• 4 فروری, 2023

This Week with Huzur (3؍جون 2022ء)

This Week with Huzur
3؍جون 2022ء

گزشتہ ہفتے امریکہ کے وقف نو اور واقفات ِ نو کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ورچوئل ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔

پہلی ملاقات:

واقفات ِ نو امریکہ کی آن لائن ملاقات

گزشتہ ہفتہ امریکہ کی واقفات ِ نو کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ورچوئل ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ اس موقعہ پر واقفات ِ نو نے مختلف سوالات کے ذریعہ پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسےجو رہنمائی حاصل کی اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سوال: ہم اپنی زندگی میں اعتدال کیسے حاصل کر سکتے ہیں اور شدت پسند بنے بغیر کس طرح ثابت قدم رہنا سیکھ سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا : اسلام متوازن مذہب ہے۔ اگر آپ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو آپ ہمیشہ اعتدال پسند ہوں گے۔ اسلام میں کوئی ایسی تعلیم نہیں ہے جو آپ کو شدت پسندی کی طرف لے کر جائے۔اسلام کہتا ہے کہ آپ نے دو حقوق ادا کرنے ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ کا اور دوسرا لوگوں کا حق ہے۔ یہ دو ذمہ داریاں ہیں جو آپ نے اد اکرنی ہیں۔ اگر آپ حقوق اللہ ادا کر رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے سامنے جھکو، روزانہ پانچ نمازیں ادا کرو اور اگر ممکن ہو تو آپ نفل بھی پڑھ سکتے ہیں۔ صرف اور صرف ایک قادر مطلق خدا پر ایمان لاؤ۔ اس بات پر ایمان لاؤ کہ محمد ﷺ ہمارے نبی ہیں اور رمضان کے مہینے میں 29 یا 30 روزے رکھو۔ یہ آپ کے فرائض ہیں اور یہ حقوق اللہ ہیں۔ پھر مختلف اوقات میں اگر آپ کے لیے حقوق اللہ ادا کرنا ممکن نہ ہو اور آپ حقوق اللہ مکمل طور پر اد انہ کر سکیں،یعنی عبادت کرنا، روزانہ پانچ فرض نمازیں اد اکرنا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ بیمار ہیں تو آپ نماز بیٹھ کر بھی پڑھ سکتی ہیں۔ اگر آپکی ایسی حالت ہو کہ بستر سے اُٹھ بھی نہ سکیں مگر آپ کا دماغ صحیح ہو تو آپ بستر پر لیٹے لیٹے نماز پڑھ سکتی ہیں۔اگر آپ رمضان کے مہینے میں بیماری یا کسی اور وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتیں تو بعد میں جب حالات اجازت دیں تو رکھ سکتی ہیں۔ پھر حقوق العباد ہیں۔ رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر ہمیشہ لوگوں کے لیے مہربان اور مدد گار رہیں۔ ان کے لیے دعا کریں۔ اگر انہیں آپ کی مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کریں۔ اگر آپ یہ حقوق ادا کر رہی ہیں تو میرا نہیں خیال کہ شدت پسندی کا شائبہ بھی آپ کے ذہن میں آئے۔

سوال: میرا سوال یہ کہ ہو سکتا ہے امریکہ کی سپریم کورٹ عورتوں کو ہر قسم کی صورت حال میں اسقاط حمل سے روک دے۔ کیا اسلام زنا با لجبر اور ماں اور بچے کی صحت کو نقصان کی وجہ سے اسقاط حمل کی اجازت دیتا ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آج کل امریکہ میں یہ اہم مسئلہ چل رہا ہے؟ اسلام کہتا ہے کہ بچوں کو اس ڈر کی وجہ سے کہ ان کی نگہداشت کیسے ہو گی، یا مالی تنگی کی وجہ سے، انہیں قتل نہ کیا جائے۔ یہ واحد بات ہے جس میں اسلام اسقاط حمل سے منع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام کہتا ہے کہ اگر عورت کی صحت اچھی نہیں تو اسقاط حمل کیا جاسکتا ہے۔ اگر بچہ مناسب طور پر نہ بن رہا ہو تو حمل کے آگے کے مرحلے میں بھی اسقاط کیا جا سکتا ہے۔ ریپ کی صورت میں بھی اگر خاتون یہ محسوس کرے کہ وہ معاشرے کے رد عمل کی وجہ سے ہونے والے بچے کی پرورش کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ یعنی اگر یہ خیال ہو کہ معاشرہ زندگی کے ہر موڑ پر خاتون پر انگلیاں اٹھاتا رہے گا اور بچے کی ولادت کے بعد بھی بچے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تو ماں حمل ساقط کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اس خدشے سے کہ ماں بچے کی پرورش کیسے کرے گی؟ اس بنیاد پر حمل ساقط کرانا جائز نہیں۔ یہ بنیادی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارا زق ہوں۔ میں ہی تمہیں کھانا مہیا کرتا ہوں اور میں ہی رزق دینے والا ہوں۔

سوال: پیارے حضور روزانہ کون سے ایسے کام کرتے ہیں جن سے آپ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں؟

حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں ماضی میں ورزش کرتا تھا لیکن اب نہیں کرتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے یا اپنی صحت کی بہتری کے لیے کوئی بھی احتیاطی تدابیر لیتا ہوں۔ صبح سے شام تک کام ہوتا ہے۔ اس لیے مجھے ورزش یا کوئی اور کام کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ لیکن آپ تو کم از کم جوان ہیں۔ اس لیے آپ کو اپنی صحت کا ضرور خیال رکھنا چاہیے۔یہ آپ کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور آپ کو پوری دنیا کی اصلاح کا کام سونپا گیا ہے۔ اگر آپ صحت یاب ہوں گی، پھر ہی آپ اپنا کام احسن رنگ میں کر سکیں گی۔

دوسری آن لائن ملاقات:
واقفین ِنو امریکہ کی آن لائن ملاقات

گزشتہ اتوار امریکہ کے واقفین ِ نو خدام کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ورچوئل ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ اس موقعہ پر واقفین ِنو نے مختلف سوالات کے ذریعہ پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسےجو رہنمائی حاصل کی اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

سوال: امریکہ میں میس شوٹنگز عام ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں اس ہفتے ٹیکسس کے ایک ایلمینٹری سکول میں ہوا۔ امریکہ کو مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: عقل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اس کا الٹ نہیں ہو نا چاہیے۔ یہ امریکہ کے باشندوں اور حکومت کا اولین فرض ہے۔ جب معاشرہ میں رنجشیں اور بے چینیاں ہوں تو ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ اگر انسان اپنی ذمہ داریاں بھول جائے اور اپنی زندگی کے مقصد کو بھول جائے تو پھر ایسے واقعات ہوتے ہیں۔جب ایسے واقعات ہورہے ہوں تو یہ احمدیوں کی جو حقیقی مسلمان ہیں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم لوگوں کو بتائیں اور سمجھائیں کہ ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور ان کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ اگر انسان اپنے خالق کے حقوق ادا کر رہا ہو، اگر اسے معلوم ہو کہ زندگی کا مقصد محض دنیاوی ہدف کا حصول ہی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور اس کے حضور جھکنا ہے (تو ایسے نقصنات سے بچ سکتے ہیں)۔ نیز ہمیشہ اپنی نظر آخرت کی زندگی پر رکھیں۔ پھر انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں ایک مذہبی شخص یا ویسے ہی ایک عام انسان ہونے کی حیثیت سے جو دوسری سب سے اہم ذمہ داری دی گئی۔ وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق اد اکریں تو بجائے اس کے کہ لوگ اپنے حقوق کے حصول میں ہی لگے رہیں انہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کے حقوق ادا کریں۔ اگر ہر شخص اس بات کو سمجھے اور دوسرے شخص کے حقوق ادا کرے تو یہ رنجشیں اور بے چینیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔جب تک آپ لوگوں کو ان کی زندگیوں کے حقیقی مقصد کا احساس نہیں دلائیں گے تب تک یہ واقعات ختم نہیں ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ان چیزوں کو روکنے کے لیے کچھ قوانین کو تشکیل دینی چاہیے۔بات یہ ہے کہ اگر کوئی حد بندی نہیں ہو گی اور سب آزاد ہوں کہ وہ اسلحہ والی دوکان پر جا کر جو بھی اسلحہ لینا چاہتے ہیں وہ خرید لیں تو بالآخر اس کا یہی نتیجہ نکلے گا جو آجکل وہاں پر ہو رہا ہے۔ میری رائے میں حکومت کو بھی اقدام لینے کی ضرورت ہے اور ان کو بھی اس پر پابندیاں لگانی چاہیے۔ کم از کم اگر Arms Lobbies لائسنس دینے کے خلاف ہیں اور وہ اس پر پا بندیاں لگائیں تو ان کو کم از کم عمر کی پابندی لگانی چاہیے کہ اس اس عمر والوں کو اسلحہ خریدنے کی اجازت نہیں ہے خصوصاَ آٹومیٹک یا سیمی آٹو میٹک اسلحہ نیز اس کے ساتھ ساتھ جو پروگرامز ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور میڈیا کے مختلف چینلز پر دکھائے جا رہے ہیں۔ وہ شدت پسندی، لڑائیاں اور اس قسم کی چیزیں ہی دکھا رہے ہیں جو نوجوان میں ان کاموں کو ایک مزہ کی چیز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان پروگرامز کا بھی جائزہ لینے اور روکنے کی ضرورت ہے۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس پر پابندیاں عائد کریں جو بھی ان کو مناسب لگیں۔ قانون سازوں کو بھی اس سلسلہ میں قوانین مرتب کرنے چاہیے ہیں۔ لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہمیں دنیا والوں کے لیے، اپنے ہم وطنوں کے لیے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔ ان کو تبلیغ بھی کریں تا کہ ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے۔ یہ وہ کام ہیں جوہم کر سکتے ہیں۔

سوال: واقفین ِنو کس طرح ان احمدیوں کیلئے جو پاکستان جیسے ظالم ممالک میں رہ رہے ہیں ان کے حالات بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئےان کی مدد کر سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: آپ صرف دعا ہی کر سکتے ہیں۔ مسلم امہ کے لیے دعا کریں کہ وہ عقل سے کام لیں اور انہیں زمانہ کے امام کو ماننے کی توفیق ملے جسے اللہ تعالیٰ نے اسلامی تعلیمات کی تجدید کے لیے بھیجا تھا اور اللہ تعالیٰ ان کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے۔یہی چیزیں کی جا سکتی ہیں۔ورنہ وہ ممالک جہاں ہماری مخالفت ہوتی ہے۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔جب تک آپ کے پاس طاقت اور اقتدار نہ ہو اور فی الحال ہمارے پاس وہ طاقت نہیں ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ اگر آپ کو اقتدار حاصل ہو تو آپ کو چاہیے کہ آپ ظلم و تعدی کو اپنے ہاتھ سے روکیں۔ اگر اتنی طاقت آپ کے پاس نہ ہو تو پھر اپنی زبان سے ان کو روکیں۔ اور انہیں عقل اختیار کرنے کے متعلق تلقین کریں۔اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ان کیلئے دعا کریں۔ یہی آنحضرت ﷺ کی اس حدیث میں ذکر ملتا ہے۔تو ہم ان کے لیے صرف دعا کر سکتے ہیں۔اس کا صرف یہی حل ہے اگر آپ ان کے لیے ایک تڑپ کے ساتھ دعائیں کر رہے ہوں تو پھر ایک دن آپ ان شاءاللہ بہتر ان کا نتیجہ بھی دیکھیں گے۔میں امید رکھتا ہوں کہ ہم ان شاء اللہ دنیا کو بدل دیں گے اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایاہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ دعاؤں کے ذریعہ سے وہ دنیا میں ایک تبدیلی پیدا کرے گا۔ تو ہمارے ہاتھ میں یہی واحد ہتھیار ہےجس کا ہمیں صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ نیز اس بات پر بھی غور و تدبر کریں کہ آپ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کس حد تک کوشش کر رہے ہیں اور کس حد تک آپ اپنی نمازوں میں منہمک ہیں۔ جب آپ دعائیں کر رہے ہوں تو آپ خدا تعالیٰ سے بڑی خشیت سے دعائیں مانگ رہے ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعاؤں کوقبول کرے۔پس سب سے پہلے ہمیں اپنی حالتوں کو دیکھنا چاہیے۔سب سے پہلے ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ آیا جو ہم کہہ رہے ہیں کیا وہ اس کے مطابق ہے جس کی ہم تبلیغ کر رہے ہیں یا جس کی ہم خوہش رکھتے ہیں۔اگر ہمارے قول اور فعل برابر نہیں تو ہماری دعائیں قبول نہیں ہوں گی اس طرح جس طرح ہم چاہیں۔ تو اس بارے میں بھی غور کریں۔

سوال: بعض اوقات ہم ایسے وقت میں سے گزرتے ہیں جہاں ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم اپنے مذہبی فرائض میں کمزور ہیں۔ ہم کس طرح اس کمزوری کو دور کر سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اردو کا محاورہ ہے کہ جو سو رہا ہے اس کو جگایا جا سکتا ہے لیکن ایک شخص جو جاگتے ہوئے بھی سونے کی نقل کر رہا ہو اس کو جگایا نہیں جا سکتا۔ آپ کو اپنی کمزوریوں کا پتا ہے آپ کو پتہ ہے کہ کبھی آپ سیدھے راستے سے بھٹک جاتے ہو تو اس وقت استغفار کہنا چاہیے۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنا چاہیےاور یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سیدھے راستے پر قائم رکھے۔ اگر آپ دن میں پانچوں نمازیں پڑھ رہے ہو جس طرح حضور ﷺ نے فرمایا ہے تو ان میں بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ آپ کو سیدھے راستے پر قائم رکھے۔ یہی حل ہے۔ ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ جب انسان کی توجہ دنیاوی معا ملات کی وجہ سے بھٹک جاتی ہے۔اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جیسے ہی آپ کو پتہ چلے کہ میں بھٹک رہا ہوں تو رک جاؤ اور واپس آ جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اللہ اس برائی میں زیادہ بڑھنے سے بچائے۔ پس اللہ سے بہت دعا کیا کرو۔ استغفار ان برائیوں سے بچنے کا بہترین حل ہے نیز دن میں پانچ نمازیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں اور اس دور میں جو حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں سمجھایا ہے ،یہ سب اس کا حل ہے۔

سوال: میرا سوال یہ ہے کہ بطور قائد اور وقف نو میں کس طرح خدام کو نظام وصیت میں شامل ہو نے کی طرف توجہ دلا سکتا ہوں؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’آپ قائد ہو؟ اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘

موصوف نے جواب دیا کہ۔ جماعت کی خدمت کرنا۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : قائد کے کیا معنی ہیں؟ قائد کا مطلب لیڈر کے ہیں۔ تو تم لیڈر ہو۔ اگر تمہارے اقوال اور اعمال ایک جیسے ہیں تو لوگ تمہاری بات مانیں گے اور تمہاری بات کو سنیں گے۔اگر وہ دیکھیں گے کہ تمہیں ان کا احساس ہے تو وہ تمہارے قریب ہوں گے۔جو بھی تم کہو گے وہ اس کو سنیں گے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو پہلی بات یہ ہے کہ اپنی تربیت کرو۔ایسے بن جاؤ جو کہ آپ قرآن اور اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل کرنے والے ہوں۔ خدام کو یہ بات بھی سمجھا دیں کہ جو بھی آپ کہہ رہے ہیں۔ کیا آپ اس کو خودکرتے بھی ہیں ؟ ان کو اس بات کا بھی احساس دلاؤ کہ تم ان سے ہمدردی کرنے والے ہو۔انہیں اس بات کا بھی احساس ہو کہ تم چاہتے ہو کہ وہ ہمیشہ سیدھے راستے پر قائم رہیں۔تو جب یہ باتیں ہو رہی ہوں گی توپھر خدام تمہاری بات سنیں گے۔اور تم ان کو پھر یہ بھی سمجھا سکتے ہو کہ نظام وصیت ایک بہت با برکت نظام ہے۔اور اگر ہم اس میں شامل ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ہماری مدد کرے گا اور ہمیں ہماری حالتیں بہتر کرنے کی توفیق بھی عطا کرے گا۔کبھی یہ بھی ہو جاتاہے کہ کچھ لوگ وصیت کرتے ہیں لیکن وہ متقی نہیں ہوتے اور بھٹک جاتے ہیں لیکن جب اس طرح کے حالات ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے حالات کر دیتا ہے کہ ایسے لوگ یا تو نظام وصیت کو چھوڑ دیتے ہیں یا پھر ان کو کسی اور ذریعہ سے نظام سے نکال دیتا ہے۔ لیکن زیادہ تر جب کوئی شخص وصیت کی تحریک میں شامل ہوتا ہےاور وہ سچا پیرو ہو اور اس نے رسالہ الوصیت پڑھا ہوپھر وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور کس طرح پیش آناہے۔وقف ِنو ہونے کی حیثیت سے یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ دوسروں کے لیے مثال بنیں۔آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عہد کیا ہے کہ آپ دنیا کی اصلاح کریں گے۔آپ وہ لوگ ہیں جن کے والدین نے وعدہ کیا تھا اور پھر بعد میں آپ نے خود بھی یہ وعدہ کیا کہ آپ دنیا کو بدل ڈالیں گے اور تمام انسانوں کو اسلام اور احمدیت کے سائے تلے لے آئیں گے اوران کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کا احساس دلائیں گے۔پس اگر آپ یہ سب کر رہے ہوں گے تو آپ کے قول میں وقعت ہو گی۔بلکہ بغیر کچھ کہے آپ کے اعمال لوگوں کو آپ کی پیروی کرنے کی طرف مائل کریں گے۔

سوال: آپ نے Agriculture کی فیلڈ کو کس طرح چنا اور آپ کو زندگی وقف کرنے کے لیے کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’یہ تو بہت مشکل سوال ہے۔ اچھا آپ کیا کرتے ہیں؟‘‘

اس پر مو صوف نے جواب دیا کہ ’’میں نے حال ہی میں کالج کا تیسرا سال مکمل کیا ہے۔‘‘

اس پر حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ’’آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟‘‘

خادم نے جواب دیا: میں بیالوجی پڑھ رہا ہوں تا کہ دانتوں کا ڈاکٹر بن سکوں۔ ان شاء اللہ۔‘‘

حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: ماشاءاللہ !بات یہ ہے کہ بچپن سے ہی مجھے کاشتکاری کا بہت شوق تھا۔پس میں اس میدان مین جانا چاہتا تھا لیکن میں نہیں جا پایا۔لیکن بعد میں اقتصادیات میں گریجویشن کے بعد میرے والد صاحب نے بھی مجھے کہا کہ اگر ممکن ہے تو زرعی یو نیورسٹی میں داخلہ لے لو۔ یہ ایک آسان سی بات تھی کیونکہ مجھےکسی اور یونیورسٹی کی نسبت وہاں داخلہ ملنے کا زیادہ امکان تھا۔ تو یہی آسان ترین راستہ تھا اور مجھے اس میں دلچسپی بھی تھی۔پس مجھے ایگریکلچرل اکنامس میں داخلہ مل گیا۔کارپریشن اور کریڈٹ کے میدان میں۔ اس میں کسانوں وغیرہ کے معاملات پیش آتے تھے۔وہاں کچھ ایسے کورسز بھی ہوتے ہیں جو عملی طور پر کاشتکاری کے متعلق ہوتے ہیں جیسا کہ زراعت اور ایربل فارمنگ اور اگر آپ گریجویشن کر کے یونیورسٹی آئے ہوں تو آپ کو کچھ بنیادی کورسز کرنے ہوتے ہیں۔چونکہ میں کاشتکاری سے واقف تھا اور مجھے اس میں بہت دلچسپی تھی۔میں شروع سے اپنے والد صاحب کے ساتھ اپنی زمینوں پر جا یا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے ان بنیادی کورسز کو اچھے نمبروں سے پاس کیا اور بعد میں میں نے اپنی ڈگری کارپیشن اینڈ کریڈٹ بھی مکمل کی تھی۔یہ میرے زرعی یونیورسٹی جانے کی اصل وجہ تھی۔دوسرا سوال تھا کہ مجھے کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں اپنی زندگی وقف کروں؟ میں بچپن سے ہی واقف ِ زندگی بننا چاہتا تھا۔ کیونکہ ایک مرتبہ میں نے اپنے والد صاحب سے اور اپنے انکل کو یہ بات کرتے سنا کہ حضر ت مسیح موعودؑ کے خاندان میں سے بہت افسوس کی بات ہے کہ بہت کم افراد زندگی وقف کر رہے ہیں۔ پس یہ بات میرے دل میں نقش ہو گئی تھی لیکن میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ بغیر کسی Qualification کے وقف کروں۔ جب میں نے زرعی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس وقت میں نے عہد کیا کہ اگر میرے اچھے مارکس آئے یعنی A گریڈ آیا تو پھر میں وقف کروں گا۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر تیرے نزدیک میں وقف کے قابل ہوں تو مجھے اپنے فضل سے اچھے مارکس دے۔ تو جانتا ہے کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو میں کچھ بھی نہیں۔ مجھے علم نہیں کہ کیسےمگر خوش قسمتی سے مجھے A گریڈ مل گیا۔اور جب مجھے یہ گریڈ مل گیا تو میں پابند ہو گیا کہ وقف زندگی کے لیے درخواست دوں۔ میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒکی خدمت میں خط لکھاکہ چونکہ اب میں نے ایم ایس سی کی ڈگری مکمل کر لی ہے اور وہ بھی اچھے نمبروں کے ساتھ تو میں وقف کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے (وقف) منظور کر لیا اور بعد ازاں آپ نے مجھے افریقہ جانے کا فرمایا۔ تو یہ ہے ساری داستان بلکہ اس کا خلاصہ ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں مگر اس کا خلاصہ ہے۔

سوال: میر اسوال یہ ہے کہ حضور نے متعدد بار ذکر فرمایا ہے کہ امن کے لیے مکمل انصاف کی ضرورت ہے۔ واقفین نو کو اس ہدف کے حصول کے لیے کو نسے کیرئیر اختیار کرنے چاہیے؟

حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا: میں نے صرف یہی نہیں کہا کہ ہمیں دنیا میں امن قائم کرنا چاہیے بلکہ لوگوں سے مکمل انصاف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میں نے اپنے خطابات اور تقاریر میں یہ بھی بتایا ہے کہ امن کیا ہے ؟اور ہم معاشرے میں امن کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ اور مکمل انصاف کی قرآن کریم ،حدیث اور آنحضرت ﷺ کی سنت کی روشنی میں کیا تعریف ہے؟ اور ان تعلیمات کی روشنی میں جو حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے ہمیں اس زمانہ میں دی ہیں۔ چنانچہ کئی خطبات اور تقاریر بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں سارے حوالے مہیا ہیں جن کے ذریعہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مکمل انصاف کیا ہے ؟ امن کیا ہے؟ہم دنیا میں کیسے امن قائم کر سکتے ہیں؟ ہمیں لوگوں کو کیسے متنبہ کرنا چاہیے؟ وہ جو سیدھے راستے سے بھٹک رہے ہیں ان کو سمجھائیں۔ اسی لیے جہاں تک میرا تعلق ہے میں لوگوں کو کہتا ہوں خواہ سیاست دان ہوں، پروفیسرز ہوں یا دوسرے پڑھے لکھے کہ وہ بھی معاشرے میں امن کے قیام کیلئے اپنا کردار اد اکریں اور یہ مکمل انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔مکمل انصاف کی کیا تعریف ہے؟قرآن کریم میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاَ اگر آپ کو اپنے خلاف گواہی دینی پڑے تو تب بھی گواہی دینی چاہیے بلکہ یہاں تک کہ خواہ اپنے والدین، رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کے خلاف ہی دینی پڑے تو اس طرح معاشرے میں مکمل انصاف قائم ہو سکتا ہے جو آجکل اس دنیا میں مفقود ہے سو ہمیں اس کا پرچار کرنا چاہیے اور یہ خطابات تحریری شکل میں موجود ہیں اور مختلف کتب کی شکل میں بھی اور علیحدہ لیکچرز کی شکل میں بھی۔پہلے ان کو پڑھیں پھر لوگوں سے ان کی بنیاد پر بات کریں کیونکہ وہ آپ کو تیار شدہ مواد کےطور پر دستیاب ہیں اور پھر ان کو تقسیم بھی کر سکتے ہیں تو اس طرح آپ کام کر سکتے ہیں۔دیکھیں ہر وقف نو اس پر عمل کر سکتا ہے لیکن جس میدان میں بھی آپ ہوں آپ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کوبتا سکتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کیا ہے اور ہم معاشرے میں کیسے امن کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ہم معاشرےمیں کیسے امن قائم کر سکتے ہیں۔ مکمل انصاف کیا ہے اور اس کی کیا تعریف ہے؟اس کے لیے جو قابل ہیں وہ پبلک سروس میں بھی جا سکتے ہیں۔جہاں آپ کو اپنے نقطہ نظر کو پیش کرنے کا بہتر موقع ملے گا۔

(ٹرانسکرا ئیب و کمپوزنگ:ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 جولائی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ