• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

مولانا بشیر احمد آرچرڈ صاحب مرحوم (1920ء تا 2002ء) کا ذکرِ خیر

یہاں یہ عاجز اس بُزرگ صوفی، عالم باعمل، داعی الی اللہ، جماعت کے فدائی اور پہلے یورپین مُبلغ کا ذکرِ خیر کرنا چاہتا ہے جو سب سے پہلے مشنری کے طور پر 1949ء میں اور 1951ء میں دو دفعہ اسکاٹ لینڈ متعین کئے گئے اور تقریباً کُل ملا کر تقریباً بیس سال تک یہاں رہ کر اسلام احمدیت کی خدمت کی۔ آپ 26 اپریل 1920ء کو انگلینڈ کے شہر Devon میں ایک کیتھولک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کا نام James Brian Orchard تھا۔ آپ فوج میں بھرتی ہوئے جہاں سے دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1942ء میں ہندوستان کا سفر کیا جہاں 1944ء میں آپ کو احمدیت کا پیغام ملنے کے نتیجے میں قادیان جانے کا اتفاق ہوا۔ یہاں آپ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہُ کی شخصیت سے حددرجہ مُتاثر ہوئے اور دل میں عہد کیا کہ آئندہ لغویات سے پرہیز کروں گا اور جہاں تک ہوسکا اسلام کو سمجھ کر اس پر عمل کروں گا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضورؓ نے آپ کا نام بشیر احمد آرچرڈ رکھا۔

اصل میں آپ کا قبولِ اسلام اور وقف کرنا، حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ السلام کی اُس خواہش کے مُطابق اللہ تعالیٰ نے پورا کیا، جب آپؑ نے ایک دفعہ فرمایا:

’’ہم ہمیشہ دُعا کرتے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لئے زندگی کا حصہ وقف کرے…

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 451)

قادیان سے واپسی پرہندوستان میں ہی جنگ عظیم دوم کے دوران آپ نے وقف کرنے اور مُبلغ کے طور پر آئندہ زندگی گُزرانے کا عہد کیا اور حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کو اس بارہ میں خط لکھ دیا، لہٰذا آپ کی بیعت اور وقف دونوں 1944ء میں قبول کئے گئے اور اس کے بعد آپ کا خلیفہء وقت سے مُسلسل ایک رابطہ اور عشق رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ دل سے مُسلمان اور احمدی اُسی وقت ہوگئے تھے جب آپ نے قادیان کا پہلا دورہ کیا مگر وقف کرنے کے بعد آپ قادیان رہے جہاں آپ نے دین کو گہرائی سے سیکھا اور مُبلغ کے طور پر آپ کو گلاسگو بھجوایا گیا۔

ایک موقع پر حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہُ نے آپ کو خط میں لکھا:

’’بے شک آج تمہیں کوئی نہیں جانتا اور کسی نے تُمہارا نام نہیں سُنا لیکن یاد رکھو ایک زمانہ آئے گاکہ قومیں تُم پر فخر کریں گی اور تُمہاری تعریف کے گیت گائیں گی، اس لئے تُم اپنے کردار اور گُفتار پر نظر رکھو‘‘

درج بالا سطور یقیناً ایک عظیم الشان شخصیت کی طرف سے لکھے گئے وہ سنہرے حروف تھے جن کو مولانا آرچرڈ صاحب نے اپنی آئندہ زندگی میں ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر لیا اور اپنے عمل سے اپنے وقف کا پورا پورا حق ادا کیا۔ چُنانچہ گلاسگو میں تعیناتی کے دوران ایک واقعہ درج کرنا یہاں مُناسب معلوم ہوتا ہے:

محترم بشیر احمد رفیق صاحب مرحوم سابق امیر ومُبلغ انچارج برطانیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خط محترم آرچرڈ صاحب کو اُس وقت لکھا جب آپ اسکاٹ لینڈ میں بطور مُبلغ تعینات تھے۔ نومبر کے آغاز میں لکھے گئے اس خط میں کہا گیا تھا کہ وہاں کے مقامی افراد کو احمدیت کی آغوش میں لانے کے لئے مزید محنت کریں، میری یہ خواہش تھی کہ کُچھ بیعتیں اگر مل جائیں۔ آرچرڈ صاحب نے جواب میں لکھا کہ میں تو کوشش کررہا ہوں مگر اسکاٹش لوگوں کی طرف سے مُثبت جواب نہیں مل رہا۔ امام صاحب بیان کرتے ہیں کہ کُچھ ہی دنوں کے بعد آرچرڈ صاحب کی طرف سے دوسرا خط ملا جس میں تحریر تھا کہ اس سال کے اختتام تک ہمیں تین بیعتیں مل جائیں گی۔ مُجھے حیرت ہوئی کہ پہلے خط میں تو مُختلف خیال تھا مگر اتنی جلدی کیسے مُمکن ہے کہ تین بیعتیں مل جائیں اور وہ بھی سال کے اختتام تک، بہرحال آرچرڈ صاحب نے صرف ڈیڑھ ماہ کے وقت میں تین بیعت فارم بھجوادیئے۔ امام صاحب بیان کرتے ہیں کہ کُچھ عرصہ کے بعد جب میری مُلاقات محترم آرچرڈ صاحب سے ہوئی تو میں نے پُوچھا کہ وہ تین افراد کی معینہ مُدّت کے اندر بیعت کر لینے کے بارہ میں قبل از وقت کیسے بتا سکتے تھے؟ تب انہوں نے بتایا کہ میرا خط ملنے کے بعد انہوں نے نہایت گریہ و زاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور دُعائیں کیں کہ وہ رحم فرماتے ہوئے اسی سال کُچھ اسکاٹش لوگوں کو قبولِ حق کی توفیق عطا فرمادے۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اطلاع دی گئی کہ تین مقامی افراد بیعت کرنے کے لئے تُمہاری طرف بھجوائے جائیں گے، اور علیم و خبیر کی طرف سے دی جانی والی یہ اطلاع اُس متوکل شخص نے اُسی وقت لکھ کر بھجوادی۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک اور موقع پر مُحترم آرچرڈ صاحب نے ان تین اسکاٹش بیعتوں کے بارہ میں بیان کیا کہ :

’’میں نے کوئی سعی نہیں کی بلکہ یہ تمام افراد باری باری گلاسگو سنٹر میں داخل ہوئے اور اسلام احمدیت سے تعارف حاصل کرنا شروع کیا جس سے ان کے دل مطمئن ہوئے اور یہ اسکاٹش لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے‘‘

محترم آرچرڈ صاحب کی وقت کی پابندی کے تعلق سے بیان کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے دیکھا کہ گلاسگو کے احمدی احباب، جماعت کے پروگراموں میں ہمیشہ کچھ دیر سے پہنچنے کے عادی ہیں، لہٰذا آپ نے یہ طریق اختیار کیا کہ مقررہ وقت پر پروگرام شروع کردیتے خواہ سامنے کوئی بھی نہ ہو۔ جلد ہی احباب نے محسوس کیا کہ آرچرڈ صاحب تقریر کررہے ہیں اور سامنے ایک دو دوست بیٹھے ہیں تو اس معاملے میں سب نے اپنی اصلاح کی اور وقت پر جماعت کے پروگراموں میں آنا شروع کیا۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مولانا بشیراحمد آرچرڈ صاحب کا ملک حفیظ الرحمٰن صاحب سابق صدر جماعت ایڈنبراکے ساتھ بہت قریبی تعلق تھا جو اُن کے گلاسگو سے انگلستان جانے کے بعد بھی قائم رہا۔ 1976ء میں آرچرڈ صاحب کی جلسہ سالانہ برطانیہ میں Paradise on Earth کے موضوع پر چالیس منٹ کی ایک اہم تقریر تھی لیکن وہ علیل ہوگئے اور جلسہ پر نہ جاسکے۔ صورتحال کے پیشِ نظر اُنہوں نے یہ تقریر کرنے کے لئےملک صاحب کا نام بھجوا دیا اور ملک صاحب کو کہا کہ پروگرام کے مُطابق جس وقت اُن کی تقریر شروع ہوگی وہ دُعا کرنی شروع کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ایسا ہوا کہ تقریر بہت کامیاب ہوئی جس پر جماعت کے افراد کی جانب سے اُنہیں زبانی اور تحریری طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

آرچرڈ صاحب شاعر بھی تھے، جب وہ نظمیں لکھتے تو عام طور پر ملک حفیظ الرحمٰن صاحب کو بھی بھجواتے۔ آرچرڈ صاحب نے نہایت سادہ اور طویل خدمت کرتے ہوئے زندگی گُزاری اور آخر وقت تک آپکا خلافت سے وفا اور عشق کا تعلق قائم رہا۔ خُدا تعالیٰ اس فدائی مبلغ کو غریقِ رحمت کرے اور اُن کی اولاد کو بھی خدمتِ دین کی توفیق احسن رنگ میں کرنے اور ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا کرے، آمین


(ارشد محمود۔گلاسگو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ