• 19 اپریل, 2021

مزید روایات از خان صاحب منشی برکت علی صاحبؓ ولد محمد فاضل صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پھر آگے لکھتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلے میں تفسیر نویسی کے منظور نہ کرنے پر حضور نے اعجاز المسیح رقم فرمائی اور اس میں چیلنج دیا کہ پیر صاحب اتنے عرصے کے اندر اندر اس کتاب کا جواب تحریر کریں۔ پیر صاحب نے عربی میں تو کچھ نہ لکھا گو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اردو میں ایک کتاب لکھی تھی جو بعد میں سرقہ ثابت ہوئی (وہ بھی چوری کی ثابت ہوئی)۔ کہتے ہیں بہر حال اس کشمکش میں میری طبیعت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی جانب زیادہ مائل ہوتی گئی۔ پھر مَیں نے خیال کیا کہ احادیث کا تو ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جس پر عبور کرنا مشکل ہے مگر احمدی احباب اکثر قرآنِ کریم کے حوالہ جات دیتے رہتے ہیں اس لئے بہتر ہو گا کہ قرآنِ کریم کا شروع سے آخر تک بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے۔ چنانچہ گو میں عربی نہیں جانتا تھا مگر مَیں نے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر قرآنِ کریم کا اردو ترجمہ پڑھا اور اس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم میں ایک دو نہیں، بیس تیس نہیں بلکہ متعدد آیات ایسی ہیں جن سے وفاتِ مسیح کا استدلال کیا جا سکتا ہے۔

پھر لکھتے ہیں کہ 1901ء کے شروع میں جب مردم شماری ہونے والی تھی حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں درج تھا کہ جو لوگ مجھ پر دل میں ایمان رکھتے ہیں گو ظاہراً بیعت نہ کی ہو وہ اپنے آپ کو احمدی لکھوا سکتے ہیں۔ اُس وقت مجھے اس قدر حسنِ ظن ہو گیا تھا کہ مَیں تھوڑا بہت چندہ بھی دینے لگ گیا تھا اور گو مَیں نے بیعت نہ کی تھی لیکن مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوا دیا۔ مجھے خواب میں ایک روز حضور علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ صبح قریباًچار بجے کا وقت تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ حضور برابر والے کمرے میں احمدیوں کے پاس آئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ میں حضور سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے کے لئے اس کمرے میں گیا اور جا کر السلام علیکم عرض کی۔ حضور نے جواب دیا وعلیکم السلام اور خواب میں فرمایا کہ برکت علی! تم ہماری طرف کب آؤ گے؟ مَیں نے عرض کی حضرت! اب آ ہی جاؤں گا۔ حضور اس وقت چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ جسم ننگا تھا (اوپر سے ننگے تھے)۔ سر کے بال لمبے تھے اور اُس وقت کے چند روز بعد مَیں نے تحریری بیعت کر لی۔ یہ نظارہ مجھے اب تک ایسا ہی یاد ہے جیسا کہ بیداری میں ہوا ہو۔ اس کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر مَیں نے دارالامان میں حاضر ہو کر دستی بیعت بھی کر لی۔ اُس وقت مَیں نے دیکھا کہ حضور کی شبیہ مبارک بالکل ویسی ہی تھی جیسی کہ مَیں نے خواب میں دیکھی تھی اور اُس سے کچھ عرصہ بعد اتفاقاً اس مہمان خانے میں اترا ہوا تھا جس میں اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے ابن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سکونت پذیر ہیں۔ مَیں ایک چارپائی پر بیٹھا تھا کہ سامنے چھت پر غالباً کسی ذرا اونچی جگہ پر حضور آ کر تشریف فرما ہوئے۔ نہا کر آئے تھے۔ بال کھلے ہوئے تھے اور اوپر کا جسم ننگا تھا۔ یہ شکل خصوصیت سے مجھے ویسی ہی معلوم ہوئی جو مَیں خواب میں دیکھا چکا تھا اور مجھے مزید یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ نے میری ہدایت کے لئے مجھے دکھلائی ہے۔

(رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر136تا139غیر مطبوعہ)

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد مبارک سے حضور غالباً نماز ظہر سے فارغ ہو کر کھڑکی کے راستے اندر تشریف لے جا رہے تھے تو حسبِ دستور احباب نے آپ کو گھیر لیا۔ کوئی ہاتھ چومتا تھا، کوئی جسمِ اطہر کو ہاتھ لگا کر اسے منہ اور سینے پر ملتا تھا۔ مَیں بھی اُن میں شامل تھا۔ اتنے میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفۃ المسیح الاول قریب سے گزرے، اور فرمانے لگے، ’’اخلاص چاہئے، اخلاص‘‘۔ میرے دل نے گواہی دی کہ بیشک ظاہر داری کوئی چیز نہیں جب تک اس کے ساتھ اخلاص نہ ہو۔ (صرف چومنا اور ہاتھ لگانا کوئی چیز نہیں جب تک اخلاص نہ ہو۔ یہی حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ان کوسبق دیا)۔ چنانچہ اُس وقت سے مَیں ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہوں کہ خدا کے فضل سے اخلاص کے ساتھ تعلق قائم رہے۔

لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز ظہر کے بعد جبکہ حضور علیہ السلام مسجد میں تشریف فرما تھے کسی نے عرض کی کہ دو تین آریہ صاحبان ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے انہیں اندر بلا لیا اور گفتگو شروع ہو گئی۔ نجات کے متعلق ذکر آنے پر مَیں نے دیکھا کہ حضور کا رعب اس قدر غالب تھا کہ آریہ دوست کھل کر بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بیان کیا کہ نجات کے لئے ویدوں کا ماننا ضروری نہیں بلکہ جو اچھے کام کرے گا نجات پا جائے گا۔

(رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر140تا141غیر مطبوعہ)

لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں مجھے نماز جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ نماز حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ نے پڑھائی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا کر قبر کے نزدیک بیٹھ گئے۔ (وہاں مسجد اقصیٰ میں اُن کے والد کی جو قبر ہے)۔ مَیں بھی موقع پا کر پاس ہی بیٹھ گیا اور نماز میں حضور کی حرکات کو دیکھتا رہا کہ حضور کس طرح نماز ادا فرماتے ہیں۔ حضور نے قیام میں اپنے ہاتھ سینے کے اوپر باندھے مگر انگلیاں کہنی تک نہیں پہنچتی تھیں۔ آپ کی گردن ذرا دائیں طرف جھکی رہتی تھی۔ نماز کے بعد یہ مسئلہ پیش ہو گیا کہ کیا نمازِ جمعہ کے ساتھ عصر بھی شامل ہو سکتی ہے یا نہیں؟ چنانچہ حضور کے ارشاد کے مطابق اُس دن نمازِ عصر جمعہ کے ساتھ جمع کر کے ادا کی گئی۔

(خطبہ جمعہ 8؍ اپریل 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مارچ 2021