• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

اچھی صحت کے لئے پانی کی ضرورت اور افادیت

زندگی اور صحت کو برقراررکھنے کے لئے آکسیجن کے بعد سب سے ضروری چیز پانی ہے۔ تندرستی کو قائم رکھنے کے لئے ہمیںپاک و صاف ہوا کی طرح خالص اور پاکیزہ پانی کی بھی ضرورت ہے۔ جس طرح غلیظ ہوا میں سانس لینے سے ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح گندے اور کثیف پانی سے بھی ہماری صحت بگڑ جاتی ہے۔ معدے اور آنتوں کی مختلف بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بدہضمی ہو جاتی ہے۔ دست آنے لگتے ہیں۔ پیچش ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات پانی میں خطرناک اور مہلک وبائی امراض کے جراثیم کی آمیزش ہوتی ہے۔ کثیف پانی پینے سے انسان ٹائیفائڈ اور ہیضہ جیسے موذی امراض میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

خالص اور پاکیزہ پانی بقائے حیات کے لئے ایک نہایت ضروری چیز ہے۔ یہ ہماری غذا اور صحت کے لئے ضروری جزو ہے۔ یہ ہمارے جسم کی بناوٹ میں ستر فیصد کے قریب پایا جاتا ہے۔ پانی کا استعمال دوسری غذاؤں کے ساتھ اس لئے ضروری ہے کہ یہ غذا کو رقیق بنا کر ہضم کے قابل بناتا ہے اور اسے سیال شکل میں رکھتا ہے۔ یہ دوسرے غذائی اجزاء کو باریک باریک رگوں میں پہنچاتا ہے یہ فضلات کو رقیق بنا کر بول و براز اور پسینے کے راستے خارج ہونے میں سہولت بخشتا ہے۔ اسی کی وجہ سے خون کا دوران قائم ہے۔ پانی کی تاثیر سرد تر ہے۔ یہ پیاس بجھاتا۔ بیہوشی۔ تھکاوٹ ’ہچکی’ قے اور قبض کو دور کرتا ہے۔ یرقان اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔ جسم کے زہروں کو پیشاب اور پسینے کے راستے خارج کرتا ہے۔ خوراک کے ہضم کرنے میں مدد دیتا اور خون کو گاڑھا یا خراب ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔

پانی ہمیشہ صاف ستھرا اور میل کچیل سے پاک پینا چاہئے۔ کھانا کھانے کے دوران میں بہت کم مقدار میں پینا چاہئے۔ کھانے کے ایک دو گھنٹہ بعد کافی مقدار میںپی سکتے ہیں۔ صبح نہار منہ پانی پینا بےحدمفید ہے۔

طبیب اور ڈاکٹرز دونوںاس امر پر متفق ہیں کہ صبح خالی پیٹ پانی پینا کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ کھانے کے درمیان معمولی مقدار میںاور کھانا کھانے کے ایک دو گھنٹہ بعد کافی مقدار میں پانی پینا ہضم کے فعل کو قوی کرتا ہے اور اس طرح غذا کے طاقت بخش اجزاء جزو بدن ہو کر ہماری صحت کو برقرار رکھتے ہیں۔ کھانا کھانے سے پہلے اور فوراً بعد پانی پینے سے قوت ہاضمہ کمزور اور طاقت کم ہو جاتی ہے۔ جسم پھولنے لگتا ہے۔ البتہ کھانے کے دوران میں ایک ایک دو دو گھونٹ پانی پینے سے کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس میں بھی اعتدال لازمی ہے۔ گرمی کی وجہ سے بھوک نہ لگتی ہو تو کھانا کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے ٹھنڈا پانی پینے سے بھوک لگتی ہے۔

جن افراد کو اکثر و پیشتر قبض کی شکایت رہتی ہو۔ انہیں کھانے کے دوران میں دو دو تین گھونٹ پانی پیتے رہنا چاہئے اور کھانے کے ایک گھنٹہ بعد خوب پانی پینا چاہئے اس کے علاوہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس پانی پینا قبض کو بھی رفع کرتا ہے۔

پانی کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ یہ خون کو گاڑھا یا خشک ہونے سے بچاتا ہے چونکہ دل کی دھڑکن کے ساتھ خون ایک خاص مقدار میں جسم کی رگ رگ اور نس نس میں گردش کرتا ہے اس لئے ورزش اور گرمی سے گاڑھا ہوتا رہتا ہے اور اس میں جسم کے میل شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے اسے گاڑھا ہونے سے بچانے اور میل صاف کرنے کے لئے اس میں پانی کی کافی مقدار شامل ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ پانی جسم کے اندر تمام غلاظتوں کو صاف کرتا ہے۔ ہم جو پانی پیتے ہیں وہ جسم کے زہریلے مادے جذب کرکے پیشاب اور پسینے کے راستے خارج کر دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر پانی نہ ہو یا اس کا استعمال بہت ہی کم کیا جائے تو یہ سب غلاظتیں جسم کے اندر ہی رہیں گی اور اس طرح ایک تندرست جسم بیمار ہو جائے گا۔

زخمی افراد کو ہمیشہ پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے جسم کا بہت سا خون نکل جانے کے باعث جسم کو ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سیال چیز اندر پہنچے تاکہ خون آسانی سے دور کر سکے۔

بخار کی حالت میں بھی پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ بخار کی گرمی خون میں سے پانی کے بہت بڑے حصے کو بخارات کی صورت میں اڑا دیتی ہے۔ اسہال اور ہیضہ وغیرہ بھی ایسی بیماریاں ہیں جن میں خون کا سیال حصہ کافی مقدار میں خارج ہوتا ہے اور دوران خون قائم رکھنے کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی حالتوں میں اگر پانی میسر نہ آئے تو اکثر مریض اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ پانی کی کمی کے باعث جان دے دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں جسم سے بیماری کے زہر یا جراثیم کو باہر نکالنے کے لئے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیضے میں بڑی الائچی کے چھلکوں میں ابلا ہوا پانی مفید ہے۔

ہاضمہ درست رکھنے یا خون کی ضرورت پوری کرنے کے لئے جب جسم کو پانی کی طلب ہوتی ہے تو اس کا اظہار پیاس کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس لئے پیاس کو بہت دیر تک روکنا نقصان دہ ہے۔

کم پانی پینے سے قبض کی شکایت اکثر ہو جایا کرتی ہے۔ اگرچہ اس مرض کے اور بھی بہت سے اسباب ہیں۔ لیکن پانی کی کمی بھی اس کا خاص سبب ہے۔ یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ پانی کا درجہ حرارت ہمارے جسم کے درجہ حرارت کے مطابق ہونا چاہئے۔ برف سے بہت سرد کیا ہوا ، یا چائے وغیرہ کی صورت میں یا سادہ پانی بہت گرم حالت میں صحت کے لئے مضر ہے۔ گرم پانی جلد اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے تو برف ہاضمے کی خرابی اور معدہ و جسم کی کمزوری کا باعث ہوتی ہے۔

صحت کو برقرار رکھنے کے لئے پانی پینے کا بھی ایک طریقہ ہے جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں اور اگر جانتے بھی ہیں تو نظر انداز کر جاتے ہیں اور گلاس کو غٹاغٹ چڑھا جاتے ہیں۔ حالانکہ پیاس بجھانے کے لئے آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے گھونٹوں میں گلاس ختم کرنا چاہئے۔ زیادہ پیاس محسوس ہوتی ہو تو برف کار آمد نہیں ہو سکتی بلکہ برف کے پانی سے تو پیاس اور بڑھک اٹھتی ہے۔

خشکی کے غلبے کے باعث زیادہ پیاس محسوس ہو تو نیم گرم پانی سادہ یا ایک چمچ چینی ملا کر پینے سے تسکین حاصل ہوتی ہے۔ بیمار آدمی کو اکثر احباب پانی پلانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، حالانکہ بیمار خواہ کسی حالت میں ہو۔ اگر وہ پانی مانگے تو اسے ضرور پلانا چاہئے۔ پانی کی ایک یہ بھی خاصیت ہے کہ وہ گرم چیزوںکو ٹھنڈا کرتا ہے۔ اور چونکہ بخار کی حالت میں تمام اعضاء گرم ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں کسی حد تک خنکی پہنچانے کے لئے بار بار پانی پیتے رہنا مفید ہے۔ البتہ جن امراض میں پانی مضر ہو۔ ان میںاحتیاط سے کام لینا چاہئے۔

پینے کا پانی صاف ستھرا اور ملاوٹ اور جراثیم سے پاک پانی ہونا چاہئے۔ سڑا ہوا، بد ذائقہ اور باسی پانی قطعاً نہیں پینا چاہئے۔ بے موسم بارش کا پانی درخت سے ڈھکے ہوئے کنوؤں کا پانی جس میں پتے گر کر سڑتے ہوں اور جوہڑوں کا پانی مضر صحت ہے۔

وبائی امراض کے دنوں میں پانی کو جوش دے کر، صافی سے پن کر برتنوں میں بھر لینا چاہئے اور پھر ٹھنڈا ہونے پر پینا چاہئے جوش دینے سے پانی میں موجود زیادہ تر جراثیم مر جاتے ہیں۔ گرم کھانے کے بعد ، ترش اشیاء کے بعد کھیرا، خربوزہ ککڑی وغیرہ کے ساتھ یا بعد میں، سوکر اٹھنے کے فوراً بعد، ورزش اور محنت کے فوراً بعد دودھ اور چائے کے بعد یا جلاب ہو چکنے کے بعدپانی نقصان دہ ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مارچ 2020