• 9 اگست, 2022

حاصل مطالعہ

برطانیہ میں ایک دہائی کے دوران 400 سے زائد گرجا گھر بند ہونے کا انکشاف

راچڈیل (نمائندہ جنگ) برطانیہ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 400 سے زائد گرجا گھر بند ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ چرچ آف انگلینڈ کے اعداد و شمار کے تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ اس کے 940 گرجا گھروں کو 1987ء اور 2019ء کے درمیان بند کیا گیا، اعدادوشمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2010ء سے 2019ء تک 423 چرچ بند ہوئے، ایک رپورٹ کے مطابق چرچ کے 42 ڈائسیز میں او سطاً تقریباً 6 فیصد کم چرچ ہیں جن میں کل بائیں بازو 15،490 کے قریب ہے۔ ساؤتھ وارک کیتھڈرل کے ڈین دی ویری ریونڈ اینڈریو نن نے کہا کہ بڑی تعداد میں بندشیں حیران کن ہیں، میں بہت سے لوگوں کی تشویش میں شریک ہوں کہ گرجا گھروں کی بندش کا باعث بننے والی پالیسیوں کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم پیرش کے نظام میں زیادہ سے زیادہ تبدیلیاں دیکھ رہے ہونگے، ڈرہم اور ما نچسٹر کے ڈائسیز میں بندش کی سب سے بڑی تعداد تھی 1987ء کے مقابلہ میں 15 فیصد کم گرجا گھروں کے ساتھ شرح ریکارڈ کی گئی یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں تیزی کے ساتھ گرجا گھروں کے بند ہونے اور بعض عمارتیں فروخت ہو رہی ہیں، برطانیہ میں اس وقت 3 ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں، جن میں سے نصف کے قریب اسلامی تنظیموں نے چرچ خرید کر ان میں مساجد قائم کیں، خریداری کرتے ہوئے اس معاہدے پر لازمی عمل کیا جاتا ہے کہ چرچ کی ظاہری شکل و صورت تبدیل نہیں کی جائے گی۔

(روزنامہ جنگ 6جنوری 2022ء)

(منیر احمد منور۔ مبلغ انچارج سوئٹزر لینڈ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 جنوری 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ