• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

مسئلہ کشمىر پىغام صلح اور الفضل

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی 87 سال پہلے کی ایک نایاب اور پر اثر تحریر

گزشتہ ایام میں ’’پیغام صلح‘‘ میں ایک مضمون کسی صاحب زیرک شاہ صاحب کا شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں زیرک شاہ صاحب نے مولانا سید میر ک شاہ صاحب پراعتراض کیا ہے کہ وہ قادیان کیوں جاتے ہیں اور کیوں مجھ سے مل کر کشمیر کا کام کرتے ہیں؟ اگر کشمیر کی خد مت کرنی ہی مدِنظر ہوتی تو احرار سے مل کر کام کرتے۔ مضمون نہایت نامناسب،زبان ناپسندیدہ اور مقصد نہایت غلط تھا۔ مولانا میر شاہ صاحب نے اگر باوجود اختلاف عقیدہ مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے مجھ سے مل کر کام کیا تو وہ اس میں منفرد نہ تھے۔ اہلِ حدیث،شیعہ،حنفی، انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ممبر غرض ہر قسم کے لوگ اس امر میں آل انڈیا کشمیرکمیٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں اور یہ ایک نہایت اعلیٰ علامت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مسلمان ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں کہ اپنے ذاتی اختلافات کو قربان کر کےاپنی مِلّی بہبود کو مقدم کرنے لگے ہیں۔ اس حالت پر جس قدر خوشی کا اظہار کیا جائے کم ہے۔
میں نے جب یہ مضمون پڑھا تو مجھے خطرہ ہوا کہ اس کو بنائےمخاصمت بنا کر ایک نیا فتنہ پیدا کر دیا جائے گا اس لئے میں نے درد صاحب سے کہا کہ وہ مولوی محمدیعقوب صاحب ایڈیٹر لائٹ سے کہیں کہ یہ مضمون ناپسندیدہ تھا،وہ اس کا کچھ علاج کریں اور خود کوئی ایسا جواب نہ دیا جائے جو فتنہ کو لمبا کر کے ہماری کشمیر کے مسلمانوں کے متعلق گزشتہ محنت کو برباد کر دے۔ مجھے افسوس ہے کہ باو جود میری ہدایت کے “الفضل” میں ایک جواب اس مضمون کا شائع ہوا ہے جو درگزر کی روح اور نمونہ پیش کرنے کی بجائے غصہ اور غضب کی روح کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید افسوس یہ ہے کہ یہ مضمون ایڈیٹوریل ہے۔ ہم غصہ سے کینہ کو دور نہیں کر سکتے۔ محبت اور عفو کی روح ہی دلوں کی اصلاح کر سکتی ہے۔ میں اسے نہایت ناپسند کرتا ہوں کہ بے غیرتی یا غضب ہم پر غالب آجائیں۔ مجھے افسوس ہے کہ باوجود میرے بار بار سمجھانے کے کہ بے غیرتی اور غصہ دو انتہائی مقام ہیں، ہمیں ان سے بچ کر غیرت اور عفو کے مقام پر ہو جو وسطی مقام ہے، کھڑا ہونا چاہئے۔ ہماری جماعت کے بہت سے لوگ اس حکمت کو وقت پر بھول جاتے ہیں۔ کاش ہم اپنے نفس کو خدا اور انسانیت کے لئے قربان کرنے کا ملکہ پیدا کر سکیں کیونکہ یہی کنجی سب روحانی ترقی کی ہے۔
میں اس مضمون پر گو یہ جواباً لکھا گیا ہے، اظہار افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد مولوی محمد يعقوب صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے جلسہ میں شامل ہوئے۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب محض علالت کی وجہ سے (اللہ تعالی انہیں شفا عطا فرمائے) شامل نہیں ہوئے۔ ورنہ وہ شروع سے سچی ہمدردی کے ساتھ کام کرتے رہتے ہیں۔ اور بغیر کسی ملامت کے خوف کے احرار کے بارہ میں مضمون لکھتے رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ زیرک شاہ صاحب کا مضمون احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا پسند کردہ مضمون نہ تھا۔ اور ایک آدمی کی غلطی سب کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔ محض انجمن کے اخبار میں کسی مضمون کا شائع ہونا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ انجمن اس سے متفق ہے۔ اس قسم کے مضامین کا تسلسل اور بلا تردید اس امر پر دلالت کر سکتا ہے لیکن ابھی تک یہ بات ثابت نہیں۔ پس اس قدر جلدی جواب میں جوش و غضب کا رویہ اختیار کرنا ہر گز مناسب نہ تھا۔ الفضل میں بھی کئی ایسے مضامین شائع ہوتے ہیں کہ جو میرے منشاء کے خلاف ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری مجھ پر یا صدرانجمن پر نہیں ہو سکتی کیونکہ بسا اوقات مضمون نظر سے ہی نہیں گزر تا یا گزرے تو اس غلطی کو انفرادی یا معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔گو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ غلطی بہت اہم غلطی تھی اور چاہئے تھا کہ ’’پیغامِ صلح‘‘ کے ایڈیٹر اس سے اختلاف ظاہر کر دیتے کیونکہ اس مضمون سے خود ان کی انجمن کے ممبر جو کشمیر میں رہتے ہیں،ناراض ہوئے ہیں۔ لیکن پھربھی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا رویہ اس بارہ میں وہی ہو ناچاہئے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ ہمارا فرض مولانا میرک شاہ صاحب کی برأت تک ختم ہو جانا چاہئے تھا دوسرے پہلو کو خودصدر انجمن اشاعت اسلام پر یا اس کے ممبروں پر چھوڑ دینا چاہئے تھا۔

خاکسار
مرزامحموداحمد(خلیفۃالمسیح الثانیؓ)

(انوارالعلوم جلد 12 ص242)

پچھلا پڑھیں

آپ کا اپنا اخبار

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 دسمبر2019