• 19 اپریل, 2021

روایات از خان صاحب منشی برکت علی صاحبؓ ولد محمد فاضل صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضور کے آخری ایام میں جماعت بفضلہ تعالیٰ ترقی کر گئی تھی اور چھ سات سو احباب جلسہ سالانہ پر تشریف لاتے تھے۔ (اُس وقت کے صحابہ یہ جماعت کی ترقی کی باتیں کر رہے ہیں کہ چھ سات سو احباب جلسے پر تشریف لاتے تھے) لکھتے ہیں کہ ایک بار ہمیں بتلایا گیا کہ حضور کا منشاء ہے کہ سب دوست بازار میں سے گزریں تا کہ غیر احمدی اور ہندو وغیرہ خدا کی وحی کو پورا ہوتے ہوئے مشاہدہ کر لیں کہ کس طرح دور دور سے لوگ ہماری طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ (اور آج کل کے احمدیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر کتنی زیادہ حمد کرنی چاہئے۔ اُس زمانے کے بزرگوں کی نسلیں بھی آج دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور خود اُن کی ایک ایک کی نسلیں بھی سینکڑوں میں پہنچی ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ جو نئے شامل ہو رہے ہیں وہ تو ہیں ہی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیافرما رہے ہیں کہ قادیان کی گلیوں میں پھرو تا کہ اظہار ہو کہ ہم کتنی تعداد میں ہو گئے ہیں، اور آج دنیا جانتی ہے اور اخباروں میں لکھا جاتا ہے، ٹیلی ویژن پروگرام کئے جاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کیا چیز ہے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے)۔

پھر لکھتے ہیں کہ اس وقت یہ عام دستور تھا کہ مہمان روانگی سے قبل حضور سے رخصت حاصل کر کے واپس جاتے تھے۔ چنانچہ ایک بار مَیں نے بھی شام کے وقت رقعہ بھجوا کر اجازت چاہی۔ حضور نے جواباً ارشاد فرمایا کہ اجازت ہے مگر صبح جاتے ہوئے مجھے اطلاع دیں۔ حسب الحکم اگلی صبح روانہ ہونے سے قبل اطلاع کی گئی تو حضور بنفسِ نفیس رخصت کرنے کو تشریف لائے۔ اَور بھی کئی دوست ہمراہ تھے۔ حضور علیہ السلام کچی سڑک کے موڑ تک ہمارے ساتھ تشریف لے گئے۔ راستے میں مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ مَیں نے دیکھا کہ حضور نہایت اطمینان سے چل رہے تھے اور بظاہر نہایت معمولی چال سے، مگر وہ دراصل کافی تیز تھی۔ اکثر خدام کو کوشش کر کے ساتھ دینا پڑتا تھا۔ بچے تو بھاگ کر شامل ہوتے تھے۔

پھر لکھتے ہیں کہ غالباً 1900ء میں جبکہ تقسیمِ بنگال کا بڑا چرچا تھا مَیں نے اس بات کو مدّنظر رکھ کر ایک مضمون حقوقِ انسانی پر لکھا۔ حضور علیہ السلام بغاوت کو بالکل پسندنہ فرماتے تھے اور اپنی جماعت کو بھی وفا دار رہنے کی ہدایت فرماتے رہتے تھے۔ اِن احکامات کی روشنی میں مَیں نے مضمون لکھ کر حضور کی خدمت میں بھیجا کہ اگر حضور علیہ السلام پسند فرماویں تو اس مضمون کو اخبار میں اشاعت کے لئے بھجوا دیں۔ چنانچہ اسے حضور نے البدر میں شائع کروا دیا۔

آج کل کے حالات میں بھی جو بعض ملکوں میں ہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بغاوت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پسندنہیں فرمایا بلکہ بغاوت کے خلاف جو مضمون آیا اُسے شائع فرمایا۔

پھر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ بعدنماز مغرب حضور شاہ نشین پر بیٹھے تھے۔ کسی دوست نے عرض کی کہ تحصیل دار صاحب علاقہ صبح مینارہ کی تعمیر کے سلسلہ میں موقع دیکھنے کے لئے آ رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام مینارۃ المسیح بنوانا چاہتے تھے (اُس کے بننے سے پہلے کا واقعہ ہے) مگر قادیان کے ہندو وغیرہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اور انہوں نے سرکار میں درخواست دی ہوئی تھی کہ مینارہ بنانے کی اجازت نہ دی جاوے۔ حضور علیہ السلام نے تحصیل دار کی آمد کے متعلق سن کر فرمایا کہ بہت اچھا۔ ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اُن کا مناسب استقبال کریں اور اُنہیں موقع دکھاویں۔ (جو مختلف احمدی لوگ ہیں وہ جائیں۔ اچھی طرح تحصیلدار کا استقبال کریں۔ اُس کو موقع دکھائیں۔) پھر فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے کہ مینارہ ضرور تعمیر ہو گا اس کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تعمیر ہوا۔

پھر لکھتے ہیں کہ حضور علیہ السلام عام طورپرمحفل میں کس طرح بیٹھتے تھے یا کس طرح چلتے تھے۔ اس بارہ میں کہتے ہیں کہ مَیں نے حضور کی محفل میں دیکھا ہے کہ حضور کی آنکھیں نیچے جھکی ہوئی ہوتی تھیں اور قریباً بند معلوم ہوتی تھیں۔ مگر جب کبھی حضور میری جانب نظر اُٹھا کر دیکھتے تھے تو مَیں برداشت نہیں کر سکتا تھا اور اپنی نظر نیچی کر لیتا تھا۔

(رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر142تا144غیر مطبوعہ)

لکھتے ہیں کہ غالباً آخری دنوں کا واقعہ ہے کہ مَیں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی معرفت عریضہ ارسال کیا اور ملاقات کی خواہش کی۔ موصوف اُس وقت سترہ اٹھارہ سال کی عمر کے تھے۔ حضور علیہ السلام نے اجازت مرحمت فرمائی اور اوپر کمرے میں بلوا لیا۔ مَیں نے حضور سے عرض کیا کہ مَیں غیر احمدی ہونے کی حالت میں دفتر میں ایک فنڈ میں شامل تھا جس کا نامFortune Fund تھا۔ پندرہ سولہ آدمی تھے۔ آٹھ آنے ماہوار چندہ لیا جاتا تھا۔ فراہم شدہ رقم سے لاٹری ڈالی جاتی تھی اور منافع تقسیم کر لیا جاتا تھا۔ یہ کام احمدی ہونے کے بعد تک جاری رہا۔ چنانچہ ایک دفعہ ہمارے نام تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کی لاٹری نکلی۔ اور قریباً ساڑھے سات ہزار روپیہ میرے حصے میں آیا۔ (تواب احمدی ہونے کے بعدپوچھ رہے ہیں کہ) مجھے خیال ہوا کہ کیا یہ امر جائز بھی ہے؟ حضور سے دریافت کرنے پر جواب ملا کہ ’’یہ جائز نہیں‘‘۔ (یہ لاٹری وغیرہ کا جوطریقہ ہے) اس رقم کو اشاعتِ اسلام وغیرہ پر خرچ کر دینا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی چیز حرام نہیں۔ پھر انہوں نے اُس کو کچھ چندے میں دیا۔ کچھ غرباء میں تقسیم کیا۔

(رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر146تا147غیر مطبوعہ)

(خطبہ جمعہ 8؍ اپریل 2011ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مارچ 2021