• 27 فروری, 2021

نماز اصل میں دعا ہے

’’نماز اصل میں دعا ہے۔ نماز کا ایک ایک لفظ جو بولتا ہے وہ نشانہ دعا کا ہوتا ہے۔ اگر نماز میں دل نہ لگے تو پھر عذاب کے لئے تیار رہے۔ کیونکہ جو شخص دعا نہیں کرتا وہ سوائے اس کے کہ ہلاکت کے نزدیک خود جاتا ہے اور کیا ہے۔ ایک حاکم ہے جو بار بار اس امر کی ندا کرتا ہے کہ میں دکھیاروں کا دکھ اٹھاتا ہوں مشکل والوں کی مشکل حل کرتا ہوں۔ میں بہت رحم کرتا ہوں۔ بیکسوں کی امداد کرتا ہوں۔ لیکن ایک شخص جو کہ مشکل میں مبتلا ہے اس کے پاس سے گزرتا ہے اور اس کی ندا کی پرواہ نہیں کرتا۔ نہ اپنی مشکل کا بیان کرکے طلب امداد کرتا ہے تو سوائے اس کے کہ وہ تباہ ہو اور کیا ہو گا۔ یہی حال خداتعالیٰ کا ہے کہ وہ تو ہر وقت انسان کو آرام دینے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ کوئی اس سے درخواست کرے۔ قبولیتِ دعا کے لئے ضروری ہے کہ نافرمانی سے باز رہے اور دعا بڑے زور سے کرے۔ کیونکہ پتھر پر پتھر زور سے پڑتا ہے تب آگ پیدا ہوتی ہے‘‘۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 54جدید ایڈیشن- البدر، مورخہ یکم جولائی 1904ء صفحہ 6)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021