• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

الفضل میں چھپنے والے اقتباسات کی روشنی میں حضرت مسیح موعودؑ کی باخدا شخصیت

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں۔
الفضل میں میں جو مطالعہ آجکل کررہا ہوں اس پہلو سے مجھے سب سے زیادہ حسین چیز یہی دکھائی دیتی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ایسے اقتباسات کو چن کر پہلے صفحے پر شائع کیا جاتا ہے جس سے حضرت مسیح موعود کی باخدا بنانے والی شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان اقتباسات کو جو تو ہر جگہ کتابوں میں موجود ہیں لیکن جس عمدگی کے ساتھ انتخاب کیا گیا ہے اس سے تمام دنیا کی جماعتوں کو استفادہ کرنا چاہئے اور جتنی زبانوں میں بھی جماعت احمدیہ کے رسائل یا اخبارات شائع ہورہے ہیں ان میں وہ اقتباسات شائع کرنے چاہئیں۔ کیونکہ وہ انتخاب جہاں تک میں نے غور کیا ہے بہت پُرحکمت انتخاب ہے اور بہت سے ایسے اقتباسات بھی چنے گئے ہیں جو آجکل کے مسائل پر خصوصیت سے روشنی ڈالنے والے ہیں۔ پہلے اگر اس معاملے میں کچھ غفلت ہوئی ہے تو آئندہ سے نہ صرف تازہ اقتباسات کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنے اخبارات میں شائع کرنا چاہئے بلکہ پرانے اقتباسات میں سے بھی اس حد تک انتخاب کریں جس حد تک آپ اب اپنے رسائل میں ان کو سموسکتے ہیں اور اس پہلو سے تمام دنیا کی مختلف زبانوں میں حضرت مسیح موعود کی یہ شخصیت نمایاں کرکے پیش کرنی چاہئے۔ تمام دنیا کے احمدیوں کی تربیت کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔ انگریزوں کو حق ہے کہ انگریزی زبان میں بھی حضرت مسیح موعود کے ایسے اقتباسات کا ترجمہ ہو، افریقنوں کو حق ہے کہ ان کی زبانوں میں یہ ترجمے ہوں اور یوگوسلاوینز کا حق ہے کہ ان کی زبانوں میں ترجمے ہوں غرضیکہ دنیا کی ہر زبان میں اس قسم کے اقتباسات کے ترجمے بہت ضروری ہیں

خطبہ جمعہ6؍اکتوبر 1986ء(خطبات طاہر جلد8 ص661)

پچھلا پڑھیں

آپ کا اپنا اخبار

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 دسمبر2019