• 14 جولائی, 2024

عجیب ڈور ہے جس سے بندھی گئی ہوں میں

زباں پہ آنے سے پہلے کہی گئی ہوں میں
کسی خیال میں کھو کر بنی گئی ہوں میں

مرے خیال کی دہلیز اتنی اونچی ہے
کہ آسماں کے برابر چنی گئی ہوں میں

مرا غرور مری وحشتوں پہ حاوی ہے
کچھ ایسے وصف سے ممتاز کی گئی ہوں میں

مرے وجود میں پہروں سکوت رہتا ہے
نہ جانے کس کی صدا میں گندھی گئی ہوں میں

مرے خیال سے جل جاتے ہیں چراغِ سحر
کہ طاقِ شمس و قمر پر رکھی گئی ہوں میں

وہ روز خواب کے روزن سے دیکھتا ہے مجھے
عجیب ڈور ہے جس سے بندھی گئی ہوں میں

سبھی کے دل میں دیا پیار کا جلاتی ہوں
ورق ورق پہ اجالا لکھی گئی ہوں میں

(دیا جیم۔ فیجی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ