• 20 اکتوبر, 2020

چھٹی صدی کے مجدد حضرت سید عبد القادر جیلانیؒ

نام ونسب

آپ کا نام عبد القادر، کنیت ابومحمد اور لقب محی الدین تھا۔ عوام الناس میں آپ غوث اعظم کے عرف سے مشہور ہیں۔ آپ کے والدماجد کا نام سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست (مجاہد) اور والدہ ماجدہ کا نام ام الخیر فاطمہ بنت عبد اللہ صومعی تھا۔ آپ نجیب الطرفین تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب والد محترم کی طرف سے گیارہ واسطوں سے اور والدہ محترمہ کی طرف سے چودہ واسطوں سے خلیفۂ راشد داماد رسولؐ حضرت علی ؓسے جاملتا ہے۔

والد محترم حضرت امام حسن کی نسل سے اور والدہ محترمہ حضرت امام حسین کی نسل سے تھیں۔ آپ کا والد محترم کی طرف سے سلسلہ نسب یہ ہے: ابو محمد عبد القادر بن ابو صالح جنگی دوست بن ابو عبد اللہ بن یحی زاہد بن محمد بن داؤد بن موسیٰ ثانی بن عبد اللہ ابو المکارم بن موسیٰ الجون بن عبد اللہ المحض بن حسن مثنی بن امام حسنؓ بن حضرت علیؓ۔

آپ اپنے نام ونسب کے بارہ میں لکھتے ہیں:

اَنَاالْحَسَنِیُّ وَالْمخْدَعْ مَقَامِیْ
وَاَقْدَامِیْ عَلٰی عُنُقِ الرّجَالِ
وَعَبْدَ الْقَادِرِ المَشْھُور اِسْمِیْ
وَجَدِّی صَاحِبُ الْعَیْنِ الْکَمَالِ

(قصیدہ غوثیہ)

یعنی میں حضرت امام حسنؓ کی اولاد میں سے ہوں اور میرا مقام مخدع ہے اور تمام اولیاء کی گردن پر میرے قدم ہیں اور میرا مشہور نام عبد القادر ہے اور میرے آباء و اجداد سر چشمۂ کمالات ہیں۔

پیدائش

آپ 11ربیع الثانی 470ھ میں ملک فارس کے علاقہ گیلان کے قصبہ نیف میں عالم وحدت سے عالم ناسوت میں آئے۔ عربی زبان میں ’’گ‘‘ کو ’’ج‘‘ سے لکھا اور پڑھا جاتا ہے اس طرح آپ جیلانی کہلائے۔ ایک روایت کے مطابق آپ کی پیدائش یکم رمضان471ھ میں علاقہ جیل میں ہوئی۔ اس لحاظ سے آپ کو جیلی بھی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے قصیدہ غوثیہ میں لکھا ہے:

اَنَاالْجِیْلِیُّ مُحَیُّ الدّیْنِ اِسْمِی
وَاَعْلَامِیْ عَلٰی رَاْسِ الْجِبَالِ

(قصیدہ غوثیہ)

یعنی میں جیلیّ (علاقہ جیلی کا رہائشی ہوں) اور میرا نام محی الدین ہے اور میری عظمت کےنشان پہاڑوں کی چوٹیوں پر گڑے ہوئے ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گیلان، جیلان ،جیلی وغیرہ ایک ہی علاقہ کے مختلف نام ہیں جو بغداد کے جنوب میں مدائن کے قریب ہے۔

ایام طفولیت

بچپن میں ہی والد محترم کی وفات ہوگئی۔ آپ کے نانا نے آپ کو اپنے سایۂ عاطفت میں لیا۔ آپ اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی نسبت دانشمند اور ذہین تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے نانا بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت

حضرت عبد القادر جیلانی کی پیدائش اولیاء و عارفین باللہ کے خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم ابو صالح، آپ کے دادا عبد اللہ بن یحی زاہد اور نانا عبد اللہ صومعی اہل ارشاد اور اولیاء اللہ میں سے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ فاطمہ اور آپ کی پھوپھی عائشہ عابدات، صالحات اور عارفات باللہ تھیں۔ اس وجہ سے آپ کو ولد الاشراف کہا جاتا تھا۔ اس لحاظ سے آپ کی تربیت ایک پاک خاندان میں ہوئی اور قرآن و حدیث کا ابتدائی علم بھی گھر والوں سے ہی حاصل کیا۔ پھر جیلان کے مقامی مکتب میں کچھ تعلیم پائی۔

قصد سفر بغداد

آپ ایسے ولی کامل تھے جن کو بچپن سے ہی کشف و الہامات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ایک کشف کی بناء پر اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے اپنی والدہ محترمہ سے مزید تحصیل علم کے لیے بغداد جانے کی اجازت طلب کی۔عمر رسیدہ پاکباز والدہ نے اپنے خاوند کے ترکہ اسّی دیناروں میں سے چالیس دینار ان کے بھائی سید ابو احمد عبد اللہ کے لیے رکھے اور باقی چالیس ان کی قمیص میں سی دئیے۔ دعا کے ساتھ رخصت کرنے لگیں تو سید عبد القادر نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ والدہ محترمہ نے کہا کہ سچ کا دامن تھام لو اور جھوٹ کو کبھی پاس نہ پھٹکنے دینا۔آپ نے اپنی بوڑھی ماں سے اس بات کا عہد کیا اور رخت سفر باندھا۔

ڈاکوؤں کا حملہ

آپ ایک قافلہ کے ساتھ بغداد کی طرف روانہ ہوئے۔ ہمدان تک تو سب خیریت رہی جب آگے کوہستانی علاقہ وادیٔ ربیک میں پہنچے تو ڈاکوؤں نے قافلہ پر حملہ کر دیا اور تمام سازو سامان لوٹ لیا۔ایک ڈاکو آپ کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا آپ کے پاس بھی کچھ ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں میرے پاس چالیس دینار ہیں۔ ڈاکو نے آپ کی بات مذاق میں اڑا دی اور چلا گیا۔پھر دوسرا ڈاکو آیا اس نے بھی وہی سوال کیا اور آپ نے پہلے والا جواب دیا۔ڈاکو نے یہ بات مذاق سمجھی اور چلا گیا پھر جب دونوں ڈاکوؤں نے یہ بات اپنے سردار سے کی تو سردار نے آپ کو طلب کیا اور پوچھا کہ کیا واقعی آپ کے پاس چالیس دینار ہیں آپ نے فرمایا کہ ہاں ،ہیں۔ تو سردار نے کہا کہ کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میری قمیص میں سلے ہوئے ہیں۔سردار نے قمیص ادھیڑ کر دیکھی تو واقعی چالیس دینا ر نکل آئے۔ ڈاکوؤں کا سردار اور ڈاکو یہ دیکھ کر حیران ہوگئے۔سردار نے پوچھا کہ بچے! تمہیں معلوم ہے کہ ہم ڈاکو ہیں اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہو وہ لوٹ لیتے ہیں،پھر تم نے کیوں اپنے چالیس دیناروں کا بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ سچ بولنا۔تو میں کیونکر چالیس دینار کی خاطر اپنی ماں کی نصیحت کو نظر انداز کر دیتا۔ آپ کے یہ الفاظ ڈاکو سردار کے سینے میں پیوست ہوگئے اور شرم و ندامت سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور بولا کہ اے بچے! تم نے اپنی ماں سے کیا ہوا عہد کا اتنا پاس رکھا اور افسوس کہ میں اپنے خالق حقیقی کا عہد برسوں سے توڑ رہا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے راہزنی اور باقی برائیوں سے توبہ کر لی اور سردار کو دیکھ کر باقی ڈاکوؤں نے بھی ایسا ہی کیا اور قافلہ کا تمام سازو سامان واپس کر دیا۔یہ پہلی توبہ تھی جو گمراہ لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر کی۔

(قلائد الجواہرفی مناقب عبد القادر از علامہ محمد بن یحی الحلبی (متوفیٰ963ھ) صفحہ9)

بغداد میں آمد

الغرض اٹھارہ سال کی عمر میں 488ھ کو عباسی خلیفہ مستظہر باللہ کے دور میں آپ بغداد تشریف لائے۔بغداد میں آپ عسرت کی حالت میں رہنے لگے۔نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ ایک دن آپ حلال رزق کی تلاش میں کھنڈرات کی طرف گئے وہاں پہلے سے فقراء و اولیاء موجود تھے۔ آپ واپس شہر لوٹ آئے۔راستے میں جیلان کے ایک شخص نے آپ کو ایک سونے کاٹکڑا دیا اور کہا کہ یہ سونا تمہاری ماں نے تمہارے لیے بھیجا ہے۔آپ نے کھنڈرات کے فقراء و اولیاء کوسونے کا کچھ حصہ دیااور بتایا کہ یہ میری والدہ نے بھیجا ہے۔ باقی سونے کا کھانا خرید کر بغداد شہر کے فقراء کے ساتھ مل کر کھایا۔ (قلائد الجواہر صفحہ9) زمانہ طالبعلمی میں آپ نے بہت صعوبتیں اٹھائیں۔

اساتذہ

بغداد میں آپ شیخ ابو سعید مخرمی کے مدرسہ نظامیہ سے منسلک ہوگئے۔ علم فقہ ابو سعیدمخرمی سے سیکھا اور اِنہوں نے ہی آپ کو لباس خرقۃ پہنایا۔ علوم حدیث ابومحمد جعفر السراج سے، علم ادب و لسان ابو زکریا یحی بن علی تبریزی سے، علم تصوف حماد بن مسلم الدباس سے سیکھا۔

عبادت الٰہی اور مجاہدات

سید عبد القادر جیلانی 488ھ سے 496ھ تک تمام علوم دنیوی پردسترس حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے 25سال تک سخت مجاہدے و مراقبے کیے۔ تزہد و تعبد اختیار کرتے ہوئے کثرت عبادت و ریاضت سے فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول ہوگئے۔ آپ اپنی تمام خواہشات سے کنارہ کش ہوگئے۔ 26سال کی عمر عنفوان شباب میں دنیاوی چیزوں کو چھوڑ دینا ایک بہت بڑا مجاہدہ ہے۔شیخ ابو عبد اللہ نجّار بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبد القادر جیلانی نے مجھ سے اپنے واقعات اس طرح بیان کیے کہ میں جس قدر مشقتیں برداشت کرتا تھا اگر وہ کسی پہاڑ پر ڈال دی جائیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتا اور جب وہ مشقتیں میری قوت برداشت سے باہر ہوجاتیں تو میں زمین پر لیٹ کر کہتا کہ ’’فانّ مع العُسر یُسرا انّ مع العسر یسرا‘‘۔ اس سے مجھے سکون مل جاتا۔

(قلائد الجواہر ص10)

آپ نے عراق کے جنگلوں اور ویرانوں کو اپنا مسکن بنالیا۔ آپ کی خوراک لوگوں کی پھینکی ہوئی چیزیں ہوا کرتی تھیں۔ روزے کثرت سے رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی جوانی میں ہی حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔ عبادت الہٰی کا بہت شوق تھا۔آپ ہمیشہ باوضو رہتے۔

احیائے دین و اصلاح وارشاد

سیدعبدالقادرجیلانی جس دور میں بغداد آئے اس وقت اسلامی سلطنت کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ پہلی صلیبی جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کی سیاسی ابتری کے ساتھ اخلاقی پستی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ عالم اسلام کی حالت ابتر تھی۔ معتزلی، باطنی، بدعتی فتنے اپنے عروج پر تھے۔ خلق قرآن اور تقدیر وغیرہ کے مسائل نے لوگوں کے ایمان کومتزلزل کر دیا تھا اور رہی سہی کسر علمائے سوء اور نام نہاد صوفیاء نے پوری کردی تھی۔ زنا، خیانت اور منافقت کا بازار گرم تھا۔

ایسے وقت میں آپ میدان میں اترے اور احیائے دین کے لیے جدوجہد شروع کی اور اصلاح و ارشاد کے کام کا آغاز کیا۔ آپ نے اپنے وعظ و نصیحت،درس و تدریس وغیرہ سے لوگوں کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن کردی۔ شرک کے خلاف جہاد کیا۔ عالم اسلام کو ایک نئی زندگی بخشی۔ درست اصطلاحات صوفیاء بیان کیں۔آپ کی تعلیم و فتاویٰ کا ماخذ قرآن و سنت کی تعلیمات ہوا کرتی تھیں۔ آپ کا بنیادی مقصداحیائے اسلام تھا۔ اسی وجہ سے آپ کو ’’محی الدین‘‘ کا لقب ملا اور اپنے زمانے کے مجدد کہلاتے۔

وعظ و نصیحت اور درس و تدریس

شروع میں آپ نے ایک خواب دیکھا کہ رسول اللہؐ تشریف لائے اور آپ سے فرمایا: اے عبد القادر! تم لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے وعظ و نصیحت کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ میں ایک عجمی ہوں۔عرب کے فصحاء کے سامنے کیسے بولوں؟ رسول اللہؐ نے فرمایا: اپنا منہ کھولو۔آپ نے حکم کی تعمیل کی تو رسول اللہؐ نے سات دفعہ اپنا لعاب دہن آپ کے منہ میں ڈالا اور فرمایا: جاؤ قوم کو وعظ و نصیحت کرو اور ان کو اللہ کے راستے کی طرف بلاؤ۔

آنکھ کھلنے کے بعد آپ نے نماز ظہر ادا کی اور وعظ کے لیے بیٹھے لیکن جھجکتے رہے تو کشفاً حضرت علیؓ کو دیکھا جو کہہ رہے تھے کہ وعظ شروع کیوں نہیں کرتے۔آپ نے کہا کہ میں گھبرا گیا ہوں۔ حضرت علی نے فرمایا کہ اپنا منہ کھولو تو حضرت علیؓ نے چھ بار اپنا لعاب دہن آپ کے منہ میں ڈالا۔آپ نے عرض کیا کہ سات بار آپؓ نے کیوں نہیں لعاب دہن ڈالا۔ تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ کے ادب کی وجہ سے ایسا کیا۔ یہ کہہ کر حضرت علیؓ غائب ہوگئے اور آپ نے وعظ کا آغاز کیا۔لوگ آپ کی فصاحت و بلاغت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

(قلائد الجواہر ص13)

درس و تدریس

اس کے بعد پہلے توآپ نے درس و تدریس اور وعظ و نصیحت کا سلسلہ ابو سعید مخرمی کے مدرسہ میں 521ھ کوجاری کیا۔پھر جب آپ کی شہرت عام ہوئی تو عرب وعجم سے لوگ ان جواہر کو سمیٹنے آنے لگے۔ آپ اپنے وعظ میں کسی کی رعایت نہیں فرمایا کرتے تھے اورنہایت پرجوش اندازمیں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ لوگوں کے دلوں پر میل جم گیا ہے جب تک اسے زور سے رگڑا نہ جائے گا دور نہ ہوگا۔ 528ھ میں مدرسہ کی عمارت میں توسیع کی۔

آپ عموماً ہفتہ میں تین بار وعظ فرمایا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ521ھ سے561ھ تک چالیس سال جاری رہا۔شیخ عمر کا بیان ہے کہ کوئی مجلس خالی نہیں جاتی تھی جس میں یہود و نصاریٰ ایمان نہ لاتے ہوں یا قاتل ڈاکو توبہ نہ کرتے ہوں۔ (قلائدالجواہر ص63) ایک روایت کے مطابق پانچ ہزارسے زائد یہود و نصاریٰ نے آپ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔

(بہجتہ الاسرار صفحہ36)

خضر علیہ السلام سے ملاقات

حضرت خضرؑ سے آپ کی کئی دفعہ ملاقات ہوئی۔ ایک دفعہ بغداد میں داخل ہوتے وقت اور دوسری مرتبہ حضرت سید عبد القادر جیلانی خود بیان فرماتے ہیں کہ جب میں نے لوگوں کو وعظ کرنا شروع کیا تو میرے پاس ابو العباس خضر علیہ السلام میرے امتحان کے لیے تشریف لائے جیسا کہ مجھ سے پہلے اولیاء کا امتحان لیا کرتے تھے۔ پھر مجھ پران کے راز کا انکشاف ہوا جو میں نے انہیں بتایا تو وہ سر جھکائے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: اے خضر! میں بھی آپ کو ایسا ہی کہوں گا جیسا آپ نے حضرت موسیٰؑ کو کہا تھاکہ تم میرے ساتھ صبر کی استطاعت نہیں رکھتے تو اے خضر! اب آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ اگر آپ اسرائیلی تھے تو آپ اسرائیلی ہیں تو میں محمدی ہوں۔ یہ گیند ہے اور یہ میدان۔ یہ محمدؐ ہیں اور یہ رحمان۔ یہ میرا گھوڑا تیار کھڑا ہے۔ میری کمان پر چلّہ چڑھا ہوا ہے اور میری تلوار تیز دھار ہے۔

(قلائدالجواہر صفحہ13)

فتویٰ نویسی

سید عبد القادرجیلانی ؒعلم کا بحر ذخار تھے۔آپ کے علم و فضل کا چرچاجب ہرطرف ہونے لگا تولوگ دوردراز سے آپ کے پاس استفتاء کے لیے آنے لگے۔ 528ھ کو آپ نے فتویٰ دینا شروع کیا۔آپ بالعموم حنبلی فقہ یا پھر شافعی فقہ کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ علماء و فقہاء آپ کے فتاویٰ کی صحت کے قائل تھے۔

(قلائدالجواہر صفحہ38)

وفات

ربیع الثانی561ھ کو سید عبد القادر جیلانیؒ نوّے سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔آپ نے اپنی وفات کی خبر اپنے اہلخانہ کو پہلے سے ہی دے دی تھی۔آپ کے صاحبزادے شیخ عبد الوہاب نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین باب الازج کے مدرسہ میں ہوئی۔آپ کی وفات پر بہت سے علماء و فقہاء نے مرثیے لکھے۔

ازواج واولاد

سید عبدالقادرجیلانی نے چار شادیاں کیں۔ چاروں بیویوں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد سے نوازا۔ آپ کے کل 27بیٹے اور 22بیٹیاں تھیں۔ آپ کےصاحبزادوں میں سے اکثر عالم وفاضل بنے۔ مشہور صاحبزادوں کے نام یہ ہیں: شیخ عبد الوہاب، شیخ عبد الرزاق، شیخ عیسیٰ، شیخ ابوبکر عبدالعزیز، شیخ عبدالجبار وغیرہ

تصنیفات

سید عبد القادر جیلانیؒ نے حقائق و معارف سے بھری متعدد تصنیفات بزبان عربی و فارسی یادگار چھوڑیں۔ جن میں سے معروف یہ ہیں: غنیۃ الطالبین، فتوح الغیب، کبریت احمر، السبوع الشریف، اور ادالجیلانی، اغاثۃ العارفین وغایۃ من الواصلین، جلاء الخاطر فی الباطن والظاہر، تحفۃ المتقین و سبیل العارفین، حزب الرجاء ووالانتھاء، آداب السلوک، الرسالۃ الغوثیۃ، فتح الربانی و الفیض الرحمانی، یواقیت الحکم، معراج لطیف المعانی، سر الاسرار فی التصوف، المواھب الرحمانیۃ وغیرہ۔ اس کے علاوہ آپ کے اشعار کا مجموعہ ’’دیوان غوث اعظم‘‘ اور چودہ قصائد جن میں قصیدہ غوثیہ بھی شامل ہے، مشہور عام ہیں۔

شاگردان ِرشید

سید عبد القادر جیلانیؒ سے بہت سے متلاشیان علم و معرفت نے فیض اٹھایا۔ آپ نے اپنے خاص شاگردوں کو مختلف ممالک میں تبلیغ کے لیے بھجوایا اور مدارس قائم کروائے۔اس طرح آپ کے شاگردہر طرف پھیل گئے اورآپ سے نسبت رکھنے والے سلسلہ قادریہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے مشہور شاگردوں میں سے چند یہ ہیں: ابو الحسن علی بن ابراہیم، شیخ محمود بن عثمان حنبلی، عبد اللہ بن ابو الحسن الجبائی، حافظ عبد الغنی بن عبد الواحد المقدسی، شیخ ابو علی الحسن بن مسلم القادسی وغیرہ

حقوق اللہ اور حقوق العباد

شیخ عبد القادر جیلانیؒ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ شیخ الاسلام عز الدین بیان کرتے ہیں کہ ’’اس قدر تواتر کے ساتھ کسی کی کرامتیں نہیں ملتیں جتنی کہ سلطان الاولیاء شیخ عبد القادر جیلانیؒ سے ظاہر ہوئیں۔ حضرت شیخ نہایت درجہ حساس تھے اور قوانین شرعیہ پر سختی سے عمل پیرا تھے اور ان کی طرف تمام لوگوں کو متوجہ کرتے تھے۔ مخالفین شریعت سے اظہار تنفر کرتے۔ اپنی تمام تر عبادات، مجاہدات کے باوجود آپ اپنی بیوی اور بچوں کا پورا خیال رکھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ جو شخص حقوق اللہ و حقوق العباد کی راہوں پر گامزن رہتا ہے وہ بہ نسبت دوسرے لوگوں کے مکمل اور جامع ہوتا ہے کیونکہ یہی صفت شارع علیہ السلام حضور اکرمؐ کی بھی تھی۔‘‘

(قلائدالجواہر ص80)

صبر و استغناء

سید عبد القادر جیلانیؒ صبر و استغناء کا مرقع تھے۔ آپ کو جب آپ کے صاحبزادوں یا صاحبزادیوں کی وفات کی خبر پہنچتی تو آپ صرف انّا للہ و انّا الیہ راجعون فرماتے اور وعظ جاری رکھتے۔ ایک دفعہ بغداد قحط سالی کا شکار ہوگیا۔ لوگوں کا بھوک سے برا حال تھا۔ آپ خودرو سبزیوں اور پتوں کی تلاش میں دریائے دجلہ کے کنارے گئے تو وہاں لوگوں کے ہجوم کو دیکھا جوپہلے ہی ان چیزوں کی تلاش میں تھے۔اس پرآپ بازار کی مسجد میں جاکر بیٹھ گئے۔شدت گرسنگی سے نڈھال تھے کہ ایک نوجوان بھنا ہوا گوشت اور روٹی لے کر مسجد میں داخل ہوا اور ایک طرف بیٹھ کر کھانے لگا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری حالت ایسی تھی کہ جب وہ نوجوان لقمہ اٹھاتا تو میرا منہ خودبخود کھل جاتا۔پھرآپ نے اپنے نفس کو ملامت کیا کہ اللہ پر توکل اور بھروسہ رکھ۔ اچانک اس نوجوان کی آپ پر نظر پڑی اور اس نے آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ پہلے تو آپ نے انکار کیا پھر اس کے اصرار پر کھانے لگے۔ کھانے کے بعد وہ آپ سے آپ کا تعارف پوچھنے لگا تو آپ نے بتایا کہ میں طالب علم ہوں اور جیلان سے تعلق رکھتا ہوں تو اس نوجوان نے کہا کہ میں بھی جیلان سے ہوں تو کیا آپ ایک شخص عبد القادرکو جانتے ہیں؟ تو اس پرآپ نے فرمایا کہ وہ تو میں ہی ہوں۔ یہ سن کر وہ نوجوان ہکا بکا رہ گیا اور بے چین ہوگیا۔ اور کہنے لگا کہ میرے بھائی مجھے معاف کردو میں نے تمہاری امانت میں خیانت کی ہے۔آپ نے پوچھا کہ کیسی امانت؟ اس نے کہا کہ آپ کی والدہ نے آٹھ دینار آپ کے لیے بھیجے تھے۔ میں بغداد آیا اور آپ کے بارہ میں لوگوں سے پوچھتا رہا لیکن کسی سے پتہ نہیں چلا۔ میرے متوقع قیام تک میرے ذاتی پیسے ختم ہوگئے اور میں تین دن تک کھانے کی تلاش میں رہا لیکن کچھ نہ پایا سوائے ان پیسوں کے جو آپ کی والدہ نے آپ کے لیے بھجوائے تھے۔ تو آج میں ان پیسوں سے یہ روٹی اور گوشت خرید کر لایا ہوں اور آپ میرے مہمان نہیں بلکہ میں آپ کا مہمان ہوں۔آپ نے اس کی امانتداری اور حسن نیت کی تعریف کی اور کچھ دینار اور بقیہ کھانا اسےدیا جسے اس نے قبول کیا اور چلا گیا۔

(بہجتہ الاسرار از الشطنوفی ص126-127)

مقام و مرتبہ

شیخ عبد اللہ جبائی بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کا ایک شاگرد عمر حلاوی بغداد سے باہر چلا گیا اور جب چند سال غائب رہ کر بغداد واپس آیا تو میں نے پوچھا کہ تم کہاں غائب ہوگئے تھے؟ اس نے کہا کہ میں مصر و شام اور بلادِ مغرب میں گھومتا پھرا۔ جہاں میں نے تین سو ساٹھ مشائخ سے کرام سے ملاقات کی لیکن ان میںسے ایک بھی ایسا نہ ملا جو علم و فضل میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ کا ہم پلّہ ہو اور سب کو یہی کہتے سنا کہ وہ ہمارے شیخ و پیشوا ہیں۔

(قلائدالجواہر ص54)

ایک مرتبہ سید عبد القادر جیلانیؒ شیخ حماد بن دباس کی خدمت میں حاضر ہوکر رخصت ہوئے تو شیخ حماد نے کہا کہ اس عجمی کا قدم کسی وقت بلند ہوکر تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہوگا اور اس کو حکم دیا جائے گا کہ تم کہہ دو: قدمی ھذا علیٰ رقبۃ کل ولی اللہ یعنی میرا قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے۔ اور جب یہ جملہ ان کے منہ سے نکلے گا تو تمام اولیاء اللہ کی گردنیں پست کر دی جائیں گی۔اس کے بعد شیخ حماد نے کہا کہ میں نے عبد القادر کے عہد شباب میں یہ دیکھا ہے کہ اس کے سر پر تحت الثریٰ سے لے کر ملاء اعلیٰ تک دو جھنڈے نصب کیے گئے ہیں اور ایک ہاتف غیبی ببابنگ دہل اس کی عظمت کا اظہار کررہا ہے۔ (قلائد الجواہر ص55) چنانچہ ایسا ہی ہوا ،حافظ ابو العز عبد المغیث وغیرہ کا بیان ہے کہ جس وقت ہم حلب کی خانقاہ میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مشہور مشائخ عراق کی ایک جماعت آپ کی مجلس میں موجود تھی اور آپ وعظ فرمارہے تھے۔دوران گفتگو آپ نے مکاشفہ فرمایا اور فرمایا: ’’قدمی ھذا علیٰ رقبۃ کل ولی اللّٰہ۔‘‘ یہ سنتے ہی شیخ علی بن الہیثی نے منبر پر چڑھ کر آپ کا قدم اپنی گردن پر رکھ لیا اور تمام حاضرین مجلس نے بھی ایسا ہی کیا۔

(قلائد الجواہر ص78)

مختلف القابات

سید عبد القادر جیلانی ہمہ گیرشخصیت کے حامل اورتصوف کے بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔آپ کو آپ کے علمی و روحانی مقام کی وجہ سے مختلف القابات سے نوازا گیا جن میں سے مشہور یہ ہیں: ذو البیانین واللسانین، کریم الجدین والطرفین، صاحب البرھانین والسلطانین، امام الفریقین والطریقین، ذوالسراجین والمنھاجین، الباز الاشھب، محی الدین وغیرہ

دیگر اخلاق فاضلہ

سید عبد القادر جیلانی ؒعلم و عرفان کا مینار تھے جس کا اعتراف علامہ ابن جوزی اور دیگر علماء نے بھی کیا۔عجز و انکساری آپ کا خاص وصف تھا۔حق گو اورامر بالمعروف و نھی عن المنکر کا نمونہ تھے۔بسیار گوئی سے پرہیز کرتے تھے۔غریبوں سے شفقت اور مریضوں کی عیادت آپ کا وطیرہ تھا۔سخاوت کا مجسمہ اور پیکر عفو کرم تھے۔ نہایت رقیق القلب اور شرم و حیا کی اپنی مثال آپ تھے۔ وسیع القلب، کریم النفس، مہربان، وعدوں کے پاسدار، خوش گفتار اورخوش اطوار تھے۔ آپ بہت غریب پرور اور مساکین کی مدد کرنے والے تھے۔

شیخ معمربیان کرتے ہیں کہ ’’میری آنکھوں نے شیخ عبد القادر جیلانی کے سوا کسی کو اتنا خوش اخلاق، وسیع القلب،کریم النفس، نرم دل، مہربان، وعدوں اور دوستی کاپاس رکھنے والا نہیں دیکھا۔ لیکن اتنے بلند مرتبت اور قدر و منزلت اور وسیع العلم ہونے کے باوجود چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے اور بزرگوں کا احترام کرتے، سلام میں ابتداء کرتے اور بزرگوں کے ساتھ بیٹھتے۔ فقراء کے ساتھ حلم و تواضع سے پیش آتے۔ کبھی کسی حاکم یا بڑے آدمی کے لیے کھڑے نہ ہوتے، نہ کبھی سلطان وزیر کے دروازے پرنہیںجاتے۔‘‘

(قلائد الجواہر صفحہ19)

آپ کہتے ہیں کہ کسی شیخ کے لیے جائز نہیں کہ وہ مسند ولایت پر متمکن ہو جبتک اس میں اللہ تعالیٰ کی دوصفات ستّارو غفّار، رسول اللہؐ کی دو صفات شفیق و رفیق، حضرت ابوبکرؓ کی دو صفات صادق و متصدق، حضرت عمرؓ کی دو صفات امر بالمعروف و نہی عن المنکر، حضرت عثمانؓ کی دو صفات کھانا کھلانے والے اور رات کو نماز پڑھنے والے جب لوگ سو رہے ہوں، حضرت علیؓ کی دو صفات عا لم و شجاع موجود نہ ہوں۔

(قلائد الجواہر صفحہ13-14)

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ میں یہ تمام صفات بدرجۂ اتم موجود تھیں۔

٭…٭…٭

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جولائی 2020