• 30 نومبر, 2020

مسجد الاقصیٰ سینگاپارنہ مغربی جاوا انڈونیشیا کا افتتاح

جماعت احمدیہ سینگاپارنہ مغربی جاوا قدیم جماعتوں میں سے ایک ایسی جماعت ہے جسے اپنی ترقیات کی منازل طے کرتے ہوئے مختلف مراحل اور ابتلاؤں سے بھی گزرنا پڑا۔ مقامی جماعت کی ایک مسجد پر جس کانام مسجد الاقصیٰ ہے مرمتوں اور اس کی تعمیرِ نو کا کام کیا جانا تھا جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مارچ 2020ء میں مکمل ہو گیا اور پانچ ماہ بعد اس کی افتتاحی تقریب ہوئی۔

مورخہ 22؍ جولائی 2020ء کو مولانا عبد الباسط صاحب نیشنل امیر جماعت احمدیہ انڈونیشیا اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں تشریف لائے جس میں ممبران جماعت کے علاوہ ضلعی مبلغین اور مقامی عاملہ کے اراکین بھی موجود تھے۔ اس موقعے پر دعا کے ساتھ مسجد کا افتتاح عمل میں آیا جو امیر صاحب نے کروائی۔
مقامی جماعت کے ایک بزرگ ناصر مکرم آڈے کرسانا صاحب نے اس موقعے پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے اس مسجد میں تشریف لاکر خاص دعا کروانے سے متعلق ایک ایمان افروز واقعے کا ذکر کیا کہ جب 2000ء میں حضور یہاں تشریف لائے تو پروگرام کے مطابق غالباً حضورؒ نے اس مسجد کے اندر تشریف نہیں لانا تھا۔ لیکن جب حضرت صاحب نے قافلے میں گزرتے ہوئے کافی زیادہ لوگوں کو ہاتھ لہراتے ہوئے دیکھا تو اس وقت حضور نے موٹر چلانے کی سعادت حاصل کرنے والے دوست محترم آلٹو عمر قیوم صاحب سے دریافت فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ جب معلوم ہوا کہ وہ احباب جماعت ہیں جو اپنے پیارے آقا کی محبت کے اظہار میں ہاتھ لہرا رہے ہیں تو اگر چہ حضور کا قافلہ چند سو میٹر گزر گیا تھا پھر بھی حضورنے از راہ شفقت اس مسجد میں واپس تشریف لا کر مقامی احباب جماعت سے ملاقات فرمائی اور مسجد کے محراب میں کھڑے ہو کر خاص دعا فرمائی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مسجد 1980ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ شدت پسند مخالفین احمدیت نے 2007ء میں اس مسجد پر حملہ کر کے اسے کافی نقصان پہنچایا۔ مقامی مربی مکرم عثمان انس صاحب نے ذکر کیا کہ لوکل احباب جماعت نے یہ عزم کیا کہ ہم نے اس مسجد کی تعمیر نو کروانی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اس کی توفیق عطا فرمائی۔

تعمیر نو کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مسجد میں بیک وقت 500 سے زائد افراد نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ ایک خوبصورت مینار جو منارةالمسیح قادیان کے طرز تعمیر سے مشابہ ہے تعمیر کیا گیاہے۔ مینار کی بلندی 60 فٹ ہے لہذا یہ مینار نہ صرف لوکل جماعت بلکہ علاقے کی شناخت بن چکا ہے۔ فالحمدللہ

(فضل عمر فاروق۔ انڈونیشیا)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اگست 2020