• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

میرے خالو و خسر مکرم رانا نصرت احمد

مکرم رانا نصرت احمد ناصر میرے خالو بھی تھے اور خسر بھی۔ آپ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جس کام کو بھی کرتے اس کو انتہاء تک پہنچا دیتے۔ عبادات و تسبیحات ہوں،جماعتی خدمات ہوں، اکرام ضیف ،دنیاوی تعلقات، رکھ رکھاؤ اور پھر بیماری کی وجہ سے پرہیز ہی کیوں نہ ہو۔

کہیں بچپن سے ہی نماز پنجوقتہ اور پھرجوانی سے ہی تہجد بھی باقاعدگی کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ایک دن اُن کے گھر پرسو رہا تھا کہ صبح 4 بجے ان کے رونے بلکہ بلکنے کی آواز سے آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ سب خیریت ہے؟ تو پتہ چلا کہ یہ تو روز کا معمول ہے کہ تہجد میں اسی طرح گریہ کرتے ہیں۔ ایک دو دفعہ ہمسائے بھی دروازے پر دستک دینے پہنچ گئے کہ شائد کسی صدمہ کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ اپنے بیٹے کو بھی نماز میں شامل نہ ہونے پر سختی اورسرزنش کرتے۔ اگر وہ مسجد نہ جاتا تو بہت تکلیف محسوس کرتے۔

ہمارے خاندان میں احمدیت اُن کے والد مکرم چوہدری لاب دین کی وجہ سے آئی جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اس کے بعد اپنے عزیزوں مکرم غلام قادر بھٹی، مکرم غلام نبی منہاس اور مکرم قاضی نور احمد کو بھی قادیان لے جا کر بیعت کروائی۔ تھوڑے عرصہ بعد دوسرے عزیز و اقارب بھی ایک ایک کرکے احمدی ہوگئے۔ یوں بکھو بھٹی، سیالکوٹ کے بھٹی خاندان اور پھگواڑی، گرداس پورکے منہاس خاندان تک احمدیت پہنچی۔ یہ دونوں خاندان 1939ء میں بہاولنگر ضلع کے گائوں 166 مراد میں آباد ہوئے۔

مکرم رانا نصرت احمد ناصرؔ کو خلافت احمدیہ سے عشق بلکہ غیر معمولی عقیدت تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ تو تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ان کے پرنسپل بھی رہے تھے۔ اُن کے ساتھ اپنے گہرے تعلق کا ذکر کرکے فرطِ محبت سے اکثر آبدیدہ ہوجاتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی بہت گہری عقیدت تھی۔ خطبات جمعہ ایم ٹی اے کے ذریعہ براہ راست سنتے اور اگر کوئی بچہ بھی اس دوران بولتا تو طبیعت پر گراں گزرتا۔ قادیان اور لندن کے دو، دو جلسہ ہائے سالانہ میں شرکت کی اور ہمیشہ حضور انور سے ملاقات کے قصے مزے سے سناتے۔

چندوں اور تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے بلکہ مرحوم والدین کا بھی چندہ ادا کیا کرتے تھے۔ اپنے والد کے نام سے الفضل ربوہ بھی ہمیشہ جاری رکھا۔

قائد مقامی، قائد ضلع وعلاقہ بہاولپور رہے۔ صدر جماعت 166 مراد رہے۔ مقامی اور ضلعی سطح پر مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی۔مہمان نوازی کی خوبی بھی ان میں بدرجۂ اتم پائی جاتی تھی۔

ہمارے گاؤں میں بزرگان سلسلہ باقاعدگی سے دورہ جات پر تشریف لایا کرتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے گاؤں کی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔آج سے 20سال پہلے تک مرکزی مہمانوں کا پہلا پڑاؤ ڈاہرانوالہ میں ‘‘مرزائیوں کی دوکان’’ یعنی منہاس میڈیکل سٹور ہوتا،جو میرے والد صاحب محمد سرور منہاس اور ان کے چچا میاں مجید احمد منہاس کا مشترکہ تھا (اس میڈیکل سٹور کی بھی مہمان نوازی اور جماعت کی خدمات کی علیحدہ داستان ہے) اور گاؤں میں زیادہ تر خالوجان کا گھر۔

مکرم مولانا حافظ مظفر احمد چند سال قبل میرے ہاں کینیڈا تشریف لائے تو میری بیوی کو مخاطب کرکے کہنے لگے کہ تمہارے گھر کی مہمان نوازی سے تو ہم ایک لمبے عرصہ سے لطف اندوز ہو رہے ہیںکہ ایک لمبا عرصہ ہمارا ٹھکانہ آپ کا گھر رہا ہے۔ مکرم مبشر احمد کاہلوں نے بھی مکرم خالو جان کے گھر میں پیش آنے والے بعض واقعات اپنے مخصوص انداز میں بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کئے۔ مکرم محمود احمد شاہدؔ (اس وقت صدر خدام الاحمدیہ) کے ساتھ بھی خالو جان کا بھائیوں والا تعلق تھا۔

دنیاوی طور پر بھی بہت ہی صاحب رسوخ آدمی تھے اور علاقہ کے معززین سے بڑا گہرا تعلق اوربہت وسیع واقفیت رکھتے تھے۔ علاقہ کے معززین آپ کی نیک نامی اور دیانتداری کے معترف تھے۔ لوگوں کے بڑے بڑے کام صرف اپنی واقفیت سے کروا دیا کرتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ رشوت کسی کام کے لئے نہیں دیتے تھے۔ بہت لوگ کہا کرتے کہ یہ کام پیسے کے بغیر نہیں ہو سکتا لیکن وہ کام پیسوں کے بغیر ہی کروا کے چھوڑتے اور کسی کے بھی کام کو جب اپنے ذمہ لے لیتے تو متعلقہ شخص سے زیادہ خود بے چین رہتے جب تک کہ اس کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا لیتے۔اپنے مزارعوں اور دیگر خدمت گاروں کا بھی ہر طرح سے خیال رکھتے۔

ان کے بہن بھائی بہت چھوٹے تھے جب اِن کے والد صاحب وفات پا گئے لیکن بہن بھائی حقیقی معنوں میں اپنے والد کی وفات پر نہیں بلکہ اپنے اِس بڑے بھائی کی وفات پر یتیم ہوئے۔ اپنے بھائی بہنوں کے پڑھنے لکھنے سے لے کر، ان کی نوکریوں اور شادیوں تک تمام کام اپنے ہاتھوں سے سر انجام دئیے۔ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہیں ان کے ساتھ بھی ہمدرد دوست والا رویہ رکھا۔ تعلیم سے خصوصی لگائو تھا۔ بیٹی کو بھی ایم اے تک تعلیم دلوائی بلکہ پی ایچ ڈی کی بھی تحریک کرتے تھے۔ بیٹا آج کل قانون کی ڈگری حاصل کررہا ہے اور قائد علاقہ بہاولپور کے طور پر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔اپنے بچوں کو جماعت اور خلافت سے وابستگی کی ضرور تحریک کرتے۔

جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ ہر کام انتہاء تک کرتے اسی طرح شوگر کا روگ بھی اوائل جوانی سے ہی انتہاء کا تھا۔ لیکن انتہائی محنت اور پرہیز سے اس پر قابو پائے رکھا۔اپنی بھتیجی کی شادی پر سرگودھا گئے ہوئے تھے جہاں 15 جنوری 2012ء کو دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ 16جنوری کو ربوہ میں مکرم حافظ مظفر احمد نے جنازہ پڑھایا اور مکرم شیخ کریم الدین امیر ضلع بہاولنگر نے بہشتی مقبرہ میں تدفین کے بعد دعا کروائی۔6۔اکتوبر2012ء کوحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن میں نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے ۔آمین


(محمد آصف منہاس ۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ