• 6 اگست, 2021

صحابہ کرام ؓ نیکیوں میں بڑھنے کی فکر

صحابہ کرام ؓ نیکیوں میں بڑھنے میں کس قدر فکر کیا کرتے تھے۔ ایک حدیث سے پتہ لگتا ہے۔ کہ ایک دفعہ مالی لحاظ سے کم اور غریب صحابہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑے شکوے اور شکایت کے رنگ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں اسی طرح امراء بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔ جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں۔ اسی طرح امراء بھی روزے رکھتے ہیں۔ جس طرح ہم جہاد کرتے ہیں اسی طرح امراء بھی جہاد کرتے ہیں۔ مگر یا رسول اللہ! ایک زائد کام وہ کرتے ہیں۔ وہ صدقہ خیرات بھی دیتے ہیں جو ہم اپنی غربت اور ناداری کی وجہ سے نہیں دے سکتے۔ ہمیں کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس پر چل کر ہم اس کمی کو پورا کر سکیں۔ آپؐ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور چونتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہہ لیا کرو۔ یہ صحابہ ؓ بڑے خوش کہ اب ہم بھی امراء کے برابر نیکیوں میں آ جائیں گے۔ انہوں نے اس طریق پر عمل شروع کر دیامگر کچھ دنوں کے بعد امیروں کو، اس طریقہ ٔ عبادت کا بھی پتہ لگ گیا۔ اور انہوں نے بھی اسی طرح تسبیح و تحمید شروع کر دی۔ یہ صحابہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور شکایت کی کہ ان امراء نے بھی یہ طریق شروع کر دیاہے۔ اور پھر ہمارے سے آگے نکل گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نیکی کی توفیق دے رہا ہے تو میں اس کو کس طرح روک سکتا ہوں۔ تو دیکھیں اس تڑپ کے ساتھ صحابہ نیکیوں میں بڑھنے کے لئے نیکی کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ان میں بڑے بڑے کاروباری بھی تھے، بڑے پیسے والے بھی تھے لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم کہ ’نیکیوں میں سبقت لے جاؤ‘ اس حکم پر اس طرح ٹوٹ کر عمل کرتے تھے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی نیکیوں کی کس طرح قدر کی ہے اور انفرادی اور جماعتی دونوں طرح سے انہیں خوب نوازا۔ تو جیسا کہ اس حدیث میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کے تحت صحابہ ؓ امیر ہوں یا غریب نماز، روزہ، جہاد، صدقات ہر ایک نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔

(خطبہ جمعہ 10؍ ستمبر 2004ء بحوالہ alislam.org)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جون 2021