• 20 جون, 2021

جماعت احمدیہ کی مساجد

’’جماعت احمدیہ کی مساجد کا شمار اُن مساجد میں نہیں ہوتا جو وقتی جوش اور جذبے کے تحت بنا دی جاتی ہیں اور صرف مسجدوں کی ظاہری خوبصورتی کی طرف توجہ ہوتی ہے نہ کہ اس کے باطنی اور اندرونی حسن کی طرف۔ ہماری مساجد وہ نہیں ہیں بلکہ جماعت احمدیہ کی مساجد کا حُسن ان کے نمازیوں سے ہوتا ہے، اس میں عبادت کے لئے آنے والے لوگوں سے ہوتا ہے۔ ہماری مساجد کی بنیادیں تو ان دعاؤں کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدا کے گھر کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھیں۔ احمدی وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر ایمان کی حرارت والے کہلاتے ہیں لیکن ان کے دل برسوں میں نمازی نہیں ہوتے۔ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں مانا ان کو تو ایمان کی حرارت کا اِدرَاک بھی نہیں ہے۔ پتہ ہی نہیں کہ ایمان کی حرارت کیا ہوتی ہے۔ وہ تو ایمان کو سطحی طور پر دیکھتے ہیں، سطحی طور پر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کوکیا پتہ کہ ایمان کی حرارت کیاہوتی ہے۔ پس یہ اعزاز جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر ملا ہے، اس کو قائم رکھنے کے لئے اپنے ایمانوں پر نظر رکھیں اور اپنی مسجد کی تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعاؤں کو پیش نظر رکھیں تب ہی آپ ان لوگوں میں شمار ہو سکتے ہیں جو گو آخرین میں ہیں لیکن پہلوں سے ملنے والے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 10؍ جون 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مئی 2021