• 1 دسمبر, 2020

آنحضورﷺ کی بچوں کو نصائح

آنحضورﷺ کی بچوں کو نصائح
حاصل مطالعہ (قسط اول)

ربیع الاول کے مبارک مہینہ کی مناسبت سے خاکسار سیرت رسول ﷺ پر کتب کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ مجھے لجنہ اماء اللہ کراچی کی شائع کردہ کتاب ’’حضرت رسول کریم ﷺ اور بچے‘‘ بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اس میں پھول جیسے بچوں سے آنحضور ﷺ کا پیار بھرا سلوک، بچوں کو پیار بھری نصائح اور بچوں کی انمول تعلیم و تربیت کے لئے ان سے متعلق نصائح سے بھرپور اقوال شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ جزاء دے مکرمہ امتہ الہادی زوجہ مکرم محمد رشید الدین کو جنہوں نے اپنی بساط کے مطابق بچوں کے حوالہ سے اچھا مجموعہ تیار کردیا ہے۔

الفضل پیارے بچوں کا بھی اخبار ہے اور بچے اِسے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں اس لئے آج اسی کتاب سے آنمحترمہ کی پیشگی اجازت و شکریہ کے ساتھ وہ نصائح شامل کی جارہی ہیں جو حضورﷺ نے گاہے بگاہے بچوں کو فرمائیں۔

سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بازار اور گلیوں میں پھرتے بچوں کو سلام میں پہل کرتے، ان سے پاکیزہ مزاح بھی فرماتے اور ساتھ ساتھ اچھی باتیں بھی بتاتے۔

(فضائل نبویؐ)

ایک دفعہ مدینہ کے کچھ بچے ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گئے تا وہ اچانک اپنے آقا کو سلام کہہ کر پہل کریں۔ جونہی آنحضورﷺ تشریف لائے، آپؐ بھانپ گئے اور بلند آواز سے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر پہل کی۔ ایک دفعہ حضرت انسؓ کو نصیحت فرمائی کہ اے بچے ! گھر میں جاؤ تو پہلے سلام کہا کرو۔ یہ تیرے اور تیرے گھر والوں کے لئے باعث برکت ہے۔

(مشکوٰۃ)

آپؐ بچوں کے آرام و سکون کا بھی خیال فرماتے۔ جب نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز کو مختصر کرتے اور فرماتے یہ بچے پر رحم ہے اور اس کی ماں پر بھی۔

اگر آپؐ کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بچوں میں تقسیم کر دیتے۔ آپؐ بچوں کو دسترخواں پر شریک کرتے۔ کھانے کے دوران سمجھاتے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کر کھانا شروع کریں۔ دائیں ہاتھ سے کھائیں اور اپنے سامنے سے آہستہ آہستہ کھائیں۔

بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھارہے ہوتے تو کھانے کے اختتام پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ بلند آواز سے کہتے تا بچے بھی شکرالہٰی کی عادت ڈالیں۔

آپؐ اپنے نوکروں سے کبھی سختی سے پیش نہ آتے۔ نہ ان کو جھڑکتے اور نہ مارتے۔

ایک بدّو سردار نے جب آنحضورﷺ کو اپنے نواسوں کو چومتے دیکھا تو اس نے کہا کہ میرے 10 بچے ہیں میں نے تو کبھی بھی کسی ایک کا منہ نہیں چوما۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر اللہ تمہارے دل سے محبت چھین لے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔

نیز فرمایا:

اَکْثِرُوْا قُبْلَۃَ اَوْلَادِکُمْ فَاِنَّ لَکُمْ بِکُلِّ قُبْلَۃ دَرَجَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ

(بخاری)

کہ اے لوگو! بچوں کو چوما کرو۔ ان کو چومنے کے بدلے تم کو جنت میں ایک درجہ ملے گا۔

پھر فرمایا :
جو بچوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا سلوک نہیں کرتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

ایک موقعہ پر آپؐ نے بچوں کو جنت کی خوشبو بھی قرار دیا۔

(ترمذی)

آپؐ اپنے نواسوں کو مسجد میں لے جاتے اور ان کو مسجد کے آداب بھی بتاتے۔

آپؐ نے اپنے نواسوں کے متعلق ایک دفعہ فرمایا کہ اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور جو ان سے محبت کرے ان سے محبت کا سلوک فرما۔ بلکہ بخاری کی ایک روایت میں ہے حضرت اسامہ بن زیدؓ اور حضرت حسنؓ کوحضورؐ اپنی ران پر بٹھا لیتے اور فرماتے۔ اے اللہ! میں ان دونوں سے پیار کرتا ہوں تو ان سے محبت کر۔

(بخاری)

ایک دفعہ ایک عورت نے اپنے بیمار بچے کے ساتھ حضورؐ کے دربار میں حاضر ہوکر کہا کہ حضور! یہ بچہ بے شمار بیماریوں میں مبتلا ہے دُعا کریں کہ مرجائے تا اسے تکلیفوں سے نجات ملے۔ ماں سے بڑھ کر شفیق وجود نے فرمایا۔ کیا میں یہ دعا نہ کروں کہ تیرا بچہ تندرست ہوجائے اور بڑا ہوکر جہاد میں شریک ہو اور شہادت کا درجہ پائے؟ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

ایک دفعہ ایک صحابی آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کی کہ حضورؐ ! میری جھولی میں پرندوں کے دو بچے اور ان کی ماں ہے۔ میں نے آج پرندوں کے دو بچوں کو پکڑ کر جھولی میں ڈال لیا تو ان کی ماں سر پر منڈلانے لگی۔ جب میں نے جھولی کھولی تو وہ ماں ان بچوں کی محبت میں سیدھی میری جھولی میں آگری۔ میں نے اس کو بھی بند کرلیا۔ آپؐ نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو۔ خدا ان بچوں کی ماں سے بھی زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرنے والا ہے۔

(الادب المفرد)

حضرت انسؓ آپؐ کے خادم تھے۔جن سے آپؐ بہت شفقت اور محبت کاسلوک فرماتے۔ آپؓ فرمایا کرتےکہ 10 سال تک میں حضورؐ کی خدمت میں رہا۔ حضورؐ نے مجھے کبھی نہ ڈانٹا، نہ میری کسی کوتاہی ، غلطی اور کمزوری پر سرزنش کی۔

ایک دفعہ حضرت اسامہ بن زیدؓ کو بچپن میں چوٹ لگ گئی۔ آپؐ خود ان کا خون صاف کرتے جاتے اور فرماتے کہ اگر اسامہ بیٹی ہوتی تو میں ضرور اِسے زیور پہناتا (بچیوں سے پیار کا سبق ہے)

(مسند احمد)

ایک یہودی لڑکا جو حضورؐ کا خادم تھا ایک دفعہ بیمار ہوا تو حضورؐ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور حال احوال پوچھا (بخاری) اس میں سبق ہے کہ بلا تمیز مذہب، رنگ و نسل عیادت کرنا بھی سنت رسولؐ ہے۔

ایک جنگ میں مشرکین کے چند بچے مارے گئے۔ حضورؐ کو علم ہوا تو آپؐ کو اس کا بہت رنج اور دکھ ہوا اور آپؐ صحابہ سے ناراض بھی ہوئے اور فرمایا خبردار بچوں کو قتل نہ کرو۔ ہر جان خدا کی ہی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔

(مسند احمد بن حنبل)

یتیم بچے قوم کا نہایت قیمتی خزانہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں ان کے ساتھ عزت و تکریم سے پیش آنے اور حسن سلوک روا رکھنے کا حکم دیا ہے۔ آنحضور ﷺ نے جو خود بھی یتیم تھے فرمایا کہ اَنَا وَکَافِلُ الْیَتِیْمِ فِی الْجَنَّۃِ کَھَاتَیْنِ

(ترمذی)

کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا مسلمان جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جس طرح یہ میری دو انگلیاں (آپؐ نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کو ملا کر دکھلایا)

پھر فرمایا کہ جو شخص اپنے کھانے پینے میں یتیم کو شامل کرے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔

(مسلم، کتاب الذھد)

پھر فرمایا یتیم کا مال کھانا ہلاکت کا موجب بنتا ہے

(النسائی)

حضرت انسؓ (خادم رسولؐ) کو نماز پڑھتے دیکھ کر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ’’نماز میں اپنی نظر سجدے کی جگہ پر رکھا کرو اور اِدھراُدھر نہ دیکھا کرو۔‘‘

(مشکوۃ)

افلح نامی ایک مسلمان بچہ نماز میں سجدے میں پھونکیں مار رہا تھا تو آپؐ نے فرمایا کہ اے افلح ! نماز میں پھونکیں نہ مارا کرو۔ منہ کو مٹی لگتی ہے تو لگنے دو۔

(مشکوۃ)

حضرت عبداللہؓ (حضورؐ کے چچا زاد بھائی) ایک دفعہ بچپن میں نماز تہجد میں آنحضورﷺ کے بائیں طرف کھڑے ہوگئے۔ حضورؐ نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دائیں طرف کھڑا کرلیا۔ (مشکوۃ) اور یوں خاموشی کے ساتھ بچوں کو امام کے دائیں ہاتھ کھڑا ہوکر نماز پڑھنے کی ہدایت فرمادی۔ﷺ

عمرؓ نامی ایک بچہ کھانے کے وقت سالن کے پیالے میں اِدھر اُدھر ہاتھ مار رہا تھا تو حضورؐ نے فرمایا کہ بچے! اللہ کا نام لے کر شروع کیا کرو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھایا کرو۔ (مشکوۃ) یہی ہدایت آنحضورﷺ نے حضرت ابن ابی سلمہؓ کو بھی ان الفاظ میں فرمائی اَوْنِ یَابْنِ بِسْمِ اللّٰہِ وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ وَ کُلْ مِمَّا یَلِیْکَ (ترمذی) کہ اے بیٹے ! قریب آجاؤ اور اللہ کا نام کے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے اپنے آگے سے کھاؤ۔

ایک دفعہ ایک بچہ کھجور کے درخت سے کھجوریں گرانے کے لئے پتھر ماررہا تھا۔ آپؐ نے اسے پکڑ کر فرمایا کہ اے بچے! جو کھجوریں ازخود گرگئی ہوں ان کو بےشک اُٹھا لیا کرو مگر پتھر نہ مارا کرو۔

ایک دفعہ حضرت حسنؓ نے بچپن میں صدقہ کی کھجور اُٹھا کر مُنہ میں ڈال لی۔ آپؐ نے اپنے ہاتھ کی انگلی سے حضرت حسنؓ کے منہ سے کھجور کو نکال کر فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔

(مشکوۃ)

آنحضورﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ جب حضورؐ کے گھر آتیں تو آپؐ احتراماً اُٹھ کر استقبال کرتے۔ خوش آمدید کہتے اور پیشانی پر بوسہ دیتے (الادب المفرد) اور حضورؐ جب بھی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہؓ کواُن کے گھر جاکر ملتے۔

(مشکوۃ)

ایک بار حضرت عائشہؓ کے پاس ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں۔ اورحضرت عائشہؓ کے پاس اس وقت صرف ایک کھجور تھی جو آپؓ نے اس ماں کو دے دی۔ ماں نے اس کے دو ٹکڑے کرکے آدھی آدھی دونوں بچیوں کو دے دی اور خود نہ کھائی۔ جب حضرت عائشہؓ نے آنحضورﷺ کو یہ واقعہ سنایا تو آپؐ نے فرمایا:
عائشہ! جو شخص بھی لڑکیوں کی پیدائش کے ذریعے آزمایا جائے وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے قیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی۔

(مشکوۃ)

گویا بچیوں (جو کل کی مائیں ہیں) کی احسن تربیت جنت کے حصول کا ضامن بنا دیتی ہے۔

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020