• 30 نومبر, 2020

تعارف سورۃ فاطر (35ویں سورۃ)

تعارف سورۃ فاطر (35ویں سورۃ)
(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 46 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003)

وقت نزول اور سیاق و سباق

یہ سورۃ، ممکنہ طور پر اپنی سابقہ سورت (سبا) کے نزول کے وقت ہی، مکہ میں نازل ہوئی۔ سابقہ سورت (سبا) میں مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیلیوں کی طرح ان کو بھی دولت، طاقت، ترقی اور شان و شوکت نصیب ہو گی اور اگر ان شان و شوکت کے دنوں میں وہ خدا کے احسانات کو فراموش کر دیں گے اور اپنےتئیں آرام اور آسائش کی زندگی پسند کریں گے تو وہ خدا کے غضب کا نشانہ بنیں گے۔ جیسا کہ ان سے پہلے بنی اسرائیل بن چکے ہیں ۔موجودہ سورت میں مسلمانوں سے شان و شوکت اور عالی مرتبت کا وعدہ اس شرط پر کیا گیا ہے کہ قرآنی احکامات پر عمل پیرا ہوں گے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کا آغاز اس بیان سے ہوا ہے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس بیان کا مقصد یہ ہے کہ پوری کائنات کا خالق ہونے کی وجہ سے خدا نے نہ صرف انسان کی مادی ضروریات مہیا کی ہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی ضروریات کا بھی خیال رکھا ہے۔ اور یہ کہ اس مقصد کے لیے خدا نے فرشتوں کو پیدا فرمایا ہے جن کے واسطے سے وہ دنیاوی نظام کنٹرول کرتا ہے اور انہی کے ذریعہ (الہام سے) انسان تک اپنے احکام پہنچاتا ہے۔یہ سورت مزید بتاتی ہے کہ تخلیقِ انسان سے خدا، نبیوں کو بھیج رہا ہے تاکہ وہ اس کے احکام لوگوں تک پہنچائیں اور یہ کہ اب اس نے اپنے رحم کے ذریعے قرآن کریم نازل کر کے بنی نوع انسان پر احسان عظیم کیا ہے۔

اس خدائی رحم (قرآن) کے انسان کو دئے جانے کے بعد اسے متنبہ کیا گیا ہے کہ اس (قرآن) کا انکار ہر گز نہ کرے۔ کیونکہ اس کے بہت بھیانک نتائج نکلیں گے۔ اس سورت میں آگے چل کر انسان کی غیر معمولی پیدائش کے ذکر سے یہ اخلاقی سبق سکھایا گیا ہے کہ اسلام ایک معمولی آغاز سے شروع ہو کر ایک مضبوط تنظیم کی شکل اختیار کر لے گا۔

بعد ازاں اسلامی تعلیمات کو ایسے میٹھے سمندر کے پانی سے تشبیہ دی گئی ہے جو انسان کی روحانی پیاس کو بجھاتا ہے۔ پھر یہ بتاتی ہے کہ اسلام کوئی نیا فلسفہ نہیں ہے۔ روشنی اور ظلمت کے ادوار ہمیشہ سے آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ وحی و الہام کے لمبے التواء کے بعد اسلام کا سورج ظلمت کو بھگانے کے لیے طلوع ہوا ہے اور خدا نے ارادہ کیا ہے کہ اس کی تعلیمات کے ذریعہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین پیدا فرمائے۔

اس قرآن کے ذریعہ سے خدا اندھوں کو آنکھیں عطا فرمائے گا، بہروں کو کان اور (روحانی) مردے نئی زندگی پائیں گے مگر وہ لوگ جو جان بوجھ کر اپنے دلوں کے دروازے اس پاک تعلیم کے لئے بند کر لیں گے وہ خود اپنے تئیں روحانی موت کا سامان کریں گے۔ پھر یہ سورت مادی دنیا کے مطالعہ پر زور دیتی ہے جو روحانی دنیا کے سمجھنے کے لیے خوب مطابقت رکھتی ہے۔ جب بارش ایک خشک اور بنجر زمین پر گرتی ہے اور وہ روئیدگی اگانے لگتی ہے اور نئی زندگی کا احساس نمایاں ہو جاتا ہے اور فصلیں پھول اور پھل جو مختلف رنگ، ذائقے اور نوعیت کے ہوتے ہیں، پیدا کرتی ہے۔ وہ بارش کا پانی جو نیچے گرتا ہے وہ ایک ہی ہوتا ہے مگر اس کے ذریعہ مختلف طرح کی فصلیں اور پھل اگتے ہیں۔ اسی طرح روحانی بارش کا پانی مختلف مزاجوں کے انسانوں پر مختلف اثرات مترتب کرتا ہے۔ ایک طرف تو وہ نہایت متقی وجود پیدا کرتا ہے جو خدا کا خوف رکھنے والے ہوتے ہیں، دوسری طرف ایک طبقہ ہوتا ہے جو ظلم اور شرارت اور شرارتی بن کر ابھرتا ہے اور حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔

یہ رزمِ حق و باطل مخلص لوگوں اور بدی کی طاقت کے مابین جاری رہتی ہے جس کا ایک ناگزیر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حق کو باطل پر کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ اپنے اختتام پر یہ سورت مشرکوں کو ان کے غیر مستحکم مقام کی طرف توجہ دلاتی ہے اور انہیں متنبہ کرتی ہے کہ باوجود جھوٹے ہونے کے اور لغو عقائد اور لغو حرکتوں سے باز نہ آئےتو خدائی سزا انہیں پکڑ لے گی اگرچہ خدا سزا دینے میں دھیما ہے اور گناہ گاروں کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ ان کا مخالفانہ راویہ خدا کے رحم کا دروازہ خود اپنے اوپر بند کر لے۔

(مرسلہ: مترجم: وقار احمد بھٹی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020