• 27 فروری, 2021

رئیس المنافقین سےحسن سلوک

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
ایک روایت میں آتا ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کسی غزوہ کے لئے گئے ہوئے تھے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری کی پشت پر ہاتھ مارا۔ اس پر اس انصاری نے بآوازِ بلند کہا کہ اے انصار! میری مدد کو آؤ اور مہاجر نے جب معاملہ بگڑتے ہوئے دیکھا تو اس نے بآوازِ بلند کہا کہ اے مہاجرو! میری مدد کو آؤ۔ یہ آوازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیں۔ تو آپ نے دریافت فرمایا۔ یہ کیا زمانہ جاہلیت کی سی آوازیں بلند ہو رہی ہیں؟ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یا رسول اللہؐ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کی پشت پر ہاتھ مار دیا تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا کرنا چھوڑ دو۔ یہ ایک بُری بات ہے۔ بہر حال پانی پینے کے اوپر یہ جھگڑا شروع ہو گیا تھا کہ مَیں پہلے پیوں گا، اُس نے کہا پہلے مَیں۔ بعد میں یہ بات عبداللہ بن اُبی بن سلول رئیس المنافقین نے سنی تو اس نے کہا مہاجرین نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ لوٹے تو مدینہ کا معزز ترین شخص مدینہ کے ذلیل ترین شخص کو نکال باہر کرے گا (نعوذ باللہ)۔

عبداللہ بن اُبی بن سلول کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گئی۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہؐ! مجھے اجازت دیں کہ مَیں اس منافق کا سر قلم کر دوں۔ حضرت عمرؓ کی بات سن کر آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس سے درگزر کرو۔ کہیں لوگ یہ باتیں نہ کہنے لگ جائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔

(بخاری کتاب التفسیر سورۃ المنافقین باب قولہ سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفر لہم۔ حدیث نمبر 4905)

اس کے باوجود کہ اس کی ایسی حرکتیں تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنا ساتھی کہا ہے۔ کیونکہ جب تک وہ ظاہراً اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا تھا۔ روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ آپ نے عبداللہ بن أبی اور اس کے ساتھیوں کو بلوا کر پوچھا کہ اس طرح مشہور ہوا ہے۔ یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ سب اس بات سے مکر گئے۔ ان میں بعض انصار تھے انہوں نے بھی سفارش کی اور کہا کہ شاید زید کو جو چھوٹے تھے، جنہوں نے یہ بتایا تھا کہ اُن کے سامنے یہ بات ہوئی ہے غلطی لگی ہو گی۔ بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مزید کچھ نہیں پوچھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو وحی کے ذریعے بتا دیا کہ یہ واقعہ سچ ہے تو سب دنیا کو، اُس وقت کے لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ بہر حال یہ سچ ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کا ذکر یوں آتا ہے کہ یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ۔ وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(المنافقون:09)

ترجمہ اس کا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔ حالانکہ عزت تمام تر اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور مومنوں کی۔ لیکن منافق لوگ جانتے نہیں۔ اب اس وحی کے بعد آپؐ سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ عبداللہ بن اُبی ابن سلول جو ہے وہ جھوٹا اور منافق ہے۔ بلکہ آپ کی فراست پہلے سے ہی یہ علم رکھتی تھی کہ یہ منافق ہے لیکن آپ نے صرفِ نظر فرمایا۔ بلکہ مدینہ داخل ہونے سے پہلے جب عبداللہ بن أبی کے بیٹے نے جو ایک مخلص مسلمان نوجوان تھا آپ کے سامنے عرض کی کہ یہ بات میں نے سنی ہے۔ اور اگر آپ کا ارادہ ہے کہ اس کو قتل کرنا ہے تو مجھے حکم دیں کہ مَیں اپنے باپ کی گردن اڑا دوں۔ کیونکہ اگرکسی اور نے اسے قتل کیا یا سزا دی تو پھرکہیں میری زمانہ جاہلیت کی رَگ نہ پھڑک اٹھے اور مَیں اُس شخص کو قتل کر دوں جس نے میرے باپ کو قتل کیا ہو۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ کسی قسم کی کوئی سزادینے کا مَیں ارادہ نہیں رکھتا۔ بلکہ فرمایا کہ مَیں تمہارے باپ کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کروں گا۔ نہ صرف یہ کہ سزا نہیں دوں گا بلکہ نرمی اور احسان کا معاملہ کروں گا۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام غزوہ بنی المصطلق، طلب ابن عبداللہ بن ابی ان یتولی قتل ابیہ… صفحہ 672 دارالکتب العلمیۃ بیروت ایڈیشن 2001)

پھر یہی سفر تھا جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاغلطی سے پیچھے رہ گئی تھیں۔ جب قافلہ نے اپنی جگہ سے کوچ کیا تو بعد میں ایک صحابی نے، جو قافلہ چلے جانے کے بعد میدان کا جائزہ لے رہے تھے کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی، آپ کو دیکھا۔ حضرت عائشہؓ اس وقت سوئی ہوئیں تھیں تو اِنَّا لِلّٰہ پڑھا جس سے آپ کی آنکھ کھل گئی۔ آپ نے فوراً اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔ اُن صحابی نے اپنا اونٹ لا کر پاس بٹھا دیا اور آپ اس اونٹ پر بیٹھ گئیں۔ جب یہ لوگ قافلے سے ملے ہیں تو انہی منافقین نے حضرت عائشہؓ کے بارہ میں طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کر دیں۔ غلط قسم کے الزام (نعوذ باللہ) حضرت عائشہؓ پر لگائے گئے۔ آپ کو یہ باتیں سن کر بڑی بے چینی تھی۔ حضرت عائشہؓ پر الزام لگانا اصل میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوہی نقصان پہنچانے والی بات تھی یا کوشش تھی۔ جب یہ واقعہ ہو گیا اور مدینہ پہنچ گئے تو ایک دن آپؐ نے مسجد میں تشریف لاکر تقریر فرمائی اور فرمایا جس کا ایک پہلافقرہ یہ تھا کہ مجھے میرے اہل کے بارہ میں بہت دُکھ دیا گیا ہے۔ لیکن آپؐ نے منافقین کے ان الزامات کو برداشت کیا۔

(بخاری کتاب المغازی باب حدیث افک حدیث نمبر4141)

اور جنہوں نے یہ الزام لگائے تھے ان کو فوری سزا نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب حضرت عائشہؓ کی بریت کی وحی ہوئی تو تب بھی ان لوگوں کو کوئی سزا نہیں دی جن کے بارہ میں یہ پتہ تھا کہ الزامات لگا رہے ہیں بلکہ عفو سے کام لیا۔ بلکہ روایات میں آتا ہے جب عبداللہ بن أبی فوت ہوا تو اس کے بیٹے نے (جو ایک مخلص مسلمان تھا جیسا کہ مَیں نے کہا) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ اپنا کرتہ مجھے عنایت فرمائیں تا کہ اس کرتے میں مَیں اپنے باپ کو دفناؤں، کفناؤں۔ آپؐ نے وہ کرتہ عطا فرمایا۔ بلکہ آپ کی شفقت اور عفو کا یہ حال تھا کہ آپ اس کے جنازہ کی نماز کے لئے بھی تشریف لائے اور جنازہ پڑھایا۔ قبر پر دعا کرائی۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ آپ کو ان تمام باتوں کا علم ہے کہ یہ منافق ہے اور منافق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے اور مغفرت طلب کرے تو ان کی مغفرت نہیں ہو گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک اجازت بھی دی ہوئی ہے۔ مَیں کوشش کروں گا کہ ستّر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں یعنی کثرت سے کروں گا۔ اُس کے لئے اگر مجھے اس سے زیادہ بھی بخشش طلب کرنا پڑی تو کروں گا۔ یہ تھا آپ کا اُسوہ جو آپ نے اُن منافقین کے ساتھ بھی روا رکھا۔

(بخاری کتاب الجنائز باب الکفن فی القمیص الذی یکف او لا یکف… حدیث نمبر 1269)(خطبہ جمعہ 14؍ جنوری 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 فروری 2021