• 18 جولائی, 2024

درگزر تُو کرتا رہ گر میں خطا کرتا رہوں

لوحِ دل پر بس حدیث یار میں لکھتا رہوں
مجھ میں ظاہر یار ہو اور اس میں مَیں دِکھتا رہوں

شکرِ نعمت کے لیے کافی نہیں ہے ایک زیست
یار کی خاطر جیوں، مر مر کے میں جیتا رہوں

مالکِ کوثر کا میخانہ رہے قائم سدا
لوگ مے پیتے رہیں اور جام میں بھرتا رہوں

کر نہ پائے میرے آقا کو کبھی گھائل عدو
تیر طلحہ کی طرح ہاتھوں پہ میں کھاتا رہوں

سربلندی کے لیے اسلام کی بازو کٹیں
بن کے مثل جعفر ِطیار میں اڑتا رہوں

اپنا اپنا کام ہم کرتے رہیں اے ذوالمنن!
درگزر تُو کرتا رہ گر میں خطا کرتا رہوں

راستہ میرا ہو اللہ کی رضا کا راستہ
یوں امامِ وقت کے پیچھے ہی میں چلتا رہوں

(انصر رضا۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 اکتوبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ