• 12 اگست, 2020

اہل خانہ کا ہاتھ بٹانا

لاک ڈاؤن میںہم مردحضرات نے گھروں میں پابندہ سلاسل رہ کر بہت سی خوبیوں کا اپنایا۔ اس پر خاکسارکا ایک اداریہ مورخہ 19مئی 2020ء بروز منگل کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ ان خوبیوں میں سےایک نمایاں خوبی گھروں میں اپنی بیگمات کا ہاتھ بٹانا، بچوں کو وقت دینا ہے گویا کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت اپنا کر انبیاء بالخصوص سیدنا وامامنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ملے ہیں۔ تمام انبیاء گھروں میں بیگمات کا ہاتھ بٹایا کرتےتھے۔ ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ پانی لا دیتے، لکڑیاں اکٹھی کر دیتے، جوتوں کو پیوند لگالیتے۔ آنحضورﷺ کی اقتداء اور پیروی میں صحابہ کرامؓ بھی گھروں کا کام کاج کرتے اور بیگمات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ بلکہ ہاتھ سے کام کرنے کی آنحضورﷺ صحابہ کو ترغیب بھی دلایا کرتے تھے۔

فرمایا۔ اَلْکَاسِبُ حَبِیْبُ اللّٰہِ کہ ہاتھ سے کام کرنےوالا اللہ کا دوست ہے۔ آنحضورﷺ گھر کے کام کاج کے علاوہ نبوت سے پہلے گھر سےباہر کام کرنے میں عار نہ سمجھتے تھے۔ آپؐ اجرت پر بکریاں بھی چرایا کرتے تھے (بخاری حدیث نمبر 2262) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کےمتعلق آتا ہے کہ یہ انبیاء بکریاں اور اونٹ اُجرت پر چرایا کرتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر نبیوں کےباپ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ذبح عظیم حضرت اسما عیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی از سرنو تعمیر میں مزدور کے طور پر کام کیا۔ یہ مزدوری بظاہر مادی اُجرت کے بغیر تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مزدوری کا ایسا اجر ملا کہ رہتی دنیا تک تا قیامت اللہ تعالیٰ نے اس عظیم مبارک واقعہ کو قرآن کریم میں محفوظ کر کے یادگار بنا دیا اور درود شریف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی نسل پر درود کا سلسلہ جاری فرما کر ابد روحانی اجرت کے سامان پیدا کر دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت 126 اور 128 میں فرمایا ہے۔

وَ اِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَیۡتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمۡنًا ؕ وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ وَ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡعٰکِفِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ ﴿۱۲۶﴾

اور جب ہم نے (اپنے) گھر کو لوگوں کے بار بار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا۔ اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو ۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک و صاف بنائے رکھو۔

وَ اِذۡ یَرۡفَعُ اِبۡرٰہٖمُ الۡقَوَاعِدَ مِنَ الۡبَیۡتِ وَ اِسۡمٰعِیۡلُ ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۱۲۸﴾

اور جب ابراہیم اُس خاص گھر کی بنیادوں کو اُستوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی (یہ دعا کرتے ہوئے) کہ اے ہمارے ربّ! ہماری طرف سے قبول کر لے۔ یقینا تو ہی بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

مزدور کو عربی میں ’’اجیر‘‘ کہتے ہیں۔ یہ اجرت مادی تو ہے ہی، روحانی بھی ہو سکتی ہے۔ نفسیاتی اور دلی یعنی اندونی اور باطنی بھی۔ اور تمام اللہ کے پاک بندے اللہ کے اجیر ہیں۔ جن کے کاموں کی اجرت اللہ تعالیٰ ان کے ناموں کو زندہ رکھ کر دیتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
میں اپنے نفس میں کوئی نیکی نہیں دیکھتا اور میں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا اور میں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔ یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔

(تجلیات الہٰیہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ410)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء کرام نے افراد جماعت کو سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تقلید میں محنت کرنے اور ہاتھ سے کام کی مسلسل تلقین فرمائی۔ بالخصوص حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہٗ نے اس حوالہ سے نوجوانوں کو بالخصوص مخاطب فرمایا۔ آپ نے ایک اشتہار بعنوان ’’خدا کے ایک بندہ کو آپ کی تلاش ہے‘‘ شائع فرمایا۔ جو آج بھی جماعت احمدیہ کا طرہ امتیاز ہے۔ آپ نے اس میں 18 امور تحریر فرمائے اور سب سے پہلے نمبر پر آپ نے فرمایا۔

کیا آپ محنت کرنا جانتے ہیں؟ اتنی محنت کہ 14،13 گھنٹے دن میں کام کر سکیں۔

ایک موقع پر فرمایا کہ مرد کا حسن اس کے بناؤ سنگھار میں نہیں بلکہ اس کی طاقت اور کام میں ہے۔

(مشعل راہ جلد اول صفحہ 342)

پھر فرمایا:۔
بے کاری کا ایک دن بھی موت کا دن ہے۔

(تلقین عمل صفحہ 120)

آپ نے فتح اسلام کے لئے تحریک جدید کی بنیاد رکھی۔ جس کے کچھ مطالبات آپ نے جماعت کے سامنے رکھے۔ اس کے 16ویں مطالبہ میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا ہے۔ آپ نے وقارعمل کا مبارک نظام بھی جاری فرمایا۔

آج مغربی دنیا، ہمارے ایشیائی ممالک سے کیوں آگے ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی عار نہ جانا۔کوئی نوکر شاہی کا نظام جاری نہ ہوا۔وہ اپنے باتھ روم خود صاف کرتے ہیں۔ وہ دفتر میں اپنے میز کرسی خود صاف کرتے ہیں۔ وہ دفتروں اور گھروں میں کوئی چیز کسی کو دینی ہو تو کوئی ہیلپر (helper) یا مددگار کارکن نہیں ہوتا وہ تمام خود اپنے ہاتھ سے کرتے تھے۔

حضرت عمربن عبدالعزیز کے متعلق آتا ہےکہ ایک دن آپ کے مہمان آگئے۔ رات کو دیا جلایا جو کچھ دیر بعد تیل ختم ہونے کی وجہ سے بجھ گیا۔اس پر آپ کے مرید دئیے کی طرف لپکے کہ ہم تیل بھروائی کر دیتے ہیں۔ مگر آپؓ اُٹھے اندر جاکر تیل ڈال کر دئیے کو جلا کرلے آئے اور مہمانوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ دئیے میں تیل ڈالنے سے قبل بھی میں عبدالعزیز تھا اور تیل ڈالنے کے بعد بھی عمر بن عبدالعزیز ہوں۔

ہماری خواتین تو پہلے ہی گھر کے کام کام میں مصروف رہتی ہیں لیکن آج کل گھروں میں کام کانے کےلئے خواتین رکھنے کا رواج اب تو یورپ میں پنپنے لگا ہے۔ اس لاک ڈاؤن میں ایسی خواتین گھروں میں کام کرنے کی عادی بھی ہوئی ہیں۔ان دنوں میں ایسا کرکے وہ حقیقت میں حضرت فاطمہؓ بنت محمؐد سے جا ملیں ہیں۔ ایک دفعہ حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ کے ساتھ دربار رسول میں حاضر ہوئے اور گھر کے کام کاج کے حوالے سے حضرت فاطمہ کی مشقتوں کا ذکر کرکے غنائم میں سے ایک غلام کی درخواست کی۔جس پر آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کو مخاطب ہوکر فرمایا۔ فاطمہ! اللہ سے ڈرو۔اپنے رب کے فرائض ادا کرو۔ گھر کے کام کاج خود کرو۔ رات کو سونے لگو تو 33بار سبحان اللہ، 33بار الحمدللہ اور 34 بار اللہ اکبر کا ذکر کرو۔ یہ طرز عمل نوکر چاکر کی تمنا سے زیادہ بہتر ہے۔

(ابوداؤدکتاب الخراج)

ایک موقع پر آنحضورﷺ نے سچے اور دیانتدار تاجر کو نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کی معیت کا حقدار قرار دیا۔

(ترمذی کتاب البیوع)

اور ایک اورموقع پر فرمایا کہ سچے اور مسلمان تاجر کو بروز قیامت شہداء میں شامل سمجھا جائے گا۔

(ابن ماجہ ابواب التجار)

ہر مومن ایک روحانی تاجر ہے جس نے اپنے اللہ تبارک وتعالیٰ سے تجارت کر رکھی ہے۔ جس کے لئے وہ محنت کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ تجارت میں ایک مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور اس کی خاطر محنت کرتا ہے۔ جس میں اہل خانہ سب سے پہلے آتے ہیں۔

لہٰذا لاک ڈاؤن میں سیکھا ہوا سبق ہم اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں اور اپنے خدا کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جولائی 2020