• 30 نومبر, 2020

’’تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط وخال ہیں‘‘۔ (حضرت مسیح موعود ؑ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال اُن کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔ جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے ہیں اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہوسب اپنے تئیں دُور کر لئے جاتے ہیں۔ پس جیسا کہ پہلے بھی قرآنی تعلیم کی روشنی میں بیان کرتا آیا ہوں کہ جو بھی عمل اللہ تعالیٰ کی رضا سے دُور لے جانے والا ہے وہ ایمان سے دُور لے جانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قرآن کریم میں بے شمار جگہ جو مومن کی تعریف اور مومنین کے لئے جو احکامات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کو کھول کر پیش فرمایا ہے اور اپنی جماعت کے افراد کو اس معیار پر دیکھنے کی بار بار تلقین فرمائی ہے جس سے ایمان کے اعلیٰ معیار حاصل ہوں اور ہم میں سے ہر ایک پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اُس سلوک سے حصہ لینے والا بنے جو اللہ تعالیٰ ایک مومن سے فرماتا ہے۔ پس اس سلوک کا حامل بننے کے لئے تقویٰ کی راہوں کی تلاش کرنی ہو گی۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے ’’مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جو تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کے لئے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں‘‘۔ اور تقویٰ کی باریک راہوں کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: ’’انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔ تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط وخال ہیں اور ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سَر سے پیر تک جتنے قویٰ اور اعضاء ہیں جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد21 صفحہ210-209)

آپ نے یہ فرمایا ہے کہ ’’تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوشنما خط وخال ہیں‘‘۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ایمان کے لئے خشوع کی حالت مثل بیج کے ہے‘‘ یعنی اللہ کا خوف ہر عمل سے پہلے اس کی موجودگی کا احساس دلائے۔ یہ بیج تمہارے دل میں پیدا ہونا چاہئے اور کسی کا م کو سرانجام دینے سے پہلے یہ احساس اور یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے، یہ احساس ہر وقت دل میں موجود رہے۔ انتہائی عاجزی سے اور ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارنا۔ یہ حالت ایسی ہے کہ جس کی مثال بیج سے دی جا سکتی ہے اور پھر جب یہ خشوع پیدا ہو جائے اور تمام لغو باتوں کو انسان ترک کر دے تو پھر انسان کے دل کی زمین جو ہے اس پر ایمان کا نرم نرم سبزہ نکلتا ہے، وہ بیج پھوٹتا ہے، اس کھیت میں ہریالی نظر آنے لگتی ہے۔ اور یہ نرم سبزہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت نازک ہوتا ہے۔ ایک بچے کے پاؤں کے نیچے بھی آجائے تو کچلا جاتا ہے۔ پس اس بات پر راضی نہیں ہو جانا چاہئے کہ میرے اندر بہت خشوع پیدا ہو گیا ہے۔ مَیں نے اس وجہ سے لغویات کو بھی ترک کر دیا ہے یا اس کے ترک کرنے کی طرف کافی ترقی کر لی ہے بلکہ اس نرم پودے کی حفاظت کے لئے بہت سے مراحل ابھی باقی ہیں۔ آپؑ وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایمان کی مضبوطی کے لئے پھر اپنے محبوب مال میں سے قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔ اس کی ضرورت ہے۔ جب یہ مالی قربانی ہو تو پھر ایمانی درخت کی ٹہنیاں نکل آتی ہیں۔ اس کی شاخیں پھوٹ پڑتی ہیں جو اس میں کسی قدر مضبوطی پیدا کرتی ہیں۔ پھر ان ٹہنیوں کو مزید مضبوط کرنے کے لئے شہوات نفسانیہ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قدم قدم پر شیطان نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ جو مختلف طریقوں سے نفس کو بھڑکا کر بُرائیوں کی طرف مائل کرتا ہے اور نیکیوں سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے ہر جگہ اس سے بچنا ہر مومن کا کام ہے۔ بُرائیوں سے بچنا اور نیکیوں کو اختیار کرنا، شیطان کے دھوکے میں نہ آنا اور جب یہ صورت پیدا ہو گی تو فرمایا پھر ان ٹہنیوں میں خوب مضبوطی اور سختی پیدا ہوجاتی ہے اور پھر اس پودے کو جو ٹہنیوں کی حد تک مضبوط ہو گیا، لیکن ابھی مضبوط تنے پر کھڑا ہونا باقی ہے، اس کو مضبوط تنے پر کھڑا کرنے کے لئے اپنے وہ تمام عہد جو تم نے خدا سے اور خدا کی خاطر اس کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے کئے ہیں ان کی حفاظت کرو، اپنی تمام امانتوں کی حفاظت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات امانتیں ہیں ان کی حفاظت کرنا، ان کو موقع محل کے مطابق بجا لاناضروری ہے اور یہ امانتیں ایمان کی شاخیں ہیں۔ پس یہ تمام چیزیں پھر ایمان کے درخت کو مضبوط تنے پر کھڑا کر دیتی ہیں اور تنا ان کو خوراک مہیا کرتا ہے۔

ایمانی عہدوں کی مزیدوضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ایمانی عہدوں سے مراد وہ عہد ہیں جن کا انسان بیعت کرتے وقت اور ایمان لاتے وقت اقرار کرتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جن شرائط پر ہم نے بیعت کی ہے وہ ہمیشہ ہمیں پیش نظر رکھنی چاہئیں اور جب اس عہد کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ اس کا خلاصہ (جیسا کہ گزشتہ خطبہ میں مَیں نے بیان کیا تھا) خدا کی توحید کا قیام، آنحضرتﷺ کی مکمل پیروی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام فیصلوں پر حکم اور عدل ماننا ہے، مخلوق کے حقوق ادا کرنا، خلافتِ احمدیہ کی اطاعت کرنا تو پھر یہ ایمان کا درخت مضبوط تنے پر قائم ہو جائے گا اس کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور جب یہ صورت پیدا ہو گی تو پھر ایک مومن کا فعل خدا کی رضا کے حصول کے لئے ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ شیطان سے بچانے اور اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے کے سامان پیدا فرماتا رہے گا۔ کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک دنیاوی دوست اپنے دوست کے لئے کوشش کرکے اس کے فائدے کے سامان کرے اور خداتعالیٰ جو سب دوستوں سے زیادہ وفا کرنے والا ہے وہ اپنے دوست کو، ایک مومن کو، باوجود اس کے چاہنے کے (کہ خداتعالیٰ اسے ایمان میں مضبوط رکھے اور شیطان سے اسے بچا کر رکھے، اس کے حملوں سے محفوظ رکھے) یوں اندھیروں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کبھی بھی نہیں ہو گا۔ اگر تم میری طرف بڑھ رہے ہو اور ایمان کی مضبوطی کی کوششیں کر رہے ہو تو میرا قرب حاصل کرنے والے ہو گے۔

(خطبہ جمعہ 17؍ اگست 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020