• 15 اگست, 2022

ایڈیٹر کے نام خطوط

الفضل آن لائن کی اردو ادب کی گراں قدر خدمات قابل رشک و قابل فخر ہے

علامہ محمد عمر تماپوری۔ کوآرڈینیٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ انڈیا لکھتے ہیں۔

گذشتہ دنوں الفضل آن لائن میں ’’یومِ مسیح موعود‘‘ پر خصوصی مضامین پڑھنے کو ملے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر ماہِ صیام آیا اس پر حضرت امیر الموٴمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کے خطبات اور مضامین بابت رمضان کے مسائل، برکت، رحمت، مغفرت پر الفضل آن لائن کی زینت بنتے رہے۔ جس سے روحانیت سے پُر ماحول رہا۔ مطالعہ کے ساتھ ساتھ ہر کسی کو عملی طور پر مشق کی بھی توفیق ہوئی۔ حضور پُر نور اور ایسے تمام اہل قلم مجاہدین ِ الفضل کے لئے دل سے دُعائیں نکلیں۔ فجزاھم اللّٰہ و احسن الجزاء

مجھے یقین ہے کہ شمعِ احمدیت کی نسلِ نَو اس سے بھر پور مستفید ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی۔ اِن شاء اللّٰہ بالخصوص مغربی دنیا اور ممالک میں اسلامی تہذیب، تمدن، ثقافت اور اقدار کی بھر پور نمائندگی الفضل آن لائن سے مخصوص ہوگئی ہے۔ اس قدر کم عرصہ میں الفضل آن لائن نے حقیقی اسلامی تعلیمات کو عام فہم رنگ میں بیان کرتے ہوئے اُردو ادب کی جو گراں قدر خدمت جاری رکھی ہوئی ہے وہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈہے۔ نہ صرف قابلِ رشک ہے بلکہ قابل فخر بھی۔ اس طرح کے معیاری اخبار کا لانچ ہونا وقت کا اہم ترین تقا ضا تھا ان مضامین اور معلومات کے ذریعہ اردو زبان نے دنیا کو اپنی مُٹھی میں سمیٹ لیا ہے۔ اُردو زبان کی دلکشی، جاذبیت، چاشنی اور اس کی محبوبیت ہی لوگوں کو اردو سے قریب لا رہی ہے۔ نہ صرف اُردو سے قریب لا رہی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کرارہی ہے۔ اس لئے اُردو زبان کا تحفظ، بقا، فروغ اس کی ترقی اور ترویج بہت ضروری ہے۔ اس فریضہ کو آن لائن لندن کمال خوبی سے نبھا رہا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

یقیناً اردو زبان و ادب سیکھنے اور جاننے کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ آج ساری دنیا میں اردو کا بول بالا ہے اور بڑی تیزی سے یہ زبان مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ اور ایسا ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ بانئ جماعتِ احمدیہ مامور من اللہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی قلمی زبان بھی اردو ہے۔ اور سارا علمی خزانہ عمومی طور پر اردو زبان میں ہے۔ خُلفاء سلسلہ عالیہ احمدیہ اور بزرگان جماعت احمدیہ کی قلمی اور تحریری زبان بھی اردو رہی ہے اور آج بھی ہے۔ ’’آؤ! اردو سیکھیں‘‘ پروگرام بھی اہم رول ادا کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعہ مغربی ممالک کے طلباء و طالبات کو اردو سیکھنے میں بہت مدد مل رہی ہے۔ اب آسانی سے گھر بیٹھے ہر طبقہ کے لوگ اردو زبان سیکھ سکیں گے۔ اِن شاء اللّٰہ

آپ کا تازہ اداریہ Help us help you سونے پر سہاگہ ہے۔ قبل ازیں بھی کئی بار آپ کی طرف سے اس مضمون پر کوشش ہوتی رہی۔ ماہِ رواں 19 مئی 2022ء ’’حقوق و فرائض‘‘ آپ کا اداریہ پڑھنے کو ملا۔ کافی پرانی بات ہے۔ اُستاذی المحترم مولانا محمد حفیظ بقا پوری سابق ایڈیٹر ہفت روزہ بدر قادیان سابق ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ قادیان مدرسہ کی آ خری کلاس کو تفسیر القرآن پڑھا یا کرتے تھے۔ راقم الحروف اس آخری کلاس میں طالب علم تھا۔ حقوق پر ہر مذہب نے، سماج نے، معاشرہ نے ہر شخص پر کچھ فرائض عائد کئے ہوئے ہیں۔ ان کو پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے ہر ایک ادا کرے تو کسی کی حق تلفی ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی مضمون کو آپ نے بڑی عمدگی سے بیان کیا ہے۔ مثالیں دے کر سمجھانے کی کوشش کی ہیں اور اس میں آپ کامیاب بھی ہیں۔

حضرت امیر الموٴ منین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس ضمن میں فر ماتے ہیں۔
’’یہ اہم نکتہ ہے جسے ہمیں یاد رکھنا چاہئے۔ صرف عبادتیں اگر اس کے ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی نہیں تو کچھ فائدہ نہیں دیتیں اور صرف مخلوق کے بعض حق ادا کر دینا اور خدا تعالیٰ کو بھول جانا جس طرح لوگ کہتے ہیں ہم بندوں کے حق ادا کر رہے ہیں یہ بھی تقویٰ پر چلنے والے نہیں بنا سکتے۔ ایک حقیقی مومن کے لئے دونوں حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے‘‘

(خطبہ جمعہ 22 اپریل 2022ء بمقام مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ)

یوں تو حضور پُر نور کے خطبات mta کے توسط سے براہِ راست سُنتے ہیں اور پھر اخبار الفضل آن لائن میں پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن جب کوئی صاحب علم، دانشور، عالم دین حُضور پُر نور کے اقتباسات کو اپنے مضمون میں زینت بناتا ہے تو طبیعت از خود اس خطبہ کو نئے سرے سے سننے اور پڑھنے کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اس لئے اہل قلم حضرات اپنے مضامین میں حُضور پُر نور اور بزرگان ِ سلسلہ کے اقتبا سات کو جو آپ کے تحریر کردہ مضمون سے متعلق ہو ں تو وزن، نکھار اور نقل کریں تو مضمون میں اور شان پیدا ہوگی۔ اس میں آپ کے ادارئیے رول ماڈل ہیں۔ کان اللّٰہ معکم

الفضل نے ہمیں ایک خاندان بنا دیا ہے

مکرمہ مبشرہ شکور۔ لندن سے لکھتی ہیں۔
الفضل کا نام لیتے ہی پہلے تو دادی اماں یاد آتی ہیں۔ اکثر ان کے ہاتھ میں الفضل دیکھا۔ کبھی کبھی وہ ہمیں پڑھ کر سنانے کے لئے بھی کہتیں اس طرح اس خوب صورت اخبار سے تعارف ہوا۔ الفضل کے ذریعے خلیفۂ وقت اور جماعت کی خبریں ملنے لگیں۔ الفضل کے ساتھ ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا ہی تصور راسخ ہو گیا۔

13 دسمبر 2019ء کو جب حضور نے آن لائن الفضل کے اجراء کا اعلان فرمایا تو یکدم میں سوچ میں پڑ گئی کہ آن لائن اخبار کیسا ہوگا۔

خدا کے کام خدا ہی جانے اب جب کہ الفضل جب چاہیں فون پر بھی با آسانی پڑھ رہے ہیں۔ اور شئیر کر رہے ہیں تو بڑا لطف آتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی سے جتنی سہولتیں میسر آ گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس روحانی مائدہ کو ہمارے ہاتھوں میں لا کر رکھ دیا ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں ایک معمول بن گیا تھا۔ تہجد، سحری، فجر نماز، حدیث کا روزانہ درس جو امام عطاء المجیب راشد صاحب کی طرف سے ہوتا تھا۔ قرآن پاک کی تلاوت اور پھر الفضل اخبار، ایسے روزہ کا آ غاز ہوتا رہا۔

تہہ دل سے آپ کی ٹیم کی شکر گزار ہوں جو انتھک محنت کے بعد ایک روحانی مائدہ ہم تک پہنچاتے ہیں۔ بہت اعلیٰ مضامین اور نظمیں۔ جماعت کے احباب کی ترقی، ان کے غم اور خوشی کی خبریں گھر بیٹھے ملتی ہیں ہم ایک خاندان بن گئے ہیں۔ اللہ ہم سب کو اس حسین تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

پچھلا پڑھیں

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ بابت مختلف ممالک وشہر (کتاب)

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ