• 27 فروری, 2021

تعارف سورۃالفتح (48 ویں سورۃ)

(تعارف سورۃالفتح (48 ویں سورۃ))
(مدنی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 30 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003)

وقت نزول اور سیاق و سباق

جمہور علماء کی رائے کے مطابق یہ سورت صلح حدیبیہ کے معاہدے کے طے پانے کے بعدہجرت کے چھٹے سال میں ذوالقعدہ کے مہینے میں نازل ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے (بخاری)۔ یہ معاہدہ ایک تاریخ ساز موقع تھا اس لیے اس سے جڑے تمام واقعات تاریخ اسلام میں نہایت مؤثر طور پر محفوظ کئے گئے ہیں۔ اس لئے اس سورت کے وقت نزول کی بابت مکمل شواہد موجود ہیں۔ اس کا عنوان الفتح یعنی کامیابی رکھا گیا ہے۔یہ عنوان اس لحاظ سے بھی موزوں ترین ہے کہ بظاہر ایک سفارتی شکست آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ایک کونے کا پتھر ثابت ہوئی اور فتح مکہ پر منتج ہوئی اور بالآخر پورے عرب پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا۔

گزشتہ سورت کے اختتام پر مومنین کو اپنے مخالفین کے مقابل پر یقینی فتح کا وعدہ دیا گیا تھا۔ موجودہ سورت نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں اس موعود فتح کو یوں بیان کرتی ہے کہ یہ آئندہ کسی دور کے زمانے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ فتح بہت قریب ہے اور یہ اس قدر قریب ہے کہ گویا آن پہنچی ہے۔ اور یہ فتح ایسی فیصلہ کن اور مؤثر ہوگی کہ ایک شکی مزاج انسان کے لیے بھی اس کا انکار ممکن نہیں ہوگا۔

مضامین کا خلاصہ

یہ سورت اس حتمی بیان سے شروع ہوتی ہے کہ فتح کا وقت آ پہنچا ہے اور یہ کہ یہ فتح نہایت واضح ،یقینی اور بھاری ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ اس فتح کے بعد لوگ یوں جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گے کہ ان کی تعلیم وتربیت اور عقائد اچھی طرح باور کروانے کا کام ایک پرمشقت کام ثابت ہوگا۔لہٰذا اس بھاری ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا کی مدد طلب کرنی چاہیے اور مغفرت اور رحم طلب کرنی چاہیے تاکہ بتقاضائے بشریت اس ذمہ داری کی تکمیل میں کچھ کمی نہ رہ جائے۔

پھر اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کی پوری آگاہی اور حکمت نہ سمجھنے کی وجہ سےمومنوں کے دل غمگین ہیں۔ لہٰذا خدا تسلی اور اطمینان نازل کرے گا اور ان کے ایمان کو تقویت دے گا جبکہ کفار کی جھوٹی خوشیاں پامال ہو جائیں گی اور سطحی اور بے وقت ثابت ہوں گی۔ مومنوں کو بتایا گیا ہے کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فراست اور حکمت کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے تھا کیونکہ آپ خدا کے رسول ہیں اور آپ کے جملہ افعال خدائی رہنمائی کی روشنی میں انجام پذیر ہوتے ہیں۔مومنوں کا تو کام تھا کہ وہ آپ پر پورا یقین رکھتے، آپ کی مدد کرتے اور آپ کے ساتھ مستعد کھڑے رہتے۔ پھر مومنوں کو بتایا گیا ہے کہ درخت کے نیچے بیعت (بیعت الرضوان)کرنے سے انہیں خدا کی رضامندی حاصل ہوئی ہے، جب انہوں نے یہ عہد باندھا کہ وہ ہر مشکل اور راحت کی گھڑی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ رہیں گےیہاں تک کہ موت انہیں اپنی آغوش میں لے لے۔

دراصل یہ خدا کا اپنامنصوبہ تھا کہ ایسے موقع پر لڑائی نہ ہو جبکہ مکہ میں کچھ مخلص اور سچے مسلمان بھی موجود تھے جنہیں مسلمان عام طور پر نہ جانتے تھےاور جو بے مقصد مارے جاتے اگر لڑائی ہو جاتی۔ پھر منافقین اور پیچھے رہ جانے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے اور ان کی منافقت کاسرعام اعلان کیا گیا ہےجب کبھی بھی انہیں خدا کی راہ میں لڑائی کے لیے بلایا جاتا ہے،یہ سورت بتاتی ہے کہ جھوٹے بہانے تلاش کر کے پیچھے رہ جانے کا جواز بناتے ہیں مگر انکے احمقانہ فیصلے اور جھوٹےبہانے محض ان کو ہی بے وقوف بنا سکتے ہیں۔

اپنے اختتام پر یہ سورت پھر اس مضمون کی طرف عود کرتی ہے کہ نہ صرف صلح حدیبیہ کا معاہدہ ایک عظیم الشان فتح ثابت ہوگا بلکہ اس کی بدولت کئی اورکامیابیاں بھی حاصل ہوں گی یہاں تک کہ ہمسایہ ممالک بھی اسلام کی آغوش میں آ جائیں گے۔

(ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 فروری 2021