایک اہم اور روشن باب صد سالہ خلافت جوبلی کا منصوبہ ہے جو مختلف ڈیپارٹمنٹس کے زیرِ نگرانی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی عطا کردہ توفیق کے ساتھ کامیابی سے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ یہ منصوبہ 2018ء میں بنایا گیا اور پیارے آقا حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری اور دعاؤ ں کے ساتھ اسی نومبر 2018ء میں ہی اس کےتمام پراجیکٹس پہ کام شروع کر دیا گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چار سال بعد 2022ء جو کہ جشنِ تشکر کا سال ہے اس منصوبے کے زیادہ تر پراجیکٹس اللہ کے فضل سے مکمل ہو چکے ہیں ذیل میں ان منصوبے کے پراجیکٹس کا ایک مختصر جائزہ تحریر ہے۔

  1. حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں نقد نذرانہ پیش کرنا۔ کولیکشن مکمل ہو چکی ہے۔ الحمدللّٰہ
  2. عائشہ دینیات اکیڈمی آن لائن لجنہ آسٹریلیا کا قیام

2020ء میں اکیڈمی کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔ معلمہ کورس کا پہلا بیچ اور چار شارٹ کورسز کا پہلا بیچ فارغ التحصیل ہو چکا ہے۔

https://www.ada-aus.com/

اکیڈمی کی ویب سائٹ اور گوگل کلاس رومز کے ذریعے تدریس ہوتی ہے۔ ویب سائٹ سے تفصیلی معلومات دیکھی جا سکتی ہیں۔

3. خدمت انسانیت: تھر اور چترال (پاکستان) میں پانی کے دس کنووؤں کی تعمیر تھر اور چترال (پاکستان) اللہ تعالیٰ کے فضل سے چار ملین پچاس ہزار روپے کی لاگت سے ان کنوووٴں کی تعمیر 2021ء مکمل ہو چکی ہے اللہ تعالیٰ ممبرات لجنہ اماءاللہ کی قربانیوں کو اپنی شان کریمی سے قبول فرمائے اور رہتی دنیا تک یہ صدقہ جاریہ جاری رکھے۔ آمین

4. گوئٹے مالا میں مسجد اور مشن ہاؤس کا قیام

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے لجنہ اماءاللہ آسٹریلیا کو توفیق دی کہ اس کے حضور سجدہ ریز ہونے والوں کے لئے اللہ کا ایک گھر تعمیر کروا سکیں۔ ہم اس کے لئے خاص طور پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دل سے شکر گزار اور آپ کے لئےدعا گوہیں جنہوں نے انتہائی شفقت سے اس کی منظوری عطا فرمائی۔ $1020000کی لاگت سےمسجد کی عمارت 2020ء میں مکمل ہو گئی اور نمازیں ادا ہونے لگیں۔ مسجد کا باقاعدہ افتتاح 2021ء میں ہوا۔ مسجد کے اوپر والی منزل پر مشن ہاؤس/مربی ہاؤس ہے اور اس مسجد میں 105 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ جبکہ مشنری آفس اور لائبریری کی جگہ بھی ہے۔

5. جشنِ تشکر ترجمة القرآن پراجیکٹ

لجنہ آسٹریلیا کے ڈیپارٹمنٹ تعلیم القران ووقفِ عارضی کے تحت ہمارا ٹارگٹ تھا کہ سال2022ء تک ایک سو ایسی لجنہ ممبرز کے نام حضرت خلیفة المسیح کی خدمت میں پیش کئے جا سکیں جو مکمل طور قران مجید کا لفظی ترجمہ سیکھ چکی ہوں۔ الحمد للّٰہ کہ ہمارا یہ ٹارگٹ دو سو فیصد سے بھی بڑھ کر پورا ہوا یعنی 222 لجنہ ممبرز نے 4 سال کی ان تھک محنت سے (ہر ہفتہ میں پانچ روز کی کلاس اٹینڈ کی) قرآن مجید کالفظی ترجمہ مع تفسیری نوٹس مکمل کیا۔ کل 11 ٹیچرز نے ان کلاسز کو محنت شاقہ سے دن رات جاری رکھا ایک دن میں دس اساتذہ، مختلف اوقات میں دس مختلف کلا سز کوپڑھاتی رہیں۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔ فجزاھم اللّٰہ تعالیٰ

6. جشنِ تشکر حفظ قرآن پراجیکٹ

اس پراجیکٹ کے تحت پروگرام تھا کہ کم از کم پچاس لجنہ ممبرز تیسواں سیپارہ حفظ کریں گی اور ان کی نام حضورِ انور کی خدمت میں صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر دعا اور تحفے کی غرض سے بھجوائے جائیں گے۔ الحمد للّٰہ کہ یہ ہدف بھی نمایاں اضافے کے ساتھ مکمل ہو ا اور کل 82 ممبرز نے اس میں حصہ لے کر تیسواں پارہ مکمل یاد کیا اور نورِ قران کواپنے سینوں میں محفوظ کر لیا۔

7. مختلف کتب شائع کرنے کا پراجیکٹ

یہ لمبا عرصہ جاری رہنے والا کام ہے اور اس پراجیکٹ کے تحت اس وقت تک ناصرات کے لئے چار کتابیں مکمل ہو چکی ہیں صرف چھپنے کا مرحلہ باقی ہے جو ان شاءاللّٰہ جلد طے ہو جائے گا۔

8. اعضاء کا عطیہ دینا

صد سالہ جشن تشکر کی نسبت سے کم از کم ایک سو لجنہ ممبرز آرگن ڈونیشن۔ (بعد از وفات اپنے جسم کے عضو کا عطیہ) میں حصہ لیں گی۔ الحمدللّٰہ یہ ہدف نصف کے قریب حاصل ہو چکا ہے۔

9. شجر کاری

ہر مجلس اس سال میں دوسو درخت لگائے گی اس طرح کل 5000 ہزار درخت لگا کراس صدقہ جاریہ کے ذریعے ماحولیات کی بہتری میں حصہ لیا جائے گا اس ہدف کا 15٪ حاصل ہو چکا ہے باقی کا ان شاءاللّٰہ اگلے موسم شجر کاری میں مکمل کر لیا جائے گا۔

خواتین کی مالی قربانیاں لجنہ اِماءاللہ آسٹریلیا

1۔ میرا نام آسیہ مریم ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ دین کی خدمت میں ہر طرح کی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ یہاں میں صرف مالی قربانی کے دو واقعات کا مختصر ذکر پیشِ خدمت ہے: بریزبن مسجد کی تعمیر کے لئے جب تحریک کی گئی تو مجھے اپنے دو عدد سونے کے کڑے پیش کرنے کی توفیق ملی تھی۔

پاکستان میں 2008ء میں جو زلزلہ آیا تھا اس میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے میں نے ایک سو بستر۔ ایک سو کھیس۔ پچیس سوٹ یعنی دو عدد فل بڑے بکس بھر کر ڈونیٹ کیےتھے۔

2۔ میں اپنی ایک ایسی مالی قربانی کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جو میں سمجھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو پسند آئی ہو گی جس کے بدلے میں وہ ہمیں بے شمار برکات سے نوازتا چلا جارہا ہے۔

میں نو سال پہلے دو بچوں کے ساتھ جن کی عمر 4 سال اور دوسرے کی چار ماہ تھی آسٹریلیا آئی تھی۔ میرے میاں پہلے سے آسٹریلیا میں تھے لیکن ان کے پاس کوئی مناسب نوکری نہیں تھی اور نہ ہی ہمیں شروع کے کچھ مہینوں گورنمنٹ کی طرف سےکوئی سوشل مل سکتی تھی۔ چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا اور بہت تنگی کے حالات تھے یہاں تک کہ پیسوں کی کمی کے باعث میں چھوٹے بچے کا دودھ فارمولا سے بدل کر اسے عام دودھ میں پانی ملا کر دینے لگی تھی۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ اسی طرح گزر گیا۔ میاں کی معمولی نوکری بھی ختم ہو گئی۔ میرے پاس صرف 50 ڈالر تھے جو گھر کے راشن کے لئے بمشکل کافی تھے۔ اور گھر کا کرایہ دینے کے لئے کوئی پیسہ نہیں تھا۔ جمعے کا دن تھا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ تحریک جدید کے نئے سال کے آغاز پہ تھا سنا تو دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ یہ پیسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیئے جائیں۔ میں نے اپنے خاوند سے مشورہ کیا اور ہم دونوں اسی رات صدر صاحب کے گھر جاکر وہ ساری رقم جو پچاس ڈالر تھی چندے میں دے آئے۔ اب ہمارے پاس اللہ پہ توکل کے سوا کچھ اور نہیں تھا لیکن دل یقین سے پر تھا کہ وہ ہمیں اکیلا اور مایوس نہیں چھوڑے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اگلی صبح یعنی چند گھنٹوں بعد ہی میرے میاں کے باس نے انہیں واپس نوکری پہ بلا لیا اور پھراسی ہفتے میں انہیں ایک مشہور کنسٹرکشن کمپنی میں پہلے سے چار گنا بہترجاب مل گئی وہ دن اور آج کا دن کہ اس قربانی کا بدلہ پا رہے۔ میاں بہت اچھی جاب پہ فائز ہیں بچے اچھے سکول میں پڑھ رہے اللہ تعالیٰ نے ذاتی مکان بھی عطا کر دیا ہے۔ الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو ان قربانیوں بڑھاتا چلا جائے۔ اور خلیفہ وقت کے ہر حکم کو ماننے میں ہم پیش پیش ہوں۔ آمین

  • آمنہ احمد۔ مجلس کینبرا۔ آسٹریلیا

3۔ ہماری پیاری امی جان الطاف بیگم صاحبہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پیار کی جنتوں میں اعلیٰ !مقام نصیب کرے۔ آپ کی شادی ہمارےوالد محترم صوبیدار عبدالرحیم صاحب صدر جماعت آف داتا مانسہرہ سے ہوئی آپ حضرت احمد جی صاحب صحابی حضر ت مسیح موعودعلیہ السلام کے پوتے تھے امی جان نے شادی کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کے دست مبا رک پر بیعت کی۔ بیعت کے بعد آپ کے گھر والوں نے آپ سے قطع تعلق کر لیا آپ کے بہن بھائیوں کی فوتگیوں پر آپ کو تعزیت کے لیے بھی نہیں آنے دیا گیا۔ آپ کے گھر والوں نے آپ کو بالکل پرایا کر دیا۔ ہر تعلق ختم کر دیا۔ لیکن امی جان کو ایمان کی دولت نصیب ہو چکی۔ آپ راضی برضائے باری تعالیٰ ہو چکی تھیں۔ قبول احمدیت کے نتیجے میں آپ کو ہر قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ معاندین احمدیت نے آپ پر -298 سی کے تحت ایف آئی آر بھی درج کروائی۔

امی جان کے انفاق سبیل اللہ کےبارے میں کچھ احاطہ تحریر میں لانا چاہوں گی۔ خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرنا متقی مومنوں کا امتیازی وصف ہے۔ ہماری امی جان اپنے چندے باقاعدگی سے ادا کر تی تھیں جماعت کی طرف سے کسی بھی قسم کی مالی تحریک پہ ہمیشہ لبیک کہتی۔ لازمی چندہ جات کے علاوہ طوعی چندے باقاعدگی سے ادا کرتی تھیں۔ ابو جی کی رحلت کے بعد ان کی طرف سے تحریک جدید اور وقف جدید کے چندے کی ادائیگی کا باقاعدگی سے اہتمام کر تی تھیں۔ بیت الہدیٰ مسجد کے ساتھ جب گیسٹ ہاوٴس کی تعمیر کے چندے کی تحریک کی گئی تو ان کی طرف سے دس ہزار ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔ کینبرا مسجد کی تعمیر کے لیے انہیں دس ہزار ڈالر دینے کی توفیق ملی۔ اسی طرح انڈونیشیا جماعت کی امداد کے چھ ہزار ڈالر ان کی طرف سے پیش کیے گے۔ اسی طرح پشاور کی بیت الذکر میں اے سی کی تنصب کے لیے چار لاکھ روپے کی رقم ادا کی۔ ہری پور مسجد میں آپ کی طر ف سے واٹر ڈسپنسر لگوایا گیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کہ وہ یہ سب عاجزانہ کو ششیں قبول فر مائے اور امی جان کو اپنے قرب میں جگہ عطا فرمائے۔

  • صوفیہ طارق مجلس گلینڈینگ۔ سڈنی آسٹریلیا

5۔ اللہ کے فضل سے ایک ایسے گھر میں پرورش پائی جہاں کبھی بھی کسی قربانی کی ضرورت پڑی تو اپنے بڑوں کو صف اول میں پایا، احمدیوں کے خلاف جب بھی فساد ہوئے میرے نانا جان کی دکان جو کہ حکمت کے ساتھ ساتھ پنساری کی دکان بھی کرتے تھے کو ہمیشہ بلوائیوں نے لوٹا اور ہر مرتبہ میرے نانا جان حکیم سید پیر احمد شاہ بخاری صاحب نے سجدہ شکر کیا اور اس زور سے الحمدللّٰہ پڑھا کرتے تھے کہ دکان لٹ جانے کی خبر لانے والا سمجھتا تھا کہ شاہ صاحب کے دماغ پر اثر ہوگیا جو اتنا اونچا اونچا الحمدللّٰہ الحمدللّٰہ کہہ رہے ہیں اور یہی روح ان کی بیٹی یعنی میری امی مرحومہ سیدہ لئیقہ لیاقت میں بھی تھی ہمیشہ خلیفہٴ وقت کی ہر تحریک پر سب سے پہلے لبیک کہنے والوں میں سے ہوتیں سیالکوٹ کے امیر صاحب کہا کرتے تھے سب سے پہلے باجی لئیقہ کا چندہ آتا ہے۔ الحمدللّٰہ ثم الحمدللّٰہ

اسی روایت کو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں مگر پھر بھی کسر رہ جاتی ہے۔ اللہ توفیق دے کہ ان لوگوں میں شمار ہوسکے جو اول اول قربانی کرنے والے ہوں۔ آمین

میں کیا میری بساط کیا کہ اللہ کی راہ میں کچھ پیش کرسکوں۔ مگر جو ذرہ برابر کر سکی اس کے بدلے میں میرے خدا نے اتنا نوازا کہ شکر تو ادا ہو ہی نہیں سکتا ؏

وہ زبان لاوٴں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار

شادی کے کچھ عرصہ بعد حق مہر کی رقم ملی 25,000 اسی وقت سب سے پہلے 10,000 تحریک جدید میں ادا کرنے کی توفیق خدا نے عطا فرمائی اس پر ایسا سکون اور اطمینان ملا اس کا بیان نا ممکن ہے۔ اور اس کا بدلہ خدا نے دوسرے فضلوں کے ساتھ یہ دیا کہ ہم سب کا قادیان کا ویزہ لگ گیا اور ہم سب کو قادیان کے جلسہ میں شمولیت کی توفیق ملی۔ الحمدللّٰہ ثم الحمد للّٰہ

2010ء میں جب لاہور میں ہماری دو مساجد پر حملہ ہوا اور کتنی ہی معصوم جانیں اللہ کی راہ میں قربان ہوئیں اور اس وقت پوری جماعت ہی ایک جیسے درد اور کرب سے گزر رہی تھی مجھے بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں بہت بے چین تھی اگلے روز نفلی روزہ رکھا اور اپنی سونے کی چوڑیاں بیچ کے سیدنا بلال فنڈ میں رقم جمع کروائی کہ کسی طرح ان شہداء کے لئے کچھ کرسکوں آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی۔

  • نفیسہ محمود مجلس بلیک ٹاوٴن سڈنی

6۔ ہمارے خاندان میں احمدیت کا مبارک پودامیرے پردادا حضرت میاں محمدالدین رضی اللہ عنہ ساکن میرک ضلع منٹگمری مدفون بہشتی مقبرہ قادیان کے ذریعے لگا۔ میرے دادا اور والد صاحب مرحوم کی تربیت سے ایک خاصہ ہم نے انفاق فی سبیل اللہ کا پایا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر اہم موقع پر اور ہر تحریک میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر مالی قربانی کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے ہمیشہ مالی قربانی کو جماعتی خدمت سے کہیں زیادہ خود پر جماعت کا احسان، اپنے لئے باعث نجات اور ردِّ بلا سمجھا اور اس کے جواب میں قربان جاؤں اپنے مولا کے سلوک نوازشوں اور احسانات کے جس نے میری عاجزانہ اور حقیر کوششوں کو بڑھا چڑھا کر لوٹایا، کبھی مجھے مالی کمی نہیں آنے دی اور کبھی پیسوں کی کمی کی وجہ سے میرا کوئی کام نہیں رُکا۔ الحمدللّٰہ۔

2010ء کا سال میرے لئے ایک بہت مشکل اور تکلیف دہ سال تھا۔ کئی وجوہات کی بنا پر دنیا مجھ پر تنگ ہو گئی تھی اور اب تو ہجرت کی بھی کوئی صورت نہ تھی ایسے میں مجھے آسانی سے سانس لینے کا ایک ہی طریقہ سوجھا کہ میں پیارے خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنا سارا زیور اس کے راستے میں دے دوں چنانچہ میں نے اپنی شادی کے اور کچھ بعد میں بننے والے پانچ سونے کے سیٹ، چار چوڑیاں کچھ انگوٹھیاں بریسلیٹ وغیرہ کل وزن 225گرام میں سے ساتواں حصہ وصیت کا نکال کر وصیت میں اور باقی کاسارا زیور آسٹریلین مسجد فنڈ میں پیش کر دیا۔ مجھے جماعت کے ایک بزرگ نے سمجھایا کہ مشکل وقت ہے ابھی اسے اپنے پاس رکھو شاید تمہیں ضرورت پڑے لیکن میں نے قبول کرنے پر اصرار کرتے ہوئے زیوردے دیا کہ میرا اصل زیور میرےمولا کی رضا ہے۔ مجھے اس کے علاوہ کچھ نہیں چاہئے اور میری ضرورتوں کے لئے وہ خود کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام لازمی چندہ جات باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں اور دیگر تحریکات میں شامل ہونی کی بھی کوشش کرتی ہوں۔ سڈنی میں جماعتی گیسٹ ہاؤس کی تعمیر کے لئے تحریک پر دس ہزار ڈالر دیئے، کینبرا مسجد میں پانچ ہزار دینے کی توفیق ملی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔

(باقی 20؍دسمبر کو ان شاءاللّٰہ)

(تحقیق و تحریر: عابدہ چوہدری۔ صدر لجنہ ا ماءاللہ آسٹریلیا باتعاون لجنہ سیکشن مرکزی لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 16 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی