• 27 فروری, 2021

جنگی مجرموں سے عفو کا سلوک

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک اجازت بھی دی ہوئی ہے۔ مَیں کوشش کروں گا کہ ستّر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں یعنی کثرت سے کروں گا۔ اُس کے لئے اگر مجھے اس سے زیادہ بھی بخشش طلب کرنا پڑی تو کروں گا۔ یہ تھا آپ کا اُسوہ جو آپ نے اُن منافقین کے ساتھ بھی روا رکھا۔

یہ واقعہ تو میں نے بتایا کہ جس میں رئیس المنافقین کے ساتھ عفو اور بخشش کا سلوک ہے۔ اب بعض دوسری مثالیں پیش کرتا ہوں۔ مثلاً اُجڈ، غیر تربیت یافتہ بعض بدؤوں کے اخلاق ہیں جو ادب سے گری ہوئی حرکات کیا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نہیں پہنچانتے تھے۔ اُن پر آپ کس طرح عفو فرماتے تھے۔ اس بارہ میں ایک روایت میں آتا ہے۔

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھا۔ آپ نے ایک موٹے حاشیہ والی چادر زیب تن کی ہوئی تھی۔ ایک بدوی نے آپ کی چادر کو اتنی زور سے کھینچا کہ اس کے حاشیہ کے نشان آپ کے کندھے پر پڑ گئے۔ پھر اس نے کہا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے اللہ تعالیٰ کے اس مال میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عنایت فرمایا ہے یہ دو اونٹ دے دیں۔ آپ نے مجھے کوئی اپنا یا اپنے والد کا مال تو نہیں دینا؟ اُس کی ایسی کرخت باتیں سن کر پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا: اَلْمَالُ مَالُ اللّٰہِ وَاَنَا عَبْدُہٗ۔ کہ مال تو اللہ ہی کا ہے اور مَیں اللہ کا بندہ ہوں۔ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو مجھے تکلیف پہنچائی ہے اس کا تم سے بدلہ لیا جائے گا۔ اُس بدوی نے کہا مجھ سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم سے بدلہ کیوں نہیں لیا جائے گا؟ اُس بدوی نے کہا۔ اس لئے کہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، تبسم فرمایا (تو نرمی کا، عفو کا جو سلوک تھا، پتہ تھا۔ اسی نے ان لوگوں میں جرأت پیدا کی تھی کہ جو دل چاہے کر دیں)۔ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کے مطلوبہ دو اونٹوں میں سے ایک اونٹ پر جَو اور دوسرے پر کھجوریں لاد دیں۔ اور وہ اس کو عنایت فرمائیں۔

(الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی فی تکمیل اللہ تعالیٰ … الفصل و اما الحلم صفحہ74 جزء اول دارالکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)

پھرآپ نے مخالفینِ اسلام کے ساتھ کس طرح عفوفرمایا، کیا سلوک فرمایا ہو گا۔ اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ قریشِ مکہ کے اسّی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پرنمازِ فجر کے وقت اچانک جبل تنعیم سے حملہ آور ہوئے۔ اُن کا ارادہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں مگر ان کو پکڑ لیا گیا۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو معاف کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔

(سنن الترمذی کتاب تفسیر القرآن باب من سورۃ الفتح حدیث نمبر 3264)

اب اس قسم کی معافی کی کوئی مثال پیش کر سکتا ہے کہ جنگی مجرم ہیں لیکن سراپا شفقت و عفو اُن کو بھی معاف فرما رہے ہیں کہ جاؤ تمہارے سے کوئی سرزنش نہیں۔ تمہیں کوئی سزا نہیں۔ پھر ایک روایت ہے۔ ہشام بن زید بن انس روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے انس بن مالکؓ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ کے بجائے اَلسَّامُ عَلَیْکَ یعنی تجھ پر ہلاکت وارد ہو، کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔ تمہیں پتہ چلا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔ پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس نے اَلسَّامُ عَلَیْک کہا تھا۔ صحابہ رِضوان اللّٰہ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نے یہودی کی یہ حرکت دیکھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اسے قتل نہیں کرنا۔

(بخاری کتاب استتابۃ المرتدین باب اذا عرض الذمی اوغیرہ بسب النبی حدیث نمبر 6926)

ایک سبق یہ بھی دے دیا کہ میری شفقت صرف اپنوں پر نہیں، غیروں پر بھی ہے۔ جو مجھ پر ظلم کرنے والے ہیں ان پر بھی ہے۔ سزا صرف ایسے جرموں کی دینا ضروری ہے جن پر حدود قائم ہوتی ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سزا مقرر کی ہوئی ہے، جن کا قرآنِ کریم میں واضح حکم دیا ہے یا اللہ تعالیٰ نے جن کے بارے میں آپ کو بتایا ہے۔

پھر آپ اور آپ کے صحابہ کو ایک یہودیہ نے گوشت میں زہر ملا کر کھلانے کی کوشش کی اور اقبالِ جرم کرنے کے باوجود آپ نے اسے معاف فرما دیا۔ صحابہ کو غصہ تھا، انہوں نے پوچھا بھی کہ اس کو قتل کر دیں، آپ نے فرمایا نہیں، بالکل نہیں۔

(بخاری کتاب الھبۃ باب قبول الھدیۃ من المشرکین۔ حدیث2617)

یہ ایک لمبی روایت ہے۔ وحشی کہتے ہیں کہ حضرت حمزہؓ کو جنگِ اُحد میں شہید کرنے کے بعد مَیں مکہ میں واپس آ گیا۔ اس نے حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا اور یہیں اپنی زندگی کے دن گزارتا رہا، یہاں تک کہ مکہ میں ہر طرف اسلام پھیل گیا۔ پھر مَیں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے سفیر بھیجے اور مجھے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفیروں سے انتقام نہیں لیتے۔ چنانچہ مَیں بھی طائف والوں کے سفیروں کے ساتھ ہو لیا۔ یہاں تک کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو دریافت کیا۔ کیا تم وحشی ہو؟ مَیں نے کہا جی، مَیں وحشی ہوں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم نے ہی حمزہؓ کو قتل کیا تھا؟ وحشی کہتے ہیں کہ مَیں نے عرض کی۔ جیسے آپؐ نے سنا ہے ایسا ہی معاملہ ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری خطائیں معاف کرتے ہوئے مجھے کہا کہ کیا تمہارے لئے ممکن ہے کہ تم میرے سامنے نہ آیا کرو؟ وحشی کہتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد مَیں مدینہ سے چلا آیا۔

(بخاری کتاب المغازی باب قتل حمزۃ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ حدیث نمبر4072) (خطبہ جمعہ 14؍ جنوری 2011ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2021