• 19 اپریل, 2021

دبستانِ حیات قسط (ہشتم)

دبستانِ حیات
قسط ہشتم

سیرو ا فی الارض
مختصر تعارف آکسفورڈ انگلستان

ایک دفعہ سینیگال میں خاکسار کے پاس ایک احمدی ممبر آف پارلیمنٹ اپنے ایک عزیز مسڑ کابا کے ہمراہ تشریف لائے۔ تعارف پر معلوم ہوا کہ یہ صاحب ڈاکار یونیورسٹی میں فزکس پڑھاتے ہیں نیز فرانس میں بھی کسی یونیورسٹی میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ میں نے فزکس کے حوالے سے انہیں پوچھا ۔کیا آپ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں جانتے ہیں۔مکرم کابا صاحب بےاختیار بول اٹھے ،کہ اس صدی میں جو آدمی ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں نہیں جانتا ۔میرے نزدیک وہ تو انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں ہے۔

ایسی ہی کچھ اہمیت آکسفورڈ کی ہے۔دنیا کا ہر ذی شعور انسان اس شہر کے نام سے تو کم از کم آشنا ہے۔اس طرح جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے۔ آکسفورڈ شہر کی عظمت و اہمیت کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اورسن رکھا ہے۔ لیکن حدیث نبوی ﷺ کے مطابق لیس الخبر کالمعاینۃ کی حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے۔

پروگرام

اسی جذبہ کے تحت جامعہ احمدیہ کے اساتذہ کرام نے بھی ایک تفریحی و مطالعاتی پروگرام ترتیب دیا۔ جس میں نو اساتذہ کرام شریک سفر تھے۔ مکرم حمیداللہ صاحب نے ڈرائیونگ کی خدمات سر انجام دیں۔ فجزاہ اللہ

آغاز سفر

صبح ساڑھے نو بجے دعا کے بعد جامعہ احمدیہ کے نو اساتذ کرام کا ایک گروپ جامعہ احمدیہ کی وین میں جس کو مکرم حمیداللہ صاحب ڈرائیو کررہے تھے۔ آکسفورڈ کو روانہ ہوا۔

آکسفورڈ میں آمد

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر طے کرکے آکسفور ڈمیں جماعت کے مرکز میں پہنچے۔جہاں پر مکرم مبارک احمدبسرا صاحب مربی سلسلہ اور مکرم ڈاکٹر منور احمد صاحب صدر جماعت نے بڑے پر تپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔

مشن ہاؤس

آکسفورڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی ایک خوبصورت مسجد ہے۔جس میں نمازیوں کے لیے ایک مردانہ اور ایک زنانہ حال ہے۔اور اس میں مکرم مربی صاحب کا آفس اور رہائش گاہ بھی ہے ۔

آکسفورڈ کی تاریخ

آکسفورڈ دریائے آکس کے کنارے، انگلستان کاایک شہر ہے۔ اس کے معنی (دریائے آکس کا گھاٹ) کے ہیں۔ اس جگہ انگلستان کا مشہور اور قدیم دارالعلوم واقع ہے۔ اس کی بنیاد قدیم زمانے میں رکھی گئی تھی۔ لیکن منظم تدریس کا آغاز 1133ء سے ہوا جب پیرس کے رابرٹ پولین نے یہاں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے یونیورسٹی کی صورت 1163ء میں اختیار کی۔ اس میں اٹھائیس کالج ہیں جن کی اقامت گاہیں بھی ہیں۔ لیکن تدریس تمام کالجوں کے مشترکہ لیکچروں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اورکالجوں کے ٹیوٹر اپنی اپنی اقامت گاہوں پر بھی تعلیمی رہنمائی کرتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی شہرہ آفاق بوڈیلین لائبریری دنیا بھر کی سب سے بڑی لائبریری ہے۔ اس کی مزید توسیع 1946ء میں جدید بوڈیلین لائبریری کی شکل میں ہوئی۔

ماضی کی امتیازی پالیسی

آکسفورڈ یونیورسٹی اور کیمبرج کے دروازے 1854ءتک ان لوگوں کے لیے بند تھے جو پراٹسٹنٹ مذہب یعنی چرچ آف انگلینڈ کے 39 اصولوں پر ایمان نہ لاتے ہوں۔ 1871 تک ان دونوں یونیورسٹیوں میں کسی ایسے شخص کو کسی قسم کا امتیاز، یا وظیفہ تعلیم بھی نہیں مل سکتا تھا۔

شہر کی موجودہ آبادی

کہتے ہیں ۔آجکل شہر کی کل آبادی ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اور اس میں سے چالیس ہزار طالب علم ہیں ۔

ساؤتھ پارک

ہماری پہلی منزل ساؤتھ پارک تھی۔گائیڈ مکرم بسرا صاحب ہمیں ایک پارک میں لے گئے۔سڑک کے کنارے پر گاڑی پارک کی۔پھر وہاں سے پیدل ،پارک کی ایک جانب پہنچے۔سامنے حد نگاہ تک وسیع وعریض میدان ہی نظر آتا تھا۔ احباب سامنے کو چل پڑے۔اور پھر چلتے ہی گئے۔یہاں پر وفد میں پہلی بارتفریق پیدا ہوئی۔اور ہم لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ نوجوان گروپ آگے چلا گیا اور بزرگ گروپ نے اپنے تجربہ کی روشنی میں سوچ سوچ کر قدم اٹھا نے شروع کردیے۔کیونکہ منزل کا کوئی علم نہ تھا ۔

آگے مسلسل چڑھائی تھی۔فضا میں خنکی بھی تھی۔بزرگوں کےدل ودماغ میں مسلسل جنگ ہورہی تھی۔کہ آگے جائیں کہ نہ جائیں۔

تقریباً وسط میں جاکر احباب کھڑے ہوگئے۔تو پھر پیچھے رہنے والے احباب نے بھی ایک جذبہ کے تحت ایک نئے جوش اور ولولہ سے قدم اٹھائے اور پھر جلد ہی یاران سست گام نے محمل کو آلیا۔پارک کا یہ حصہ قدرے اونچی جگہ ہے۔جہاں سے آپ پورے آکسفورڈ کے اہم مقامات کا بھر پورنظارہ کر سکتے ہیں۔

لائبریریاں اور کتب خانے

شہر بھر میں بے شمار لائبریریاں ہیں ۔ہر کالج کی الگ الگ لائبریری ہے۔بعض لائبریریاں صرف ان کے اپنے طلبہ اور سٹاف کے لیے مخصوص ہیں اور بعض صدائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لیے۔ممکن ہے دنیا میں سب سے زیادہ کتب بھی اسی شہر میں ہوں۔

معروف بک شاپ

شہر میں بے شمار کتب خانے ہیں ۔ان میں سے ایک معروف بک شاپ BLACKWELL دیکھنے گئے۔ جس میں بلا مبالغہ دنیا کے ہر موضوع پر لاکھوں کتب ہوں گی۔ جو اس دور کی جدید ترین سہولتوں سے آراستہ و پیراستہ تھی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ

BADBLEIL کالج بھی اس شہر کے اہم تعلیمی مراکز میں سے ایک ہے جوشہر کےوسط میں واقع ہے۔اس کالج کے ساتھ سب احمدیوں کا ایک خاص رشتہ ہے۔ اور اس کو دیکھنے ضرور جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے تیسرے خلیفہ حضرت میرزا ناصر احمد صاحب ؒ نے یہاں بھی اعلیٰ تعلیم کی کچھ منازل طے کیں۔

قتل مرتد

اس کالج کے مین گیٹ کی بائیں جانب کی دیوار میں ایک کندہ سلیٹ ہے۔ جس پر اس شہر میں جنم لینے والی ایک درد ناک کہانی مختصر الفاظ میں رقم ہے۔اس دیوار میں کندہ پلیٹ کے عین سامنے ،سڑک کے درمیان ایک جگہ اس دلخراش واقعہ کی نشان دہی کے لئے جگہ چھوڑ رکھی ہے۔جہاں پر 1955 میں چار بہت اہم پروٹسٹنٹ شخصیات کو ارتداد کے جرم میں زندہ جلادیا گیا تھا۔ان درد ناک اور دلخراش واقعات کو ‘بک آف مارٹرز’میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔

سائیکل بستی

شہر میں سیر کے دوران ایک چیزخصوصی توجہ کا مرکز و محوربنی ۔وہ تھے،رنگ برنگے ان گنت سائیکل۔چونکہ یہ ایک طالب علموں کا شہر ہے۔اس لئے فراٹے بھرتی کاریں بہت کم نظر آئیں۔اس شہر میں اس کثرت سے سائیکلوں کو دیکھ کر ربوہ کی یاد تازہ ہوگئی۔جہاں ہر چھوٹا بڑا سائیکل لئے آ جا رہا ہوتا ہے۔،جہاں ہر کوئی اپنے اپنے سائیکل پر سُوئے منزل روں دواں ہے۔

تعلیمی ادارے

کہتے ہیں اس شہر میں بنیادی طور پردو یونیورسٹیاں ہیں ۔ایک کا نام آکسفورڈ یونیورسٹی ہے۔ اور دوسری بروکرزہے۔

ان یونیورسٹیوں کے زیر سایہ بہت سےکالج ہیں۔

ان درس گاہوں میں چالیس ہزار کے قریب طلبہ کسب فیض کر رہے ہیں۔

نوجوانوں کا شہر

جیسا کہ پہلے عرض کی گئی ہے کہ اس شہر میں ڈیڑھ لاکھ کی آبادی میں سے چالیس ہزار کے قریب طالب علم ہیں۔اس لئے غالب امکان ہے کہ نوجوانوں کی شرح دوسرے شہروں کی نسبت سے اس شہر میں سب سے زیادہ ہے۔

بنگلہ مسجد

آکسفورڈ کی ہائی اسڑیٹ پرایک عمارت ہے۔جس میں ایک کمرہ کو مسجد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔وہاں پر بلا تمیز مذھب و مسلک کوئی بھی مسلمان بھائی اپنے طریق پرنماز ادا کرسکتے ہیں۔ہم لوگوں نے بھی نماز ظہر وعصر اسی مسجد میں ادا کیں۔اس دوران اور کئی لوگ انفرادی طور پر اور کچھ لوگ با جماعت نماز ادا کررہے تھے۔

جناب مکرم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی وفات

دنیائے احمدیت کے عالمی شہرہ یافتہ سپوت مکرم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے بھی زندگی کے آخری ایّام اسی شہر میں گزارے۔اور ادھر ہی ان کا وصال ہوا۔

میوزیم (داستان عالم)

ہمارے اس تفریحی سفر کی آخری منزل آکسفورڈ کا نیچرل سائنس میوزیم تھا۔ مکرم بسرا صاحب کی قیادت میں ادھر پہنچے۔بڑا تاریخی ،قیمتی اورقابل قدر خزانہ محفوظ ہے۔ اس کے مشاھدہ کے لئے تو عمر ِخضر ہونی چاہیے۔شام ہو چکی تھی اور اندھیروں کے دامن وسیع سے وسیع تر ہوتے جارہے تھے۔

تھوڑے سےمیسر وقت میں جو ممکن ہوا ،اپنے اجداد اور ان کی ہم عصر مخلوق کا انجام دیکھ کر جلدی سےایک سرسری سی نظر دوڑائی اور باقی عندالتلاقی کہہ کر کے واپس آگئے۔

کالا سفید

کہتے ہیں۔نومولود بچے کو دو ہفتوں کے لیے ہر چیز بلیک اینڈ وائٹ ہی نظر آتی ہے۔اس کے بعد اس میں مختلف رنگوں میں امتیاز کرنے کی اہلیت اور استعدادپیدا ہوتی ہے جس سے وہ اشیاء کو ان کے اصل رنگ وروپ میں مشاھدہ کرکے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔یہی کیفیت ہماری تھی ۔آکسفورڈ میں اپنی کم عمری کے باعث ابھی بلیک اینڈ وائٹ میں ہی تھے ۔اورخدا تعالیٰ کے تخلیق کردہ باقی ماندہ خوبصورت رنگوں کو دیکھنے کے قابل نہ ہوئے تھے کہ واپسی کا بگل بجا دیا گیا۔

واپسی کا سفر

میوزیم کے بعد مسجد میں واپس آئے۔ نماز مغرب و عشاء مکرم حافظ طیب احمد صاحب کی اقتداء میں ادا کیں۔جس میں انہوں بڑی خوش الحانی سے تلاوت فرمائی۔فجزاھم اللہ۔

مکرم مربی بسرا صاحب کی دعا کے بعد لندن کو عازم سفر ہوئے،راستہ میں مکرم نسیم باجوہ صاحب نے بڑی پر سوز آواز میں درثمین سے ایک نظم سنائی۔پھراحباب کی پر لطف باتوں ،خوبصورت چٹکلوں اور دلچسپ واقعات نے ایسا کرشمہ دکھایا کہ سفر کے گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔ بفضل تعالیٰ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد ہم بخیریت جامعہ میں پہنچ گئے۔الحمدللہ

شکروامتنان

من لا یشکرالناس لا یشکراللّٰہ کے ارشاد ربانی کے مطابق ہم سب افراد قافلہ اپنے میزبانوں مکرم بسرا صاحب مربیّ سلسلہ اور مکرم ڈاکٹر منوراحمد صاحب صدر جماعت آکسفورڈ کے بھرپورتعاون، راہنمائی اور شاندارمہمان نوازی کے لئے تہہ دل سے ممنون ہیں اور ان کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہیںکہ باری تعالیٰ انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ آمین

کچھ عرصہ قبل انگلستان کے معروف اور تاریخی شہر مانچسٹر جانے کا اتفاق ہوا۔ہم لوگ یوسٹن سٹیشن لندن سے مانچسٹر کے لئے دو بجکر چالیس منٹ پرروانہ ہوئے۔کہتے ہیں وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔انگلستان میں توگاڑی بھی کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ہماری ٹرین حسب پروگرام عین وقت پر یوسٹن سٹیشن لندن سے روانہ ہوئی اور عین مقررہ وقت پرمنزل مقصود پر پہنچ گئی۔ یہ سفر خاصا دلچسپ اور معلوماتی تھا۔ٹرین میں آرام دہ نشستیں تھیں ۔ اتفاق سے میری نشست کے سامنے میز کی بھی سہولت تھی جس سےہم نے کما حقہ فائدہ حاصل کیا۔

ایک دفعہ ہمارے ایک دوست بذریعہ ٹرین سفر کررہے تھے۔ رستہ میں کسی دوست کے ساتھ فون پربات چیت میں مصروف ہوگئے۔ اور حسب عادت بآواز بلند بولنا شروع کردیا۔ ساتھی مسافروں نے انہیں بڑے آرام سے سمجھا دیا کہ آپ کے فون کی وجہ سے ہم ڈسڑب ہو رہے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ٹرین کے ڈبے میں کیسا سکون ہوگا۔ٹرین میں ایک مختصر سی دوکان بھی تھی۔جس میں کھانے پینے کے علاوہ دیگر بنیادی اشیاء خریدنے کی سہولت بھی موجود تھی۔

نعمت ہے یا زحمت

مسافر بڑے ہی آرام و سکون سے بغیر کسی دھکم پیل کے اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوگئے۔اکثر احباب نے جلد ہی اپنے لیپ ٹاپس یا ٹیلی فونز آن کرلئے۔اس دور کی ایجادات نے تو انسان سے انسان کا رشتہ ہی ختم کردیا ہے۔ایک دوسرے کےپاس بیٹھ کر بھی کسی دور کی دنیا میں جا بستے ہیں۔بسا اوقات کئی لوگ ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں۔لیکن ہر کوئی اپنے اپنےفون پر کہیں اور ہی مصروف عمل ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسی مہلک بیماری ہے۔ جس نے پیار اور محبت کے انسانی رشتوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔کہتے ہیں اس ٹیلی فون کی وجہ سے دنیا میں ہر سال ہلاکتوں کی تعداد کئی ملین تک پہنچ چکی ہے۔ایک دور تھا جب ہمارے ماحول میں بڑی عمر کے لوگ ہی ضعف بصارت کی وجہ نظر والی عینک لگایا کرتے تھے۔لیکن اب اس سوشل میڈیا کی مہربانی سے نظر والی عینک بوڑھوں بزرگوں کے علاوہ بچوں اور نوجوانوں میں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔

مجھے یاد آگیا ہے۔چند یوم قبل میں نے ایک وڈیو کلپ دیکھی۔جس میں ایک نوجوان خاتون اپنے بچے کو گود میں اٹھائے فیڈر کے ذریعہ دودھ پلانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کےساتھ ہی ایک بلی بھی بیٹھی ہوئی ہے۔خاتون اپنے موبائل میں اس قدر محو ہے کہ فیڈر سے بچے کی بجائے بلی دودھ کے مزے لے رہی ہے۔

لندن سے مانچسٹر 208میل کے فاصلہ پر ہے۔ بذریعہ کارسفر کیا جائے تو پانچ گھنٹے کے قریب وقت لگ جاتا ہے۔اگربذریعہ بس جائیں تو ٹریفک پر منحصر ہے ۔چار سے سات گھنٹے تک بھی صرف ہوجاتے ہیں۔جبکہ ٹرین پر صرف دو گھنٹے اور دس منٹ لگتے ہیں۔

گورنمنٹ برطانیہ کی انسان پروری

برطانیہ گورنمنٹ اپنے شہریوں کی اعانت اورفلاح بہبود کے لئے بہت ساری سہولیات فراھم کرتی ہے۔خاص طور پر بوڑھوں،بچوں اور کمزوروں کے اندرون ملک سفرلئے خصوصی مراعاتی پیکجز ہوتے ہیں۔

ساٹھ سال سے بڑی عمر کے شہری اندورن لندن بذریعہ بس،ٹرین اور ٹرام مفت سفر کرتے ہیں۔ جبکہ ایسے افراد کو اندرون ملک بھی رعایتی ٹکٹ کی سہولت میسر ہے۔ اگر کوئی شہری زیادہ بیمار ہے۔ اس کے رعایتی ٹکٹ کے علاوہ اس کی دیکھ بھال کرنے والے کو بھی رعایتی ٹکٹ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس سفر مانچسٹر میں مجھے بھی بیماری اور بڑی عمر کی وجہ سے اس سہولت سے مستفید ہونے کا موقعہ مل گیا۔

یہ انگلستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔جو لندن سے دوسو آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔

تعارف مانچسٹر شہر

سن دو ہزار تیرہ کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی پچیس لاکھ سے زائدہے۔

جن میں پاکستانی افراد کی تعداد پینتالیس ہزار کے قریب ہے جو کہ 2011 میں بیالیس ہزار نو سو تھی۔

1979سے پہلے یہ ایک جاگیردارانہ بستی رہا ہے۔

کسی زمانہ میں مانچسٹرریلوے اسٹیشن دنیا کا پہلا ریلوے اسٹیشن تھا۔

ایک دور میں دنیا بھر میں معروف صنعتی شہر ہونے کا اعزاز رکھتا تھا۔

1853 میں اسے شہر کا درجہ دیا گیا۔

1894 میں یہاں کی معروف مانچسٹر شپ نہر کا افتتاح ہوا ۔جس سے یہاں بندرگاہ بنی۔جسے ایک تاریخی اور اہم مقام حاصل ہے۔

سیاحت کے اعتبار سے لندن ،ایڈنبرا کے بعد اسی شہرکانام آتا ہے۔

علمی میدان میں بھی اس کا بڑا مقام ہے۔اس میں دو معروف یونیورسٹیاں ہیں یہ ملک کی تیسری بڑی معیشت ہے ۔

یہاں سائنس دانوں نے پہلی بار ایٹم کو تقسیم کیا اور پہلا سٹورڈ پروگرام کمپیوٹر بنایا۔

مانچسٹر کے مضافات میں لیور پول،نارتھ ویلز،لنکائشر،بلیک پول اوربرن پول وغیرہ قابل دید شہر ہیں۔

عزیزم محمد احمد خورشید کا گھر جو ھُیوم (Hulme) کے علاقہ میں ہے۔ان کے گھر سے چند منٹ کی پیدل مسافت پر سٹریفورڈ پر ھُیوم پبلک لائبریری ہے۔جس کے عین سامنے بس سٹاپ ہے۔

ودنشاو اسپتال Wythenshawe hospital

میں چونکہ ڈیالیسز کا مریض ہوں۔مجھے اپنی بیماری کی نسبت سے ہر دوسرے روز ڈیالیسز کے لئے اسپتال جانا پڑتا ہے اور ہر بار اس سیشن پر پانچ سے چھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔کسی بھی دوسرے اسپتال میں اگر یہ ڈیالیسز کرانے ہوں تو مریض کو کم ازکم ایک ماہ قبل دوسرے شہر والے سنٹر یا متعلقہ اسپتال سے رابطہ کرنا پڑتا ہےجس پر دونوں اسپتالوں کے ما بین بہت سی رپورٹس کا تبادلہ ہوتا ہےاس کے بعد مریض کو دوسرے ادراہ میں ڈیالیسز کی اجازت ملتی ہے۔ اس ساری کارروائی کے بعد مجھے مذکورہ بالا اسپتال میں ڈیالیسز کی اجازت ملی تھی۔

یہ اسپتال مانچسٹر ائیرپورٹ کے مضافات میں ہے جومیری قیام گاہ سےتقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے۔

پہلی بار اسپتال جانا تھا ۔ماحول سے نا آشنائی تھی۔ڈیالیسز اڑھائی بجےشروع ہونے تھے۔خاکسار عزیزم محمد احمد کے ساتھ بروقت پہنچ گیا۔اپنی بار ی آنے پر ڈیالیسز شروع کیا۔سٹاف کی خوش خلقی اور برتاؤ سے بہت متأثر ہوا۔ان کا طریق کار اور برتاؤ لندن میں ڈیالسز سٹاف سے بدرجہا بہتر تھا۔

دن کیسے گزارا جائے

میری قیام گاہ کے قریب ہی ایک لائبریری تھی ۔سوچا وہاں جاکر کتب بینی کرتا ہوں ۔لائبریری چلا گیا ۔کچھ وقت کے لئے مختلف کتابوں کی ورق گردانی کی اور پھر وہاں سے باہر سڑک پر نکل آیا۔ لائبریری کے دروازے کے قریب ہی بس سٹاپ تھا۔نہ معلوم کہاں جارہی تھی۔ سوچا چلو بیٹھ جاتے ہیں۔ کیونکہ میرے پاس فریڈم پاس ہے۔اس لئے جہاں بھی لے جائے گی وہاں سے واپسی مشکل نہیں ہو گی۔

خیر! اللہ کانام لے کر بس میں سوار ہوگیا گورنمنٹ برطانیہ کی انسان پروری ہے کہ ساٹھ سال کی عمر میں فریڈم پاس کا تحفہ دے دیتی ہےجس کے ذریعہ آپ بہت سے شہروں میں بغیر کسی کرایہ کےسفر کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنافریڈم پاس بس ڈرائیور کی خدمت میں پیش کیا جس نے حسب قواعد مجھے بلا معاوضہ ہی اپنی بس پر سوار ہونے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ سوچا یہ بس جہاں تک جائے گی میںوہاں سے اسی بس پر واپس آ جاؤں گا۔اس طرح ایک معلوماتی سفر کا آغاز ہوگیا۔

یہ دو منزلہ بس تھی ۔میں بس کی دوسری منزل پر جاکر بیٹھ گیا۔کیونکہ اونچائی سےشہر کا نظارہ قدرے بہتر ہوسکتا تھا۔ بس اپنے روٹ پر خراماں خراماں دوڑتی رہی۔راستہ میں بہت سی بلند وبالا عمارات دیکھنے میں آئیں۔

ابھی دس منٹ گزرے ہونگے کہ سڑک کی بائیں جانب مانچسٹر کا معروف زمانہ یونائٹڈ فٹ بال سٹیڈیم نظر آیا۔ اگر چہ میں خود تو فٹ بال کا اتنا شوقین نہیں ہوں لیکن بہر حال فٹبال کے دیوانوں کے لئے چند بنیادی معلومات سپرد قلم کئے دیتا ہوں۔

یونائیٹڈ مانچسٹر فٹبال سٹیڈیم

اس کلب کا آغاز 1878ء میں Newton Heath LYR Football Club کے نام سے ہوا۔1902ء میں اس کو مانچسٹر یونائیٹڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں 75000 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

ٹریفورڈ سنٹر TRAFFORD CENTRE

تقریباً بیس منٹ کے دلچسپ اور معلوماتی سفر کے بعد بس ایک بڑے سے وسیع وعریض احاطہ میں داخل ہوئی۔ دریافت کرنے پر علم ہوا کہ یہ مانچسٹر کا بہت ہی معروف شاپنگ مول ہے جو Trafford centre کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ میری بس کا آخری سٹاپ تھا۔بس رکی تو سب سواریاں اتر گئیں ۔میں بھی ان کی اقتدا میں بس سے نیچے اترا اور جس جانب اکثر لوگ جا رہے تھے میں بھی چل پڑا۔ابھی چند ہی منٹ چلا ہونگا کہ ایک بہت ہی چکا چوند بازار میں داخل ہو گیا۔ یہ بہت ہی خوبصورت ،دیدہ زیب اور عالیشان عمارت ہےجس میں دوطرفہ دوکانیں ہیں ۔یہ دومنزلہ بازار ہے۔ اوپر نیچے جانے کے لئے مختلف مقامات پر سیڑھیوں اور لفٹ کی سہولیات موجود ہیں۔عمارت کےدرو ودیوار پر مصورین کے دلآویز شہ پارے مداحوں کی نظر شوق کے طالب ہیں۔ ساری عمارت شیشہ سے مسقف ہے۔ اس مارکیٹ میں دائیں بائیں انسانی کاریگری اور صنعت کے بےنظیر نمونے دیکھ کے آپ حیران ہوتے ہیں۔لیکن جب نگاہیں بلند کرتے ہیں تو آپ کو بلند وبالا اور لامحدود و بے کنارخوبصورت نیلگوںآسمان کی زیارت ہوتی ہےجس سے احساس ہوتا ہے کہ انسانی تخلیق کتنی محدود ہے۔لیکن حقیقت یہی ہے۔

؎بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہر گز

(منور احمد خورشید ۔واقفِ زندگی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مارچ 2021