• 30 نومبر, 2020

رات کا اٹھنا

اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیۡلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطۡاً وَّ اَقۡوَمُ قِیۡلًا

(المزّمل: 7)

اس آیت کا ترجمہ ہے کہ رات کا اٹھنا یقینا نفس کو پاؤں تلے کچلنے کے لئے زیادہ شدید اور قول کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔

یہ وہ قرآنی حکم ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور آپؐ نے اس کا حق ادا کر دیا بلکہ دعویٰ سے پہلے بھی، نبوت سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی تلاش میں اسی طرح اعتکاف کیا کرتے تھے۔ اپنی راتوں کو آرام میں یا کسی شوق میں گزارنے کی بجائے عبادتوں میں گزارتے تھے۔ راتوں کی عبادت جب رات گہری ہو، ہر طرف خاموشی ہو، بندے اور خدا کے درمیان کسی قسم کی روک ڈالنے والی چیز نہ ہو، بندے اور اللہ کے درمیان راز و نیاز میں کوئی چیز روک نہ بنے، اس وقت جو اللہ کی عبادت کرنے والے ہوتے ہیں وہ یقینا اللہ کا قرب پانے والے اور اس کا پیار حاصل کرنے والے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ خالصتاً اللہ کے قرب کے لئے یہ عبادت بجا لا رہے ہوتے ہیں۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس طرح رات کو اٹھنا اپنے نفس کو پاؤں تلے کچلنے کے برابر ہے۔ بلکہ یہ شیطان کو ختم کرنے اور اپنے نفس پر قابو پانے کا ایسا زبردست حربہ ہے کہ اس کا مقابلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اس وقت کے عہد و پیمان اتنے پکّے اور مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کو توڑنا ممکن نہیں ہوتا۔ شیطان کی ملونی اس میں ہو ہی نہیں سکتی۔ گویا اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ بننے اور اپنے نفس کو ہلا ک کرنے کا اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں کہ رات کو اٹھ کر عبادت کی جائے۔ اور یہ عبادت کے اعلیٰ معیار ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑھ کر حاصل کئے۔ بلکہ آپؐ کی قوت قدسی نے صحابہ میں اور امت میں بھی راتوں کو عبادت کے لئے اٹھنے والے پیدا کئے۔

(خطبہ جمعہ 18؍ فروری 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020