• 29 ستمبر, 2020

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ)

(قسط نہم۔ آخری)

آخر پر آج کے متلاشى حق کے لئے ہم تحقىق کى اىک ىہ راہ بھى تجوىز کرتےہىں کہ اس زمانہ مىں احمدىت کےلٹرىچر اور کتب حضرت مسىح موعود علىہ السلام مىں جن احمدى بزرگان اور علماء کا ذکر آتا ہے ان کى فہرست تىار کر کے ان کے حالات زندگى جب وه تتبع کرے گا تو کسى کو طاعونى موت کا شکار نہ پائے گا۔ لىکن اس کے برعکس معاندىن احمدىت کى فہرست تىار کر کے اگر وہ اس کسوٹى پر ان کو پر کھےگاتو ىہ دىکھ کر ىقىناً حىران رہ جائے گاکہ ان مىں سے متعددمعروف معاندىن مرض طاعون کا شکار ہوگئے بلکہ بعض تو اپنے غىر معمولى حالات مىں طاعون کا شکار ہوئے کہ جماعت احمدىہ کے لئے ان کى موت مىں تقوىت اىمان اورغىروں کے لئے غىرت کا سامان تھا۔ قادىان کے ان آرىہ اخبار نوىسىوں کا ذکر گزرچکا ہے جنہوں نے حضرت مرزا صاحب علىہ السلام کے دعوے کا مذاق اڑاتے ہوئے طاعون کے متعلق تعلّی کى تھى۔ اب چند اور معاندىن احمدىت کى فہرست بطور مثال پىش کى جاتى ہے۔

1۔ سب سے پہلے مولوى رسل باباباشندہ امرتسر ذکر کے لائق ہے۔ جس نے مىرے رد مىں کتاب لکھى اور بہت سخت زبانى د کھائى ….آخر خدا کے وعدہ کے طاعون سے ہلاک ہوا۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد 22، صفحہ236)

2۔ محمد بخش نام جو ڈپٹى انسپکٹر بٹالہ تھا عداوت اوراىذاء رسانى پر کمر بستہ ہواوہ بھى طاعون سے ہلاک ہوا۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ236)

3۔ چراغد ىن نام ساکن جموں اٹھا جو رسول ہونے کا دعوىٰ کرتا تھا جس نے مىرا نام د جال رکھا اور کہتا تھا حضرت عیسیٰ نے مجھے عصادىا ہے تامىں عىسىٰ کے عصاسے اس دجال کو ہلاک کروں۔ سو وہ بھى مىرى پىشگوئى کے مطابق4۔ اپرىل1906ء کومع اپنے دونوں بىٹوں کے طاعون سے ہلاک ہوگىا۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ 126)

4۔ نور احمد موضع بھڑى چٹھہ تحصىل حافظ آباد کا باشندہ تھا ……… وه بول اٹھا کہ طاعون ہمىں نہىں چھوئے گى بلکہ ىہ طاعون مرزا صاحب کو ہلاک کرنے کے لئے آئى ہے اور اس کا اثر ہم پر ہرگز نہىں ہو گا مرزا صاحب پرہى ہو گا……..اىک ہفتہ کے بعد……… نور احمد طاعون سے مرگئے۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ 237)

5۔ مىاں معراج دىن صاحب لاہورسے لکھتے ہىں کہ مولوى زىن العابدىن جو مولوى فاضل اورمنشى فاضل کے امتحانات پاس کردہ تھا ……… انجمن حماىت اسلام لاہور کا اىک مقرب مدرس تھا۔ اس نے حضور کےصدق کے بارہ مىں مولوى محمد على سىالکوٹى سے کشمىرى بازار مىں اىک دکان پر کھڑے ہو کر مباہلہ کىا۔ پھر تھوڑے دنوں کے بعد مرض طاعون سے مر گىا اورنہ صرف وہ بلکہ اس کى بیوی بھى طاعون سے مرگئى اور اس کا داماد بھى جو محکمہ اکاؤنٹنٹ جنرل مىں ملازم تھا طاعون سے مر گىا۔ اس طرح اس کے گھر کے ستره آدمى مباہلہ کے بعد طاعون سے ہلاک ہو گئے۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ237-238)

6۔ مىاں معراج دىن لکھتے ہىں کہ ……….. اىساہى کرىم بخش نام لاہور مىں اىک ٹھىکىدار تھا وہ سخت بے ادبى اور گستاخى حضور کے حق مىں کرتا تھا اور اکثر کر تا ہى رہتا تھا۔ مىں نے کئى دفعہ اس کو سمجھاىا مگر وہ باز نہ آىا۔ آخر جوانى مىں ہى شکار موت ہوا۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ237-238)

7۔ سىد حامد شاہ صاحب سىالکوٹى لکھتے ہىں کہ حافظ سلطان سىالکوٹى حضور کا سخت مخالف تھا۔ یہ وہى شخص تھا جس نے ارادہ کىا تھا کہ سىالکوٹ مىں آپ کى سوارى گزرنے پر آپ پر راکھ ڈالے آخر وه سخت طاعون سےاسى1906ء مىں ہلاک ہوا اور اس کے گھرکے نوىا دس آدمى بھى طاعون سے ہلاک ہوئے۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ 238)

8۔ حکىم محمد شفىع (سىالکوٹ) جو بىعت کر کے مرتد ہوگىا تھا جس نے مدرستہ القرآن کى بنىاد ڈالى تھى آپ کا سخت مخالف تھا ………آخر وہ بھى طاعون کا شکار ہوا اور اس کى بىوى اور اس کى والدہ اور اس کا بھائى سب ىکے بعد دىگرے طاعون سے مرے اور اس کے مدرسے کو جو لوگ امداد دىتے تھے وہ بھى ہلاک ہوگئے۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ 238)

9۔ مرزا سردار بىگ سىا لکوٹى جو اپنى گندہ زبانى اورشوخى مىں بہت بڑھ گىا تھا………. وہ بھى سخت طاعون مىں گرفتار ہو کر ہلاک ہوا اور اىک دن اس نے شوخى سے جماعت احمدىہ کے اىک فردکوکہاکہ کىوں طاعون طاعون کرتے ہو ہم تو تب جا نىں کہ ہمىں طاعون ہو پس اس سے دو دن بعد طاعون سےمر گىا۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد22، صفحہ238)

10۔ مولوى محمد ابو الحسن نے حضرت اقدسؑ کے خلاف کتاب ’’بجلى آسمانى برسردجال قادىانى‘‘ لکھى جس مىں کئى مقامات پر کاذب کى موت کے لئے بد دعا کى اور جلد ہى طاعون سے مر گىا …………. دىکھنے والوں نے بىان کىا ہے کہ انىس دن پلىگ مىں مبتلاء رہ کر چىخىں مارتے رہے اور نہاىت دردناک حالت مىں جا ن دى۔

(تارىخ احمدىت جلد دوم، صفحہ 480)

11۔ ابو الحسن عبد الکرىم نام نے جب اس کتاب کا دوسرا اىڈىشن شائع کرنا چاہاتو وہ بھى طاعون کا شکار ہو گىا۔

(تارىخ احمدىت جلد دوم، صفحہ 480)

12۔ اىک شخص فقىرمرزا دوالمىال ضلع جہلم کارہنے والا تھا اس نے حضرت مسىح موعود علىہ السلام کے خلاف بہت کچھ بدزبانى کر کے ىہ تحرىرى پىش گوئى کہ ’’میرزا غلام احمد صاحب کا سلسلہ 27رمضان المبارک 1321ھ تک ٹوٹ پھوٹ جاوے گا اوربڑى بڑى سخت درجہ کى ذلت وارد ہوگى جسے تمام دنىا دىکھے گى‘‘۔ ىہ پىشگوئى 7رمضان کو لکھى گئى تھى سو اگلے سال جب دوسرا رمضان آىا تو اس کے محلہ مىں طاعون نمودار ہوگئى۔ پہلے اس کى بىوى اور پھر خود فقىر مرزا سخت طاعون مىں مبتلا ہوگىا۔ آخر پورے اىک سال بعد عىن 7 رمضان کو بتارىخ 14نومبر 1904ء ناکامى و نامرادى کا منہ دىکھتے ہوئےاٹھ گىا۔

(تارىخ احمدىت جلد دوم، صفحہ 480)

13۔ اىک شخص عبد القادر نام ساکن طالب پور پنڈورى ضلع گورداسپور مىں رہتا تھا ……..اس کو مجھ سےسخت عناداور اور بغض تھا اور ہمىشہ مجھے گندى گالىاں دىتا تھا پھر جب اس کى گندہ زبانى انتہا تک پہنچ گئى تب اس نے مباہلہ کے طور پر اىک نظم لکھى……..جس مىں اس نے سخت سےسخت فسق و فجور کى باتىں مىرى طرف منسوب کى ہىں……… اىسا ہى خدانےجلد تر انصاف کر دىا اور ان شعروں کے لکھنے کے چند روز بعد ىعنى بعد تصنيف ان شعروں کے وہ شخص ىعنى عبد القادر طاعون سے ہلاک ہوگىا۔ مجھے اس کے اىک شاگرد کے ذرىعہ سے یہ دستخطى تحرىر اس کى مل گئى اور نہ وہ صرف اکىلا طاعون سے ہلاک ہوا بلکہ اور بھى اس کے بعض عزىز طاعون سے مرگئے۔ اىک داماد بھى مر گىا۔

(حقىقۃ الوحى، روحانی خزائن جلد 22، صفحہ482-484)

14۔ ىہاں مد پر طاعون کے حملہ کا ذکر بھى خالى از دلچسپى نہ ہو گا۔ مدکےرہنے والوں نے چونکہ مولوى ثناء اللہ صاحب کو خود بلواکر گالىاں دلوا ئىں اور ان کو شرارت سے باز رکھنے کى کوشش نہىں کى تھى اس لئے پانچ چھ ماہ بعد ىہاں طاعون کا سخت حملہ ہوا اور دواڑ ھائى سو کى آ بادى مىں سے مئى 1903ء تک ایک سو تیس افراد اس کا شکار ہو کرلقمہ اجل ہو گئے۔ 1910ء مىں دوبارہ مد مىں طاعون کا زور ہوا اور گاؤں کى عورتوں نے ملانوں کو سخت سست کہا کہ انہوں نے مولوى ثناء اللہ وغىرہ کو بلوا کر مرزا صاحب کے حق مىں سخت گوئى کى اور وبا پھىلى۔

(تارىخ احمد ىت جلددوم، صفحہ229)

15۔ 1907ء مىں جومعاند طاعون کا شکار ہوئے ان مىں سے سب سے زىادہ بدگو مولوى سعداللہ لدھىانوى نو مسلم تھا……….اس شخص نے ابتداء ہى سے سلسلہ کى مخالفت انتہا تک پہنچا دى تھى اور سب وشتم سے بھرى ہوئى تحرىرات نظم و نثر مىں شائع کىں۔ اسى پر اکتفاء نہ کرتے ہوئے سعد الله لدھىانوى نے اپنى کتاب‘‘ شہاب ثاقب بر مسىح کاذب’’ مىں حضورؑ کى ہلاکت و تباہى کى پىشگوئى کى……….ىعنى خدا کى طرف سے تىرے لئے مقدر ہو چکا ہے کہ خدا تجھے پکڑے گا اور تىرى رگ جان کاٹ دے گا۔ تب تىرے مرنے کے بعد تىرا جھوٹا سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور اگر چہ تم لوگ کہتے ہو کہ ابتلاء بھى آىا کرتے ہىں مگرآ خر تو حشر کے دن نىز اس دنىا مىں نامرادرہے گا۔

اس پر اللہ تعالىٰ نے حضرت مسىح موعودؑ کو 29 دسمبر 1894 ء کو بذرىعہ الہام خبردى ’’اِنَّ شَانِئَکَ هُوَالْاَ بْتَرُ‘‘ ىعنى (اسداللہ) تىرا دشمن ابتر اور مقطوع النسل مرے گا ……… حضور کى بد دعا اور اس الہام پر ابھى صرف چند راتىں ہى گزرى تھىں کہ سعداللہ کو جنورى کے 1907ء کے پہلے ہفتہ مىں پلىگ ہوا۔ اور وہ ہزارحسرتوں کے ساتھ اس جہان سے چل بسا۔ اس کے لڑکے کى نسبت حاجى عبد الرحىم کى دختر سے ہوچکى تھى اور عنقرىب شادى ہونىوالى تھى اسے ىہ بھى نصىب نہ ہوا کہ اپنے اکلوتے لڑکے کى شادى دىکھ لىتا۔ سعداللہ کى موت کے بعد اس کے بىٹےنے گو شادى کرلى مگر لمبا عرصہ زندہ رہنے کے باوجود تمام عمر لاولد رہ کر 12جنورى 1926ء کو موضوع کرم کلاں مىں فوت گىا۔

(تارىخ احمدىت جلد دوم، صفحہ 480-482)

چوتھى شق۔ طاعون کے زائل ہونے کے لئے قبول احمدىت کى شرط

حضرت مسىح موعود علىہ السلام نے طاعون کى و باء کو اپنى صداقت کے گواہ کے طور پر پىش کرتے ہوئے اس وباء کا اىک امتىازى کردارىہ بھى بىان فرماىا تھا کہ وہ اس وقت تک نہىں ٹلے گى جب تک لوگ آپ کوقبول نہىں کرىں گے۔ پىشگوئى کا ىہ حصہ بھى جىسا کہ شق نمبر 2 مىں گزر چکا ہے بڑے وسىع پىمانے پر بڑى وضاحت کے ساتھ پورا ہوا۔ خصوصاً پنجاب کى سرزمىن مىں جو پىشگوئى کا اولىن مصداق تھى طاعون کے نتىجہ مىں اس کثرت سے احمدىت کى طرف رحجان ہوا کہ احمدىت کى تارىخ مىں اس کى کوئى دوسرى مثال نظر نہىں آتى۔ ىعنى قبول احمدىت کى وجوہات کااگر علىحده علىحدہ جائزہ لىا جائے اس مقابلہ مىں طاعون غالباً ہر دوسرى وجہ پر سبقت لے جائے گا۔ اس ضمن مىں تارىخ احمدىت سے اىک چھوٹا سا اقتباس درج ذىل کىا جاتا ہے۔ جس سے قبول احمدىت کے ضمن مىں طاعون کے اثرات کا کچھ اندازہ لگاىا جا سکتا ہے۔

’’جىسا کہ حضوؑر نے پىشگوئى فرمائى تھى جماعت سے بھى خارق عادت سلوک ہوا جس کے نتىجہ مىں جماعت کى ان دنوں اتنى غىر معمولى ترقى ہوئى کہ اس کى تعداد ہزاروں سے نکل کر1902ء مىں اىک لاکھ تک پہنچ گئى۔ 1903ء مىں اس کثرت سے لوگ آپؑ کے مبائعىن مىں شامل ہوئے کہ اخبار الحکم کو مجبوراً نئے مبائعىن کى فہرست کا کالم بھى بند کر دىنا پڑا۔ 1904ء مىں ىہ تعداددولا کھ تک اور 1906ء چار لاکھ تک پہنچ گئى۔‘‘

(تارىخ احمدىت، جلد دوم، صفحہ216)

ىہاں ىہ سوال اٹھاىا جاسکتا ہے کہ ملک کى اکثرىت تو بہرحال اىمان نہىں لائى پھرہزارہاانسانوں ىا اىک دولاکھ انسانوں کے قبول احمدىت کے نتىجہ مىں طاعون کاٹل جانا کىا معنىٰ رکھتا ہے اور کىا ىہ پىشگوئى کے مدعا اور روح کے منافى ہىں ؟ اس سوال کا اىک جواب تو ىہ ہے کہ عذاب الہٰى کےٹلنے کے لئے اکثرىت کے اىمان کى نہ تو کوئى شرط قرآن کرىم مىں نظر آتى ہے نہ ہى تارىخ مذ ہب پر نگاہ ڈالنے سے ىہ امر مستنبط ہوتا ہے ۔اس کے برعکس اىسى مثالىں کثرت سے ملتى ہىں کہ قوم کے اىک حصہ کے استغفار ىا اىمان لانے کے نتىجہ مىں عذاب ٹل گئے۔

حضرت ابراہىم علىہ السلام کا وہ مشہور واقعہ بھى اسى پہلوسے فلسفہ عذاب پر روشنى ڈالتا ہے جس مىں اللہ تعالىٰ اور حضرت ابراہىم علىہ السلام کے درمىان اىک مکالمہ و مخاطبہ کى صورت مىں ىہ دکھاىا گىا ہے کہ اىک اىسى بستى کو جس کے لئے عذاب مقدر ہو چکا تھا اللہ تعالىٰ اس صورت مىں بھى بچانے پر آمادہ تھا کہ وہاں چند بندے ہى خدا کا خوف رکھنے والے موجود ہوں۔

پس طاعون کى وباء کے دوران چار لاکھ کے قرىب انسانوں کا مامور وقت پراىمان لاناکوئى معمولى اور ناقابل اعتناء واقعہ نہىں اور اس کے نتىجہ مىں طاعون کے عذاب کا بالآ خر ٹل جانا نہ تو سنت اللہ کے خلاف ہے نہ پىشگوئى کى صداقت پر حرف لانے کا موجب بن سکتا ہے تاہم اس موقعہ پر اىک غلط فہمى کا ازالہ بھى ضرورى ہے۔ ہمارا عذاب ٹلنے سے ىہ مطلب ہر گز نہىں کہ چند لوگوں کے استغفار سے سلسلہ عذاب ہى ہمىشہ کے لئے منقطع کر دىا جا تا ہے۔ محض اىک عذاب کا استغفارکےنتىجہ مىں ٹل جانا اور چىز ہے اور سلسلہ عذاب کا کلىۃً منقطع ہو جانا اور چىز۔ فرعون کى قوم پر جو پے درپے عذاب آئے وہ بعض ىا اکثر دلوں مىں خوف خدا پىدا ہونے کے نتىجے مىں ٹل جاتے رہے لىکن جب تک وہ آخرى مقصد پورا نہ ہواجودراصل ان عذابوں کى علّت غائى تھا ، سلسلہ عذاب منقطع نہ ہوا۔ سلسلہ عذاب کا آخرى مقصد بہر حال مامور زمانہ کى فىصلہ کن فتح ہوا کرتا ہے۔ ىعنى ىا تو اکثرىت اىمان لے آتى ہے ىا اکثرىت ہلاک ہو جاتى ہے۔ اس پہلو سے جب ہم حضرت مسىح موعود علىہ السلام کى پىشگوئى پر مزىد نگاہ دوڑائىں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ طاعون اىک وسىع تر سلسلہ عذاب کى اىک کڑى تھا۔ ىہ کڑى زمانہ کے جس دور پر محىط تھى اس دور مىں اس نے اپنا مفوضہ کام بڑى عمدگى اور صفائى کے ساتھ سرانجام دىا اور وہاں جا کر رکى جہاں عذاب کى اىک دوسرى کڑى نے اس سے ذمہ دارى کا عَلم سنبھال لىا۔ اس نقطہ کو سمجھ کر جب ہم مامور ىن گزشتہ کے حالات پر نظر ڈالتے ہىں تو اىک ’’مىڈلےرىس‘‘ ىعنى اىسى دوڑ کا سا نظارہ دکھائى دىتا ہے جس مىں دوڑنے والا جب اىک مقررہ مقام پر پہنچتا ہے تو اس کا دوسرا ساتھى اس سےجھنڈا لے کر آگے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر اىک تىسرا ساتھى ىہ جھنڈا اس سے لے کر اگلى دوڑسنبھال لىتا ہے منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے ىہ سلسلہ اسى طرح جارى رہتاہے۔ حضرت موسىٰ علىہ السلام کے زمانے مىں اس مىڈلے رىس مىں قرآنى بىان کے مطابق پانچ عذابوں کى اىک ٹىم نے حصہ لىا۔

حضرت مسىح موعود علىہ السلام کو بھى اللہ تعالىٰ نے ایسے پے در پے عذابوں کى خبر دى ہے جو آخر مقصد کے حصول تک اىک دوسرے کے بعد آتے چلے جائىں گے۔ طاعون ان مىں سے اىک تھا۔

اىک اور پہلو سے جب ہم طاعون کے عذاب پر نظر ڈالتے ہىں تو پىشگوئى کى زىر نظر شق کے اىک نئے مفہوم کى طرف توجہ مبذول ہو جاتى ہے جو دلچسپ بھى ہے اور ہولناک بھى۔ جب ہم ىہ کہتے ہىں کہ فلاں چىز پىچھا نہىں چھوڑےگى جب تم فلاں بات ظاہر نہ ہو تو جس چىز کا ذکر کىا جا رہا ہو اس کى عادات و اطوار کے مطابق ’’پىچھا نہ چھوڑے‘‘ کے معنوں کى تعیىن کى جاتى ہے۔ قبل از ىں ىہ ذکر گزرا ہے کہ حضرت عىسىٰ علىہ السلام کے زمانہ مىں بھى طاعون عذاب الہٰى کے طور پر عىسائىت کى تائىد مىں ظاہر ہوئى تھى اور اس نے دشمنوں کا پىچھا نہ چھوڑا تاوقتىکہ انہىں مغلوب نہ کر لىا۔ اس تارىخى پس منظر مىں جب ہم ىہ کہتے ہىں کہ طاعون نے ’’پىچھا نہ چھوڑا‘‘ تو مراد ىہ ہے کہ مسلسل تىن صدىوں تک ىہ عىسائىت کى تائىد مىں کرشمے دکھانے اور عىسائىت کو بڑھانے اور دشمن کو کم کرنے کے لئے ظاہر ہوتى رہى۔

طبعاً ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ مسىح اوّل کے دور کى طرح مسىح ثانى کے دور مىں بھى طاعون کے پىچھا نہ چھوڑنے کا ىہ مطلب تو نہىں کہ تاوقتىکہ احمدىت کوفتح نصىب نہ ہو ىہ تقرىباً اىک اىک سو سال کے وقفے سے عذاب الہٰى کى صورت مىں ظاہر ہوتا رہے گا اور پىچھا نہ چھوڑے گا جب تک کہ احمدىت کى آخرى فتح کا منہ دىکھ لے۔ کوئى اور چاہے تو اسے اىک ذوقى استنباط قرار دےلے مگر مىرے دل مىں تو گمان غالب ىہى ہے کہ اسى طرح ہو گا اورمسىح ثانى کے دور مىں بھى طاعون دو ىا تىن صد سالہ جلوے دکھائے گا۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ اگر مىرا ىہ استنباط درست ہے تو طاعون کى حىثىت عذاب کى اىک کڑى کى نہىں رہتى بلکہ بذات خود اىک سلسلہ عذاب کہلائے گا جو کڑىوں پرمشتمل ہے۔ مزىدبرآں اگر مىرا مندرجہ بالا استدلال درست ہے تو طاعون کى جلوہ نمائى کا دو سرا دور قرىب آ چکا ہے اور بعىد نہىں کہ آئندہ چند سال مىں ىہ ظاہر ہو جائے اور 2000 عىسوى تک اىک ہولناک عالمگىر و با کى شکل اختىار کر جائے۔ اگر اىسا ہو تو جماعت احمدىہ کے لئے اس مىں تنبىہ بھى ہے اور بشارت بھى۔ تنبىہ ىہ ہے کہ صرف احمدىت کا عنوان طاعون سے بچانے کے لئے کافى نہ ہو گا بلکہ تقوىٰ کى شرط بھى ساتھ لگى ہوئى ہے۔ اور مسىح موعود علىہ السلام کى صداقت پر اىمان کے ساتھ تقوىٰ کى زندگى بسر کرنا اور ہر قسم کے تکبر اور نخوت کو ترک کر دىنا بھى طاعون سے بچنے کے لوازمات مىں شامل ہىں۔ بشارت کا پہلو ىہ ہے کہ جماعت مىں اس وقت تک جو عملى کمزورىاں آچکى ہوں گى طاعون کا خوف بڑى تىزى کے ساتھ ان کى اصلاح کرے گا اور وہ احمدى جو حضرت مسىح موعود علىہ السلام کى تعلىم کى چار دىوارى سے باہر ہوا خورى مىں مصروف ہوں گے وہ ان شاء اللہ بڑى سرعت کے ساتھ دوڑتے ہوئے اس چار دىوارى مىں واپس لوٹنے کى کوشش کرىں گے جوامن اورعافىت کا حصار ہے۔ غرضىکہ امت کے ساتھ طاعون کے امتىازى سلوک کا نشان بہرحال قائم رہے گا اور اىک دفعہ پھر فوج در فوج لوگ احمدىت مىں داخل ہوں گے۔ خدا کرے اىساہى ہو۔ مىرا دل ىہى کہتا ہے کہ اىسا ہى ہو گا۔

مَاشَآءَ اللّٰهُ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّ ةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِىِّ الْعَظِیْمِ

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اگست 2020