• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

رسولِ ہاشمی ﷺ ۔رحمت اور شفقت کے اُفق کا بادشاہ

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ

(آل عمران 31-32)

یعنی تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو مىرى پىروى کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

جب سے یہ مخلوق وجود میں آئی ہے لاکھوں کروڑوں نے اس زمین پر اپنے قدم مارے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان سب کے نام و نشان مٹتے چلے گئے ۔
لیکن بعض عظیم وجود اپنے نام اور نقوش ہمیشہ ہمیش کے لئے تاریخ کے اوراق کو زینت بخشتے رہیں گے اور ان کی مہک، چمک اور شان تا قیامت انسانیت کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کرتی رہے گی۔

اور ان عظیم وجودوں کا تاج جس انسان کامل پر رکھا گیا اس کا نام احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفیٰ ﷺ تھا۔

آج سے 15سوسال قبل سرزمین ِ عرب کی مقدس وادی میں خدائے ربّ العالمین نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دین حق کی اشاعت کے لئے مبعوث فرمایا۔ بے دینی، بےراہ روی اور ظلم و تشدد نقطہ عروج پر تھا۔

مگر ہمارے نبی پاک ﷺ کی اخلاقی اور روحانی حالت ہر لحاظ سے ایک مکمل ضابطہ حیات تھی اور اپنی انتھک جدوجہد اور کوششوں سے روحانی اُفق کے ستاروں کی ایک ایسی جماعت پیدا کر دی جو کہ اَن پڑھ اور گنوار تھے مگر رسولِ ہاشمیؐ کی روحانی شعاؤں کے چھونے سے یہ مرض جاتا رہا اور اُس کا نعم البدل علم، عرفان اور حیاتِ جاوید تھا۔

جو دن رات شراب کے نشے میں مخمور رہا کرتے تھے وہ عبادت و ذکر الہیٰ میں منہمک ہوگئے۔ جو غیر عورتوں سے اپنے عشق کی داستانیں بر ملا سنا کر فخر کرتے تھے وہ عشق الہٰی میں ایسے محو ہوئے کہ دنیا و ما فیہا کی ساری محبتیں کافور ہوگئیں۔

وہ وحدانیت اور اکائی کی لڑی میں کچھ ایسے پروئے ہوئے تھے کہ ہر آنکھ کو مسرت بخشتے، ان کا ایمانی جوشِ حرارت قیصر اور کسریٰ کے محلات کوتھرانے پر مجبور کردیتا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام کے پیغام سے تمام دنیا کو روشناس کرادیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کی گھاٹیوں، افریقہ کے صحراؤں، یورپ کے پہاڑوں اور جزائر کے ویرانوں میں توحیدکا پرچم لہرا کر آفاقِ عالم سے ظلم و جہالت کی تاریکیاں دور کرکے ہر طرف خدائے ذُوالجلال کا نور کشادہ کرنے لگا۔

جب سے آفتاب کی کرنوں نے اس زمین کو روشنی بخشی، ایسا انقلابِ عظیم جو کہ اس رسولِ رحمت ﷺ نے اس عالم میں برپا کیا اس کی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ یہ آپ ﷺ کی رحمت اور شفقت تھی کہ سب کو اپنی مقناطیسی قوت اور قوت قدسیہ سے اپنے اندر جذب کر لیا۔ اسی کی تصدیق کرتے ہوئے ربانی قول ہے۔

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ

(آل عمران: 160)

پس اللہ کى خاص رحمت کى وجہ سے تُو ان کے لئے نرم ہو گىا اور اگر تُو تندخو (اور) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تىرے گِرد سے دُور بھاگ جاتے پس ان سے دَرگزر کر اور ان کے لئے بخشش کى دعا کر اور (ہر) اہم معاملہ مىں ان سے مشورہ کر۔

ربّ العالمین اپنے پیارے رحمت عالمِ خلق حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے متعلق فرماتا ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

(الاحزاب 22)

یعنی ىقىناً تمہارے لئے اللہ کے رسول مىں نىک نمونہ ہے۔

نیز خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے رسول کریمﷺ کا اسوہ حسنہ رکھ کر بتا دیا کہ اگر کسی نے حقیقی نجات پانی ہے اور روحانی اور اخلاقی کمال کا درجہ حاصل کرنا ہے اور اپنی آخرت سنوارنی ہے تو وہ نبی پاک ﷺ کی مبارک سیرت پر عمل کرنے کی ہر دم کوشش کرے۔

نبی پاک ﷺ کی حیات مبارک کی تو سینکڑوں حیرت انگیز مثالیں ہیں، جن میں سے خاکسار چند کو مختصراً چھوئے گا۔

ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس کچھ چادریں آئیں ۔ آپ ﷺ نے ایک چھوڑ کر سب چادریں اپنے صحابہؓ میں تقسیم کردیں۔

آپؐ کے ایک صحابی مخرمہؓ جو کہ نابینا تھے جب آپؓ کو اس فعل کی اطلاع ملی تو روایت میں آتا ہے کہ آپؓ گرتے پڑتے شکوہ کرتے آپ ﷺ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ سب چادریں تقسیم کردی گئیں ہیں اور ہمیں محروم کردیا گیا ہے۔ ہمیں بھی ہمارا حصہ دیا جائے۔

نبی پاکﷺ نے کمال شانِ بےنیازی سے ایک چادر نکالی اور بڑی محبت اور پیار سے یہ فرماتے ہوئے وہ چادر اس معذور صحابیؓ کے حوالہ کردی کہ اے مخرمہؓ !ہم نے تو پہلے ہی یہ چادر تمہارے لئے بچا رکھی تھی۔

اب دیکھیں کہ یہ کیسی محبت، پیار، رحمت اور شفقت کا عجب نظارہ تھا۔ آپﷺ کے کوئی دو چار صحابہ نہ تھے کہ وہ آپ ﷺ کو یاد رہے مگر یہ رحیم و کریم رسول کی رحمت ماؤں سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔

حضرت امام الزمان حضرت مرزا غلام احمد ؑ فرماتے ہیں کہ دنیا کی حالت بہت ہی قابلِ رحم ہو چکی تھی۔ اخلاق، اعمال، عقائد سب کا نام و نشان اُٹھ گیا تھا اس لئے اس امت کو مرحومہ کہا گیا۔ کیونکہ اُس وقت بڑے ہی رحم کی ضرورت تھی اور اسی لئے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

(الانبیاء:108)

(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد اوّل صفحہ108)

حضرت رحمت عالم ﷺ کے رحمت بھرے اقوال اتنے زیادہ ہیں کہ ہم ان سب کو بیان کرہی نہیں سکتے۔ رسول کریم ﷺ نے نہ صرف یہ کہ رحمت کا درس دیا بلکہ خود بھی سب سے زیادہ اس کا عملی اظہار فرمایا۔

نبی پاکﷺ کے رحمت العالمین ہونے کی تو ان گنت دلیلیں ہیں مگر ان میں سے ایک سب سے بڑی دلیل فتح مکہ کہ موقع پر کفارِ مکہ کی معافی ہے۔

معافی ان لوگوں کو دی گئی جن میں وہ بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں آپ ﷺ کے خلاف زہر اگلنے کے لئے وقف کی ہوئیں تھیں اور ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے آپ کی راہ میں کانٹے بچھائے تھے اور ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے آپ کے اہل کو نقصان پہنچایا تھا اور ان میں وہ بھی تھے جن کی تلواروں نے ذاتِ پاک سے گستاخیاں کی تھیں۔

نیز اس سب کے باوجود آپ ﷺ نے لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم (صحيح البخاري، كتاب تفسیر القرآن) کہہ کر اُن سب کو معاف فرما دیا۔

اسی طرح ایک بڑھیا تھی جو آپ ﷺ پر روزانہ کوڑا پھینکا کرتی تھی اور حضور ﷺ مسکرا کر خندہ پیشانی سے آگے گزر جاتے۔ اگر کسی دن اس کو غیر حاضر پاتے تو تشویش ہوتی کہ کیا وہ بڑھیا بیمار تو نہیں اور جب معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے تو عیادت کے لئے آپ اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔
اور ہمیں خدا تعالیٰ کا یہ عظیم الشان قول وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ کیسے عمدہ رنگ میں پورا ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

آج مغربی دنیا میں عورت سے مشفقانہ سلوک کے حوالہ سے بڑا چرچہ کیا جاتا ہے اور ان کی زبان پر کچھ ایسے محاورے رائج ہیں جسے وہ عورتوں سے اپنی رحم دلی کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلا؛ جیسے،

Glass, with care or Ladies First ۔

اگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ تو ہمارے پیارے معشوقِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے آج سے 1500 سو سال قبل عورتوں کے حقوق میں استعمال فرمائے تھے۔

روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ اپنی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہؓ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے کہ اچانک اونٹ پھسل گیا اور آپ دونوں گر پڑے۔ حضرت ابو طلحہؓ فوراً آپ ﷺ کی طرف بڑھے تو آپ ﷺ نے فرمایا عَلَیْکَ بِالْمَرْاَةِ-اَلْمَرْاَةُاَ لْمَرْاَةُ۔

(صحيح البخاري كتاب الجهاد والسير)

کہ پہلے عورتوں کا خیال کرو ۔ یعنی Ladies First

اور اسی طرح ایک دفعہ کچھ ازواجِ مطہرات آنحضرتﷺ کے ساتھ سفر میں ہمراہ تھیں۔ ایک حبشی غلام حدّک پڑھنے لگا؛ جس کی وجہ سے اونٹ تیزی سے چلنے لگے اور آپ ﷺ کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ازواجِ مطہرات میں سے کوئی گر نہ جائے۔ تو آپﷺ فرماتے ہیں، رُوَ یْدَکَ سَوْقا بِالْقَوَارِیْر۔

(صحيح البخاري کتاب الادب باب المعارض)

دیکھنا یہ شیشے اور آبگینے کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔ یعنی Glass, with care

اسلام ہی ہے جس نے عورتوں کی انسانیت کو نمایاں کر کے دکھایا اور رسول کریم ﷺ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے عورتوں کے بلحاظ انسانیت، برابر کے حقوق قائم کئے اور ان سے مشفقانہ اور رحم دلی کا سلوک کرنے کی نصیحت پر زور دیا۔ یہا ں تک کہ حجۃالوداع کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے اس حکم نامہ کی طرف پھر رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا؛ وَا سْتَو صُوْا بِالنِّسَاءِ خَیْراً

(صحيح البخاري،كتاب النكاح)

یعنی کہ عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔

نبی پاکﷺ کی تو ایسی بے تحاشہ مثالیں ہمیں نظر آتیں ہیں۔ مگر افسوس در افسوس، ملاؤں نے تو غیر اقوام کو اسلام میں داخل کرنے کی بجائے مسلمانوں ہی کو اسلام سے خارج کرنا محبوب مشغلہ بنا لیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر کیوں مسلمان آج تماشہ اور عبرت بن گئے ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے خدا کے سچے مسیح اور مہدی کو ٹھکرا دیا اور خدا کے قائم کردہ خلیفہ ٔبر حق کے ہاتھ پر اکٹھے ہونے کے بجائے خلافت ہی کو مٹانے کے درپے ہوگئے اور اسلام دوستی کے نام پر اسلام دشمنی کے مرتکب ہوگئے۔

ہم خوش قسمت ہیں اور خدا تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ ہمیں اس زمانے کے امام الزمان حضرت مسیح موعود و مہدی معہودؑ کو ماننے کی توفیق ملی، جنہوں نے ہماری ہر موڑ پر رہنمائی فرمائی اور ہمارے سامنے رسول کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ کا فعلی ڈھانچہ اپنے عمل سے پیش فرمایا۔ اور ایسی جماعت قائم کی جس کی مشابہت پہلوں سے جاملی۔

وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ

(الجمعۃ: 4)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ﷺ کی سنت ِمبارک پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)


(روحان احمد۔ غانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ