• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

واقفہ نو کی شادی اور آئندہ زندگی کے بارےمیں پُر معارف اور قیمتی نصائح

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی واقفہ نو کی شادی اور آئندہ زندگی کے بارےمیں پُر معارف اور قیمتی نصائح

رشتہ تلاش کرنے کے متعلق نصیحت
جب بھی رشتہ ہو تو جس طرح مرد کوحکم ہے کہ ایک ایسی لڑکی تلاش کرو جو دیندار ہو۔ اِسی طرح لڑکیوں کو بھی دینداری دیکھنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے فرمایاہے کہ نہ دنیا دیکھو، نہ دولت دیکھو، نہ خاندان دیکھو، نہ خوبصورتی دیکھو۔ بلکہ دینداری دیکھو۔ اور اگر خاوند وقفِ نو ہواور دیندار بھی ہو توآپ کو دین کی خدمت کرنے سے نہیں روکے گا۔

(کلاس واقفاتِ نو کینیڈا۔ 20، مئی 2013 ء ’’مریم‘‘ اکتوبر تا دسمبر 2013ء)

شادی کے لئے استخارہ
ایک سوال پر کہ شادی کیلئے استخارہ کس کو کرنا چاہئے، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
لڑکی کو خود کرنا چاہئے۔ حضرت اماں جانؓ فرمایا کرتی تھیں کہ جب لڑکیاں چھ سات سال کی ہو جائیں تو اپنے نیک نصیب کے لئے دعا کرنی شروع کردیں۔ تو ہر لڑکی کو اپنے نیک نصیب کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ جب بھی ایسا وقت آئے جب ان کا رشتہ آئے تو جو بہترہووہ ہو۔ یہ نہیں کہ فلاں کے پاس پیسے ہیں، فلاں کے پاس عہدہ ہے، فلاں کے پاس ملازمت ہے، فلاں خاندان اچھا ہے تو میں نے رشتہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، غیب کا علم اس کو ہے وہ جس کے لئے جو بہتر سمجھتاہے اس کے مطابق کرو۔ باقی چھوٹی چھوٹی باتیں تو رشتوں کے بعد بھی ہو جاتی ہیں۔ پھر ان کوIgnoreبھی کرنا چاہئے۔ پھر یہ ہے کہ غیرمتعلقہ لوگ جو ہیں جن کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہوتا ان سے بھی استخارہ کروا لیناچاہئے۔ ان کو بھی بعض دفعہ کوئی خواب آجاتی ہے یا کوئی نہ کوئی پیغام مل جاتا ہے۔

(کلاس واقفاتِ نو جرمنی 27، مئی 2012ء)

واقفاتِ نو کو نکاح کے موقع پر نصائح
اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقفِ زندگی کی فوج میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان کی بھی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اپنی ذاتی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر، پیچھے رکھ کر، صرف اور صرف ایک خواہش ہونی چاہئے کہ ہم نے زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے اور کبھی کسی کے لئے اپنے نمونہ سے ٹھوکر کا باعث نہیں بننا۔

(خطبہ نکاح 12،نومبر2014ء)

ایک واقفِ زندگی، واقف نِو کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ چاہے اس کے گھریلومعاملات ہوں یا بیرونی معاشرتی تعلقات، ان سب میں اس کو ایک نمونہ ہونا چاہئے۔ خاص طور پر اگر آپ گھریلو معاملات میں، میاں بیوی کے تعلقات میں ایک دوسرے کے جذبات کا احساس رکھیں گے تو زندگی بہت خوبصورتی سے گزرے گی، بڑی آسانی سے گزرے گی، بڑے امن میں گزرے گی۔ اور پھر آئندہ نسلیں بھی اپنے والدین کے ان نمونے پر چلتے ہوئے اس زندگی کو اختیار کرنے کی طرف توجہ دیں گی جو اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔

(خطبہ نکاح9،اگست 2014 ء)

دونوں واقف نو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ یہ وقف نبھائیں۔ صرف یہ نہ ہو کہ وقف کا ٹائٹل لگ گیا تو ا سی پر خوش ہو جائیں۔ ان کو چاہئے کہ اپنے آپ کومکمل طور پر خدمتِ دین کے لئے پیش بھی کریں۔اللہ تعالیٰ توفیق دے۔


(خطبہ نکاح4، اکتو بر 2014 ء)

زیادہ سے زیادہ قناعت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ قناعت ایک ایسی چیز ہے جو کہ گھروں میں پیدا ہو جائے تو بہت سارے مسائل گھروں کے سلجھ جا تے ہیں۔ عورتوں کی طرف سے بھی خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے خاوند کی جتنی آمد ہے، اس کے مطابق اپنے پاؤں پھیلائیں، چادر کو ہمیشہ دیکھیں۔ نہ کہ غیر ضروریDemandsہوں۔

(خطبہ نکاح 10،اگست 2015 ء)

واقفین زندگی سے بیاہی جانے والی واقفاتِ نو کو نصائح
پس یہ سوچ واقفین زندگی سے، مربیان سے شادی اور نکاح کرنے والوں کی ہونی چاہئے کہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی بیٹی کی ساری خواہشات پوری کی جائیں گی۔ محدود وسائل میں اور مختلف جگہوں پر رہتے ہوئے، جہاں بھی مربی یا واقف زندگی تعینات ہوتا ہے اس کو ا س کے ساتھ ان سختیوں سے بھی گزرناپڑے گا۔

(خطبہ نکاح 16، جون 2014ء)

جس لڑکی نے مر بی سلسلہ سے شادی کرنے کی حامی بھری ہو اس کی بھی یہ ذمہ داری ہے اور خاص طور پر واقفہ نو ہے توپھر اور بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ جہاں بھی میدانِ عمل میں مربی کو بھیجا جائے جو کام بھی اس کے سپرد کئے جائیں، جیسے حالات میں بھی رکھا جائے اس نے رہنا ہے اور کسی قسم کااعتراض تو ا یک جگہ رہا، ماتھے پر بل بھی نہیں آنا چاہئے۔

(خطبہ نکاح10، مئی 2014ء)

حقیقی واقفات نو
آپ میں سے بڑی تو بعض شادی شدہ ہیں بچوں والی بھی ہیں۔ ایسا نمونہ دکھائیں کہ نہ صرف اِس زما نہ کے لوگ ہی بلکہ آئندہ آنے والے بھی آپ کیلئے دعائیں مانگیں… آپ کی تمام زندگی ، آپ کے الفاظ، آپ کے طَورواطوار اِس چیز کا مظہر ہونی چاہئیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کوہر چیز پر ترجیح دی اور آپ کو کسی انعام کی طلب نہیں ،خدمات دینیہ کا ولولہ محض خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔ پھر آپ حقیقی واقفات نو بن جائیں گی۔ صرف نام کی نہیں بلکہ حقیقت میں، اور آپ نے اپنا عہد پورا کر دیا ہوگا۔

(یکم مئی 2011ء واقفاتِ نو اجتماع پر حضور انور کا خطاب)

آپ کی ازدواجی زندگی میں سچائی کا اظہار نہایت ضروری ہے۔ یقیناً شادی کے بعد اپنے خاوند اور سسرال کے ساتھ تعلق میں سچائی میں معمولی کمی بھی نہیں آنی چاہئے۔

(خطاب حضورانوربرموقع اجتماع واقفات نو 5،مئی 2012ء “مریم” اپریل تا جون 2013ء)

شادی کے بعد کے لئے نصائح
اگر رشتہ ہو گیا ہے تو پھر چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت کریں۔ مسائل برداشت کریں، مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی بڑا معاملہ ہے،کوئی شرعی مسئلہ ہے ، غیر اخلاقی حرکات ہیں تو پھر علیحدگی ہوتی ہے تو ٹھیک ہے واقف زندگی کو خوراک کی تنگیاں بھی برداشت کرنی پڑ تی ہیں۔ بیوی کو بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تم واقف زندگی سے بیاہی جاؤ اور پھر یہ تنگیاں اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں تو شو رنہیں ڈالنا۔ خدا تعالیٰ نے کبھی تنگی میں نہیں رکھا۔ کوئی چیز ختم ہو تو ا س کا خود انتظام ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انتظام کرتا ہے۔

(کلاس واقفاتِ نو۔ ہیمبرگ، جرمنی اکتوبر 2011ء “مریم” اپریل تا جون 2012ء)

ایک بچی کے سوال پر کہ واقفاتِ نو شادی کے بعد اپنی زندگی کیسے گزاریں، حضور انوار ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
پہلے تو یہ ہے کہ اپنے اماں ابا کو کہو اور خود بھی کوشش کرو کہ ایسے لڑکے سے شادی کروجو نیک ہو، دیندار ہو، نمازیں پڑھنے والا ہوتاکہ وقفِ نو کے کام کو پورا کرنے میں روک نہ ڈالے۔ دوسرا یہ کہ جب شادی ہو جاتی ہے تو مختلف طبیعتیں ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ ایڈجسٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ کوئی کامل نہیں ہوتا۔ ہر ایک میں چھوٹی چھوٹی کمیاں، برائیاں، خامیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے اگر کوئی خاوند کوئی بیوی دوسرے کی برائی دیکھے تو اپنی آنکھ بند کر لے۔ بولنے کی جہاں ضرورت پڑے اور تبصرہ کرنا ہو تو زبان بند کر لو۔ اگر تمہارے پاس آکر ایک دوسرے کی برائی سنانا چاہے توکان بند کر لو۔ اگر اچھی چیز دیکھوتو منہ سے تعریف کرو۔ اچھی بات ضرو رسنو، دیکھو۔ بس یہ تین برائیوں سے منہ پھیر لو اور تین اچھائیاں کر لو تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔

(کلاس واقفاتِ نو کینیڈا 14،اکتوبر 2016ء)

اگرایک واقفہ نو اپنی پڑھائی مکمل نہیں کر پاتی اور شادی ہو جاتی ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد گھر کے کاموں میں لگ جاتی ہے تو وہ کس طرح خدمت کرے گی، اپنا وقف نبھائے گی؟
اس سوال پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
وہ نمازیں پڑھے۔ دعائیں کرے اور اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کرے تو اس کے وقف کا یہی معیار ہوگانیک بچے بنا دو، دین کے
خادم بچے بنا دو، تربیت کر کے ایسے بچے بنا دو جو دین سے جُڑ ے رہنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے ہوں، قرآن کریم پڑھنے والے ہوں، دین کا علم جاننے والے ہوں تو یہی تمہارا وقف ہے۔ اکثر 90 فیصد واقفات نو لڑکیوں کا یہی کام ہے کہ اپنے گھروں کی تربیت کریں۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت اپنے گھر کی نگران ہوتی ہے اور یہ ایک عام مسلمان عورت کے لئے ہے لیکن جو واقفات نَو ہیں ان پر تو گھر کی نگرانی کی زیادہ ذمہ داری ہے۔

(کلاس سڈنی، آسٹریلیا۔ 7اکتوبر 2013ء “مریم” رسالہ جنوری۔ مارچ 2014ء)

اگر پڑھائی کر رہی ہو اور شادی جلد ہوجاتی ہے تو شادی سے قبل پڑھائی کے لئے شرط رکھو کہ شادی کے بعد پڑھائی جاری رکھنی ہے اور تعلیم مکمل کرنی ہے۔ باقاعدہ خاوند سے طے کرو اور تحریر کرو۔ دوسرے اگر پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں تو مختلف وقتوں میں کورس آفر ہوتے ہیں۔ لوگ اپنی سہولت کے مطابق کورس لے لیتے ہیں۔ اس طرح خاوند اور بچوں کے حق بھی ادا کر سکتی ہو۔

(کلاس واقفاتِ نو۔ ہیمبرگ ،جرمنی اکتوبر 2011ء “مریم” اپریل تا جون 2012ء)

اگر ہماری شادی ایسے لڑکے سے ہو جاتی ہے جو وقف نہیں ہے تو ہم کس طرح اپنا وقف قائم رکھ سکتی ہیں؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
جس ماحول میں ہو وہاں خدمت کر سکتی ہو۔ لجنہ کے ذریعے سے خدمت کی جا سکتی ہے۔ پھر وقف کر دیں۔ جس طرح بعض لڑکیاں وقف ہیں اُن کے خاوند بھی اُن کے ساتھ چلے گئے اور دونوں کام کر ر ہے ہیں۔ اگرجماعت 24 گھنٹے کیلئے کہے تو پوری طرح وقف کر کےMain streamجماعت کا وقف سسٹم ہے اُس میں آجاؤ پھر جماعت کوئی نہ کوئی حل نکال لے گی۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو جس جگہ تم بیٹھے ہو، اُسی جگہ خدمت کرتے رہو۔ دعوت الیٰ اللہ سے تو کسی نے نہیں روکا اور نہ ہی دعائیں کرنے سے۔ ہاتھ سے کام کرنے سے، لٹریچر کا ترجمہ کرنے سے تو کسی نے نہیں روکا ہے۔اور نہ لجنہ کے کام کرنے سے روکا ہے۔ عبادت کرنے سے نمازیں پڑھنے سے کسی نے نہیں روکا۔یہ سب کام تو آپ کر سکتی ہیں۔

(کلاس واقفاتِ نو کینیڈا۔ 20 مئی 2013 ء “مریم” اکتوبر تا دسمبر 2013ء)

تربیت اولاد کے بارہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
اپنا نمونہ ایسا بنائیں کہ بچے اسے دیکھ کرعمل کریں اور نمونہ پکڑیں۔ نمازوں میں پابندی آپ میں ہو۔ قرآن کریم کی تلاوت آپ با قاعدہ کرنے والے ہوں، ماں اور باپ دونوں تلاوت کرنے والے ہوں، صرف نیکی کرنے کی تلقین نہ ہو بلکہ خود نیکیوں کی طرف ماں اور باپ کی بھی توجہ ہو۔ سچ بولنے کی طرف رجحان ماں باپ کا ہو۔ غلط بات کو برداشت نہ کریں۔ بچے کو یہ پتہ ہو کہ میرے ماں باپ خود بھی سچ بو لتے ہیں اور سچ کو پسند کرتے ہیں تو آپ کا اپنا عمل ہے جو بچوں کو نیک بنائے گا۔

(کلاس سڈنی، آسٹریلیا۔ 7،اکتوبر2013ء “مریم”جنوری۔ مارچ2014ء)

(عاطفہ احمد)

پچھلا پڑھیں

آپ کا اپنا اخبار

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 دسمبر2019