• 6 مئی, 2021

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 16؍ اپریل 2021ء

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 16؍ اپریل 2021ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خداتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے
پاکستان اور الجزائر سمیت جہاں بھی احمدیوں کو تکلیفیں دی جاتی ہیں ان کے لیے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔
دوسروں کے لیے دعائیں کرنے والے کے لیے فرشتے دعائیں کرتے ہیں … اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں خاص طور پر اس نسخے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

رمضان المبارک کی مناسبت سے دعا کی اہمیت، قبولیتِ دعا کی شرائط اور فلسفےسے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کے بعض فرمودات کا بیان

امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز نے مورخہ 16؍ اپریل 2021ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینے کی سعادت مکرم سرفراز باجوہ صاحب کے حصے میں آئی۔ تشہد، تعوذ، سورةالفاتحہ اور سورة البقرة کی آیات 184تا 187کی تلاوت و ترجمہ پیش کرنے کے بعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال پھر ہمیں ماہِ رمضان میں سے گزرنےکا موقع مل رہاہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صرف رمضان کے مہینے کو پانا، سحری اور افطاری کرنا کافی نہیں بلکہ روزوں کے ساتھ ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ روزوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعض حکم دیے ہیں، اور ان پر عمل کرنے کے نتیجے میں اپنا قرب عطا فرمانے اور قبولیتِ دعا کی نوید سنائی ہے۔ جو آیات مَیں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے روزوں کی فرضیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ بیماری اور جائز وجہ سے روزوں سے رخصتی اور بعد میں روزوں کی تعداد کوپورا کرنے نیز اگر طاقت ہو تو فدیہ ادا کرنے کا حکم ہے۔قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے نزول کے متعلق بتا کریہ سمجھایا گیا ہے کہ اس تعلیم پر عمل کرنا ہمارے لیے ہدایت اور مضبوطی ایمان کا ذریعہ ہے۔ پھر ہمیں یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ اے نبی! میرے بندوں کو بتادے کہ مَیں ان کے قریب ہوں۔ دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں۔

قبولیتِ دعا کے لیے بعض شرائط ہیں، جب ہم ان شرائط کے مطابق اپنی دعاؤں میں حسن پیدا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب اور دعاؤں کو سننے والا پائیں گے۔ اس وقت مَیں دعا کی اہمیت،قبولیتِ دعا کی شرائط اور فلسفے سے متعلق حضرت مسیح موعودؑ کے بعض فرمودات پیش کروں گا۔ قبولیتِ دعا کے مضمون میں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ پہلا قدم بندے نے ہی اٹھانا ہے، جب اس کی انتہا ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور شفقت جوش میں آتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
دعا اسلام کا خاص فخر ہے اور مسلمانوں کو اس پر بڑا ناز ہے۔ دعا زبانی بَک بَک کا نام نہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خداتعالیٰ کے خوف سے بھرجاتا اور رُوح آستانۂ الوہیت پر گرتی ہے۔ یہ وہ حالت ہے کہ دوسرے الفاظ میں اسے موت کہہ سکتے ہیں۔

قبولیتِ دعا کے مسئلے کو بیان کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ استجابتِ دعا کا مسئلہ درحقیقت دعا کے مسئلے کی فرع ہے۔ دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق مجاذبہ ہے۔ جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہوکر خداتعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل محبت اور وفاداری سے جھک کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدان میں آگے جاتا ہے اور بارگاہِ الوہیت میں اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے۔ تب قوتِ جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خداتعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے یا جو کچھ کہ اولیائے کِرام ان دنوں تک عجائب اور کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اس کو اپنی راہ دکھلا دیں گے۔ مجاہدہ پہلے بندے کے ذمہ ڈالا پھر یہ دعا سکھائی کہ ہمیں صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دے۔سو انسان کو چاہیے کہ اس کو مدنظر رکھ کر نماز میں بالحاح دعا کرے۔اُس جہان کے مشاہدے کے لیے اِسی جہان سے ہمیں آنکھیں لے جانی ہیں۔

پس ان دنوں اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا بہت کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے۔ دلوں کو پاک کرکے حقیقی عابد بنائے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کا حق ادا کرنے والا بھی بنائے۔آج کل جس طرح شدت پسند کر رہے ہیں ان کی طرح نہ ہوجائیں کہ خدا اور رسول کے نام پر ظلم کیے جارہے ہیں۔

بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو اس قدر گناہ گار ہوگئے ہیں کہ اب خداتعالیٰ ہمیں بخشے گا نہیں۔ اصل میں شیطان یہ وسوسے ڈال رہا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ شیطان کے اس حملے سے بچنے کا طریق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ گناہ کرنے والا گناہوں کی کثرت کا خیال کرکے دعا سے ہرگز باز نہ رہے۔ جو لوگ معاصی میں ڈوب کر دعا کی قبولیت سے مایوس رہتے ہیں اور توبہ کی طرف رجوع نہیں کرتے آخر وہ انبیاء اور ان کی تاثیرات کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ اپنے الہام ’اُجِیْبُ کُلَّ دُعَائِکَ‘ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’کُلّ‘ سے مراد یہ ہے کہ جن کے نہ سننے سے ضرر پہنچتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ تربیت اور اصلاح چاہتا ہے تو ردّ کرنا ہی اجابتِ دعا ہے۔ راز اور بھید یہی ہے کہ داعی کے لیے خیر اور بھلائی ردِّ دعا میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبولِ دعا میں ہمارے اندیشہ اور خواہش کے تابع نہیں ہوتا۔ مَیں خود اس امر میں ایک تجربہ رکھتا ہوں کہ دعا میں جب کوئی جزو مضر ہوتا ہے تو دعا ہرگز قبول نہیں ہوتی۔

حضورِانور نے فرمایا: روزانہ کی ڈاک میں لوگوں کے خط آتے ہیں کہ دعا کرتے ہیں اور زبردستی ایک کام کرنے کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں پھر بھی اس کے نتیجے بہتر نہیں نکلتے تو اللہ تعالیٰ سے شکوہ ہوتا ہے۔ فرمایا پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا دعا کو انتہا تک پہنچایا کہ نہیں۔ اگر دعا کو انتہا تک پہنچایا اور پھر بھی اس کے نتائج نہیں نکلے تو پھر یہی اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی اور اسی میں انسان کا فائدہ تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور ان کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے مگر ہر رطب و یابس کو نہیں کیونکہ جوشِ نفس کی وجہ سے انسان انجام اور مآل کو نہیں دیکھتا اور دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ اور مآل بِین ہے ان مضرتوں اور بد نتائج کو ملحوظ رکھ کر دعا کو ردّ بھی کردیتا ہے اور یہ ردّ ہی اس کے لیے قبولِ دعا ہوتا ہے۔

قبولیتِ دعا کی شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے حضورؑ فرماتے ہیں کہ دعا کرانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ دعا کرانے والا اللہ تعالیٰ کےخوف اور خشیت کو مدِّ نظر رکھے۔ صلح کاری اور خدا پرستی اپنا شعار بنائے۔ تقویٰ اور راستبازی سے خداتعالیٰ کو خوش کرے توایسی صورت میں دعا کے لیے بابِ استجابت کھولا جاتا ہے۔ پھر قبولیتِ دعا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اعتقادی لحاظ سے مضبوط ہو، عملِ صالح کرنے والا ہو۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص اعمال سے کام نہیں لیتا وہ دعا نہیں کرتا بلکہ خداتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ جب دعا ہوئی تو اسباب کی کیا ضرورت ہے وہ نادان سوچیں کہ دعا بجائے خود ایک مخفی سبب ہے جو دوسرے اسباب کو پیدا کردیتا ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُکا تقدم اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر جو کلمہ دعائیہ ہے اس امر کی خاص تشریح کر رہا ہے۔ خداتعالیٰ کے دونام ’عزیز‘ اور ’حکیم‘ ہیں۔ عزیز تویہ ہے کہ ہر کام کردینا اور حکیم یہ کہ ہر ایک کام کسی حکمت سے موقع اور محل کے مناسب اور موزوں کر دینا۔

فرمایا: تقویٰ کو شریعت کا خلاصہ اور مغزِ شریعت کہہ سکتے ہیں۔ اگر طالب صادق ہوکر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اورطلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ رحم کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رحم دو قسم کا ہوتا ہے ایک رحمانیت اور دوسرا رحیمیت۔ رحمانیت تو ایسا فیضان ہے کہ جو زمین و آسمان اور ارضی و سماوی اشیا کی صورت میں ہمارے وجود اور ہستی سے بھی پہلے ہی شروع ہوا۔ دوسری رحمت رحیمیت کی ہے یعنی جب ہم دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں عطا کرتا ہے۔ دوسری قسم کا رحم یہ تعلیم دیتا ہے کہ مانگتے جاؤ گے ملتا جائے گا۔ مانگنا انسان کا خاصہ اور استجابت اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو اور انہیں کام میں لاؤ۔قانونِ قدرت میں قبولیتِ دعا کی نظیریں موجود ہیں اور ہر زمانے میں خداتعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔ اسی لیے اس نے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا تعلیم فرمائی ہے۔

دعا کے حوالے سے نماز کی غرض اور اہمیت کو بیان کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ نماز کی اصل غرض اور مغز دعا ہی ہے اور دعا مانگنا قانونِ قدرت کے عین مطابق ہے۔

حضورِانور نے فرمایا کہ یہ چند باتیں مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کے عطا کردہ عظیم خزانے میں سے پیش کی ہیں جن پر عمل کرکے ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں۔ پاکستان اور الجزائر سمیت جہاں بھی احمدیوں کو تکلیفیں دی جاتی ہیں ان کے لیے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔ دوسروں کے لیے دعائیں کرنے والے کے لیے فرشتے دعائیں کرتے ہیں؛ پس یہ فائدہ مند سودا ہے، اس لیے یہ نسخہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں خاص طور پر اس نسخے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

(بشکریہ الفضل انٹرنیشنل)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 17 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اپریل 2021