• 6 اگست, 2021

تو یہ سب خوابیں جو اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے، لوگ جوخلفاء کو دیکھتے ہیں تواس سے بھی اصل میں اللہ تعالیٰ کایہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کا جو نظام ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی ایک تسلسل ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
زمبابوے کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں مسلم یُوتھ کے ایک عہدیدار نے بیعت کی۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے جب وہ ایک عیسائی چرچ کے ممبر بنے تو اُن کو Baptise کرنے کے لئے پادری نے تاریخ مقرر کی۔ اس دن اچانک پادری صاحب بیمار ہو گئے۔ دوسری بار تاریخ مقرر کی تو پادری صاحب کی والدہ بیمار ہو گئیں۔ تیسری بار جب تاریخ مقرر کی تو اس زور کی بارش ہوئی کہ کوئی وہاں نہ جا سکا۔ اس کے بعد اس نوجوان نے خواب میں دیکھا کہ ایک مجمع ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام ایک طرف کھڑے ہیں اور اُسے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ یہ نوجوان کوشش کرتا ہے کہ مسیح تک پہنچے لیکن پہنچ نہیں سکا۔ اسی اثناء میں آنکھ کھل گئی۔ اس کے بعد اُس نے عیسائیت کو چھوڑ دیا۔ اب بیعت کرنے سے پہلے اس نوجوان نے خواب دیکھا کہ اس کا سارا جسم گردن تک دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اُس کو کسی نے پکڑ کر دلدل سے نکال دیا ہے۔ تو ہمارے مبلغ نے اُن سے پوچھا کہ تمہیں ان کا چہرہ یاد ہے کہ دلدل سے کس نے نکالا تھا؟ کہنے لگا: ہاں یاد ہے۔ جب اُنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی تو کہنے لگے۔ یہی چہرہ تھا جنہوں نے مجھے پکڑ کے دلدل سے نکالا تھا۔

پھر برکینا فاسو میں ڈوری سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں پُوئی ٹینگاہے۔ اس کے تبلیغی دورے کے دوران ایک بزرگ نے بیعت کی جن کی عمر پینسٹھ سال ہو گی۔ بیعت کے بعد وہ بتانے لگے کہ آپ لوگوں کے آنے سے پہلے میں نے رؤیا میں ایک بزرگ کو دیکھا جو مجھے کہنے لگا کہ آدم علیہ السلام نازل ہوئے ہیں اُن کو قبول کرو۔ ایک ماہ کے وقفے کے بعد بعینہٖ وہی بزرگ دوبارہ مجھے ملے اور یہی پیغام دیا کہ آدم علیہ السلام نازل ہوئے ہیں اُن کو قبول کرو۔ ان کو تفصیلاً بتایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کی آپ نے بیعت کی ہے اُن کا نام بھی اللہ نے آدم رکھا ہے۔ اور اپنے اس رؤیا کے پورا ہونے پر بڑے خوش ہوئے۔ اُس کے بعد اپنے خاندان میں انہوں نے تبلیغ کی اور سو کے قریب افراد کو جماعت میں شامل کیا۔

پھر مصرکی ہالہ صاحبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امام مہدی اور آپ کی جماعت پانی کے اوپر چل رہے ہیں۔ مَیں نے درخواست کی کہ مجھے بھی شرفِ مصاحبت بخشیں۔ اُنہوں نے کہا کہ واپسی پر ہم آپ کو ساتھ لے لیں گے۔ اس رؤیا کے بعد مَیں نے صوفی ازم میں تلاشِ حق شروع کی لیکن اطمینان نہ ہوا۔ مَیں نے کہا کہ میری خواب سے مراد صوفی فرقہ نہیں ہو سکتا۔ باوجود اس کے کہ اِن لوگوں کا اصرار تھا کہ مَیں نے اُنہی کو خواب میں دیکھا تھا۔ گھر آ کر مَیں ٹی وی پر مختلف چینل دیکھنے لگی یہاں تک کہ ایم۔ ٹی۔ اے العربیہ نظر آیا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ مَیں نے اس چینل پر وہی شخص دیکھا جس کو خواب میں دیکھا تھا کہ وہ پانی پر چل رہا ہے اور امام مہدی ہے۔ اور مجھے انہوں نے لکھا کہ اس وقت انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔

تو یہ سب خوابیں جو اللہ تعالیٰ دکھاتا ہے، لوگ جوخلفاء کو دیکھتے ہیں تواس سے بھی اصل میں اللہ تعالیٰ کایہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کا جو نظام ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی ایک تسلسل ہے۔

پورتو نووو (بینن) سے مبلغ ہمارے لکھتے ہیں کہ ہمارے گھر میں ایک لطیفہ نامی عورت بطور ملازمہ کے آئیں اور چند دن کے بعد ہی بیمار پڑ گئیں اور دو تین ہفتے کی چھٹی کی اور پھر یوکے کا جوجلسہ ہونا تھا اُس جلسہ کے قریب دوبارہ کام پر آنا شروع ہوئیں اور آ کر انہوں نے مربی صاحب کی اہلیہ کو بتایا کہ اس بیماری کے دوران دو تین مرتبہ مجھے خواب آئی ہے اور اُس کا مجھ پر بڑا شدید اثر ہے۔ کہتی ہیں بیماری کے دوران میں خوب دعائیں کرتی رہی اور دعائیں کرتی ہوئی سوتی تھی کہ اے اللہ! میرے گناہ بخش اور مجھے اور میری بچی کو جو شدید بخار میں ہے بچا لے اور ہمیں اپنے سیدھے راستے پر موت دینا۔ کہتی ہیں کہ ایک دن خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ میرا کمرہ خوب روشن ہو گیا اور نور ہی نور ہے۔ تو میں یہ نظارہ دیکھ کر ابھی ڈر ہی رہی تھی کہ بہت ہی خوبصورت سفید رنگ کا عمامہ پہنے ہوئے بزرگ ظاہر ہوئے اور مجھے اپنی طرف بلا رہے ہیں۔ اُس دن یہ نظارہ ختم ہو گیا۔ پھر دو چار دن کے بعد ایسا ہی نظارہ دوبارہ دیکھا اور دو شخص ہیں جو ایک بہت بڑے سفید گھر میں داخل ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاتھ پکڑ کر کچھ باتیں کرتے ہیں۔ وہاں بہت زیادہ کالے لوگ بھی ہیں، گورے بھی ہیں، ہر نسل کے ہیں جو اس کے پیچھے پیچھے الفاظ دہراتے ہیں اور بعد میں یہ کھڑے ہو کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ تو جب یہ خاتون آئیں اور انہوں نے مربی صاحب کی اہلیہ کویہ خواب سنائی تو کہتے ہیں کہ اس دن جلسہ یوکے میں عالمی بیعت کا دن تھا۔ مَیں نے اس کو کہا کہ جس طرح کی تم بات کر رہی ہو اس سے لگتا ہے کہ اس کو وہاں مسجد میں ہی لے آؤجہاں بیعت ہو رہی ہے۔ تو خیر یہ خاتون مربی صاحب کی اہلیہ کے ساتھ مسجد چلی گئیں اور ایم۔ ٹی۔ اے پر جو نظارہ دیکھتی تھیں توبار بار اِن کی اہلیہ کے گھٹنوں پر ہاتھ مار کر کہتی تھیں کہ ماما!بالکل یہی میں نے دیکھا ہے (وہاں افریقہ میں کسی عورت کو عزت سے بلانا ہو تو ’’ماما‘‘ کہتے ہیں )۔ یہ دو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ جب یہ عالمی بیعت شروع ہوئی اور (ایک سفید مارکی میں جب مَیں داخل ہوا) تو یہ عورت اچھی طرح اہلیہ کو متوجہ کر کے کہتی ہیں کہ یہی وہ شخص تھا جو میری خواب میں آیا تھا اور دیکھو وہ بڑے سارے سفید گھر میں داخل ہوئے ہیں، (مارکی سفید رنگ کی تھی)۔ دیکھو لوگ بھی بہت زیادہ ہیں۔ پھر عالمی بیعت کر کے بہت خوش تھیں۔ اور گھر پہنچنے پر سارا خواب بڑی تسلی سے پھر دوبارہ سنایا۔ جس پر مربی صاحب کہتے ہیں مَیں نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری رہنمائی بڑی وضاحت سے کی ہے۔ اس لئے امام مہدی کی جماعت میں شامل ہو جاؤ اور سچے دل سے شامل ہو گی تویہی تمہارے مسائل کا حل ہے۔ کیونکہ تمہیں خلیفہ وقت نے خود آ کر اپنی طرف بلایا ہے، تمہیں اس بارے میں غور کرنا چاہئے۔ اُس نے کہا کہ گو میں الفاظ تو دہرا چکی ہوں لیکن سوچ کر جواب دوں گی کہ مَیں مانتی ہوں کہ نہیں۔ گو ان کی بڑی عمر تھی اور والدین بھی بڑھاپے میں تھے۔ گھر جا کر اپنے والدین کو بتایا تو والد بڑے ناراض ہوئے کہ تمہیں اس دن کے لئے ہم نے پیدا کیا تھا کہ اپنے باپ دادا کے دین سے منحرف ہو رہی ہو؟بہر حال ایک دن وہ آئیں اور رو پڑیں کہ وہ بزرگ دوبارہ میری خواب میں آئے ہیں یعنی خلیفۂ وقت(مجھے دیکھا انہوں نے) اور کہا کہ مجھے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا بتاتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ میری طرف آ جاؤ۔ اسی میں تیری نجات ہے۔ اس لئے مَیں بڑی پریشان ہوں۔ پتہ نہیں موت مجھے کیسے آ گھیرے۔ پہلے ہی پچاس سال سے اوپر ہو چکی ہوں۔ اس لئے مَیں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب مَیں احمدیت میں داخل ہو جاؤں اور مجھے میرے باپ نے تو قبر کے عذاب سے نہیں بچانا۔ چنانچہ انہوں نے سچے دل سے بیعت کر لی ہے اور اپنی تنخواہ میں سے باقاعدہ چندہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس سچائی کو دلوں میں ڈالنے کے واقعات تو بے شمار ہیں۔ اِ ن کا بیان ممکن نہیں ہے۔ ان شاء اللہ جلسہ آ رہا ہے۔ اس سال کے کچھ واقعات وہاں بھی آپ سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارشوں کو بھی دیکھیں گے لیکن سب کو سمیٹنا ممکن نہیں۔ اس لئے جیسا کہ مَیں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اب مَیں نے دورانِ سال بھی یہ ذکر کرنا شروع کر دیا ہے تا کہ ہم ان نئے آنے والوں کے لئے بھی اور اپنے ایمانوں کی مضبوطی کے لئے بھی دعا کریں اور اللہ تعالیٰ کے ان انعامات پر حمد اور شکر بھی کریں کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے ہمیں سچائی کے راستے دکھا رہا ہے اور پھر اس پر قائم بھی کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کے یہ نظارے ہمیشہ ہمیں دکھاتا چلا جائے اور ہم سب کو اور نئے آنے والوں کو بھی ثباتِ قدم عطا فرمائے۔

پس وہ لوگ جو اپنے زعم میں دنیا میں پِھر پِھر کر احمدیت کے خلاف زہر اُگل کر نیک فطرتوں کو احمدیت سے بدظن کرنا چاہتے ہیں اُنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں مَیں یہ کہتا ہوں۔ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’اے سونے والو! بیدار ہو جاؤ۔ اے غافلو! اُٹھ بیٹھو کہ ایک انقلابِ عظیم کا وقت آ گیا۔ یہ رونے کا وقت ہے نہ سونے کا۔ اور تضرع کا وقت ہے نہ ٹھٹھے اور ہنسی اور تکفیر بازی کا۔ دعا کرو کہ خدا وند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو اور نیز اُس نور کو بھی جو رحمتِ الٰہیہ نے اُس ظلمت کے مٹانے کے لئے تیار کیا ہے۔ پچھلی راتوں کو اُٹھو اور خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو اور ناحق حقّانی سلسلہ کے مٹانے کے لئے بددعائیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔ خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور بھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔ وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بیوقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا۔ اور اپنے بندے کا مددگار ہو گا اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے۔ پھر وہ جو دانا و بینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودہ کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کر رہا ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد5 صفحہ54-53)

(خطبہ جمعہ 8؍ جولائی2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جون 2021