• 4 مارچ, 2024

دلچسپ و مفید واقعات و حکایات (قسط 16)

دلچسپ و مفید واقعات و حکایات
بیان فرمودہ
حضرت مصلح موعودؓ 
قسط 16

شکر ہے دھرم بھرشٹ نہیں ہوا

ایک صاحب کی بیوی مجھ سے ملنے کے لئے آئیں،گھر والوں نے مجھے بتایا کہ ایک عورت آئی ہے اور وہ ہمارے خاندان کو خوب جانتی ہے، وہ کہتی ہے کہ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں،وہ فلاں کی لڑکی ہے اور فلاں سے بیاہی ہوئی ہے۔میں نے کہا اُس کے باپ کو تو میں جانتا ہوں،حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا صحابی تھا، مگر جس شخص کے ساتھ اس کی شادی بتائی جاتی ہے وہ تو غیراحمدی ہے، یہ بات کیا ہے؟

بہرحال میں نے اُسے بلایا اور کہا،نیک بخت! تویہاں کہاں؟ تیرا باپ تو صحابی تھا اور تُو ایک غیر احمدی سے بیاہی ہوئی ہے۔

اُس نے کہا اِنہوں نے میرے باپ کو کہا تھا کہ میں احمدی ہوجاؤں گا اِس وقت میری غیر ت برداشت نہیں کرتی کہ لوگ مجھے یہ کہیں کہ میں نے ایک لڑکی کی وجہ سے احمدیت قبول کی ہے۔ اس پر میرے باپ نے رشتہ دے دیا مگر پھر یہ احمدی نہیں ہوئے۔ میں نے کہا کیایہاں کی جماعت کے لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ؟ اُس نے کہا سب کو پتہ ہے مگر کسی نے مرکز کو یہ حالات بتائے نہیں۔

تھوڑے دنوں کے بعد ہی اُس کا خاوند مجھ سے ملنے کے لئے آگیا اور اُس نے ایک ایسی بات کہی جس سے مجھے ایک پرانے برہمن کی کہاوت یا د آگئی۔

کہتے ہیں ایک برہمن نے کسی چمارن سے شادی کرلی، ماں باپ کو برا لگا کہ ہمارے لڑکے کا دھرم بھرشٹ ہو گیا ہے اور اُنہوں نے اپنے لڑکے کا بائیکاٹ کردیا، مگر ماں باپ آخر ماں باپ ہوتے ہیں،وہ رات دن بےچین رہتے کہ ہمارے لڑکے کو کیا ہوگیا ہے۔

آخر ایک دن اُنہوں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ آیا واقع میں ہمارا لڑکا دین سے نکل گیا ہے یا ابھی اُس کے دل میں کچھ ایمان باقی ہے۔ا ُنہوں نے لڑکے کا وہ گلاس جس میں وہ پانی پیا کرتا تھا اُس چمارن کے ہاں سے منگوا لیا اور پھر اپنے لڑکے کو گھر بلا کر اُسے اچار سے روٹی کھلا دی۔

اچار کھانے کے بعد اُسے خوب پیاس لگی مگر چونکہ وہ اُسے اپنے گلاس میں پانی نہیں دے سکتے تھے، اُنہوں نے کہا جاؤاور اپنے گھر سے جاکر پانی پیو، وہ گھر گیا اور بیوی سے کہنے لگا کہ پیا س سے میرا براحال ہے جلدی کرو اور پانی لاؤ۔ وہ اُٹھی اور گلاس تلاش کرنے لگی مگر وہاں گلاس کہاں تھا، وہ تو اُس کے ماں باپ لے آئے تھے۔ اس نے خاوند سے کہا کہ گلاس تو ملتا نہیں آپ کہیں تو میں اپنے گلاس میں پانی لے آﺅں ؟ اُس نے کہا نہیں میں تمہارے گلاس میں پانی پینے کے لئے تیار نہیں۔

غرض وہ پیاس کی شدت سے تڑپتا چلا گیا اور اُس کی کیفیت خراب سے خراب تر ہونے لگی۔ جب وہ موت کے بالکل قریب پہنچ گیا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا،نیک بخت! اپنے منہ میں پانی بھر کے میرے منہ میں آکر کُلّی کردے چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا، اپنے منہ میں پانی ڈالا اور پھر اُس کے منہ میں آکر کُلّی کردی۔

اُس کے ماں باپ بھی چُھپ کر یہ نظارہ دیکھ ر ہے تھے، جب اُنہوں نے اپنے بیٹے کا یہ نمونہ دیکھا تو وہ خوشی سے دَوڑتے ہوئے آئے اور اپنے لڑکے کو دُعائیں دیتے ہوئے کہنے لگے،شکر ہے ہمارے بیٹے کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوا۔

وہ چمار ن سے شادی کرچکا تھا،اُس سے محبت اور پیار کرتا تھا مگر اُس کے برتن میں پانی پینے کے لئے تیارنہیں تھا۔

اِسی قسم کی بات اُس کے خاوند نے کی کہنے لگا احمدی لڑکیاں بڑی کٹر ہوتی ہیں،میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ میرے ساتھ نماز پڑھ تو وہ نماز پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔

یہ بھی ویسی ہی بات ہے شادی ہوچکی ہے، بچے جن رہی ہے مگر نمازیں الگ الگ پڑھی جاتی ہیں تاکہ ایمان میں کوئی نقص واقع نہ ہو۔

یہ صورت جو قلو ب کی نظر آتی ہے اس کی اصلاح اُس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک جماعت میں یہ احساس پیدا نہ ہو کہ جب بھی کسی مقام پر کوئی ایسا واقعہ ہو افرادِجماعت کا فرض ہے کہ وہ فوراً مرکز کو صحیح حالات سے باخبر کریں تاکہ مناسب کارروائی کے بعد ان واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ416-417)

اپنے ہی نام درخواست اور خود ہی منظورکر لی

مجھے یا د ہے ایک دفعہ گورداسپور میں ایک نیم پاگل انگریز ڈپٹی کمشنر آگیا وہ بعد میں گورداسپور سے محض اس لئے تبدیل کیاگیا کہ میرے ساتھ لڑ پڑا تھا اور وزیر ہندمسٹر مانٹیگو نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا یہ پہلی سزا ہے جو ایک ہندوستانی سے لڑائی کرنے کی وجہ سے ایک انگریز کو دی گئی اور اُسے ڈی گریڈ کیا گیا۔

وہ نیم پاگل سا تھا۔ایک دن سیشن جج کے ہاں اُ س کی دعوت تھی وہ وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لاری آئی جس پر پٹرول رکھا ہوا تھا۔ سیشن جج نے وہ پٹرول اُتروا کر اپنی کوٹھی میں رکھوا لیا۔اُن دنوں قانون کے مطابق وہ لائسنس کے بغیر کچھ پٹرول تو رکھ سکتا تھا مگر اُس کا پٹرول زیادہ تھا اور پھر یہ پٹرول لائسنس والی جگہ میں ہی رکھا جاسکتا تھا کسی دوسری جگہ نہیں۔ جب پٹرول آیا تو وہ ڈپٹی کمشنر ہنستے ہوئے کہنے لگا آپ نے اس کا لائسنس لیا ہے ؟ وہ کہنے لگا میں نے تو نہیں لیا۔

سیشن جج نے کہا کہ تمہارے ہاں بھی تو پرسوں پٹرول آیا تھا۔ اُس نے کہا ہاں آیا تھا مگر میں نے اُسی وقت ڈی سی کے حضور درخواست دے دی اور اُن کی منظوری حاصل کرلی یعنی خود ہی اپنے نام درخواست لکھی کہ مجھے اتنے گیلن پٹرول رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے اورخود ہی اُس پر لکھ دیا ’’منظور‘‘ پھر کہنے لگا میں تمہارے خلاف باقاعدہ کور ٹ میں کیس پیش کروں گا۔

اب یہ ہے تو بظاہرہنسی کی بات کہ خود ہی اپنے نام درخواست لکھی جائے اور خود ہی اُسے منظور کرلیا جائے لیکن اگر اِسی رنگ میں ذمہ دار عہدیدار اپنے آپ کو سزا دینے کی عادت اختیار کرلیں تو یقینا اُن کی اصلاح ہوجائے۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ437)

مولوی ہر چیز خرید لے گا سوائے کتاب کے

ہمیں تو حضرت خلیفہ اوّلؓ نے اس طرح علم کی چاٹ لگائی کہ ایک کتاب کے چار پانچ نسخے منگوا لینا اور فرمانا میاں! یہ کتاب بڑی اچھی ہے ضرور لو اور مطالعہ کرو۔ چنانچہ اسی ابتدائی زمانہ میں تیس چالیس اچھی اچھی کتابیں میرے پاس جمع ہو گئی تھیں۔ ان میں سے بعض تو حضرت خلیفہ اوّلؓ نے مجھے تحفہ کے طور پر دی تھیں اور بعض میں نے خود خریدی تھیں اِس طرح میرا علم بڑھتا چلا جاتا تھا۔ مگر اب یہ حالت ہے کہ مولوی شاید اپنے آپ کو بد قسمت سمجھے گا اگر وہ کوئی کتاب خرید لے حالانکہ کتاب ہی سب سے زیادہ اُس کے کام آنے والی چیز ہوتی ہے۔

مجھے خوب یاد ہے حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ دُنیا کی ہر چیز مولوی خرید لے گا مگر وہی چیز جس سے اس کی ترقی وابستہ ہے نہیں خریدے گا۔

یعنی کتاب خریدنے کے لئے وہ کبھی تیار نہیں ہو گا۔ اس کا یہی جی چاہے گا کہ کوئی مجھے تحفہ کے طور پر دے دے حالانکہ یہ وہ چیز ہے جو اس کے کپڑے سے زیادہ، اس کے کھانے سے زیادہ، اس کے پینے سے زیادہ، بلکہ اس کے بیوی بچوں کی ضروریات سے بھی زیادہ اہمیت رکھنے والی ہے۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ475-476)

ذہنی وسعت کے لئے کثرت مطالعہ لازمی ہے

میں تو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ کیوں ہمارے علماء اپنی ذہنی وسعت کے لئے کوشش نہیں کرتے اور کتابیں تو الگ رہیں مَیں تو جادو کی کتاب ہاتھ آجائے اُسے بھی نہیں چھوڑتا۔ ہتھکنڈوں کی کتاب مل جائے اُسے بھی پڑھ جاتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں خداتعالیٰ کے فضل سے ہر علم والے سے بات کر لیتا ہوں اگر اَور لوگ بھی اِسی رنگ میں کوشش کریں تو وہ بھی اپنے علم کو بہت بڑھا سکتے ہیں۔ مجھے ایسی مشق ہے کہ میں کتاب کو پڑھتے ہی صحیح اور غلط بات کا فوراً پتہ لگا لیتا ہوں اور اِس طرح تھوڑے سے وقت میں مَیں کتاب کا بہت بڑا حصہ پڑھ لیتا ہوں۔

حضرت خلیفہ اول کو بھی ایسی ہی مشق تھی۔ہم آپ کو بچپن میں پڑھتے دیکھتے تو حیران ہوا کرتے تھے۔ آپ کا طریق یہ تھا کہ کتاب اُٹھائی اس کے ایک صفحہ پر جستہ جستہ نظر ڈالی اور جھٹ اُلٹ کر دوسرے صفحہ پر جا پہنچے۔بس چند سیکنڈ میں ہی اُس پر نظر ڈالی کہ آگے جا پہنچے اور ہم حیران ہوتے تھے کہ آپ اتنی جلدی کس طرح پڑھ لیتے ہیں۔

مگر بڑے ہو کر خود مشق ہوئی تو معلوم ہوا کہ کثرتِ مطالعہ کے نتیجہ میں یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور انسان کتاب پر ایک نظر ڈالتے ہی پتہ لگا لیتا ہے کہ یہ میرے کام کی چیز ہے یا نہیں اور اس طرح دو چار گھنٹہ میں بڑی بھاری کتاب بھی ختم ہو جاتی ہے۔ میرے نزدیک ایک آدمی نہایت آسانی کے ساتھ اگر وہ مطالعہ کے ساتھ دلچسپی رکھتا ہو تو آٹھ نو سَو کتاب بھی ایک سال میں سرسری طور پر پڑھ سکتا ہے اور پچاس، سَو کتاب تو عام لوگ بھی پڑھ سکتے ہیں۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ478-479)

عقل مند اور پاگل کے فعل میں فرق

بڑی سکیم یا تو کوئی بڑا عقلمند بنایا کرتاہے اور یا پھر بڑا پاگل بنایا کرتا ہے۔ جیسے لطیفہ مشہور ہے کہ
کسی شخص کو اُس کے آقا نے پانچ روپے انعام کے طور پر دئیے۔ اس نے برتن خرید لئے اور اندازے لگانے شروع کر دئیے کہ یہ پانچ روپوں کے برتن اِتنی قیمت پر بیچوں گا اور اِس طرح پانچ روپے آٹھ بن جائیںگے۔ پھر آٹھ روپے کے اَور برتن لوں گا اور فروخت کروں گا اِس طرح بارہ روپے بن جائیں گے۔ بارہ سے چوبیس اور چوبیس سے اڑتالیس بن جائیں گے اور پھر برتنوں کی تجارت اَور زیادہ وسیع کروں گا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ایک دن لکھ پتی ہو جاؤں گا اور وزیر مجھ سے درخواست کرے گا کہ میری بیٹی سے شادی کر لو۔ میں پہلے تو نخرے کروں گا مگر آخر مان جاؤں گااور اُسے گھر میں لے آؤں گا مگر جب بیوی گھرمیں آئے گی تو میں اُسے پوچھوں گا نہیں۔ تین چار دن کے بعد اُس کی ماں اُسے کہے گی کہ تُو جا اور اپنے خاوند سے معافی مانگ، شاید وہ کسی بات پر ناراض ہو گیا ہو۔ چنانچہ وہ آئے گی اور کہے گی میرے آقا! میں آپ کی خادمہ ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی ہے کہ آپ مجھ سے بولتے ہی نہیں۔میں پیر اُٹھا کر اُسے یوں ماروں گا کہ جا دفعہ ہو جا۔ اِدھر اس نے یہ سوچا اور اُدھر واقعہ میں زور سے پیر مارا جس سے اس کے تمام برتن ٹوٹ گئے۔

تو بڑی نیت یا بڑا عقلمند کیا کرتا ہے یا بڑا پاگل کیا کرتا ہے۔ اس نے بھی سکیم تو بڑی اچھی بنائی تھی اور وہ وزیر کا دامادبلکہ آئندہ بادشاہ بھی بن جاتا بشرطیکہ اُس کے برتن نہ ٹوٹتے۔ تو بڑے ارادے یا احمق کیا کرتا ہے یا بڑا عقلمند کیا کرتا ہے۔

ایک امریکن جب ہمارے مبلّغ سے سنتا ہے کہ ہم نے امریکہ فتح کرنا ہے تو وہ یکدم حیران ہو جاتا ہے اور کہتا ہے اچھا! اتنے بڑے بڑے ارادے ہیں۔ پھر وہ پوچھتا ہے کہ بتائیے آپ کام کس طرح کرتے ہیں وہ کہتا ہے بس اسی طرح کام کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میرے پاس آجاتا ہے تو میں اُسے تبلیغ کر دیتاہوں، اگر کوئی سوال دریافت کرتا ہے تو میں اُس کا جواب دے دیتا ہوں۔ وہ طنزاً کہتا ہے بس میں سمجھ گیا کہ آپ امریکہ کس طرح فتح کریں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کوئی سکھ کہیں بیٹھا ہوا تھا اور اس کی ڈاڑھی اور مونچھوں کے بال اس طرح بڑھے ہوئے تھے کہ سارا منہ چُھپا ہوا تھا۔ ایک شخص قریب آیا اورکافی دیر دیکھتا رہا۔ پھر اس نے بالوں میں اپنی اُنگلی ڈالی یہ دیکھنے کے لئے کہ اس کا منہ بھی ہے یا نہیں۔ جب اس نے منہ میں انگلی ڈالی تو سکھ سے برداشت نہ ہو سکا اور اُسے گالیاں دینے لگا۔ اس نے کہا سردار صاحب! غصہ نہ کیجئے۔ بس یہی دیکھنا تھا کہ آپ کا منہ بھی ہے یا نہیں۔

وہ بھی جب یہ جواب سنتا ہے توکہتا ہے بس پتہ لگ گیا کہ آپ امریکہ کو کس طرح فتح کریں گے۔ تو جب بھی کوئی بڑی نیت کی جائے اس کے لئے کوئی بڑی سکیم بھی بنانی چاہئے۔ ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ482-483)

تجارتی غلبہ کے لئے جتھا بندی ضروری ہے

دُنیا کی کوئی قوم صرف انفرادی تجارت کے زور سے باقی اقوام پر غالب نہیں آسکتی۔ جب مسلمانوں کی تجارت اپنے عروج پر تھی تو اُس وقت بھی دوسرے لوگوں کا اِن کی تجارت میں حصہ شامل ہوتا تھا۔ یورپ اور امریکہ میں بھی یہی طریق رائج ہے اور اِسی وجہ سے وہ ایک لمبے عرصے سے تجارت پر چھائے ہوئے ہیں۔

فرد کبھی لمبی تجارت کر ہی نہیں سکتا، آخر ایک نہ ایک دن وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لئے کمپنیاں بنا کر تجارت کرنا ہی تجارت کا کامیاب طریق ہے مگر ہمارا تاجر ہمیشہ عاجل فائدہ کو دیکھتا ہے آجل کو نہیں۔ وہ یہ تو چاہتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو تجارت پر لگا دوں یا اپنے بھائی کو تجارت میں شامل کر لوں مگر وہ یہ نہیں چاہتا کہ میں اپنے ہمسایہ کو بھی اپنی تجارت میں شریک کر لوں۔

میں نے ایک دفعہ بمبئی میں ایک تبلیغی وفد بھیجا۔ میر محمد اسحق صاحب بھی اس میں شامل تھے، وہ بڑے ذہین آدمی تھے۔ واپس آئے تو اُنہوں نے کہا کہ میں نے اِس سفر میں ایک ایسی بات دیکھی ہے جس سے میں بڑا متأثر ہوا ہوں۔

اُنہوں نے بتایا کہ میں بمبئی میں بڑے بڑے بوہرہ تاجروں سے ملا ہوں۔ وہ مذہباً شیعہ ہیں مگر تجارت میں ان کو بڑا غلبہ حاصل ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگوں کو جو طاقت حاصل ہے اِس کی کیا وجہ ہے؟ اور وہ کون سا گُر ہے جو تمہاری اس ترقی کا باعث ہے۔

اُنہوں نے کہا ہم نے اپنی جتھا بندی اس رنگ میں کی ہوئی ہے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ مثلاً ہم میں سے ایک شخص کا دیوالہ نکل جائے تو جب ہمیں اُس کا علم ہوتا ہے تو ہم اُسے بلا کر کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں روپیہ تو دے نہیں سکتے لیکن ہم تمہاری مدد بھی کرنا چاہتے ہیں اس لئے آج سے ہم اپنی تمام دیا سلائیاں تمہیں دے دیتے ہیں یا مٹی کا تیل تمہیں دے دیتے ہیں یا صابن تمہیں دے دیتے ہیں۔ تم یہ چیز لو اور اِس کی تجارت کرو۔ جب ہمارے پاس کوئی گاہک آئے گا تو ہم اُسے تمہارے پاس بھجوا دیا کریں گے۔ چنانچہ کمیٹی بیٹھتی ہے اور فیصلہ کر دیتی ہے کہ آج سے کسی بوہرے نے دیا سلائی یا صابن یا تیل فروخت نہیں کرنا۔

وہ ہول سیل تاجر ہیں، جب ان کے پاس کوئی شخص مال لینے کے لئے آتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہمارے پاس تو مال ختم ہے لیکن ہم نے سنا ہے کہ فلاں تاجر کے پاس مال موجود ہے آپ اس سے لے لیجئے۔ چنانچہ وہ شخص زیادہ گراں قیمت پر مال اس سے خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور چونکہ بڑے بڑے شہروں میں لاکھوں کا مال خریدا جاتا ہے کسی نے پندرہ ہزار کا مال خریدنا ہوتا ہے، کسی نے پچیس ہزار کا اور کسی نے پچاس ہزار کا اِس لئے جب دکانداروں سے پوچھتے ہیں کہ مال ہے تو جواب ملتا ہے کہ مال تو ختم ہے لیکن فلاں تاجر کے پاس مال سنا جاتا ہے۔آپ اس کے پاس چلے جائیے وہ ممکن ہے کچھ مہنگا ہی دے۔ کیونکہ مال کسی اورجگہ سے مل نہیں رہا اس پر وہ مجبور ہو کر اس کے پاس آتے ہیں اور سَودا خرید لیتے ہیں۔ اِس طرح چند دن یا چند ہفتوں میں ہی لاکھ دو لاکھ روپیہ وہ کما لیتا ہے اور اِس کے بعد وہ ان کے مال کی قیمت ان کو واپس کر کے باقی روپیہ سے اپنی تجارت شروع کر دیتا ہے۔

غرض چھوٹی چھوٹی چیزیں جیسے سگریٹ ہوئے یا دیا سلائی کی ڈبیاں ہوئیں یا جُرابیں ہوئیں یا بنیانیں ہوئیں، ان کے ذریعہ سے وہ تھوڑے دنوں میں ہی اُس کے اندر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی طاقت پیدا کر دیتے ہیں۔

یہ جتھا بندی کی روح جب بھی کسی قوم میں ہو گی سارے لوگ اُس کے سامنے سر جُھکانے پر مجبور ہوں گے لیکن جب نفس پرستی ہو گی اور دل میں احساس ہو گا کہ ہم نے دوسروں کو اپنے قریب نہیں آنے دینا تو ایسے لوگ ہمیشہ قوم کو گرایا کرتے ہیں۔ اُسے ترقی نہیں دیا کرتے۔

پس مال بڑھانے کا وہ ذریعہ اختیار کرو جس سے قومی رنگ میں تم کو اعزاز حاصل ہو۔ تجارت اور صنعت میں ترقی کرنے کے لئے احمدی صنّاعوں اور تاجروں کی انجمنیں بنا کر ان کے اندر قومی خدمت کا مادہ پیدا کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ ورنہ ذاتی اور خاندانی ترقی صرف ایک حد تک جا سکتی ہے اس سے آگے نہیں۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ497-499)

پہلے سودے کا نفع اللہ کی راہ میں

میں نے بوہرا تاجروں میں دیکھا ہے کہ وہ دن میں ایک سَودا ضرور خداتعالیٰ کے نام پرکرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے تاجر بھی کر سکتے ہیں۔

ہندو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں ہم عموماً کپاس ہندوؤں کے پاس بیچتے تھے۔ وہ ہمیشہ ایک سَودا مذہب کے نام پر کیا کرتے تھے اور مجھے کسی دوست نے بتایا کہ اس طرح سات کروڑ روپیہ سالانہ آجاتا ہے اور اس سے ان کے سارے قومی ادارے چلتے ہیں۔

اب ہمارا تاجر اگر نیت کر لے کہ دن میں پہلا سَودا جو میں کروں گا اس کا نفع مذہب کو دوں گا تو کتنی آمد ہو سکتی ہے۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ522)

احمدیہ لٹریچر کی وجہ سے ہدایت اسلام

بعض چیزوں کا فائدہ دیر سے ہوتا ہے۔ پرنس آف ویلز کو جو مَیں نے تبلیغ کی تھی اس کا بڑی دیر سے اثر ہوا ہے۔۔۔۔ مجھے ان کے ایک ہمسفرنے بتایا کہ وہ لاہور سے سیالکوٹ جا رہے تھے کہ رستہ میں انہوں نے آپ کی کتاب تحفہ پرنس آف ویلز کو پڑھا۔ وہ ان کے ایڈی کانگ مقرر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے یکدم کھڑے ہو جاتے تھے اور اس کے بعد انہوں نے صراحتًا عیسائیت سے بیزاری کا اظہار کیا۔

میں حیران ہوں کہ کس طرح تحفہ شہزادہ ویلز نے اس پر اثر کیا۔ یہاں تک کہ وہ عیسائیت سےکلی طور پر بیزار ہو گئے۔

سر غلام حسین ہدایت اللہ گورنر سندھ فوت ہو گئے ہیں، وہ مجھ سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں کراچی گیا تو اُنہوں نے مجھے دعوت پر بلایا۔ میرے پاس وقت نہیں تھا تاہم میں دعوت پر چلا گیا۔ دعوت میں اور لوگ بھی مدعو تھے۔ سرغلام حسین ہدایت اللہ بھاری جسم کے تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ وہ ہوشیار نہیں لیکن اس مجلس میں مجھ پر یہ اثر ہوا کہ وہ نہایت ہوشیار آدمی ہیں۔

ایک آدمی نے اسلام کے متعلق ایک سوال کیا اور میں نے اُس کا جواب دینا شروع کیا۔اِتنے میں سر غلام حسین ہدایت اللہ نے کُرسی پر بیٹھے بیٹھے خراٹے مارنے شروع کر دئیے۔ میری طبیعت پر یہ بات گراں گزری کہ اِدھر سوال کا میں نے جواب دینا شروع کیا ہے اور اُدھر اُنہوں نے خراٹے مارنے شروع کر دئیے ہیں۔ میں پندرہ سولہ منٹ تک بولتا رہا۔

ابھی وہ شخص کہ جس نے سوال کیا تھا بولا نہیں تھا کہ سر غلام حسین ہدایت اللہ نے آنکھیں کھول لیں اور کہا سچی بات یہ ہے کہ میں اور تو کچھ جانتا نہیں، ہاں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر مرزا صاحب نہ آتے تو میں عیسائی ہو جاتا۔ انہیں کی کتابیں پڑھ کر اور سُن کر میں اسلام پر قائم رہا ہوں۔ معلوم ہوتا تھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے وہ لیٹ گئے تھے، ورنہ جاگ رہے تھے۔

اُنہوں نے آنکھیں کھولیں اور فوراً کہنے لگے جو تشریح اسلام کی علماءنے کی ہے، اُسے پڑھ کر کوئی تعلیم یافتہ مسلمان مسلمان نہیں رہ سکتا۔ میں جب کالج میں پڑھتا تھا تو میں نے مرزا صاحب کی بعض کتابیں پڑھیں اور ان کتابوں کا یہ اثر تھا کہ اب تک میں مسلمان ہوں۔

سر غلام حسین ہدایت اللہ بھاری جسم کے تھے، بُڈھے تھے اور صحت بھی کمزور تھی اور بظاہر معلوم ہوتا تھا اب ان کا حافظہ ویسا نہیں جیسا جوانی میں ہو گا مگر پھر بھی انہیں طالب علمی کے وقت کی یہ بات یاد تھی۔

ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں نے سر غلام حسین ہدایت اللہ سے کہا ہو کہ احمدی غلط راستہ پر جارہے ہیں اور احمدیوں نے کہا ہو کہ جو باتیں ہمارے متعلق کہی جاتی ہیں وہ غلط ہیں۔ تو اُنہوں نے کہا ہو کہ مجھے احمدیت کا لٹریچر دیکھ لینا چاہئے۔

پس بڑے بڑے لوگ تقریریں نہیں سنتے لٹریچر پڑھ لیتے ہیں۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ527-528)

مریض کے لئےآرام وسکون ضروری ہے

مجھے حضرت خلیفة المسیح الاوّلؓ کا بیان کردہ ایک قصہ یاد آگیا۔ آپ جب گھوڑے سے گرے اور سر میں شدید زخم آیا تو دوستوں نے آپ کی عیادت کے لئے آنا شروع کر دیا اور ہر دوست اپنے اخلاص میں چاہتا کہ وہ زخم دیکھے اور اس کے متعلق پوری معلومات حاصل کرے۔

ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میرے زخم کی حالت تو بندر کے زخم کی سی ہو گئی ہے۔ جب کسی بندر کو زخم ہو جاتا ہے تو قریب قریب کے سارے بندر اُس کے پاس جمع ہو جاتے ہیں۔ پہلے ایک بندر یہ دیکھنے کے لئے کہ زخم کہاں ہے اور کتنا ہے، آگے بڑھ کر زخم میں پنجہ ڈال دیتا ہے پھر دوسرا بندر آگے آتا ہے اور وہ بھی زخمی بندر سے یہی سلوک کرتا ہے۔ اِسی طرح سارے بندر ایک ایک کر کے آتے ہیں اور اُس کے زخم میں ہاتھ ڈال ڈال کر دیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زخم کی حالت بجائے درست ہونے کے اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ آخر زخمی بندر جنگل میں بھاگ جاتا ہے اور جب تک زخم ٹھیک نہ ہو وہ واپس نہیں آتا۔

آپ فرماتے تھے کہ میرے زخم کی حالت بھی بندر کے زخم کی سی ہو گئی ہے ہر ایک شخص جو تیمار داری کے لئے آتا ہے، اخلاص اور محبت کی وجہ سے کہتا ہے مجھے زخم دکھاؤ اور پھر کہتا ہے یہ کیسے ہوا؟ کیوں ہوا؟ اس کی اب کیا حالت ہے؟ کیا علاج کیا گیا ہے؟ غرض رات دن یہی ہوتا رہتا ہے۔

آپ فرماتے اگر کوئی شخص بیمار ہو اور وہ رات دن یہی کہتا رہے کہ میں بیمار ہوں تو وہ اپنے آپ کو بیمار کہتے کہتے مر جائے گا اور اگر وہ کہے کہ میں اچھا ہوں تو سُننے والے اُسے جھوٹ کہیں گے۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ550)

اعتراض کرنے والے اعتراض ہی کرتے ہیں

قادیان کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص بہت غریب تھا اُس نے یہ کہنا شروع کیا کہ آپ امیروں کے ہاں دعوتیں کھاتے ہیں غریبوں کے ہاں دعوت نہیں کھاتے۔

اُس شخص کی اپنی یہ حالت تھی کہ میرا خیال یہ تھا کہ اگر وہ سامنے دال روٹی بھی رکھے گا تو اُسے تکلیف ہو گی لیکن ہر دو تین ماہ کے بعد وہ میرے پاس آتا اور کہتا کہ آپ غریبوں کی دعوت نہیں کھاتے۔ آپ میری دعوت قبول کریں۔ میرے گھر آئیں اور وہاں بیٹھ کر کھانا کھائیں۔

آخر میں نے کہا میں تمہاری دعوت مان لیتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ تم سالن پکاؤ یا دال یعنی ان دونوں میں سے کچھ پکاؤ مگر ہو ایک ہی چیز اور اس کے ساتھ پُھلکے پکالیں، چاول نہیں پکانے۔ اگر تم نے سالن اور دال دونوں چیزیں پکا لیں یا چاول پکالئے تو میں تمہاری دعوت قبول نہیں کروں گا۔ اُس نے کہا مجھے یہ شرط منظور ہے۔

وہ شخص مجھ سے اخلاص رکھتا تھا اُس نے میرا مطلب سمجھ لیا۔ چنانچہ جس دن دعوت تھی اُس نے پتلا سا شوربہ بنا لیا اور اُس کے ساتھ پُھلکے تیار کر لئے۔ میں اُس کے گھر گیا اور کھانا کھایا۔ کھانا سے فارغ ہو کر میں اُس کے گھر سے باہر نکلنے لگا تو غالباً سیالکوٹ کے ایک دوست دروازے پر کھڑے تھے۔

اُنہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا ’’تُسی ایسے غریباں دی دعوت وی کھا لیندے او۔‘‘ میں نے کہا اس شخص کی یہ بات کہ ’’تُسی غریباں دی دعوت نہیں کھاندے‘‘ میں نے تین سال سُنی ہے۔ اب تمہاری یہ بات تین سال تک سُن لوں گا۔ اِس پر وہ شخص شرمندہ ہو گیا اور واپس چلا گیا۔

غرض ایک طرف تو وہ امیر شخص تھا جس کو غریب کے ہاں میرا جانا بُرا لگا اور دوسری طرف وہ غریب شخص تھا جو مجھے تین سال تک یہ کہتا رہا کہ آپ غریبوں کی دعوت قبول نہیں کرتے اور آخر مجھے اُس کی دعوت منظور کرنی پڑی۔

تو اعتراض کرنے والے بعض اوقات اعتراض کرتے رہتے ہیں اور حقیقت اس کے خلاف ہوتی ہے۔

(خطبات شوریٰ جلد3 صفحہ553)

پچھلا پڑھیں

روزنامہ الفضل کے پہلے صفحہ سے اقتباس بچوں کو پڑھنے کے لئے دیا کریں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 فروری 2023