• 26 فروری, 2024

قرآن کو عزت دیں

قرآن کو عزت دیں
رمضان میں تلاوتِ قرآن کے حوالہ سے اہم تحریر

سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جماعت کو قرآن مجید کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسانی کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ15)

سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس عبارت اور قرآن مجید کے متعلق حضورؑ کی دیگر تحریرات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے احکامات، اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کی جائے، اسے روزانہ پڑھا جائے، سمجھا جائے، اس پر عمل کیا جائے اور اسے دنیا بھر میں پھیلایا جائے نہ کہ اسے خوبصورت کپڑوں میں لپیٹ کر اونچی جگہوں پر رکھا جائے اور وقتًا فوقتًا اس پر پڑی گرد کو جھاڑا جائے۔

اس مضمون میں ہم قرآن کریم سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کو عزت دینے کا کیا مطلب ہے۔ بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قرآن مجید کے بارے میں کیا احکامات و نصائح فرماتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ قرأت محض پڑھنے کو کہتے ہیں جبکہ تلاوت کا مطلب نہ صرف پڑھنا بلکہ پیروی کی غرض سے پڑھنا ہے۔لفظ تلاوت کا مادہ ’’ت ل و‘‘ ہے جس کا مطلب ہے پیچھے پیچھے آنا، پیروی کرنا وغیرہ۔مثال کے طور پر ہم اخبار رسائل وغیرہ پڑھتے ہیں تو یہ قرأت ہے۔لیکن جب ہم کوئی مشین کمپیوٹر وغیرہ خریدتے ہیں تو اسے جوڑنے یا چلانے کے لئے اس کے ساتھ جو ہدایات پر مشتمل کتابچہ ہوتا ہے اسے بھی پڑھتے ہیں تاکہ اس کی پیروی کرکے اس چیز کو جوڑا یا چلایا جائے۔ یہ تلاوت ہے۔

مندرجہ ذیل آیت میں قرأت کا لفظ ہے اور حکم ہے کہ جب بھی قرآن مجید کی قرأت کی جائے اس سے پہلے اعوذ باللّٰہ پڑھنا چاہئے۔

فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۹﴾

(النحل: 99)

ترجمہ: پس جب تو قرآن پڑھے تو دھتکارے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ۔

قرآن مجید میں مسلمانوں کو تلاوت قرآن کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت یعنی پیروی ایسے کرتے ہیں جیسا کہ اس کی پیروی کا حق ہے۔ظاہر ہے کہ پیروی پڑھے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کا مطلب ہوگا پیروی کرنے کے لئے پڑھنا۔

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾٪

(البقرۃ: 122)

ترجمہ: وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی درآنحالیکہ وہ اس کی ویسی ہی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو (درحقیقت) اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی بھی اس کا انکار کرے پس وہی ہیں جو گھاٹا پانے والے ہیں۔

وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ

(النمل: 92-93)

ترجمہ: اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہو جاؤں اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔

قرآن مجید کسی بھی وقت پڑھا جاسکتا ہے لیکن فجر کا وقت اس کے لئے بہترین قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس طرح ہمارے دن کی ابتداء تلاوت قرآن مجید سے ہوتی ہے۔

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا ﴿۷۹﴾

(بنی اسرائیل: 79)

ترجمہ: سورج کے ڈھلنے سے شروع ہوکر رات کے چھا جانے تک نماز کو قائم کر اور فجر کی تلاوت کو اہمیت دے۔ یقیناً فجر کو قرآن پڑھنا ایسا ہے کہ اُس کی گواہی دی جاتی ہے۔

قرآن مجید انسانوں کے لئے سختی نہیں چاہتا۔ اس لئے کہا گیا کہ جتنا آسانی سے پڑھ سکیں پڑھیں۔

فَاقۡرَءُوۡا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ

(المزمل: 21)

ترجمہ: پس قرآن میں سے جتنا میسّر ہو پڑھ لیا کرو۔

یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ قرآن کو خوب نکھار کر پڑھیں تاکہ انسان سمجھ سکے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے اور اس پڑھنے میں ایک حُسن بھی پیدا ہو، سننے والوں کو بھی بھائے۔

وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِیۡلًا ؕ﴿۵﴾

(المزمل: 5)

ترجمہ: اور قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کر۔

پھر کہا گیا کہ جب ہمارے اردگرد قرآن مجید پڑھا جارہا ہو تو اسے خاموشی سے سننا چاہئے۔ قرأت کے دوران باتیں نہیں کرنی چاہئیں، اس پر غور کرنا چاہئے۔

وَاِذَا قُرِیٴَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۵﴾

(الاعراف: 205)

ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قرآن مجید پڑھے جانے کے وقت شور مچانا جس سے لوگوں کی توجہ قرآن کی طرف نہ ہو کفار کا شیوہ بتایا گیا ہے۔

وَقَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَالۡغَوۡا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ ﴿۲۷﴾

(حٰم سجدہ: 27)

ترجمہ: اور اُن لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا، کہا کہ اس قرآن پر کان نہ دھرو اور اُس کی تلاوت کے دوران شور کیا کرو تاکہ تم غالب آ جاؤ۔

مؤمنین کو اتباع قرآن کی نصیحت کی گئی ہے۔

وَہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوۡہُ وَاتَّقُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ۙ

(الانعام: 156)

ترجمہ: اور یہ بہت مبارک کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے۔ پس اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید پر تدبّر کی دعوت دیتا ہے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ وَلَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا ﴿۸۳﴾

(النساء: 83)

ترجمہ: پس کیا وہ قرآن پر تدبّر نہیں کرتے؟ حالانکہ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۵﴾

(محمد: 25)

ترجمہ: پس کیا وہ قرآن پر تدبر نہیں کرتے یا دلوں پر اُن کے تالے پڑے ہوئے ہیں؟

مؤمنین کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ قرآن کو مضبوطی سے تھامتے ہیں یعنی اپنی زندگی کے ہر پہلو کو اس کے اوامر و نواہی کے مطابق ڈھالتے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔

وَالَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾

(الاعراف: 171)

ترجمہ: اور وہ لوگ جو کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں، ہم یقیناً اصلاح کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کیا کرتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ قرآن مجید کے معارف جاننے کے لئے انسان کا پاک نفس ہونا بہت ضروری ہے۔لہٰذا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ہمیں قرآن مجید کے اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ اس کے معارف کو جاننے کی بھی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اس کے لئے اپنے نفس کو مطہر بناتے رہنا چاہئے تاکہ اس کے خزائن سےزیادہ سے زیادہ استفادہ کرسکیں۔

لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ ﴿ؕ۸۰﴾

(الواقعہ: 80)

ترجمہ: کوئی اسے چُھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔

اللہ تعالیٰ مؤمنین کو قرآن مجید کے ذریعہ جہاد کبیر، تذکیر اور انذارکی نصیحت فرماتا ہے۔

فَلَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَجَاہِدۡہُمۡ بِہٖ جِہَادًا کَبِیۡرًا ﴿۵۳﴾

(الفرقان: 53)

ترجمہ: پس کافروں کی پیروی نہ کر اور اس (قرآن) کے ذریعہ اُن سے ایک بڑا جہاد کر۔

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِجَبَّارٍ ۟ فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿۴۶﴾

(ق: 46)

ترجمہ: ہم اُسے سب سے زیادہ جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں اور تُو ان پر زبردستی اصلاح کرنے والا نگران نہیں ہے۔ پس قرآن کے ذریعہ اُسے نصیحت کرتا چلا جا جو میری تنبیہ سے ڈرتا ہے۔

قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ ۟ وَاُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ ؕ اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۘ۲۰﴾

(الانعام: 20)

ترجمہ: تو پوچھ کہ کونسی بات بطور شہادت سب سے بڑی ہوسکتی ہے۔ کہہ دے کہ اللہ ہی تمہارے اور میرے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں ڈراؤں اور ہر اُس شخص کو بھی جس تک یہ پہنچے۔ کیا تم قطعی طور پر گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی دوسرے معبود ہیں؟ تُو کہہ دے کہ میں (یہ) گواہی نہیں دیتا۔ کہہ دے کہ یقیناً وہی ایک ہی معبود ہے اور میں یقیناً اُس سے بَری ہوں جو تم شرک کرتے ہو۔

کِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ لِتُنۡذِرَ بِہٖ وَذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾

(الاعراف: 3)

ترجمہ: (یہ) ایک عظیم کتاب ہے جو تیری طرف اتاری گئی ہے۔ پس تیرے سینے میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ ہو کہ تُو اس کے ذریعہ اِنذار کرے اور مومنوں کے لئے یہ ایک بڑی نصیحت ہے۔

فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الۡمُتَّقِیۡنَ وَتُنۡذِرَ بِہٖ قَوۡمًا لُّدًّا ﴿۹۸﴾

(مریم: 98)

ترجمہ: پس یقیناً ہم نے اِسے تیری زبان پر رواں کر دیا ہے تاکہ تو متقیوں کو اس کے ذریعہ خوشخبری دے اور جھگڑا لو قوم کو اس کے ذریعہ ڈرائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رسول کی صداقت کا گواہ اللہ تعالیٰ ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

وَیَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ ۙ وَمَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿۴۴﴾

(الرعد: 44)

ترجمہ: اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہتے ہیں کہ تُو مرسَل نہیں ہے۔ تُو کہہ دے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ بطور گواہ کافی ہے اور وہ بھی (گواہ ہے) جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

ہم میں سے جس کو بھی دعوت الی اللہ اور تبلیغ اسلام و احمدیت کا شوق ہو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے گواہ اسی وقت بن سکتے ہیں جب ہمیں قرآن مجید کا علم ہو یعنی اس کے حقائق و معارف پر آگاہی ہو۔سورہ ہود کی آیت نمبر 18 وَیَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ (اور اس کے پیچھے اس کا ایک گواہ آنے والا ہے) کے مطابق اس دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے سب سے بڑے گواہ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں جنہوں نے اسلام کی صداقت کا ہر دعویٰ اور ہر دلیل قرآن مجید سے ہی دی۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’یہ امر بھی ہریک صاحب پر روشن رہے کہ ہم نے اس کتاب میں جس قدر دلائل حقیت قرآن مجید اور براہین صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لکھی ہیں یا جو جو فضائل و محاسن قرآن شریف کے اور آیات بینات منجانب اللہ ہونے اس کتاب کے کتابِ ہذا میں درج کئے ہیں یا جس طور کا اس کی نسبت کوئی دعویٰ کیا ہے وہ سب دلائل وغیرہ اسی مقدس کتاب سے ماخوذ اور مستنبط ہیں یعنی دعویٰ بھی وہی لکھا ہے جو کتاب ممدوح نے کیا ہے اور دلیل بھی وہی لکھی ہے جو اُسی پاک کتاب نے اُس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نہ ہم نے فقط اپنے ہی قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعویٰ کیا ہے۔ چنانچہ جابجا وہ سب آیات کہ جن سے ہماری دلائل اور دعاوی ماخوذ ہیں۔درج کرتے گئے ہیں۔ پس جو صاحب بمقابلہ ہماری دلائل کے کچھ اپنی کتاب کے متعلق لکھنا چاہیں۔یا کوئی دعویٰ کریں تو ان پر بھی لازم ہے جو بپابندی اسی طریق معہود ہمارے کے کاربند ہوں۔ یعنی وہی دعویٰ اور وہی دلیل نفس کتاب اور اصولِ کتاب کے اثبات کی نسبت پیش کریں جو ان کی کتاب میں مندرج ہو۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد اول صفحہ 88)

’’یہ بات یاد رہے کہ اس مقابلہ اور موازنہ میں کسی فریق کا ہرگز یہ اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی کتاب سے باہر جاوے یا اپنی طرف سے کوئی بات منہ پر لاوے بلکہ لازم اور ضروری ہوگا کہ جو دعویٰ کریں وہ دعویٰ اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جاوے جو الہامی قرار دی گئی ہے اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو کیونکہ یہ بات بالکل سچّی اور کامل کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی وکالت اپنے تمام ساختہ پرداختہ سے کوئی دوسرا شخص کرے اور وہ کتاب بکلی خاموش اور ساکت ہو۔‘‘

(جنگِ مقدس، روحانی خزائن جلد6 صفحہ85)

چنانچہ آپؑ کی اتباع میں تمام مبلّغین اور داعیان الی اللہ کو قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہئے تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کے حقیقی گواہ بن سکیں تاکہ فَاکۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰہِدِیۡنَ (آل عمران) (پس ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں میں لکھ دے) ہمارا شمار بھی گواہوں میں ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن کو عزت دینے والا بنائے۔ آمین

(انصر رضا۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

(کتاب) دعاؤں کا تحفہ مناجات رسولؐ

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ