• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

شریعت اسلامی انسانی فطرت کے عین مطابق ہے

شریعت اسلامیہ انسانی فطرت کے تمام تقاضوں پر احسن رنگ میں پورا اترنے والی شریعت حقہ ہے۔ انسانی فطرت جدت طراز ہے۔ قول و فعل میں ارتقائی افق رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالق ارض و سما اس کی علت غائی کے جملہ سامان عبادات میں بھی رکھ چھوڑے ہیں۔

عبادات میں فرائض تو لازمی امر ہیں لیکن چونکہ فطرت انسانی میں استباق کی روح بھی کارفرما ہے اس لئے ان کے ساتھ نوافل کا رشتہ بھی جوڑ دیا گیا ہے تاکہ روح روحانی تسکین کی معراج کو پہنچ جائے۔ پنجوقتہ نماز کی ادائیگی فرض ہے لیکن اس کے ساتھ نفلی عبادت کا تعلق بھی استوار کردیا گیا ہے مثلا ًتہجد، اشراق، چاشت، تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نوافل وغیرہ۔

ان نوافل میں سے چاشت کی فضیلت کا ذکر مقصود تحریر ہے جسے صلوۃ ضحی اور صلوۃ اوابین بھی کہاجاتا ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر آدمی اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے ذمہ اس کے ہر جوڑ کا صدقہ واجب ہوتا ہے۔اس لئے کل تسبیح صدقہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر صدقہ ہے لیکن ضحی کی دو رکعتیں ان سب کی کفایت کر جاتی ہیں۔

(ریاض الصالحین۔باب چاشت بحوالہ مسلم)

اس نماز کے نوافل کی تعداد میں اختلاف ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے، چاشت کی دو رکعات پڑھنے اور سونے سے قبل وتر پڑھنے کی نصیحت فرمائی۔

(متفق علیہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ چاررکعتین پڑھا کرتے تھے اگر اللہ چاہتا تو زیادہ بھی ادا کرلیتے

(مسلم۔ایضاً)

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنھا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپؐ غسل فرما رہے تھے۔ غسل کے بعد آپ ﷺ نے آٹھ رکعتیں چاشت کے وقت ادا کیں۔

(متفق علیہ)

صلوۃ اوابین کی ادائیگی کا وقت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نمازپڑھتے ہوئے دیکھا توفرمایا کہ یہ جوگ جانتے ہیں کہ دوسرے وقت میں اسے پڑھنا افضل ہے بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی سے جلنے لگیں۔

(صحیح مسلم)

نوافل کی اہمیت و فضلیت اس حدیث مبارکہ سے بھی خوب مترشح ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو اس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔

(بخاری۔کتاب الرقاق۔نمبر6502)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نوافل کی فلاسفی یوں بیان فرماتے ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ مومن نوافل کے ساتھ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے نوافل سے مراد یہ ہے کہ خدمت مقررہ میں زیادتی کی جاوے۔ ہر ایک خیر کے کام میں دنیا کا بندہ تھوڑا سا کرکے سست ہو جاتا ہے لیکن مومن زیادتی کرتا ہے۔ نوافل صرف نماز سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر ایک حسنات میں زیادتی کرنا نوافل ادا کرنا ہے۔ مومن محض خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ان نوافل کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کے دل میں ایک درد ہے جو اسے بے چین کرتا ہے اور وہ دن بہ دن نوافل و حسنات میں ترقی کرتا جاتا ہے اور بالمقابل خدا تعالیٰ بھی اس کے قریب ہوتا جاتا ہے حتی کہ مومن اپنی ذات کو فنا کر کے خدا تعالیٰ کے سایہ تلے آ جاتا ہے اس کی آنکھ خدا تعالیٰ کی آنکھ۔ اس کے کان خدا تعالیٰ کے کان ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ کسی معاملہ میں خدا تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کی زبان خدا تعالیٰ کی زبان اور اس کا ہاتھ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوجاتا ہے۔

(ملفوظات جلد4ص30)


(محمداشرف کاہلوں)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ