• 27 فروری, 2021

حضرت مولوی عبدالصمد صاحب رضی اللہ عنہ

تعارف صحابہ کرام ؓ
حضرت مولوی عبدالصمد صاحب رضی اللہ عنہ ۔ سنور

حضرت میاں عبدالصمد صاحب رضی اللہ عنہ ولد اللہ بخش صاحب قوم شیخ انصاری سنور ریاست پٹیالہ (موجودہ ضلع پٹیالہ) کے رہنے والے تھے اور ریاست پٹیالہ میں بطور زنبورچی (چھوٹی توپ چلانے والا) ملازم تھے۔ اس کے ساتھ اچھا دینی اور علمی رجحان بھی رکھتے تھے، بعد ازاں آپ اپنی ملازمت سے الگ ہوکر وعظ و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ بیعت سے قبل ہی آپؑ سے اعتقاد رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے دعویٰ پر فورًا لبیک کہتے ہوئے دار البیعت لدھیانہ میں 23؍مارچ 1889ء کو حضرت اقدسؑ کے دست مبارک پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئے، رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کا نام 30ویں نمبر پر یوں درج ہے:
’’علی محمد ولد اللہ بخش عرف عبدالصمد ۔ سنور محلہ مجاوراں ریاست پٹیالہ ۔ ملازمت زنبورچی ریاست پٹیالہ‘‘

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 345)

یہاں آپ کا اصل نام علی محمد اور عرف عبدالصمد لکھا ہے لیکن کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج جلسہ سالانہ 1892ء کے شرکاء میں آپ کا نام 81 نمبر پر ’’مولوی عبدالصمد صاحب عرف شیخ علی محمد۔ سنور ریاست پٹیالہ‘‘ لکھا ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5) بہرحال آپ کا نام جماعتی لٹریچر میں ہر جگہ عبدالصمد ہی درج ہوا ہے۔ آپ 313 صحابہ میں بھی شامل تھے، اس فہرست میں 223 نمبر پر ‘‘میاں عبدالصمد صاحب۔ سنور‘‘ درج ہے۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’سراج منیر‘‘ میں ’’فہرست آمدنی چندہ برائے طیاری مہمان خانہ و چاہ وغیرہ‘‘ کے تحت ان اصحاب کے نام درج فرمائے ہیں جنھوں نے اس مد میں چندہ دیا، اس فہرست میں آپ کا نام ’’شیخ عبدالصمد معلم سنوری‘‘ بھی درج ہے۔ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ 87) الحکم 24 جولائی 1901ء صفحہ 16پر عام اغراض کی مد میں چندہ دہندگان میں آپ کا نام ’’عبدالصمد صاحب مہتمم مدرسہ بنیاد العلوم پٹیالہ‘‘ مع چندہ درج ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نہایت عقیدت و محبت کا تعلق تھا اور حضرت اقدسؑ کے تازہ ارشادات و فرمودات کے لیے ایک تڑپ رکھتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ اخبار بدر کی اشاعت کے متعلق تجاویز میں آپ نے لکھا:
’’نصف اخبار ڈائری کے لیے مخصوص ہو اور ڈائری بلا ناغہ کوشش کر کے لکھی جاوے۔ اگر ڈائری ہو اور وہ پوری ضبط ہو جاوے تو نصف کیا میں تو کل اخبار میں یہی دینا چاہتا ہوں کیونکہ سوائے ایک دو صفحوں کے اصل غرض البدر کے اجراء کی یہی ہے کہ تازہ حالات اور تقریریں احمدی احباب تک پہنچائی جاویں مگر اکثر ایام ایسے بھی گذرتے ہیں کہ کوئی تقریر وغیرہ نہیں ہوتی اور نیز ضبط ڈائری کے انتظام میں بھی اب تک بڑا نقص ہے کہ ایک آدمی کو کل خدمات اخباری بجا لانی پڑتی ہیں، مکمل انتظام یہ چاہتا ہے کہ ڈائری نویس ایک علیحدہ شخص ہو جو کہ ہر وقت مسجد میں حاضر رہے اور دن میں جس وقت حضرت اقدس باہر تشریف لاویں اور کوئی ذکر فرماویں، وہ نوٹ کیا جاوے …..‘‘

(بدر 16؍ دسمبر 1903ء صفحہ 379 کالم 3)

1909ء میں ڈھک بازار پٹیالہ میں احمدیہ پبلک لائبریری کے قیام پر اس کا انتظام آپ کے سپرد ہوا۔ (الحکم 7؍جولائی 1909ء صفحہ 3) اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علمی ذوق عطا فرمایا تھا اُس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت میں تحریر ی و تقریری خدمات سر انجام دیں، حضرت اقدسؑ کی زندگی میں ہی آپ نے ہندوؤں میں تبلیغ کی خاطر ایک کتاب ’’شری نش کلنک اوتار‘‘ لکھی جس پر ریویو کرتے ہوئے اخبار بدر نے لکھا: ’’کلنکی اوتار کے ظہور کے بارے میں یہ کتاب شیخ عبدالصمد صاحب ساکن سنور (پٹیالہ) نے تالیف کی ہے۔ نہایت عمدہ پسندیدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام یہ رسالہ ہے جس میں آپ کی صداقت بہ دلائل و براہین ثابت کی گئی ہے۔‘‘

(بدر 23؍اپریل 1908ء صفحہ 15)

1913ء میں آپ نے اخبار بدر میں یہ اعلان شائع کرایا:
’’خاکسار خدمت اسلام و سلسلہ حقہ احمدیہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرتا ہے، اس لئے اگر کوئی با حوصلہ جماعت احمدی ایسے خادم دین کی اپنی ضروریات انجمن و سلسلہ اور خدمات دین کے سر انجام کے لئے واقعی ضرورت سمجھیں تو احقر کو فورًا طلب فرماویں اور اپنے جیسا اور اپنا ہمیشہ کا خادم اپنی انجمن کے لئے اور سلسلہ تبلیغ کے لئے مبلغ سمجھیں۔

والسلام
از بٹھنڈا ریاست پٹیالہ۔ محمد عبدالصمد احمدی واعظ پٹیالوی سنوری‘‘

(بدر 30جنوری 1913ء صفحہ1)

بعد ازاں آپ کو سلسلہ احمدیہ کے مبلغ کےطور پر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں خدمت کی توفیق ملی۔ خلافت ثانیہ کے قیام کے موقع پر آپ نے درج ذیل عریضہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہٗ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

بحضور پُر نور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

اما بعد، حضرت سیدی و مولائی خلیفۂ ربانی عمر ثانی حضرت میاں صاحب مولانا بشیر الدین محمود احمد ایدہم اللہ الصمد۔ عرض فدوی محمدؐ عبدالصمد شیخ انصاری سنوری احمدی، پبلک واعظ سلسلہ عالیہ احمدیہ آنکہ وفات حسرت آیات حضرت خلیفۃ المسیح عالم و عامل ربانی صدیق ثانی حضرت مولانا حکیم الامت محبوب رب العالمین اعلیٰ اللہ مقامہٗ و نوّر اللہ قبرہٗ ناگہاں سن کر دل کو قلق ہوا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ زاں بعد حضور والا کی خلافت منجانب اللہ سُن کر دل پژ مردہ کو حمد و سجدہ شکر بحضور رب العالمین احکم الحاکمین کرنے کا موقعہ مل گیا، الحمد للہ علیٰ ذالک۔ پچیس مارچ کی شب بوقت صبح بذریعہ خواب ایک زور کی آواز سنی گئی اور وہ تھی (عمر) خلیفۃ۔ چونکہ احقر کو اس روز قریبًا 8 بجے تک بحلف کرتا ہوں کہ واقعات جانگداز اور امورات سوز و ساز یعنی حضرت خلیفۃ المسیح اول کی وفات کی خبر اور نہ کسی اور معاملہ کی خبر ملی تھی، اس واسطے اس غیبی آواز کے دو معنی لیے گئے (1) عمر خلیفہ۔ حضرت مغفور کی عمر کی ترقی لیکن 8 بجے کے بعد کارڈ پہنچا کہ حضرت خلیفۃ المسیح صدیق ثانی عالم جاودانی کو انتقال فرما گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

کارڈ میں جب خلافت دوم کا ذکر نہ پڑھا تو دل کا بڑا صدمہ پہنچا اور حیرت پر حیرت تھی کہ خلافت کا قائم ہونا ضروری اور ذکر نہیں، کیا معاملہ ہے اور عالم محویت میں اخبارات کی تلاش تھی اور ناکامی، آخر اعلان ملا اور دو روز بعد تب دل شکستہ کو صبر و سکون ہوا اور خواب کی آواز کی صحت اور تصدیق ہوگئی اور الہام حضرت امام ہمام علیہ الصلوٰۃ و السلام یعنی فضل عمر نے تو غنچہ کھلا دیا، الحمد للہ و شکر للہ۔

(الحکم 21/28 دسمبر 1937ء صفحہ 15)

اب آپ غیروں میں تبلیغ کے علاوہ منکرین خلافت کا بھی بڑے زور شور سے مقابلہ کرنے لگے، اخبار الفضل ایک جگہ لکھتا ہے:
’’مولوی عبدالصمد صاحب ریاست پٹیالہ میں بڑی ہمت سے کام کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے، آمین۔ اُنھوں نے بڑی کوشش سے محمود پور میں باقاعدہ جماعت قائم کی ہے۔ سامانہ میں ایک بڑا بھاری جلسہ ہوا جس میں ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیابی ہوئی۔ الحمد للہ آج کل مولوی صاحب موصوف بڑی سرگرمی سے غیر مبائعین کا مقابلہ کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں ان پر مظفر و منصور کرے گا، ان شاء اللہ۔‘‘

(الفضل 22؍ستمبر 1917ء صفحہ 11)

اخبار الفضل 14 ستمبر 1915ء صفحہ 1پر موضع سامانہ اور سنور میں آپ کے کامیاب لیکچروں کا ذکر موجود ہے۔ حضرت حکیم محمد صدیق صاحب پٹیالوی رضی اللہ عنہ آپ کے اسی دورہ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ہمیر پور یوپی کے مشہور مبلغ جناب مولوی عبدالصمد صاحب اپنے کامیاب دورہ پر سے واپس آتے ہوئے، وطن مالوف سنور میں ٹھہرے اور جماعت سنور کی خواہش پر آپ نے پہلے روز رات کے وقت الحمد شریف سے باہمی اتفاق و یکجہتی وغیرہ پر ایک موثر اور پُر درد تقریر بیان فرمائی …. اگلے روز سناتن دھرم، آریہ سماج اور مسلمانوں کو تبلیغ کی گئی …. پھر اگلے روز شام کو ہندوؤں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے سامنے اسلام کی سب سے بڑی خوبی بیان فرما کر تمام دیگر موجودہ مذاہب پر فوقیت ثابت کی….‘‘

(الفضل 14اکتوبر 1915ء صفحہ 6)

شیخ عبدالصمد صاحب واعظ ہمیر پور نے سترہ آدمیوں کی بیعت پہلے بھیجی تھی آج دس آدمیوں کے نام بھیجے ہیں کہ یہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے ۔ اللھم زد فزد (الفضل 23 مئی 1915ء) علاقہ ملکانہ میں ارتداد کے خلاف جانے والے جماعتی وفود میں بھی آپ کو جانے کا موقعہ ملا۔ آپ نے مورخہ 31؍جولائی 1930ء کو قریبًا 55 سال کی عمر میں وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 1745) ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔ اخبار الفضل نے اعلان وفات دیتے ہوئے لکھا: ’’مولوی عبدالصمد صاحب مہاجر پٹیالوی جنھیں سلسلہ کی تبلیغ کا بہت شوق تھا، فوت ہوگئے۔ جمعہ کی نماز کے بعد حضرت اقدس نے ان کا جنازہ پڑھا، بیرونی جماعتیں بھی نماز جنازہ پڑھیں۔‘‘ (الفضل 19؍اگست 1930ء صفحہ 1) تاریخ احمدیت میں آپ کے متعلق یہ نوٹ دیا گیا ہے: ’’نہایت مخلص اور صوفی منش درویش انسان تھے، ہندی زبان پر عبور تھا اور ہندو کتب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام اور اسلام کی صداقت کا بیان آپ کے رگ و ریشہ میں داخل تھا، اس باب میں کتاب ’’شری نش کلنک درشن یا ظہور کلکی اوتار‘‘ آپ کی یادگار ہے۔ اس کے علاوہ ’’اعلان الصحیح فی ردّ تکفیر المسیح‘‘ کی غیر مطبوعہ تصنیف بھی۔ آنریری طور پر پوری عمر تبلیغ اسلام و احمدیت میں گذاری۔‘‘ اللھم اغفر لہٗ و ارحمہ

(تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ 252)

(از غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 فروری 2021