• 31 مئی, 2020

مذہبی وابستگی کو جبراً ختم یا پیدا نہیں کیا جا سکتا

جبرواستبداد انسانی جسم کو تو پابند سلاسل کرسکتی ہے لیکن عقیدے کو ہر گز نہیں

سابق کمیونسٹ سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد سے روس میں مذہبی وابستگی کے کھلم کھلا اظہار کی آزادی ملنے کے بعد یہ اعدادوشمار دیکھنے میں آئے ہیں کہ خود کو روسی آرتھوڈاکس مسیحی کہلانے والوں کی تعداد 31 فیصد سے بڑھ کر 72 فیصد ہو گئی ہے۔ ہزاروں کی تعدادمیں پرانے چرچ مرمت اور سینکڑوں کی تعداد میں نئے چرچ تعمیر ہو چکے ہیں۔ ایک جائزہ کے مطابق تادم تحریررشین آرتھو ڈاکس چرچ میں 361 بشپ اورلگ بھگ 40 ہزار پادری تعینات ہیں۔ جبکہ چرچوں کی کل تعداد 34 ہزار سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ آج سے 102 برس قبل 1917ء کے بالشویک انقلاب کے بعد ایک طرف تو رشین کمیونسٹ پارٹی کے ممبران کے لئے ہر قسم کی مذہبی وابستگی ممنوع کردی گئی تھی دوسری طرف رشین آرتھو ڈاکس چرچ کو بھی عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔ انقلاب کے پہلے 5 برسوں میں انقلابیوں نے مبینہ طور پر 28 بشپ اور 1200 پادریوں کو سزائے موت سنائی۔ چرچوں کی تعداد جوکہ پہلی جنگ عظیم سے قبل 54 ہزار سے زائد تھی کم ہو کر 1940ء میں 500 تک رہ گئی۔ بےشمار چرچوں کی عمارات عوامی (کمیونل) ہوسٹلوں میں بدل دی گئیں اور کتنے ہی چرچ مسمار کر کے ان کی وسیع و عریض زمین اور املاک غیرمذہبی قومی مقاصد کے لئے استعمال ہونے لگ گئی۔

یہ سب جبرو استبدادسیکولرازم کے نام پر روارکھا گیا حالانکہ سیکولرزم اپنی اصل میں کچھ اور ہی معنی رکھتا تھا۔

سیکولر کی اصطلاح لاطینی زبان کے لفظ سیکولم یا سیکولیریا سے مشتق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم روم میں ایسا استادیا مبلغ جو خود کو کسی معروف مذہب یا فرقہ سے منسلک نہیں بتاتا تھایا ان سے الگ تھلگ رہ کر درس وتدریس کا سلسلہ جاری کرتاتھا اسے سیکولر کہا جاتا تھا۔ آسٹریلیا کے ایک ماہر دینیات مائیکل برڈ نے اپنے ایک مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ سولہویں صدی میں سیکولر کی اصطلاح دنیا بھر میں چرچ نے رائج کروائی جب پروٹیسٹنٹ تحریک کے نتیجے میں بہت سے نئے مسیحی فرقے وجود میں آئے۔ ان کے وجود کوپاپائے روم نے سیکولرازم کے نام پر تسلیم کرلیا جس سے مراد یہ تھی کہ عوام آزاد ہیں، ان کی مذہبی وابستگیوں پر کسی ایک مخصوص چرچ کی اجارہ داری نہ ہوگی۔نئے فرقوں سے متعلق ’’ان کے مسلک کونہ چھیڑو اور اپنا نہ چھوڑو‘‘ کی پالیسی اختیار کی گئی اوراسے سیکولرازم کا نام دیا گیا۔

لیکن سیکولرازم کی کوئی ایک مسلمہ تعریف موجود نہ ہونے کی بناء پر اس کی تشریحات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم آسٹریلیا کے ایک سکالرسسکیاایبیجر Saskia Ebejer اپنے تحقیقی مقالہ میں لکھتے ہیں کہ مختلف ادوارمیں دنیا کے مختلف حصوں میں سیکولر اور سیکولرازم کی نت نئی تشریحات ایجاد ہوئیں۔ جن میں سے بعض باقاعدہ ایک فلسفہ کے طورپربھی مقبول عام ہوئیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ سیکولرازم کا تعلق مذہب یا روحانیت سے ہے ہی نہیں۔ اس کا تعلق مادہ اورمادیت سے ہے۔ آپ نے لکھا کہ سیکولرازم کے ساتھ سیکولرائزیشن کی اصطلاح بھی ایجاد کی گئی یعنی کسی معاشرے یا ریاست کوسیکولربنانے کا عمل۔

کچھ لوگ یہ تاثربھی رکھتے ہیں کہ سیکولرازم کا مطلب دہریت یا مذہب دشمنی ہوتا ہے حالانکہ یہ بھی غلط ہے۔ سیکولرازم کی طرح دنیا میں سیکولرائزیشن کے عمل کے بھی کئی نمونے دیکھنے کو ملے۔ مثلاً انقلاب ِفرانس نے سیکولرائزیشن اس حد تک کی کہ چرچ کو کاروبار ریاست بشمول سرکاری خزانہ ،بیت المال اور دیگر امورمملکت سے الگ کردیا۔ جبکہ کمیونسٹ اور مارکسی فلسفہ کے مطابق مذہبی پیشوائیت اور مذہبی سرگرمیوں کو محض امورمملکت سے ہی نہیں بلکہ پبلک لائف یعنی عام معاشرتی زندگی سے بھی جبراً الگ کردینا سیکولرائزیشن کا اہم ترین تقاضا بلکہ جزولاینفک ہے۔ اس فلسفہ نے مذہب کو پبلک نہیں بلکہ پرائیویٹ لائف تک محدود کردیا۔ اتنا پرائیویٹ کر دیا کہ کوئی فرد اپنے گھروالوں کے ساتھ بھی مذہبی تعملّ اور اجتماعیت سے بازرہے۔ اس فلسفہ کے تحت مذہب کو انسانی ذہن کے لئے افیون اور انفرادی، قومی اور ملی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیا گیا۔

مارکسی فلسفہ میں اس قسم کی شدت پسندی یا انتہا پسندی کے جراثیم موجود تھے۔ اسی لئے روس کا مذکورہ بالشویک انقلاب ایک خونی انقلاب کہلایا۔ شدت پسند فلسفہ نے تشدد کی راہ ہی ہموارکرنا تھی جس کے نتیجے میں وہ قتل وغارت اور جبرواستبداد دیکھنے کو ملا جس کا ذکر اس تحریر کے آغازمیں کیا گیا۔ جب اس طرح سے مذہب اور مذہبی سرگرمیوں کو پبلک لائف سے جبراً منقطع کرکے پرائیویٹ لائف تک محدود کردیا جائے تو پھر یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ دیکھولوگ اصل میں مذہب سے متنفرہوچکے تھے، اب انقلاب کے ذریعہ انہیں آزادی نصیب ہوئی ہے تو نہ کوئی ایسٹریا عیدمنارہا ہے اور نہ کوئی چرچ یا مسجد کا رخ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے ہر قسم کے خیالی خدا یا خداؤں سے بھی چھٹکاراحاصل ہونے پر سکھ کا سانس لیا ہے وغیرہ۔

لیکن میں اپنے کامریڈ دوستوں سے معذرت کرتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اگر ایسا ہوتا تو 70سال کے دوران جبکہ ایک نسل گزرکر دوسری بلکہ تیسری نسل بھی جوان ہوچکی ہے۔ سابق سوویت یونین کے خاتمہ پر اس طرح سے بغیر شرمائے اور بلاخوف خود کومذہب سے وابستہ قراردینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہرگز نظر نہ آتا۔مذہبی سرگرمیوں اور چرچوں کی تعداد میں اتنا اضافہ بھی دیکھنے کو نہ ملتا۔

حقیقت یہ ہے کہ امرِ ربّی کے تحت انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو روح پھونکی ہوئی ہے اس کی وجہ سے انسان کے اندراپنے خالق اور مالک سے ملاپ کی ایک ازلی وابدی خواہش اور فطرتی تڑپ رکھتا ہے۔ مذہب اس خواہش کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان اس کے مقررکردہ فرستادہ افراد یعنی انبیاء کے توسط سے بذریعہ وحی والہام بنی نوع انسان کوملتا ہے۔ اس فطری خواہش اور اس کی تکمیل کے روحانی عمل کو دنیا کا کوئی جبریا استبدادروک نہیں سکتا۔ جو افراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کردہ کسی سچے مذہب تک رسائی سے محروم رہتے ہیں یا محروم کردئیے جاتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی شکل میں دستیاب کسی نہ کسی مذہب (خواہ وہ کتنا ہی بگڑیا بدل چکا ہو) یا کم از کم ایک خدا یا سب سے بالا وبرتر کسی ہستی سے خود کو جوڑنے میں لگے ہی رہتے ہیں۔ یہ دراصل ایک فطری اور روحانی عمل ہے جسے دہریہ فلاسفر انسان کا تخیل یا واہمہ قرار دیتے ہیں۔

مذہب انسان کو ایک تشخص عطا کرتا ہے اور اسے اس کامقصد حیات بتاتا ہے۔ اس کے سراپا سوال بنے ذہن کو مطمئن کرکے اس کی تشنگی دورکرنے کاسامان کرتا ہے۔ روسی کمیونسٹ انقلاب کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ مختلف النوع انفرادی اور اجتماعی آزادیوں پر پابندی کے علاوہ بندہ ِ مزدور سے کئے گئے جھوٹے یا کھوکھلے وعدے بھی تھے۔ جماعت ِاحمدیہ کے دوسرے امام حضرت مرزابشیرالدین محمود احمدؓ نے اس خونی انقلاب کے آغاز میں ہی اس کا بھرپورتجزیہ کرتے ہوئے پیشگوئی کردی تھی کہ یہ انقلاب اپنی اصل میں بعض تباہ کن خرابیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے 70برس سے زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا چنانچہ بعینہٖ ایسا ہی ہوا۔ اس کی نام نہاد تعمیر میں واقعی طور پر ہر صورت خرابی ہی خرابی مضمر تھی۔ انجام یہ ہوا کہ مزدور کسان دہقان کو اس کے حصہ کے خوشہ گندم سے جو روزی پہلے مل رہی تھی وہ بھی چھین لی گئی۔ عوام کا پیسہ سٹیٹ کیپیٹل ازم یعنی ریاستی سرمایہ داری کی بھینٹ چڑھ گیا۔ جس کو عوام کا معیار ِ زندگی بہتر بنانے کی بجائے ایٹمی ہتھیاروں کے انبارلگانے میں ضائع کردیا گیا لیکن یہ ایک الگ بحث ہے۔

جس طرح سابق سوویت یونین میں 70سالہ جبرواستبداد مذہبی وابستگیاں ختم کروانے میں ناکام رہا یہ اپنی نوعیت کی کوئی واحد یا انوکھی مثال نہیں۔ تاریخ میں پہلے بھی ایسا ہوا بلکہ بارہا ہوا۔جبرو استبداد انسانی جسم کو تو پابند سلاسل کر سکتی ہے لیکن انسانی سوچ، فکر، ضمیر اور عقیدے کو ہرگز نہیں۔ خواہ اس جبر کا تعلق سیکولرائزیشن سے ہو یاتھیوکرائزیشن سے۔ کیونکہ جس طرح سیکولر آئیڈیالوجی کو بالجبر نافذ نہیں کیا جاسکتا اسی طرح مذہب یا کسی مخصوص نظریہ یا عقیدہ کو بھی بالجبر نافذ نہیں کیا سکتا۔ اس زیربحث موضوع کا ایک دوسرا اور دلچسپ پہلو یہی ہے۔

کیونکہ بات انسانی سوچ، فکر، نظریہ اور عقیدہ کی ہو رہی ہے۔ حکم خداوندی لَااِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْن کا حسن اور اس میں پوشیدہ حکمت فطرت انسانی کے اسی پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔ بدقسمتی سے دنیا نے موجودہ دورمیں جابرانہ اور متشدد سیکولرائزیشن کی طرح مختلف برانڈ کی جابرانہ اسلا مائزیشن کی تحاریک بھی دیکھ لی ہیں، جن کا اسلام کی اصل تعلیم کے برعکس قہرواستبداد، تشدد اور انتہا پسندی بلکہ فتنہ و فساد پسندی سے تعلق تھایا ہے۔ ان میں سابق آمر جنرل ضیاء الحق برانڈ کی اسلامائزیشن بھی شامل ہے اور نام نہاد بغدادی خلیفہ کی داعش برانڈ اسلامائزیشن بھی۔ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ ان سب کا انجام بھی بالآخر وہی ہوگا جو جبرواستبداد پر مبنی ہر نظام کا ہوتا آیا ہے بقول ثاقب

پستے ہیں بالآخر وہ اک دن اپنے ہی ستم کی چکی میں
انجام یہی ہوتا آیا ہے فرعونوں کا ہامانوں کا

(ڈاکٹر طارق احمد مرزا۔آسٹریلیا)

پچھلا پڑھیں

طلوع و غروب آفتاب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جنوری 2020